Skip to main content

Featured

میری پوری کائنات

آخری آ رام گاہ میری پوری  "کائنات" ۔۔۔  (ایک کہانی جس کے کردار سچے ہیں) وہ ابھی نابالغ تھی کہ اس کا بھائی جو ابھی نوجوانی کی حدوں میں آ رہا تھا محلے کے ایک دکاندار سے اس کی دوستی تھی۔۔ ایک دن اس دکاندار نے اس کے بھائی کو کہا ۔۔ یار پپو!!! تیری بہن جب سودا لینے آتی ہے بالکل گڑیا جیسی دکھتی ہے۔۔ گول چہرے۔ بڑی آنکھیں۔۔ بورے بال کالی انکھیں۔۔ مجھے بہت پیاری لگتی ہے۔۔ بھائی نے کہا ہم سب کو وہ بہت پیاری لگتی ہے کیونکہ گھر کی جان ہے۔۔ سب سے چھوٹی جو ہے۔۔ دکاندار نے پپو کا ہاتھ پکڑا اور اسے دباتے ہوئے کہا۔۔ ایک مرتبہ اسے میری دکان میں دوپہر کو لے آو۔۔ پچاس روپے دوں گا۔۔ پپو نے گھبرا کر انکار کیا ۔۔ کیونکہ پپو اب اس کا مطلب سمجھتا تھا۔۔ اس نے  پپو کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا اگر تو نہیں لائے گا تو جو تیرے ساتھ کرتا ہوں سب محلے کو بتا دوں گا۔۔ مجبوری میں پپو اپنی گڑیا جیسی بہن کو بہلا  پھسلا کر دکاندار کے پاس لے آیا۔۔ اور خود ڈر کر گھر بھاگ گیا۔۔ جب دوپہر کے بعد آیا تو اس کی بہن کے ہاتھوں میں ایک جوس  کا ڈبہ کچھ ٹافیاں تھیں اور وہ دکان کے تھڑے پر نڈھال بیٹی رو رہی تھی۔۔ پپ...

Aakhri selfie


Ghost in picture 


آخری سیلفی


لاہور کی تیز روشنیوں اور شور سے تنگ آ کر پانچ دوستوں نے ایک پرسکون جگہ پر چھٹیاں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ یہ پانچوں کالج کے پرانے دوست تھے عامر، جو ہمیشہ ایڈونچر کے لیے تیار رہتا تھا؛ سارہ، گروپ کی جان اور سوشل میڈیا کی عادی؛ راحیل، جو ہنسی مذاق کے موڈ میں رہتا تھا؛ زینب، سب سے حساس اور خیالوں میں رہنے والی؛ اور فہد، خاموش لیکن گہری سوچ رکھنے والا۔ ہر سال وہ ایک ساتھ ایسی جگہ جاتے جہاں کوئی نیا تجربہ کر سکیں۔ اس بار انہوں نے لاہور سے چند گھنٹوں کی دوری پر واقع ایک جنگل کا انتخاب کیا، جسے مقامی لوگ کالا جنگل کہتے تھے۔


یہ جنگل اپنی گھنی چھتری، عجیب خاموشی اور پراسرار کہانیوں کے لیے مشہور تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ رات کو یہاں عجیب آوازیں سنائی دیتی ہیں، جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ تھا کہ یہاں سے کبھی کبھار لوگ غائب ہو جاتے ہیں، اور ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ لیکن یہ پانچوں دوست، جو اپنی روزمرہ زندگی سے بور ہو چکے تھے، ان باتوں کو مذاق سمجھ کر ہنس پڑے۔ یہ سب گاؤں والوں کی بنائی ہوئی کہانیاں ہیں! راحیل نے ہنستے ہوئے کہا۔ ہمارے جیسے شہریوں کو ڈرانے کے لیے بس! سارہ نے اس کی بات سے اتفاق کیا اور اپنا فون نکال کر بولی، چلو، اس ٹرپ کی ہر لمحہ انسٹاگرام پر ڈالنا ہے!


جنگل کے بیچوں بیچ ایک چھوٹی سی جھیل تھی۔ اس کا پانی اتنا صاف تھا کہ رات کو چاندنی اس پر چمکتی، تو لگتا جیسے ہیرے بکھرے ہوں۔ انہوں نے جھیل کے کنارے اپنا کیمپ لگایا۔ خیمے لگانے، کھانا بنانے اور آگ جلانے کے بعد، سب اس کے گرد بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ سارہ نے اپنا نیا فون نکالا اور چہکتے ہوئے کہا، یہ منظر تو بہت زبردست ہے! چلو، ایک گروپ سیلفی لیتے ہیں! سب جھیل کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ سارہ نے فون اٹھایا، سب نے مسکراتے ہوئے پوز بنایا، اور تصویر کھنچ گئی۔ لیکن جب سارہ نے تصویر دیکھی، اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔


یہ کیا ہے؟ اس کی آواز میں خوف جھلک رہا تھا۔ سب نے فون کی طرف جھانکا۔ تصویر میں، ان سب کے پیچھے، جھیل کے کنارے ایک عجیب سا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ یہ چہرہ نہ مرد کا تھا، نہ عورت کا۔ اس کی آنکھیں بڑی اور خالی تھیں، جیسے وہ اندر تک گھور رہا ہو۔ ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جو دیکھنے والے کے دل میں سردی ڈال دیتی تھی۔


سارہ، یہ کوئی ایپ کا کمال ہے نا؟ راحیل نے ہنستے ہوئے کہا، لیکن اس کی ہنسی میں بے چینی تھی۔


میں نے کچھ نہیں کیا! سارہ نے فون ہلایا، جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو۔ عامر نے فون لے کر تصویر کو زوم کیا، لیکن چہرہ اور دھندلا ہو گیا، جیسے وہ غائب ہونا چاہتا ہو۔ زینب نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا، شاید رات کی روشنی یا جھیل کی عکاسی کی وجہ سے ہے۔ چھوڑو، یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ فہد نے کچھ نہیں کہا۔ وہ خاموشی سے جھیل کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے اسے کچھ اور نظر آ رہا ہو۔


سب نے اسے مذاق سمجھ کر بات ختم کر دی اور اپنے خیموں میں سونے چلے گئے۔ لیکن سارہ کی نیند اڑ چکی تھی۔ وہ رات بھر اپنے خیمے میں لیٹی وہ تصویر دیکھتی رہی۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ چہرہ اسے پکار رہا ہے۔ اس کی آنکھیں جیسے اسے کہہ رہی تھیں کہ وہ اسے جانتا ہے۔ زینب بھی اپنے خیمے میں بے چین تھی۔ اسے بار بار لگ رہا تھا کہ کوئی اس کے خیمے کے باہر کھڑا ہے۔ اس نے اپنی ٹارچ اٹھائی اور باہر جھانکا، لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ صرف جھیل کا پانی ہلکا ہلکا ہل رہا تھا، جیسے کوئی اسے چھو رہا ہو۔


اگلی صبح، جب سب جاگے، راحیل غائب تھا۔ اس کا سلیپنگ بیگ خالی پڑا تھا۔ اس کے جوتے خیمے کے باہر وہیں رکھے تھے، جیسے وہ رات کو کہیں نہ گیا ہو۔ راحیل! یہ کیا مذاق ہے؟ عامر نے جنگل کی طرف چیخ کر کہا، لیکن جواب میں صرف پرندوں کی آوازیں آئیں۔ انہوں نے گھنٹوں تلاش کیا۔ جھیل کے ارد گرد، جنگل کے گھنے حصوں میں، ہر جگہ دیکھا، لیکن راحیل کا کوئی سراغ نہ ملا۔


سارہ نے رات والی سیلفی دوبارہ کھولی۔ اس بار وہ چہرہ اور واضح تھا۔ اس کی آنکھیں راحیل کی طرف گھور رہی تھیں، جیسے اس نے اسے چن لیا ہو۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ زینب کی آواز کانپ رہی تھی۔ اس کا چہرہ خوف سے سفید ہو گیا تھا۔


فہد، جو اب تک چپ تھا، بولا، ہمیں یہاں سے نکلنا چاہیے۔ یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔


انہوں نے اپنا سامان سمیٹا اور جنگل سے نکلنے کی کوشش کی، لیکن عجیب بات تھی۔ جتنا وہ آگے بڑھتے، لگتا تھا کہ جنگل انہیں واپس جھیل کی طرف کھینچ رہا ہے۔ راستے گم ہوتے جا رہے تھے، اور ایک گھنی دھند چھا گئی تھی۔ سارہ نے اپنا فون نکالا کہ شاید گوگل میپس سے راستہ مل جائے، لیکن سگنل غائب تھا۔ شام تک وہ تھک کر واپس کیمپ پر آ گئے۔


سارہ نے ایک اور سیلفی لی۔ اسے لگا کہ شاید یہ سب اس کے دماغ کا واہمہ ہے۔ لیکن جب اس نے تصویر دیکھی، اس کے ہاتھ سے فون گرتے گرتے بچا۔ اس بار وہ چہرہ زینب کے پیچھے تھا۔ اس کی مسکراہٹ اور گہری تھی، جیسے وہ زینب کو اپنا اگلا شکار بنا چکا ہو۔


یہ کیا ہے؟ زینب نے چیخ کر کہا۔ اس نے فون پکڑا اور تصویر کو بار بار دیکھا، جیسے وہ اسے مٹانا چاہتی ہو۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے! کوئی ہمیں ڈرا رہا ہے! اس کی آواز میں خوف کے ساتھ غصہ بھی تھا۔


ہمیں فون توڑ دینا چاہیے! عامر نے غصے سے کہا۔ لیکن سارہ نے فون کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ نہیں! یہ ہمارا واحد ثبوت ہے کہ کچھ غلط ہو رہا ہے!


رات کو سب اپنے خیموں میں تھے، لیکن کوئی سو نہیں رہا تھا۔ ہوا میں ایک عجیب سی سرسراہٹ تھی، جیسے کوئی ان کے ارد گرد گھوم رہا ہو۔ زینب رات بھر اپنے خیمے میں بیٹھی روتی رہی۔ اسے لگ رہا تھا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ اس نے اپنا فون اٹھایا اور وہ تصویر دوبارہ دیکھی۔ اس بار چہرہ اور قریب تھا، جیسے وہ اس کے کندھے پر کھڑا ہو۔ اس کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ اس نے فون پھینک دیا اور خیمے سے باہر بھاگنے کی کوشش کی، لیکن اس کے پاؤں جیسے زمین سے چپک گئے تھے۔


اگلی صبح زینب بھی غائب تھی۔ اس کا بیگ، اس کا فون، سب کچھ وہیں تھا، لیکن وہ خود کہیں نہیں۔ سارہ اب رو رو کر ہار چکی تھی۔ عامر غصے سے چیخ رہا تھا، یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہم سب مر جائیں گے! فہد نے آخرکار اپنا راز کھولا۔


میں نے اس جنگل کے بارے میں سنا تھا، فہد نے آہستہ سے کہا۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ یہاں ایک روح رہتی ہے۔ وہ ان لوگوں کی تصاویر کھینچتی ہے جو مرنے والے ہوتے ہیں۔ جو کوئی اس چہرے کو دیکھتا ہے، وہ اس کا اگلا شکار بن جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ روح ایک زمانے میں اسی جھیل میں ڈوب کر مر گئی تھی۔ اس کی موت کا راز کوئی نہیں جانتا، لیکن وہ اب ہر اس شخص کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے جو اس کی تصویر دیکھتا ہے۔


تم یہ سب جانتے تھے اور ہمیں نہیں بتایا؟ عامر نے فہد کو دھکا دیا۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ تھا۔


میں نے سوچا یہ بس افواہ ہے! فہد نے سر جھکایا۔ لیکن اب... اب مجھے لگتا ہے کہ یہ سچ ہے۔


سارہ نے اپنا فون اٹھایا اور ساری تصاویر ڈیلیٹ کر دیں۔ اب کوئی سیلفی نہیں! اس نے چیخ کر کہا۔ لیکن اس رات، جب سب سو رہے تھے، عامر نے چپکے سے اپنا فون نکالا۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ کوئی روح انہیں ڈرا سکتی ہے۔ اس نے ایک تصویر لی اور اسے دیکھا۔ اس کے پیچھے وہی چہرہ تھا، لیکن اس بار اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ عامر نے فون بند کیا اور اسے بیگ میں ڈال دیا، لیکن اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اسے لگا کہ کوئی اس کے خیمے کے باہر کھڑا ہے۔ اس نے ٹارچ اٹھائی اور باہر جھانکا، لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ صرف جھیل کا پانی ہلکا ہلکا ہل رہا تھا۔


صبح عامر بھی غائب تھا۔ اب صرف سارہ اور فہد باقی تھے۔ جھیل کے کنارے خاموشی تھی، لیکن ہوا میں ایک عجیب سی سردی تھی۔ سارہ نے فہد سے کہا، اگر ہم اس چہرے کو نہ دیکھیں، شاید ہم بچ جائیں۔ اس کی آواز میں امید سے زیادہ خوف تھا۔


فہد کے چہرے پر ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ وہ بولا، سارہ، میں نے رات کو ایک خواب دیکھا۔ اس چہرے نے مجھ سے کہا کہ کوئی ایک تو بچ سکتا ہے... اگر دوسرا اس کی جگہ لے لے۔


تم کیا کہہ رہے ہو؟ سارہ نے خوف سے اسے دیکھا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔


فہد نے اپنا فون اٹھایا اور ایک سیلفی لی۔ اس نے فون سارہ کی طرف بڑھایا۔ دیکھو۔ سارہ نے فون دیکھا اور چیخ پڑی۔ چہرہ اب فہد کے پیچھے تھا، لیکن اس کی شکل... وہ سارہ کی تھی۔


تم! سارہ نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔


میں نہیں، سارہ۔ یہ تم ہو۔ فہد کی آواز میں ایک عجیب سی ٹھنڈک تھی۔ تم نے ہر بار تصویر دیکھی۔ تم نے اسے اپنا چہرہ دیا۔


سارہ کا دماغ گھوم رہا تھا۔ وہ پیچھے ہٹی، لیکن اس کے پاؤں جھیل کے کنارے پھسل گئے۔ اس نے فہد کی طرف دیکھا، جو اب مسکرا رہا تھا — وہی مسکراہٹ جو اس چہرے کی تھی۔ تم... تم اس کے ساتھ ہو! سارہ نے چیخ کر کہا۔


فہد نے آہستہ سے سر ہلایا۔ میں نے اسے وعدہ کیا تھا، سارہ۔ ایک جان کے بدلے ایک جان۔


سارہ نے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن جنگل کی شاخیں اسے روک رہی تھیں۔ وہ گر پڑی، اور جب اس نے سر اٹھایا، فہد غائب تھا۔ اس کے فون کی سکرین ابھی تک روشن تھی، اور اس پر وہی تصویر تھی۔ لیکن اب چہرہ سارہ کا تھا۔ اس کی آنکھیں خالی تھیں، اور اس کے ہونٹوں پر وہی عجیب سی مسکراہٹ تھی۔


سارہ اکیلی رہ گئی تھی۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا، اور اس کا دماغ گھوم رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ جنگل کی ہر آواز اسے پکار رہی ہے۔ اس نے اپنا فون اٹھایا اور اسے توڑنے کی کوشش کی، لیکن اس کے ہاتھ جیسے خود بخود رک گئے۔ اس نے فون کی سکرین کو دیکھا، اور اس پر ایک نئی تصویر تھی۔ اس تصویر میں وہ خود تھی، لیکن اس کے پیچھے وہی چہرہ تھا۔ اس کی مسکراہٹ اب اور گہری تھی، جیسے وہ سارہ کو اپنا حصہ بنا چکا ہو۔


سارہ نے چیخ کر فون پھینک دیا اور بھاگنا شروع کیا۔ وہ جنگل سے نکلنا چاہتی تھی، لیکن ہر راستہ اسے واپس جھیل کی طرف لے جا رہا تھا۔ اسے لگا کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ اس نے مڑ کر دیکھا، لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ صرف جھیل کا پانی ہل رہا تھا۔ اس نے اپنی سانس روک لی اور جھیل کے کنارے رکی۔ پانی میں اس کا عکس نظر آ رہا تھا، لیکن اس کی آنکھیں... وہ اس کی اپنی نہیں تھیں۔ وہ وہی خالی آنکھیں تھیں جو اس چہرے کی تھیں۔


سارہ نے چیخ کر اپنا چہرہ ہاتھوں سے ڈھانپ لیا۔ لیکن اس کے کانوں میں ایک سرگوشی گونج رہی تھی۔ تم میری ہو۔ تم سب میری ہو۔ سارہ نے اپنے ہاتھ ہٹائے اور دیکھا کہ جھیل کا پانی اب سیاہ ہو گیا تھا۔ اس میں سے ایک سائے نے سر اٹھایا۔ وہ وہی چہرہ تھا، لیکن اس بار اس کی شکل بدل گئی تھی۔ یہ سارہ کا چہرہ تھا، لیکن اس کی آنکھیں خون سے بھری ہوئی تھیں۔


سارہ نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، لیکن اس کے پاؤں جیسے زمین میں دھنس گئے تھے۔ اس نے چیخنا چاہا، لیکن اس کی آواز غائب ہو گئی۔ سائے نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا، اور سارہ جھیل کے پانی میں غائب ہو گئی۔


اختتام


کچھ دن بعد، مقامی لوگوں نے کیمپ کے آثار دیکھے۔ انہوں نے جھیل کے کنارے ایک فون پایا، جس کی سکرین پر ایک سیلفی کھلی تھی۔ تصویر میں پانچ دوست مسکرا رہے تھے عامر، سارہ، راحیل، زینب، اور فہد۔ لیکن جب لوگوں نے تصویر کو غور سے دیکھا، ان کے چہرے زرد پڑ گئے۔ ہر دوست کے پیچھے وہی چہرہ تھا، لیکن اس کی شکل ہر ایک کی اپنی تھی۔ جیسے وہ سب اس روح کا حصہ بن چکے ہوں۔


لیکن یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ فون کو ایک مقامی لڑکے نے اٹھایا اور اپنے گاؤں لے گیا۔ اس نے تصویر اپنے دوستوں کو دکھائی، اور سب ہنس پڑے۔ یہ کوئی مذاق ہے! انہوں نے کہا۔ لیکن اس رات، لڑکے نے اپنا فون اٹھایا اور ایک سیلفی لی۔ جب اس نے تصویر دیکھی، اس کے پیچھے وہی چہرہ تھا... لیکن اس بار اس کی شکل سارہ کی تھی۔


اگلے دن لڑکا غائب تھا۔ گاؤں والوں نے فون کو جلا دیا، لیکن افواہ پھیل گئی کہ کالا جنگل کی روح اب فون سے باہر نکل آئی ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ اب ہر اس شخص کی تصویر میں آتی ہے جو سیلفی لیتا ہے۔ اور جو اسے دیکھ لیتا ہے، وہ اس کا نیا چہرہ بن جاتا ہے۔


لیکن سب سے بڑا راز یہ تھا کہ فہد کبھی اس گروپ کا حصہ نہیں تھا۔ وہ ایک پرانی تصویر کا حصہ تھا، جو کئی سال پہلے اسی جھیل پر لی گئی تھی۔ وہ خود اس روح کا شکار تھا، اور اس نے اپنی جگہ لینے کے لیے نئے لوگوں کو جنگل بلایا تھا۔ سارہ، عامر، راحیل، اور زینب اس کی چال کا شکار بنے۔ اور اب، فہد کی روح آزاد تھی... لیکن صرف اس وقت تک جب تک کوئی نئی سیلفی نہ لے۔


کہانی ختم ہوتی ہے، لیکن ایک سوال رہ جاتا ہے کیا آپ کبھی ایسی جگہ جاؤ گے جہاں آپکی تصویر آپکی اپنی نہ ہو؟ اور اگر آپکی سیلفی میں کوئی اور نظر آئے... تو کیا آپ اسے دیکھو گے؟



Follow: Subscribe for latest updates

Comments