Skip to main content

Featured

میری پوری کائنات

آخری آ رام گاہ میری پوری  "کائنات" ۔۔۔  (ایک کہانی جس کے کردار سچے ہیں) وہ ابھی نابالغ تھی کہ اس کا بھائی جو ابھی نوجوانی کی حدوں میں آ رہا تھا محلے کے ایک دکاندار سے اس کی دوستی تھی۔۔ ایک دن اس دکاندار نے اس کے بھائی کو کہا ۔۔ یار پپو!!! تیری بہن جب سودا لینے آتی ہے بالکل گڑیا جیسی دکھتی ہے۔۔ گول چہرے۔ بڑی آنکھیں۔۔ بورے بال کالی انکھیں۔۔ مجھے بہت پیاری لگتی ہے۔۔ بھائی نے کہا ہم سب کو وہ بہت پیاری لگتی ہے کیونکہ گھر کی جان ہے۔۔ سب سے چھوٹی جو ہے۔۔ دکاندار نے پپو کا ہاتھ پکڑا اور اسے دباتے ہوئے کہا۔۔ ایک مرتبہ اسے میری دکان میں دوپہر کو لے آو۔۔ پچاس روپے دوں گا۔۔ پپو نے گھبرا کر انکار کیا ۔۔ کیونکہ پپو اب اس کا مطلب سمجھتا تھا۔۔ اس نے  پپو کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا اگر تو نہیں لائے گا تو جو تیرے ساتھ کرتا ہوں سب محلے کو بتا دوں گا۔۔ مجبوری میں پپو اپنی گڑیا جیسی بہن کو بہلا  پھسلا کر دکاندار کے پاس لے آیا۔۔ اور خود ڈر کر گھر بھاگ گیا۔۔ جب دوپہر کے بعد آیا تو اس کی بہن کے ہاتھوں میں ایک جوس  کا ڈبہ کچھ ٹافیاں تھیں اور وہ دکان کے تھڑے پر نڈھال بیٹی رو رہی تھی۔۔ پپ...

محبت کی ایک لازوال داستان


خونی عشق

Bloody love 


"چاچی ۔۔




چاچی پلیز دروازہ کھولیں خدا کا واسطہ ہے آپ کو ۔۔

چاچی اتنی رات ہے ۔۔

مجھے ڈر لگ رہا ہے چاچی پلیز ۔۔

چاچی مجھے مار لیں پیٹ لیں لیکن اس طرح مت کریں چاچی رحم کریں خدا کے واسطے ۔۔"


اس کی چیخ و پکار بیکار تھی کیونکہ چاچی کب کا اسے گھر سے نکال کر اپنے کمرے میں سونے جا چکی تھیں ۔۔

اس کی صدائیں گلی میں گونجتی رہ گئیں ۔۔

وہ وہیں دروازے سے پشت لگا کر دہلیز پر بیٹھ کر گھٹنوں میں منہ دے کر سسکنے لگی ۔۔


"میائوں ۔۔"


اس نے چونک کر اپنا سر گھٹنوں سے اٹھایا ۔۔


"یہ تو کسی بلی کی آواز ہے"


 بلی کی آواز بہت کمزور تھی شائد بلی بھوکی یا زخمی تھی ۔۔

بلی کو سوچتے ہوئے وہ اپنا غم بھول گئی ۔۔

تھوڑا بہت ڈھونڈنے کے بعد اسے ایک بڑا سا سیاہ بلا ایک درخت کے قریب بیٹھی نظر آئی ۔۔

بلا اتنا بڑا تھا اوپر سے بلکل سیاہ بھی ۔۔

مدد کا خیال بھول کر وہ ڈر کر پیچھے ہوگئی لیکن اچانک اس کی کالی آنکھیں بلے کی چمکیلی آنکھوں سے ملیں تو وہ کچھ چونک گئی ۔۔

اسے یوں لگا جیسے بلا اس سے مدد چاہتا ہو ۔۔

وہ خود بھی تو تکلیفیں جھیلتی رہی تھی ۔۔

کسی بے زبان کی تکلیف کا احساس کیسے نہ کرتی ۔۔

دھک دھک کرتے دل کے ساتھ اس نے بلے کے قریب جا کر جائزہ لیا ۔۔

بلے کی پچھلی ٹانگ میں لکڑی کا چھوٹا سا ٹکڑا گھسا ہوا تھا ۔۔

اس کے منہ سے سسکاری سی نکلی ۔۔


"یا اللہ یہ تو بہت تکلیف میں ہوگا ۔۔

میں کیا کروں ؟

گھر کے اندر میں نہیں جا سکتی اسے کیسے لے جائوں ؟

خالی ہاتھ کیسے مدد کروں بیچارے کی ؟"


بڑبڑاتے ہوئے وہ دل مضبوط کرتی بلے کے پاس بیٹھ گئی ۔۔

ایک عجیب سا خوف اس کے رگ و پے میں سرائیت کر رہا تھا ۔۔

جیسے کوئی اسے گھور رہا ہو ۔۔

تنبیہہ کر رہا ہو ۔۔


اس نے اپنا ہاتھ جیسے ہی "میائوں میائوں" کرتے بلے کی طرف بڑھایا درخت کی شاخیں زور سے ہلیں ۔۔

ہوا تو بلکل بھی نہیں تھی حبس ہی حبس تھا پھر کیوں اور کیسے ؟

وہ جلدی سے اٹھ کر درخت کے نیچے سے نکل گئی اور گھر کی طرف فل اسپیڈ سے دوڑ پڑی ۔۔

پھر سے اس نے منت سماجت شروع کردی مگر بیکار ہی جاتی نظر آرہی تھی ۔۔

لیکن اس بار اس نے ہار نہیں مانی اور مستقل دستک دیتی رہی ساتھ ہی خوفزدہ نظروں سے اس درخت کو بھی دیکھ لیتی ۔۔

اس گلی میں ان کے گھر سمیت صرف تین چار مخدوش حال گھر بنے تھے ۔۔

باقی ہر طرف درخت ہی درخت تھے خشک بھی اور ہرے بھرے بھی ۔۔

یہاں ہر وقت ہو کا عالم رہتا لیکن رات کے اس پہر دہشت بے حساب تھی ۔۔

اس کی مستقل دستک اور پکاروں میں اچانک بلے کی میائوں میائوں بھی شامل ہوگئی تو اس کی ٹانگیں لرزنے لگیں ۔۔

دل اچھل کر حلق میں پھنس گیا ۔۔

ڈرتے ڈرتے درخت کی طرف دیکھا تو درخت کے نیچے سے کالا بلا لنگڑاتا ہوا اسی کی طرف چلا آ رہا تھا ۔۔

اس کی سٹی گم ہوگئی ۔۔

اسے جانے کیوں ایسا لگا تھا کہ بلا سخت غصے میں ہے ۔۔

اس کی آواز ویسی ہی کمزور تھی لیکن میائوں میائوں مستقل تھی ۔۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ غصے میں اس سے مدد کی التجا کر رہا ہو ۔۔

اس کی جان آدھی ہونے لگی جب اچانک گھر کا دروازہ کھول دیا گیا ۔۔

سامنے گیارہ سالہ ناصر نیند سے لال آنکھیں لیئے کھڑا تھا ۔۔

وہ کچھ بھی کہے بغیر بجلی کی تیزی سے گھر کے اندر داخل ہوئی اور دروازے کی کنڈی لگادی ۔۔

ناصر کے حیرت سے دیکھنے پر "کچھ نہیں" کا تاثر دے کر اسے ساتھ ساتھ لیئے صحن جلدی سے عبور کر کے کمرے میں گھس گئی ۔۔


"آپی کیا ہوا ؟"


ناصر سچ مچ پریشان ہوگیا ۔۔


"کک کچھ نہیں ۔۔

چاچی نے اجازت دی دروازہ کھولنے کی ؟"


"جی امی نے ہی اجازت دی ۔۔

ورنہ میں کہاں خود کھول سکتا تھا ؟

اس بار آپ نے کوئی بڑی مسٹیک کی ہوگی تب ہی امی نے سزا بھی بڑی دی ۔۔"


ناصر کے اچانک کہنے ہر وہ افسردگی سے ہنس پڑی ۔۔


"مجھے آج تک اندازہ نہیں ہوا کہ چاچی مجھ سے کب کس بات پر خفا ہوتی ہیں ؟

سارے دن کی روٹین ذہن میں دوڑائی ہے لیکن ابھی تک غلطی کیا ہوئی ہے سمجھ نہیں آیا ۔۔"


اس کے ہونٹ لٹکا کر کہنے پر ناصر ہنس پڑا ۔۔


"اچھا اب تم دانتوں کی نمائش بند کرو اور اپنے کمرے میں جا کر سو جائو ۔۔

ورنہ ممکن ہے چاچی اس بات پر بھی ناراض ہوجائیں ۔۔

اس کی ہدایت پر ناصر اسے گڈ نائٹ کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔

اس کا ڈر بھی ناصر سے بات کر کے تھوڑا ختم ہوا ۔۔

لائٹ آف کر کے سونے کی ہمت اس سے آج نہیں ہو سکی سو ایسے ہی بستر پر لیٹ گئی جب پھر سے میائوں میائوں کی آوازیں اس کے اعصاب چٹخانے لگیں ۔۔

اس کا دل بیٹھنے لگا ۔۔

یہ آواز اس کے کمرے کی کھڑکی سے آ رہی تھی ۔۔

اس کے کمرے کی کھڑکی تک پہنچنے کے لیئے باہر سے گھوم کر دوسری طرف جانا پڑتا تھا تو کیا یہ بلا بھی زخمی ٹانگ کے ساتھ اتنا لمبا سفر کر کے اس کی کھڑکی تک پہنچا تھا ۔۔

ترس اور خوف نے ایک ساتھ اسے ڈرایا تھا ۔۔

وہ اٹھ کر کھڑکی تک گئی اور جب پردہ ہٹایا تو سامنے ہی وہ بلا اپنی سرخ چمکتی ہوئی آنکھیں کھڑکی پر گاڑے کھڑا تھا ۔۔

دہشت زدہ ہو کر اس نے پھر سے کھڑکی بند کرنی چاہی لیکن جب اس بلے نے بہت آس سے ہلکا سا "میائوں" کیا تو وہ لاچارگی سے اس بلے کی طرف دیکھنے لگی ۔۔

ایک بے زبان جانور مستقل اس سے مدد کی درخواست کر رہا تھا وہ کیسے ترس نہ کھاتی ۔۔

جالی میں سے ہاتھ نکال کر اس نے بمشکل اس بھاری بھرکم بلے کو کمرے کے اندر کھینچا ۔۔

اس کے ہاتھوں کے جوڑ تکلیف کرنے لگے ۔۔

اتنا بھاری بلا ۔۔


"کیا سارے ہی بلے اتنے بھاری ہوتے ہیں ۔۔"


اس نے حیرت سے اس بلے کو دیکھتے ہوئے سوچا پھر ساری سوچیں جھٹک کر اس کی ٹانگ کا معائنہ کرنے لگی ۔۔

نہ جانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے بلے کی ٹانگ میں وہ لکڑی کا ٹکڑا کسی نے پھنسایا تھا ۔۔

خود سے ہلکا سا لکڑی کا ٹکڑا اس طرح آر پار نہیں ہو سکتا ۔۔

اور حیرت انگیز طور پر بلے کا خون بھی نہیں نکل رہا تھا ۔۔

ایک بار پھر اس کے دل میں خوف نے انگڑائی لی لیکن وہ پھر بھی وہ لکڑی کا ٹکڑا نکالنے کے لیئے جھک گئی ۔۔

اس کا خود پر کوئی زور نہیں تھا جیسے اس وقت ۔۔

لکڑی کا ٹکڑا کھینچنے پر اتنے آرام سے نکل گیا جیسے سوئی میں سے دھاگا ۔۔

ایک بار پھر وہ ٹھٹھکی اور ایک بار پھر جیسے کسی نے اس کی سوچوں پر بند باندھ دیا ۔۔

لکڑی کا ٹکڑا کھڑکی سے باہر پھینک کر وہ بلے کی طرف پلٹی ۔۔


"تمہیں بھوک لگی ہے ۔۔؟"


اس کی آواز سرگوشی سے زیادہ نہ تھی ۔۔


بلے نے جواب میں کوئی آواز بھی نہ نکالی اور سر اٹھائے یک ٹک اس کی آنکھوں میں گھورتا رہا ۔۔

بے ساختہ جھرجھری لے کر وہ پیچھے ہوئی پھر آہستہ آواز میں بولی ۔۔


"پلیز آواز مت نکالنا ۔۔

میری چاچی تمہارے ساتھ ساتھ میرا بھی قیمہ بنا دیں گی ۔۔

میں دیکھتی ہوں کچن میں شائد کچھ پڑا ہو کھانے یا پینے کے لیئے ۔۔

امید تو نہیں ہے ویسے ۔۔"


وہ بلے سے یوں بات کر رہی تھی جیسے وہ اس کی باتیں سمجھ رہا ہو ۔۔

تنہا رہنے والوں کو اکثر خود سے یا بے زبانوں سے بات کرنے کا شوق ہو جاتا ہے ۔۔

اسے بھی یہ شوق لاحق تھا ۔۔

کچن میں جا کر اس نے دیکھا فریج اور کنبٹ وغیرہ پر تالا لگا تھا ۔۔

خوش قسمتی سے آج کھانے میں چکن قورمہ بنا تھا ۔۔

چچڑی ہوئی ہڈیاں پلیٹ میں پڑی تھیں ۔۔

وہ کچھ اور نہ پا کر وہی ساری ہڈیاں ایک پلیٹ میں لیئے کمرے میں چلی آئی ۔۔

بلا سکون سے اس کے بستر پر پھیل کر بیٹھا تھا ۔۔

بلے کے شاہانہ انداز پر بھنویں اچکاتی وہ زمین پر بیٹھ گئی اور ہڈیاں بھی فرش پر ڈال دیں ۔۔


"شش بلے ۔۔

یہ کھالو ۔۔

اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔۔

اسی پر صبر شکر کر لو ۔۔

مجھے دیکھو میں نے رات کا کھانا کھایا ہی نہیں ۔۔

مجھ سے زیادہ بہتر حالات ہیں تمہارے ۔۔

نضرے نہیں کرو ۔۔

کھالو کالو ۔۔

ابے کھالے نا موٹو ۔۔"


بلے نے صرف ایک نظر ہڈیوں پر ڈالی اور پھر سے اسے گھورنے لگا ۔۔

اس کا سہی والا دماغ خراب ہوا اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔


"شہزادے ہو کہیں کے ۔۔

نخرے تو دیکھو جیسے آسمان سے اترا پرا ہو ۔۔

اترو میرے پلنگ سے ۔۔

کھانا ہے تو یہ کھائو نہیں تو جائو ۔۔

مجھے سونے دو ۔۔"


اسے جانے ایسا کیوں لگا جیسے بلا مسکرایا ہو ۔۔

سر جھٹک کر اس نے خود بلے کو نیچے اتارنا چاہا لیکن بلا پہلے سے دوگنا بھاری ہو رہا تھا ۔۔

وہ اپنی کمر پر ہاتھ ٹکا کر خوف اور حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔۔

اسے یقین سا ہوگیا یہ کوئی عام بلّا نہیں بلکہ کوئی بلا ہے ۔۔

وہ کمرے سے باہر بھاگنے کے لیئے مڑی ہی تھی جب بلا ایک ہی چھلانگ میں اس کی گردن پر حملہ آور ہوا ۔۔

بلے کے بوجھ سے وہ پورے قد سے دھڑام کی زوردار آواز کے ساتھ زمین بوس ہوگئی ۔۔

گرتے ہوئے سر ٹیبل کے کونے سے ٹکرایا جس کی وجہ سے خون بھل بھل نکلنے لگا اور کچھ ہی دیر بعد اس نے ہوش گنوا دیئے ۔۔

جو آخری منظر اس کی آنکھوں نے دیکھا تھا وہ یہ تھا کہ بلا اپنی نوکیلی زبان سے اس کی پیشانی سے خون چاٹ رہا تھا ۔۔


جب اس کی آنکھ کھلی تب پورے کمرے میں دن کا اجالا پھیلا ہوا تھا جبکہ وہ وہیں زمین پر پڑی تھی ۔۔

تھوڑی دیر تک وہ غائب دماغ سی اپنا سر دباتی رہی ۔۔

پھر دھیرے دھیرے اس کے ذہن میں کل رات والا سارا منظر چلنے لگا ۔۔

وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی ۔۔

اس کی دہشت سے پھٹی آنکھیں پورے کمرے میں چکراتی پھر رہی تھیں ۔۔

سر کی چوٹ تکلیف دے رہی تھی جبکہ پورا جسم خون ضائع ہونے کی وجہ سے بے جان ہو رہا تھا ۔۔

اس کی نظر گھڑی پر پڑی جہاں گھڑی آٹھ بجا رہی تھی ۔۔

یقیناً صبح کے آٹھ ۔۔

لیکن ۔۔

اس کا دل بیٹھنے لگا ۔۔

چاچی جتنی بھی ظالم سہی ۔۔

لیکن نمازی پانچ وقت کی تھیں ۔۔

فجر کے وقت ہی ان کا شور شروع ہوجاتا ۔۔

کیونکہ وہ اپنے بچوں پر بھی نماز کے لیئے سختی کرتی تھیں ۔۔

ان کی تیز آواز کا فائدہ اسے بھی ہوتا اور وہ بھی فجر کے لیئے اٹھ جاتی لیکن آج ۔۔

ایک تو رات کا دہشت ناک واقعہ ۔۔

اس پر صبح کی یہ بوجھل خاموشی ۔۔

وہ تیزی سے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھے جب اِدھر اُدھر نظریں دوڑاتی چاچی کے کمرے میں پہنچی تو وہاں کا منظر اسے ساکت کر گیا ۔۔

تیز رفتاری سے دھڑکتا دل رک سا گیا ۔۔

آنکھیں بڑی اور پتلیاں چھوٹی ہوگئیں ۔۔

دل پر پڑا ہاتھ پہلو میں جا گرا ۔۔

کچھ دیر تک وہ خالی دماغ سی کمرے میں بکھرا خون اور چاچی ۔۔ ناصر ۔۔ نازش اور نوید کے خون سے لت پت سفید بے جان وجودوں کو دیکھتی رہی پھر اس کی چیخیں بلند ہوئیں ۔۔

اور پھر بلند تر ہونے لگیں ۔۔

وہ ایک ایک کے مردہ وجود کے پاس جا کر اسے جھنجوڑتی ۔۔

اسے پکارتی ۔۔

پھر کوئی جواب نہ پا کر اچھل کر پیچھے ہوجاتی ۔۔

پھر دوسری لاش کے قریب جاتی اور یہی عمل دوہراتی ۔۔

بہت دیر تک وہ دیوانگی کی حالت میں یہی عمل کرتی رہی ۔۔

پھر اسے جب یقین آنے لگا اس منظر کی سچائی پر تو وہ دوڑ کر کمرے سے نکلی اور صحن میں جا کر گہری گہری سانسیں لیتے ہوئے برمہ چلانے لگی ۔۔

خود کو گیلا کرتی اور پھر برمہ چلاتی ۔۔

پانی آنے پر پھر پانی میں بھیگنے لگتی ۔۔

اس کی چیخیں اور آنسو مسلسل جاری تھے ۔۔

وہ کبھی خود کو کوستی تو کبھی اس بلے کو بددعائیں دیتی ۔۔

اس کی تو ساری دنیا اجڑ گئی تھی ۔۔

ماں باپ کے مرنے کے بعد چاچا نے اسے سنبھالا تھا ۔۔

پھر چاچا کے دنیا چھوڑ جانے کے بعد بھی چاچی اسے بچپن سے جیسے تیسے سہی پال پوس رہی تھی کیا یہ کم احسان تھا آج کے دور میں ۔۔

وہ ان کی ساری سختیاں بھلائے اپنا سینہ پیٹ رہی تھی ۔۔

اچانک وہ اٹھی اور دروازہ کھول کر باہر بھاگی ۔۔

اس طرح سنسان راستے پر صبح کے وقت بھیگی بھیگی دوپٹے سے بے نیاز بھاگتی ہوئی وہ کہیں سے بھی نارمل نہیں لگ رہی تھی ۔۔

وہ دوڑتی ہوئی فیروزہ خالہ کے گھر کے باہر رکی جن سے چاچی کے اچھے تعلقات تھے ۔۔

دھڑ دھڑ دروازہ بجائے ہوئے وہ جیسے توڑ دینے کے در پر تھی ۔۔

اندر سے فیروزہ خالہ کی غصہ کرنے کی آواز آرہی تھی لیکن وہ ایک پل کو نہیں رکی اور جنونی کیفیت میں دروازہ بجاتی رہی ۔۔

کمرے کا منظر اس کی نظروں سے ہٹ نہیں رہا تھا ۔۔

دروازہ فیروزہ خالہ کے بیٹے نے کھولا وہ انہیں دیکھ کر ایک پل کو ساکت ہوئی جبکہ فروز بھائی اس کے حلیے پر نظریں دوڑاتے ہوئے حق دق کھڑے رہ گئے ۔۔

وہ انہیں نظر انداز کر کے ان کے پیچھے کھڑی فیروزہ خالہ کے سینے سے لگی اور شدت سے رونے لگی ۔۔

فیروزہ خالہ کے گھر کے سب فرد صحن میں آگئے اور حیرت سے اسے دیکھنے لگے ۔۔

فیروزہ خالہ نے اسے الگ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ تو ان سے گویا چمٹ گئی تھی ۔۔

"ائے کچھ بتا تو سہی لڑکی ۔۔

دل بیٹھ رہا ہے میرا ۔۔

گھر میں سب ٹھیک ہے ۔۔"

فیروزہ خالہ نے اس کی پشت سہلاتے ہوئے کوئی بیسویں دفع پوچھا جبکہ فروز بھائی اور ان کے والد اس کے گھر کی طرف نکل پڑے تھے کہ خدا جانے کیا قیامت ٹوٹی تھی صبح ہی صبح اس پر ۔۔

وہ فیروزہ سے الگ ہو کر کچھ بتانے کی کوشش کرنے لگی لیکن اچانک اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور وہ سب کو حواس باختہ چھوڑتی پھر حواس چھوڑ بیٹھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیروزہ خالہ نے یاسین شریف پڑھ رکھی پھر اس کی تپتی پیشانی کو چھوا اور ساتھ ہی پھونک بھی اس کے پورے وجود پر ماری ۔۔

وہ چار دنوں سے ہوش سے بیگانہ تھی ۔۔

ذرا سی آنکھیں کھولتی گھر والوں میں کسی کو پکارتی اور پھر بے ہوش ۔۔

لیکن بے ہوشی میں بھی اس کی آنکھوں کے کناروں سے آنسو گرے چلے جا رہے تھے ۔۔

فیروزہ بیگم خود بھی کمرے کا ہیبت ناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھیں ۔۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ظاہر تھا یہ کسی جانور کا کام تھا لیکن آج کل کے دور میں اس رپورٹ پر یقین کرنا مشکل ہی تھا ۔۔

پولیس والوں کا شک اس کی طرف ہی تھا جو ہوش میں آ کر نہیں دے رہی تھی ۔۔

فیروزہ خالہ کہ زبانی پولیس اس کے اور چاچی کے تعلقات سے واقف ہو چکی تھی ۔۔

پولیس کا خیال تھا مار پیٹ سے تنگ آ کر اس نے جذبات میں آ کر یہ حرکت کر ڈالی ہوگی اور قتل کر دینے کے بعد اسے صدمہ لگ گیا ہوگا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"جو سچ ہے میں آپ کو بتا چکی ہوں ۔۔

آپ مجھے تھپڑ نہ ماریں بلکہ گولی ماریں میں تب بھی یہی بولوں گی کیونکہ یہی سچ ہے ۔۔

لیکن اپنی وردی کے غرور میں آپ کو کسی پر جھوٹا الزام لگانا ہے تو لگا لیں مجھ پر ۔۔

لیکن کوشش کیجیئے گا پھانسی سے کم پھر سزا نہ ہو ۔۔"

لیڈی کانسٹیبل کے پانچویں تھپڑ پر سن گال کے ساتھ اس نے اٹک اٹک کر کہا ۔۔

اس دوران کتنے ہی آنسو اس کی آنکھوں سے گرے تھے کسی نے توجہ نہیں دی تھی ۔۔

"اے چل زیادہ ڈائلاگ مت مار ۔۔"

لیڈی کانسٹیبل کا ہاتھ ایک بار پھر ہوا میں بلند ہوا تھا لیکن ایک بلند گرجدار آواز پر لیڈی کانسٹیبل کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا ۔۔

اس نے بھی چونک کر سامنے دیکھا ۔۔

سفید اجلی داڑھی اور لمبے پونی میں جکڑے سفید چٹے بال ۔۔

جھریوں کے ساتھ بھرپوت صحت اور سرخ و سفید رنگت والا وہ سیاہ وردی میں ملبوس شخص نہ جانے کیوں اسے فرشتہ سا لگا تھا ۔۔

"میں نے کتنی بار سمجھایا ہے آپ لوگوں کو ۔۔

صرف شک کی بنا پر کسی پر جسمانی تشدد مت کیا کریں ۔۔"

اس شخص نے دھیمی لیکن بارعب آواز میں کہا تو لیڈی کانسٹبل اور حوالدار گڑبڑا گئے ۔۔

"سر جسمانی تشدد نہ کریں تو یہ سچ بھی نہیں بتاتے نا ۔۔"

حوالدار کے منمنانے پر انہوں نے اسے گھورا پھر دونوں کو وہاں سے جانے کا اشارہ دیا ۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر شانے اچکاتے ہوئے چلے گئے ۔۔

"میں نے ابھی آپ کا بیان سنا ہے ۔۔

کیا آپ پھر سے دہرانا پسند کریں گی ۔۔ "

ان کا انداز شائستگی اور رعب سے بھرپور تھا ۔۔

دھندلی نظروں سے ان کا چہرہ دیکھ کر اس نے پھر اس ہیبت ناک رات کی کہانی دہرا دی ۔۔

تیمور آفندی چہرے پڑھنے کے فن سے آشنا تھے اور اس لڑکی کے چہرے پر انہیں سوائے سچائی اور دکھ کے اور کچھ نظر نہیں آیا تھا ۔۔

وہ تھوڑی دیر تک ایک ٹک اس کا آنسئوں سے تر چہرہ دیکھتے رہے پھر بولے ۔۔

"ایسے بیان پر آج کل کون یقین کر سکتا ہے ۔۔ "

جواب میں اس نے کچھ نہیں کہا تب وہ مزید بولے ۔۔

"لیکن مجھے پورا یقین ہے ۔۔

کیونکہ تقریباً ایسے ہی حالات کا سامنا میں بھی کر چکا ہوں ۔۔"

ان کے انکشاف پر اس نے سرخ سوجی آنکھیں اٹھا کر کچھ حیرت سے انہیں دیکھا تو تیمور آفندی نے سر اثبات میں ہلا دیا ۔۔

"میں ہی کیا میرا پورا خاندان ان حالات سے گزر چکا ہے ۔۔

بلکہ اب بھی گزر رہا ہے شہلا ۔۔

لوگ منہ پر کچھ نہیں کہتے لیکن مجھے پتہ ہے لوگ ہمارے خاندان کو پیٹھ پیچھے سائکو خاندان کہتے ہیں ۔۔

ہماری حویلی پاگلوں کا ادارہ کہلائی جاتی ہے ۔۔"

ان کی مسکراہٹ زخمی تھی ۔۔

"میں نو سال کا تھا جب میں نے ایک بہت بڑے بلے کو میرے چاچا کو بے دردی سے مارتے دیکھا ۔۔"

بلے کے ذکر پر شہلا کی آنکھوں میں خوف غم اور غصہ ساتھ لہرائے ۔۔

جیسا تم بتا رہی ہو بلکل ویسا ہی بلا ۔۔

پولیس نے میرے بیان کو صدمہ کا اثر قرار دیا پھر آگے کیا ہوا میں نہیں جانتا لیکن ہماری حویلی میں عجیب و غریب واقعات ہوتے ہیں ۔۔

رات کو بلیوں کے رونے کی کریہہ آواز اکثر آتی ہے ۔۔

میرے بھانجے کو بھی تمہاری فیملی والے طریقے سے ہی قتل کردیا گیا ۔۔

میری بھتیجی نے سارا منظر چھپ کر دیکھ لیا اور دماغی توازن کھو بیٹھی ۔۔

اس وقت اگر وہ سکتے میں جانے کی جگہ چیخ پڑتی تو ممکن تھا وہ بھی ۔۔

خیر اللہ کا کرم ہوا ۔۔

ہمارے پانچ وفادار ملازم ایک کے اوپر ایک ایسے ہی ختم ہوتے گئے ۔۔

اب ہماری حویلی میں کوئی کام کرنے کو تیار نہیں ۔۔

یہ تھی میری اور میرے خاندان کی کہانی ۔۔

اس لیئے میں تم پر یقین کرتا ہوں اور تمہیں بچانے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔

کوئی ثبوت تمہارے خلاف نہیں ہے سو یہ اتنا مشکل بھی نہیں ۔۔"

شہلا جو ایک ٹک انہیں دیکھے جا رہی تھی اچانک نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔

"میرے لیئے باہر کی دنیا میں رکھا ہی کیا ہے سر ۔۔

سب کچھ تو ختم ہوگیا میرا ۔۔

میں آزاد ہو کر کیا کروں گی ۔۔

رہنے دیں مجھے جیل میں اور ختم ہوجانے دیں ۔۔

آپ کا بھی ویسی ہی بلا سے پالا پڑا ہے ۔۔

آپ نے میری باتوں کا یقین کیا ۔۔

یہ کافی ہے ۔۔

ورنہ مجھے خود پر شک ہونے لگا تھا کہ واقعی میں نے ہی ۔۔

ممم میں نے ہی ۔۔

اپنی ۔۔

اپنی پوری فیملی ۔۔

اپ اپنی پوری دنیا کو ۔۔

ختم کرلیا ۔۔

ختم کرلیا ۔۔

ختم ہوگیا میرا سب ختم ہوگیا ۔۔

سب چھین لیا مجھ سے اس بلا نے ۔۔

کیا کروں گی میں جی کر ۔۔

کہاں جائوں ۔۔

کیا کروں ۔۔

مرنے دیں سر مجھے یہیں مرنے دیں ۔۔"

وہ بولتے بولتے اچانک ہذیانی کیفیت میں چیخنے لگی ۔۔

تیمور آفندی ہمدردی سے اسے دیکھنے لگے پھر اس کا سر تھپکتے ہوئے بولے ۔۔

"بیٹا اللہ کی ذات پر یقین رکھو ۔۔

کیا پتہ وہ رب تم سے بہتر لے کر بہترین سے نوازنے کا ارادہ رکھتا ہو ۔۔"

"فیملی سے بڑھ کر بھی کچھ ہو سکتا ہے سر ۔۔"

شہلا نے افسردگی سے سوچا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہلا کے خلاف کیس بہت کمزور تھا ۔۔

اسے آرام سے آزادی کا پروانہ مل گیا تھا ۔۔

کوئی نزدیکی رشتہ نہیں تھا ۔۔

جو دور کے تھے وہ پولیس قتل وغیرہ کے معاملے کے بعد اور بھی دور ہوگئے ۔۔

ایسے میں تیمور آفندی اس کی لاکھ نہ نہ کے باوجود اسے لیئے حویلی چلے آئے ۔۔

جب تیمور آفندی نے سب کو لائونج میں جمع کر کے شہلا کی تمام کہانی سنائی تو سب کو سانپ سونگھ گیا ۔۔

تو گویا اس دنیا میں کوئی اور بھی تھا جس نے اس بلا کو دیکھا تھا اور اس کا ستم جھیلا بھی تھا ۔۔

لیکن ایک بات جو سب کو چونکا رہی تھی وہ یہ تھی کہ اس بلے نما بلا نے شہلا کی جان کیسے چھوڑ دی ۔۔

سب کے دلوں میں پنپتے سوال کو حمزہ نے زبان دی تو شہلا خود بھی سوچ میں ڈوب گئی ۔۔

ہاں واقعی ۔۔

وہ کیسے زندہ تھی اور کیوں ۔۔

"اس بارے میں بعد میں سوچا جائے گا ۔۔

ہانیہ بیٹا تم بہن کو گیسٹ روم میں لے جائو ۔۔"

"جی چاچو ۔۔"

ہانیہ اٹھی تو اسے بھی نہ چار اٹھنا پڑا ۔۔

پیچھے پیچھے حمزہ بھی چل پڑا ۔۔

"ہانی مجھے تو لگتا ہے اسی نے قتل کیا ہے ۔۔

کسی سے ہماری "خاندانی بلا کہانی" سن لی ہوگی ۔۔

اب اس کہانی کا سہارا لے کر چاچو کو ماموں بنا کر یہاں آگئی ۔۔"

حمزہ نے آواز دھیمی رکھی تھی لیکن ان سے دو قدم پیچھے چلتی شہلا نے سب سنا اور ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی ۔۔

"او بھیا ۔۔

تیمور چاچو کوئی دودھ پیتے بچے نہیں ہیں جنہیں کوئی بھی آرام سے بے وقوف بنا دے ۔۔

خاندان کے ذہین ترین لوگوں میں سے ایک ہیں ۔۔

اپنے ادارے کا فخر ہیں وہ ۔۔

اور ہماری "بلا کہانی" دیپیکا اور رنبیر کپور کی بریک اپ سٹوری نہیں ہے جس کے ہر طرف چرچے ہوں ۔۔

صرف قریب قریب کے دوست احباب واقف ہیں ۔۔

شہلا یہ آپ کا کمرہ ہے ۔۔"

ہانیہ خود سے چار سال بڑے بھائی کو ڈپٹ کر اچانک مڑ کر شہلا سے بولی ۔۔

شہلا جو ان کی ساری باتیں سن کر ان سنی کر رہی تھی پھیکا سا مسکرا کر کمرے میں داخل ہوئی ۔۔

حمزہ کینہ پرور نظروں سے اس کو گھورتا رہا یہاں تک کہ ہانیہ شہلا کو کچھ ہدائتیں دے کر حمزہ کا بازو پکڑ کر کھینچتے ہوئے ساتھ لیجانے لگی ۔۔

شہلا دروازہ بند کرنے لگی تھی کہ اس کی نظر حمزہ پر پڑی ۔۔

حمزہ نے دو انگلیوں سے اپنی آنکھوں کی طرف پھر اس کی طرف اشارہ کر کے "دیکھ لوں گا" کا اشارہ دیا ۔۔

شہلا کے سارے احساسات مرے ہوئے تھے سو اس نے خاموشی سے سر جھٹک کر دروازہ بند کردیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دبے قدموں آگے بڑھ رہا تھا ۔۔

اس کے ایک پیر میں ہلکی سی لڑکھڑاہٹ تھی جسے وہ ظاہر نہیں کر رہا تھا ۔۔

رات ۔۔ اندھیرے ۔۔ ویرانی اسے بہت بھاتی تھیں ۔۔

وہ عموماً گہری رات میں چہل قدمی کے لیئے نکلتا تھا ۔۔

کئی دنوں تک پہاڑی علاقوں کی ویرانیاں خود میں اتارنے کے بعد وہ حویلی لوٹا تھا ۔۔

اس کے چہرے پر مدھم سی مسکان تھی جو ہمیشہ ہر حال میں قائم رہتی تھی ۔۔

وہ کتنا ہی ڈپریس ہو یا کتنی ہی اذیت میں ہو ۔۔

یہ مسکان اس کے لبوں سے جدا نہیں ہوتی تھی ۔۔

اس وقت بھی وہ مسکان اس کے لبوں پر تھی ۔۔

لیکن آنکھیں ہر جذبے سے عاری ستاروں سے بھرے آسمان کو دیکھ رہی تھیں ۔۔

اچانک اس کی تیز نظریں گیسٹ روم کی اس بڑی سی گیلری پر پڑیں اور ساکت رہ گئیں ۔۔

سیاہ پتلیاں ڈرا دینے کی حد تک چھوٹی ہوگئیں ۔۔

یوں کہ ہر طرف سفیدی تھی صرف درمیان میں ایک ننھا سا سیاہ نقطہ تھا بس ۔۔

"یہ ۔۔

یہ یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔

یہ یہاں کیسے ۔۔

کیسے آخر ۔۔

کیا میں نے اسے زندہ چھوڑ کر غلطی کی ۔۔

کہیں یہ میرا راز تو نہیں جان گئی ۔۔"

۔۔۔۔ـــــــــــــــــ

وہ بے آواز آگے بڑھنے لگا ۔۔

یونہی چلتے چلتے وہ اچانک اپنا روپ بدل گیا ۔۔

اب ایک وہ سیاہ بلا تھا جو آرام سے درخت کی ٹہنیاں چڑھتا اس گیلری کی دیوار پر چڑھ گیا ۔۔

اس کی سرخ آنکھوں میں موجود سیاہ دائروں کا سائز بہت چھوٹا تھا ۔۔

یہ اس کی ناگواری ۔۔

غصے ۔۔

اور سنجیدگی کا سائن تھا ۔۔

شہلا کوئی تصویر سینے سے لگائے اس کے خوفناک وجود سے بلکل بے خبر اپنی سسکیاں روکنے کی کوشش میں ہلکان تھی ۔۔

اس تصویر میں سب ہی تھے ۔۔

چاچی ۔۔ اس کے تینوں کزنز ۔۔ اور وہ خود ۔۔

یہ کسی جاننے والے کی شادی میں لی گئی ان سب کی پہلی اور آخری تصویر تھی ۔۔

اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس تصویر کو سینے سے لگا کر اس طرح ماتم کرے گی ۔۔

اس کے دل کو کسی طور قرار نہیں آ رہا تھا ۔۔

وہ بھری دنیا میں اکیلی رہ گئی تھی ۔۔

اس کی زرا سی نیکی نے سب کچھ چھین لیا تھا اس سے ۔۔

شہلا کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کے ذہن کو کنٹرول کر کے اس سے وہ "نیکی" کروائی گئی تھی ۔۔

دو سرخ آنکھیں اس کے رو رو کر سرخ پڑتے چہرے پر جم سی گئی تھیں ۔۔

"یا اللہ ۔۔

جنہیں جانا تھا وہ تو چلے گئے ۔۔

لیکن یہ میرا دل ۔۔

اسے کیوں قرار نہیں آ رہا ۔۔

میرے دل کو اس کا سکون لوٹادیں اللہ پاک ۔۔

احساس گناہ میری جان نہیں چھوڑتا ۔۔

میری وجہ سے میرے اپنوں نے تکلیف اٹھائی ہے ۔۔

سزا دے دیں یا سکون لوٹادیں مجھے ۔۔

میرے اللہ ۔۔

میری مدد فرمائیں ۔۔

مجھے کوئی راستہ دکھائیں ۔۔

قسمت مجھے وہاں لے آئی جہاں کا کبھی وہم و گمان بھی نہیں تھا ۔۔

اس انجانے سفر میں میری رہنمائی فرمائیں ۔۔

مجھ میں مزید ایک غم اور سہنے کی ہمت نہیں ہے ۔۔

میری زندگی میں آسانیاں اور سکون پیدا کر دیں یا اللہ ۔۔"

وہ روتے روتے زمین پر گھٹنے ٹیک کر گر گئی ۔۔

سر گیلری کی جالی سے ٹکا کر وہ سسکتی رہی خدا کو پکارتی رہی ۔۔

جبکہ وہ بلا جیسے خاموشی سے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا ۔۔

اگر شہلا اس وقت اس بلے کو وہاں دیکھ لیتی تو خوف سے یقیناً مر جاتی یا اس بلے کو ہی مار دیتی ۔۔

ایسی ہی ذہنی اذیت میں تھی وہ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اسے زبردستی سب کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر ناشتے کے لیئے بلوایا گیا ۔۔

وہ تنہائی چاہتی تھی لیکن وہ اس وقت ان کی حویلی میں رہائش پزیر تھی سو ان کے احساسات کا خیال رکھنا اس پر فرض تھا ۔۔

خوبصورت جدید لباسوں میں ملبوس خواتین میچنگ جوتے ہلکے سے میک اپ ۔۔ جویلری اور اچھے سے بندھے بالوں کے ساتھ ناشتہ تیار کرتی اسے حیران کر رہی تھیں ۔۔

ان خواتین نے بھارتی ڈراموں کی بھابیوں کو مات دے دی تھی ۔۔

وہ تو صرف نک سک سے تیار کھانے بنانے کی ایکٹنگ کرتی تھیں لیکن اس حویلی کی خواتین ایسا سچ مچ کر رہی تھیں ۔۔

شہلا حیرت سے انہیں دیکھے جا رہی تھی جب اچانک اسے تیمور آفندی کی بات یاد آئی کہ ان کے ہاں ملازم کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے ۔۔

اس کی حیرت کچھ کم ہوئی اور وہ بھی ناشتے میں مگن ہوگئی ۔۔

اس کے ایک طرف ہانیہ بیٹھی تھی کالج یونیفارم میں جبکہ دوسری طرف تیمور آفندی کی بیٹی امتل بیٹھی تھی ۔۔

اچانک اسے غیر معمولی پن کا احساس ہوا تو اس نے سر اٹھا کر دیکھا ۔۔

سب کی نظریں ڈائننگ ہال کے دروازے پر جمی تھیں جہاں گرے ٹریک سوٹ میں وہ نہ جانے کون تھا جو سب کے سب اسے یوں گھور رہے تھے ۔۔

ایمانداری سے کہا جائے تو ۔۔

نفرت سے گھور رہے تھے ۔۔

"شمعون میری جان ۔۔"

تیمور آفندی اچانک اپنی جگہ سے اٹھے اور بانہیں پھیلا کر اس کی طرف بڑھے جس کے لبوں پر ہمیشہ قائم رہنے والی مسکان کچھ گہری ہوگئی تھی ۔۔

وہ بھی بے جھجک ان کے گلے لگ گیا ۔۔

"آگیا یہ گند کا پوٹلا ۔۔"

تیمور آفندی کی تین بھابیوں میں سے نہ جانے کس بھابی نے یہ باآواز بلند کہا تھا ۔۔

پھر ساری خواتین تیمور آفندی کے پلٹ کر گھورنے پر آگے پیچھے کچن میں گھس گئیں ۔۔

شہلا بلاوجہ کھسیا گئی ۔۔

تیمور آفندی نے پھر شمعون کا چہرہ دیکھا جہاں اب بھی وہ مسکراہٹ اور بے رونق آنکھوں میں "کوئی بات نہیں" واضع تھا ۔۔

شہلا نے دیکھا سب کے منہ بن گئے تھے بشمول امتل ہانیہ اور حمزہ کے ۔۔

اس نے الجھ کر پھر سے شمعون کی طرف دیکھا جو عین اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ رہا ۔۔

شہلا بے ارادہ اسے دیکھے چلی گئی جیسے سب کے رویئے کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہی ہو ۔۔

بے تاثر چہرہ ۔۔

ہونٹ جامد تھے لیکن پھر بھی لگتا ایک پراسرار سی مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کر رکھا تھا ۔۔

ویران سیاہ آنکھیں ۔۔

سفیدی مائل گندمی رنگت ۔۔

کسرتی جسم اور چھ فٹ سے نکلتا قد ۔۔

قد تو اس حویلی میں لڑکیوں سمیت سب ہی کے اونچے تھے ۔۔

پانچ فٹ چار انچ کی شہلا خود کو ناٹی محسوس کر رہی تھی ۔۔

خیر ۔۔

بہت غور و خوض کے بعد بھی وہ شمعون کی خاموش سی طبیعت میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھ سکی جس سے نفرت کی جاتی ۔۔

"ہوں گے ان کے اپنے کوئی مسئلے ۔۔

مجھے کیا ۔۔"

شہلا یہ سوچ ہی رہی تھی جب اچانک شمعون نے نظریں گھما کر اس کی طرف دیکھا تو بری طرح خجل ہو کر اس نے اپنا سر جھکا لیا ۔۔

"اس کے ارادے نیک نہیں لگ رہے ۔۔

یہ شمعون چاچو پر ڈورے ڈالنے کی کوشش میں ہے ۔۔"

حمزہ پھر ہانیہ کی کان میں بولا ۔۔

وہ ہانیہ کے برابر میں اور ہانیہ شہلا کے برابر میں بیٹھی تھی ۔۔

سو شہلا نے بھی حمزہ کے نادر خیالات سن لیئے اور لب بھینچ کر رہ گئی ۔۔

اسے ہلکے کردار کا سمجھا جا رہا تھا اس خیال کے آتے ہی اس کی آنکھیں نم ہوگئیں ۔۔

مجبوری کتنا ذلیل کرواتی ہے ۔۔

"میں اپنے گھر چلی جائوں گی ۔۔"

شہلا نے دل میں ارادہ باندھا جبکہ شمعون جس کی تیز سماعتوں تک حمزہ کی دھیمی آواز میں کہی گئی بات بآسانی پہنچ گئی تھی عجیب سے انداز میں پل بھر کو مسکرایا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہمارے جو دادا تھے وہ بلا کے رنگین مزاج تھے ۔۔

بقول میری دادی کے ۔۔"

ہانیہ کے گھورنے پر امتل سٹپٹا کر بولی ۔۔

"جب میرے پاپا جو دادا کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور اس وقت اٹھارہ سال کے تھے۔۔

تب دادا نے حویلی کی ایک خادمہ کے ساتھ "آہم آہم" سمجھ گئی نا ۔۔"

امتل نے گلا کھنکھار کر معاملے کی نوعیت سمجھائی جسے سمجھ کر شہلا نے سٹپٹا کر سر اثبات میں ہلا دیا ۔۔

"گڈ گرل ۔۔

بس شمعون چاچو کے پیدا ہونے کے بعد وہ خادمہ انہیں یہاں چھوڑ کر نہ جانے کہاں چلی گئی ۔۔

شمعون چاچو دادا کی کسی دوسری بیوی سے ہوتے تو وہ پھر بھی ٹھیک تھا لیکن شمعون چاچو تو ۔۔

بس ان کی اسی حقیقت کی وجہ سے سب ان سے نفرت کرتے ہیں ۔۔

دادی نے دادا سے طلاق کا مطالبہ کردیا تھا اس سب کے بعد ۔۔

سو دادا نے جزبات میں آ کر خودکشی کر ڈالی ۔۔

یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے شمعون چاچو سے نفرت کی ۔۔

میرے پاپا کے سوا گھر میں کوئی انہیں پسند نہیں کرتا ۔۔

نیو جنریشن پر اپنے بڑوں کی سکھائی سمجھائی باتوں کا اثر ہے شائد اس لیئے ہم میں سے بھی کوئی انہیں قبول نہیں کر سکا ۔۔"

شہلا امتل کی بے پروائی پر اسے دیکھتی رہ گئی ۔۔

اس نے تو یونہی جھجک کر سرسری انداز میں سب کے صبح کے رویئے کے بارے میں پوچھ لیا تھا ۔۔

جواب میں امتل نے اس کے آگے بڑے سکون سے ساری خاندانی ہسٹری کھول کے رکھ دی ۔۔

گویا اسے کوئی فکر نہیں تھی کہ کوئی انجان مہمان شمعون کے بارے میں میں کیا سوچے گا ۔۔

شہلا کو امتل سمیت حویلی کے سب ہی مکین کٹھور دل لگے اور اسے شمعون سے ہمدردی ہوئی ۔۔

ساتھ ہی تیمور آفندی کے لیئے دل میں احترام اور بڑھ گیا ۔۔

"لیکن میرا خیال ہے شمعون چاچو کا کہیں بھی کوئی قصور نہیں ۔۔

ان سے یہ نفرت ناجائز ہے ۔۔

کم سے کم تم لوگ ۔۔"

اپنی ہی دھن میں آہستہ سے کہتے ہوئے شہلا نے چونک کر اپنا خالی پہلو دیکھا ۔۔

ہانیہ اور امتل فون پکڑے کافی فاصلے پر کھڑی نہ جانے کس سے باتوں میں لگی تھیں ۔۔

اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ دونوں کب اس کے پاس سے گئی تھیں ۔۔

سر جھٹک کر شہلا اپنے کمرے میں جانے کے لیئے لان کی بینچ سے اٹھی اور جیسے ہی مڑی شمعون کے فولادی وجود سے ٹکرا گئی ۔۔

اس لمس سے اسے کچھ یاد آیا تھا لیکن کیا وہ سمجھ نہیں پائی ۔۔

ایک اچٹتی سی معزرتانہ نظر شمعون پر ڈال کر وہ آگے بڑھ گئی جبکہ شمعون ایک ٹک اس کی گھٹنوں سے تھوڑی اوپر الجھی سلجھی سی لہراتی چوٹی کو دیکھتا رہ گیا ۔۔

تیمور آفندی کے بعد یہ پہلی بار تھا کہ کسی نے اس کے حق میں کچھ کہا تھا ۔۔

اس کا ہاتھ بے اختیاری میں اپنے دل پر پڑا تھا ۔۔

کچھ عجیب سا ہوا تھا اندر ۔۔

جو اس وقت وہ سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ اس کا حویلی میں چوتھا دن تھا ۔۔

وہ چار سو بار اپنے گھر واپس جانے کی بات کر چکی تھی اور تیمور آفندی سے ڈانٹ کھا چکی تھی ۔۔

اور ڈانٹ کھلانے کے بعد وہ اسے آئس کریم یا چاکلیٹ بھی زبردستی کھلاتے ۔۔

گویا حویلی میں اس کا دل لگانے کی کوشش کرتے ۔۔

شہلا حیران ہوتی کوئی شخص اجنبیوں پر اتنا مہربان کیسے ہو سکتا یے ۔۔

لیکن جو بھی تھا وہ درحقیقت یہاں سے جانا چاہتی تھی ۔۔

کیونکہ آتے جاتے حمزہ کے طنز اور کاٹ دار نظریں اسے تکلیف دے رہی تھیں ۔۔

پتہ نہیں حمزہ اسے اتنا ناپسند کیوں کرتا تھا ۔۔

وہ بہرحال بہت ہرٹ ہو چکی تھی اور لازمی اپنے گھر جانا چاہتی تھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"سنو ۔۔"

حمزہ کی پکار پر وہ کمرے میں جاتے جاتے رک گئی اور ناچار اس کی طرف مڑی ۔۔

"تم یہاں کب تک رہوگی آخر ۔۔

جاتی کیوں نہیں ۔۔

ارادے کیا ہیں تمہارے ۔۔

مہمان تین دن تک ہی برداشت کیا جا سکتا ہے ۔۔"

"میں انشااللہ یہاں سے جلد چلی جائوں گی ۔۔

مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے اس بڑی سی حویلی کے ایک چھوٹے سے دل و دماغ والے فرد سے ہر آدھے گھنٹے بعد بے عزت ہونے کا ۔۔

آپ کی مزید اطلاع کے لیئے عرض ہے میں بھی ایک عام سی انسان ہوں جسے رویئے ہرٹ کرتے ہیں ۔۔

اور میں مزید ہرٹ نہیں ہونا چاہتی ۔۔

چلی جائوں گی میں ۔۔"

سخت لہجے میں کہہ کر شہلا نے دروازہ حمزہ کے منہ پر پوری قوت سے بند کیا تھا ۔۔

حمزہ ساکت و سامت وہیں کھڑا رہ گیا ۔۔

شہلا کے تیزی سے برستے آنسو اور آنکھوں سے جھلکتی تکلیف اور گلے نے حمزہ کو سخت نادم کردیا تھا ۔۔

وہ گم صم سا سیڑھیوں کی طرف بڑھا تو وہاں سیڑھیوں کے دوسرے سٹیپ پر شمعون سر جھکائے بیٹھا تھا ۔۔

حمزہ اسے نظر انداز کر کے سائڈ سے سیڑھیاں اترنے لگا جب شمعون کی سرد آواز پر رکنا پڑا ۔۔

"تم آخر کیوں چاہتے ہو وہ یہاں سے چلی جائے ۔۔"

"اور آپ آخر کیوں نہیں چاہتے کہ وہ یہاں سے جائے ۔۔"

شمعون کے ہی انداز میں منہ بنا کر پوچھتے ہوئے حمزہ نے ایک ابرو اچکائی ۔۔

شمعون خاموش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس سے پہلے ہی سیڑھیاں اترتا چلا گیا جبکہ پیچھے حمزہ کی آنکھوں میں اب الجھن تھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمعون کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی بیڈ پر ایک سیاہ بلی کو موجود پایا ۔۔

شمعون کے دروازہ بند کرتے کے ساتھ ہی وہ بلی ایک بوڑھی عورت کے روپ میں بدل گئی ۔۔

شمعون کے لفظ بے آواز ہلے ۔۔

"ماں ۔۔"

"شمعون میں بھوک پیاس سے مر جائوں گی ۔۔

آخر تم مجھے کوئی شکار کیوں نہیں کرنے دے رہے ۔۔"

"میں اپنے طریقے سے کوئی شکار کل تک لادوں گا ۔۔

آپ خود کچھ نہیں کریں گی ۔۔

ہرگز بھی نہیں کریں گی ۔۔"

شمعون کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں جنہیں اپنی ماں کی آنکھوں میں گاڑ کر وہ چبا چبا کر بولا ۔۔

سامنے کھڑی بوڑھی ملگجے حلیے والی عورت ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئی ۔۔

وہ بوڑھی ہوچکی تھی ۔۔

اس کی طاقتیں شمعون کی پاورز کے آگے کچھ نہیں تھیں ۔۔

شمعون کی بات ماننے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا لیکن سب سے بڑی حقیقت یہ تھی کہ وہ اس کی ماں تھی ۔۔

اس سے سوال کر سکتی تھی ۔۔

"لیکن کیوں ۔۔"

اس کے مشکوک انداز پر شمعون نے ایک سخت تنبیہہ کرتی نظر اس پر ڈالی اور واش روم میں گھس گیا ۔۔

پیچھے اس کی ماں ہنکار بھر کر اپنے اصل روپ میں لوٹتی کھڑکی کے زریعے لان میں کود گئی ۔۔

جاتے جاتے اس نے موبائل پر مصروف ہانیہ کے قریب ہو کر غرانا ضروری سمجھا ۔۔

ہانیہ دہشت سے اسے دیکھ کر چیخ مارتی حویلی کے اندر دوڑ پڑی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ حویلی لوٹا تو ایک خالی پن سا اسے ہر طرف محسوس ہوا ۔۔

سب ہی لوگ موجود تھے اپنے اپنے روزمرہ کے کاموں میں مگن ۔۔

مگر کچھ تھا جو نہیں تھا ۔۔

لب بھینچ کر ہر طرف دیکھ لینے کے بعد وہ مٹھیاں بھینچے ناخن تراشتی امتل کے سر پر پہنچا اور گہری سانس بھر کر خود پر ضبط کرتے ہوئے سرسری انداز میں شہلا کے بارے میں پوچھا ۔۔

امتل سدا کی بے پروہ تھی ۔۔

کچھ الٹا سیدھا سوچے سمجھے بغیر شہلا کے اپنے گھر لوٹ جانے کی اطلاع دی ۔۔

شمعون نے جبڑے سختی سے بھینچ کر اس کی واپسی کے بارے میں پوچھا ۔۔

"میرا نہیں خیال وہ اب واپس آئے گی ۔۔"

امتل کے جواب پر شمعون کی سیاہ پتلیوں کا سائز زرا کم ہوا ۔۔

"کیسے نہیں آئے گی ۔۔

آنا تو اسے پڑے گا ۔۔

خود اپنے قدموں سے چل کر یہاں آئے گی وہ ۔۔"

اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے وہ غرایا ۔۔

کافی دیر بعد اس کی گاڑی ایک مخدوش حال بڑی سے عمارت کے آگے رک گئی ۔۔

جب وہ اندر داخل ہوا تو ہر طرف سناٹا تھا ۔۔

پھر ایک میائوں کی آواز کے ساتھ ایک بلی کہیں سے نکل کر آئی ۔۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہاں تیس پینتیس بلیاں جمع ہوگئیں ۔۔

سب بلیاں سر اٹھائے جیسے شمعون کے کچھ کہنے کی منتظر تھیں ۔۔

"آج رات ۔۔

کم سے کم تین فرد ۔۔

تین فرد حویلی کے ۔۔

تم لوگوں کے حوالے ۔۔"

اس کی بات ختم ہوتے ساتھ ہی بلیوں کی کریہہ آوازیں بلند ہوئی تھیں ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عجیب پر اسرار سی رات تھی ۔۔

سناٹا معمول سے زیادہ محسوس ہور ہا تھا ساتھ ہی کونوں کھدروں سے سرسراہٹیں بھی سنائی دے رہی تھیں ۔۔

رات کے سوا ایک ہو رہے تھے ۔۔

پوری پووری حویلی اندھیرے میں ڈوبی تھی اور حویلی کے تمام مکین اپنے اپنے کمروں میں موجود تھے لیکن نیند سب کی آنکھوں سے کوں دور تھی ۔۔

سب کے کمرے پرسکون تھے ۔۔

لیکن دل و دماغ میں بے سکونی چھائی تھی ۔۔

کروٹ پر کروٹ لیتے ہوئے اچانک کوئی چونک کر اٹھتا اور آس پاس نظریں دوڑاتا ۔۔

کسی کی موجودگی کا احساس ہر کسی کو ہو رہا تھا اور مستقل ہو رہا تھا ۔۔

یونہی سرسراہٹ محسوس کرتی جویریہ بیگم بھی اچانک اٹھ بیٹھیں تو تیمور آفندی جو آنکھوں پر بازو رکھے اس رات کے غیر معمولی پن کو پوری گہرائی سے محسوس کر رہے تھے خود بھی اٹھ بیٹھے ۔۔

"سب خیریت ہے جویریہ ۔۔"

انہوں نے اپنی شریک حیات کے پسینے سے تر چہرے کو تشویش سے دیکھا ۔۔

"پتہ نہیں کیوں تیمور ۔۔

لیکن میرا دل شام سے بہت گھبرا رہا ہے اور اس وقت تو سانس بند ہو رہی ہے ۔۔"

جویریہ بیگم کے روہانسے ہو کر کہنے پر تیمور آفندی نے پرسوچ انداز میں نظریں کمرے کے چاروں طرف دوڑائی تھیں جب کان کے پردے ہی نہیں بلکہ دل بھی چیر دینے والی چیخ کی آواز پر وہ دونوں اچھل پڑے تھے ۔۔

اگلے ہی پل تیمور آفندی اور جویریہ بیگم بھی ہانیہ کے کمرے کی طرف دوڑے تھے ۔۔

کیونکہ چیخ کی آواز وہیں سے آرہی تھی ۔۔

ہانیہ کے کمرے کے باہر حمزہ اور حویلی کے کچھ مکین پہلے ہی پہنچ چکے تھے ۔۔

چیخ کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں ۔۔

حمزہ دروازہ توڑ دینے کے در پر تھا جبکہ تیمور صاحب جوش کی جگہ ہوش سے کام لیتے ہوئے بجلی کی تیزی سے راہداری عبور کر کے ہانیہ کے کمرے کی گیلری پر پہنچے ۔۔

گلاس ڈور اندر سے بند تھا ۔۔

انہوں نے گیلری میں رکھا ایک بھاری گملا اٹھا کر گلاس ڈور پر مارا تو وہ چھناکے سے ٹوٹ گیا ۔۔

کمرے کی لائٹ بند تھی زو تیمور آفندی کچھ دیکھ نہیں سکے لیکن ایک غراہٹ نے ان کے بڑھتے قدم روک دیئے تھے ۔۔

اگلے ہی پل پانچ بڑی بڑی سیاہ بلیاں ان کے اوپر سے جست لگا کر گیلری میں کود گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے درختوں کی ٹہنیاں چڑھتی نظروں سے اوجھل ہوگئیں ۔۔

سیاہ بلیوں کو دیکھ کر تیمور آفندی کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ۔۔

جب تک انہوں نے آگے بڑھ کر لائٹ آن کی حمزہ وغیرہ بھی گیلری کے زریعے کمرے میں داخل ہوگئے ۔۔

اندر کا منظر دیکھ کر جویریہ بیگم اور حمنہ بیگم (حمزہ کی والدہ) کی چیخیں بلند ہوگئیں جبکہ حمزہ کے والد اور بڑے تایا سمیت حمزہ اور تیمور صاحب بھی سکتے میں چلے گئے تھے ۔۔

ہانیہ کی آنکھیں ابلی پڑی تھیں اور چہرہ بلکل بے رونق تھا اور تازہ آنسئوں سے تر تھا ۔۔

پورے بیڈ کی چادر خون سے لت پت تھی اور ہانیہ کا وجود جگہ جگہ سے بھنبھوڑ دیا گیا تھا ۔۔

جگہ جگہ سے گوشت غائب تھا جبکہ گردن شائد پوری ہی غائب ہوچکی تھی ۔۔

سب کے دل جیسے دھڑکنا بھول گئے تھے ۔۔

لیکن یہی آخری صدمہ نہیں تھا ۔۔

اچانک حویلی کے مختلف کمروں سے شور بلند ہوئے تھے ساتھ ہی بلیوں کی روتی غراتی آوازیں بھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہلا اپنے گھر لوٹ چکی تھی لیکن اس کے صبیح چہرے پر کوئی رونق نہیں تھی ۔۔

اس گھر سے اسے وحشت ہو رہی تھی ۔۔

لیکن یہاں رہنا اس کی مجبوری تھی ۔۔

وہ ساری زندگی دوسروں کے احسان تلے رہ کر نہیں گزار سکتی تھی ۔۔

اس کا ارادہ تھا فیروزہ خالہ کو آج رات اپنے ساتھ رکنے کو کہے گی لیکن اس نے کہا نہیں ۔۔

جب کل بھی تنہا رہنا ہے تو آج کیوں نہیں ۔۔

اگر وہ بلا یہاں آجاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے تو اس میں برا کیا ہے ۔۔

جب ایک دن مرنا ہی ہے تو جلدی کیوں نہیں ۔۔

زندگی میں یوں بھی اب رکھا ہی کیا تھا ۔۔

جس کمرے میں چاچی وغیرہ کی دہشت ناک لاشیں پڑی تھیں اس کمرے میں جانے کی اس میں ہمت نہیں ہوئی تھی ۔۔

اپنے کمرے کی صفائی ستھرائی کر کے وہ شام سے صحن میں پلنگ بچھائے اس پر ساکت و سامت بیٹھی تھی ۔۔

لائٹ گھنٹے بھر سے بند تھی ۔۔

اور مزید دو گھنٹے بند رہنے والی تھی ۔۔

سیاہ آسمان پر چودھویں کا چاند پوری آب و تاب سے جگمگا رہا تھا ۔۔

گرمیوں کی راتوں میں پلنگ پر چت لیٹ کر ستارے بھرے آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھنا اس کا محبوب مشغلہ تھا ۔۔

اور ایسے میں ناصر اس کے بازو کے تکیے پر سر رکھے اس سے الٹے سیدھے سوال پوچھا کرتا تھا جس کے وہ ایک سے ایک فضول جواب دیا کرتی تھی ۔۔

چاچی ان کی باتوں سے اکثر نیند سے اٹھ کر ان پر چلایا کرتی تھیں ۔۔

کبھی کبھی جوتی بھی اٹھا کر اس کی طرف اچھال دیا کرتی تھی ۔۔

نازش اور نوید جو سوتے بنے ہوتے تھے دبی دبی ہنسی ہنسا کرتے تھے ۔۔

پھر چاچی کی توپوں کا رخ ان کی طرف ہوجاتا تھا ۔۔

خوش کن سوچوں کے زیراثر شہلا کے لب تو مسکرا رہے تھے لیکن آنکھوں سے آنسئوں کی جھڑیاں جاری تھیں ۔۔

ایک سسکی بھر کر اس نے اپنی خالی خالی نظریں اس کمرے کی سلاخوں والی کھڑکی پر جما دیں ۔۔

اچانک ہی اس کی آنکھیں خوف سے پھٹ گئیں ۔۔

وہ اچھل کر پلنگ سے اتری اور پلکیں جھپکے بغیر سانس روکے کھڑکی سے جھانکتی ان چھوٹی چھوٹی لال چمکیلی آنکھوں کو دیکھنے لگی ۔۔

لمحہ نہیں لگا اسے ان آنکھوں کو پہچاننے میں ۔۔

موت کا تصور کرنے میں اور موت کو سامنے دیکھنے میں فرق ہوتا ہے ۔۔

سو اس وقت خوف سے اس کا وجود جامد ہوگیا تھا ۔۔

اس کا سکتہ ابھی ٹوٹا نہیں تھا جب ایک اور حیرت انگیز منظر اس کی سیاہ بھیگی آنکھوں نے دیکھا ۔۔

کمرے میں ہلکی ہلکی چاندنی تھی جس کی وجہ سے ہیولے نظر آ سکتے تھے ۔۔

شہلا نے اس بلے کے ہیولے کو بڑا ہوتا اور ایک اونچے لمبے وجود میں ڈھلتا دیکھا تھا ۔۔

اب شہلا کو بیہوش ہوجانا چاہیے تھا لیکن شائد وہ مضبوط اعصاب کی تھی ۔۔

یا اتنا سب ہوجانے کے بعد ہوگئی تھی ۔۔

"حویلی واپس جائو ۔۔"

مدھم آواز غراہٹ سے مشابہ تھی ۔۔

شہلا کو اپنی سماعتوں پر شک ہوا ۔۔

"حویلی واپس لوٹ جائو ابھی اسی وقت ۔۔"

اس بار دل دہلاتی دہاڑ سنائی دی تھی ۔۔

شہلا کا سکتہ اچانک ٹوٹا اور وہ چیخوں پر چیخیں مارتے ہوئے گھر کا دروازہ کھول کر باہر بھاگی ۔۔

پیچھے وہ ہیولا پھر بلے کا روپ دھارتا دیواریں پھلانگنے لگا ۔۔

وہ جانتا تھا شہلا کہاں جانے والی تھی ۔۔

اسے شہلا سے پہلے وہاں پہنچنا تھا جو اس کے لیئے بلکل مشکل نہیں تھا ۔۔

شہلا جیسے ہی فیروزہ خالہ کے دروازے پر پہنچی غراہٹ کی آواز پر اچھل کر پیچھے ہوئی ۔۔

داخلی دروازے کی دیوار پر چڑھا وہ اپنی چنگاریاں نکالتی آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔

اچانک اس نے زمین پر چھلانگ لگائی تو شہلا متوحش سی دوسرے پڑوسیوں کے گھر کی طرف دوڑی ۔۔

وہ وہاں بھی اس سے پہلے جا پہنچا ۔۔

اب ایک عجیب منظر دیکھنے میں آ رہا تھا کہ اطراف میں درختوں سے بھری چاندنی میں نہائی نسان گلی میں ایک لڑکی خوف سے نڈھال کبھی ایک طرف بھاگتی تو کبھی دوسری طرف ۔۔

اور ایک بڑا سا بلا اس کی ہر منزل پر پہلے ہی پہنچا ہوا ہوتا ۔۔

شہلا کے ذہن میں اچانک حمزہ کی آواز گونجی ۔۔

"اس بلے نے اسے زندہ کیوں چھوڑا ۔۔"

اب شہلا نے اپنے خوف پر کچھ کنٹرول کر کے غور کیا تو اندازہ ہوا ۔۔

وہ بلا اس کے گلی سے نکلنے والے راستے کے علاوہ ہر راہ میں آرہا تھا ۔۔

گویا وہ نہیں چاہتا تھا شہلا اس علاقے میں مزید رہے ۔۔

نہ اس بلے نے اسے نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش کی تھی ۔۔

صرف غرا کر یا میائوں کی آواز کے ساتھ اسے کسی کی مدد لینے کی کوشش سے باز رکھ رہا تھ ۔۔

کچھ سوچ کر شہلا اپنے گھر کی طرف دوڑی ۔۔

بلا پھر اس کے پیچھے تھا لیکن اسے اپنے گھر جاتا دیکھ کر رفتار کم رکھی ۔۔

شہلا نے پلنگ پر ہی پڑا تالا چابی اور موبائل اٹھایا اور لرزتے ہاتھوں سے دروازہ بند کر کے ایک خوف اور نفرت سے بھری نظر دیوار پر بیٹھے بلے پر ڈالی اور پھر اس گلی سے نکلتی چلی گئی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنی مشکلوں سے اس نے رات کے ڈھائی بجے رکشہ ڈھونڈ کر زندگی میں اتنا لمبا سفر کیا تھا وہ بھی تن تنہا رات کے ڈھائی بجے ۔۔

شہلا نہیں جانتی تھی "وہ" اس کے ساتھ ہی موجود تھا ۔۔

وہ اپنے تئیں تنہا سفر کر رہی تھی اور خوف سے پوری طرح پسینے میں بھیگی تھی ۔۔

رکشے والے کی حیرت بھری کھوجتی عجیب نظریں شہلا نے محسوس کیں تو اپنی بے بسی پر اور رونا آیا ۔۔

رات کے اس پہر حویلی کو روشنیوں سے منور پا کر شہلا کو حیرت ہوئی ۔۔

اچانک رکشے والے نے کرایہ مانگ کر اسے سوچوں سے باہر نکالا ۔۔

شہلا کے پاس اسے دینے کے لیئے کچھ نہیں تھا ۔۔

اچانک اسے اپنی سونے کی اکلوتی انگوٹھی کا خیال آیا جو اس کی ماں کی تھی ۔۔

پتھر دل کے ساتھ وہ انگوٹھی اسے دی اور آگے بڑھ گئی ۔۔

پیچھے انگوٹھی کا جائزہ لیتے رکشے والے نے "حساب کتاب" کرنا چاہا لیکن شہلا کو غائب دماغی سے آگے بڑھتے دیکھ کر اس کی آنکھیں لالچ سے چمکنے لگیں ۔۔

انگوٹھی جیب میں ڈال کر وہ جلدی سے رکشہ بھگاتا لے گیا ۔۔

ایسا کرتے ہوئے وہ نہیں جانتا تھا وہ اپنی موت کو دعوت دے رہا تھا ۔۔

رکشے کی سیٹ کے نیچے سے جھانکتی سرخ آنکھوں نے گھور کر اس کی آنکھوں کا لالچ دیکھا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"حویلی میں تو اس وقت تک سب سوجاتے ہیں ۔۔

پھر آج ساری حویلی کی لائٹس کیوں جلی ہیں ۔۔

یا اللہ سب خیریت رکھیے گا ۔۔"

حویلی کے گیٹ کے باہر کھڑی شہلا الجھن اور خوف سے بھری نظروں سے جگمگاتی حویلی کو دیکھ رہی تھی ۔۔

اندر جانے کا فیصلہ اسے مشکل لگ رہا تھا ۔۔

اگر اتنی رات نہ ہوتی تو شائد اندر جانا اتنا مشکل نہ ہوتے ۔۔

لیکن رات کے اس پہر اس کی واپسی ۔۔

نہ جانے سب کیا سوچیں ۔۔

انہیں سوچوں میں گھری وہ گیٹ کے باہر کھڑی تھی جب اچانک گیٹ کا چھوٹا دروازہ وا ہوا ۔۔

شہلا ڈر کر تین قدم پیچھے ہوئی ۔۔

باہر آنے والے ضبط سے سرخ آنکھیں لیئے تیمور آفندی تھے ۔۔

دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بری طرح ٹھٹھک گئے ۔۔

"شہلا تم یہاں اس وقت ۔۔"

"تیمور انکل سب خیریت ہے نا ۔۔"

دونوں نے ایک ساتھ سوال پوچھے ۔۔

اس سے پہلے کے ان میں سے کوئی جواب دیتا ۔۔

دور سے آوازیں کرتی پولیس کی گاڑیاں اور ایمبیولینس اس طرف آنے لگیں اور آ کر گیٹ کے پاس ہی رک گئیں ۔۔

متوحش نظروں سے شہلا یہ سب کچھ دیکھتی رہ گئی تھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تین دن گزر چکے تھے اس اندوہ ناک سانحے کو ۔۔

تیمور آفندی کے تین بڑے بھائی تھے ۔۔

جن میں سے سب سے بڑے صابر آفندی کئی سال پہلے ہی رضائے الہیٰ سے انتقال کر گئے تھے ۔۔

دوسرے نمبر پر جعفر آفندی تھے جو اس رات ہانیہ کے علاوہ بلیوں کا شکار ہوئے تھے ۔۔

تیسرا شکار جعفر صاحب کے بعد والے سمیر صاحب کی اہلیہ رضیہ تھیں ۔۔

اور ایک تھی ہانیہ ۔۔

حمزہ کی اکلوتی پیاری بہن ۔۔

جس کی موت نے حمزہ کو توڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔

ان کی ایک بیوہ پھپھو بھی تھیں جو فوت ہو چکی تھیں ۔۔

ان کا اکلوتا بیٹا ٹین ایج میں ہی کئی سال پہلے ایسے ہی بلیوں کا شکار ہوگیا تھا ۔۔

جبکہ دماغی طور پر معزور ہوجانے والی بیٹی طوبی کسی کمرے میں بند رہتی ۔۔

تیمور آفندی کو چھوڑ کر ان سارے بہن بھائیوں نے اپنے پیاروں پر بلیوں کی بلا کا عذاب سہا تھا ۔۔

اب سب کے لب ہنسنا کیا جیسے بولنا بھی بھول گئے تھے ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور آفندی نے آج شہلا سے اس شب کا احوال سنا اور خاموشی سے اس کا سر تھپک کر چلے گئے ۔۔

ان کا دل اتنا اداس تھا کہ وہ شہلا کو کوئی حوصلہ بھی نہ دے سکے ۔۔

تین لاشیں اٹھی تھیں اس گھر سے ۔۔

وہ بھی اس حالت میں کہ دیکھ کر روح کانپ اٹھے ۔۔

شہلا نے ان لاشوں کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا لیکن وہ اپنے پیاروں کو اس حال میں دیکھ چکی تھی ۔۔

اسے اندازہ تھا لاشوں کا کیا حال ہوا ہوگا اور حویلی کے باقی افراد اس وقت کس کرب میں مبتلا ہوں گے ۔۔

حویلی میں ہر طرف ویرانی چھائی تھی ۔۔

نہ کسی کو کھانے کا ہوش تھا نہ پینے کا ۔۔

امتل نازیہ اور فرح مارے باندھے کچھ الٹا سیدھا پکا لیتیں اور سب زہر مار کر لیتے ۔۔

شہلا کو اس ماحول سے وحشت ہو رہی تھی ۔۔

لیکن یہ حویلی ہی اب اس کی آخری پناہ گاہ تھی ۔۔

اسے اس سب کو برداشت کرنا ہی تھا ۔۔

وہ سب سے اونچی سیڑھی پر کھڑی بڑے سے ہال نما لائونج کو گھور رہی تھی ۔۔

کتنے لوگ تھے اس حویلی میں لیکن ۔۔

ہر طرف ہو کا عالم تھا ۔۔

شہلا ہمت کر کے نیچے اترنے لگی ۔۔

ریلنگ پر ہاتھ رکھا تو ہاتھ مٹی سے بھر گیا ۔۔

کسی کو بھی صفائی ستھرائی کا ہوش نہیں تھا ۔۔

ہوش تو خیر خود کا بھی نہیں تھا ۔۔

شہلا نے جائزہ لیا ۔۔

ساری حویلی دھول مٹی سے اٹی تھی ۔۔

وہ واپس اپنے کمرے میں جانے کے خیال سے مڑی لیکن کمرے کے دروازے پر پہنچ کر وہ پھر کچھ سوچ کر پلٹی اور تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حمزہ نماز سے فارغ ہو کر دعا کے انداز میں ہاتھ پھیلائے خالی الذہنی کی کیفیت میں بیٹھا تھا جب کچھ گرنے کی زوردار آواز پر اچھل کر بجلی کی تیزی سے کمرے سے باہر بھاگا ۔۔

اس کے کمرے کے ہی باہر رکھا بڑا سا گملہ نیچے ٹوٹا گرا تھا اور شہلا پائنچے چڑھائے دوپٹہ سائڈ کر کے باندھے ہاتھ میں جھاڑو پکڑے افسوس کم خوف زیادہ سے دیکھ رہی تھی ۔۔

حمزہ کو دیکھ کر اس ک رنگ بلکل ہی اڑ گیا ۔۔

حمزہ نے بے تاثر نظروں سے دھلے دھلائے چمکتے ہوئے ہال کو دیکھا ۔۔

پھر ماسی بنی شہلا کو ۔۔

"یہ آپ کیا کر رہی ہیں اور کیوں ۔۔؟"

حمزہ کی آواز بھی اس کے چہرے کی طرح بے تاثر تھی ۔۔

شہلا اپنی جگہ سخت شرمندہ ہو رہی تھی ۔۔

"میں یہاں رہ رہی ہوں ۔۔

کک کچھ کر دیا تو کیا ہوگیا ۔۔

یہاں سب ۔۔"

"لسن مس شہلا ۔۔"

حمزہ نے اس کی بات کاٹ کر کہا ۔۔

اس بار اس کا لہجہ سخت تھا ۔۔

"آپ یہاں مہمان بن کر آئی ہیں ۔۔

مہمان بن کر رہیں ۔۔

نہ آپ حویلی کی ملازمہ ہیں نہ مستقل مکین ۔۔

سو پلیز ۔۔"

حمزہ نے مہذب لفظوں میں اسے اس کی اوقات میں رہنے کو کہا تھا ۔۔

شہلا کا چہرہ اہانت کے احساس سے دہکنے لگا لیکن وہ کچھ بولے بغیر دوپٹا ٹھیک کرنے لگی ۔۔

حمزہ نے ایک اچٹتی نظر شہلا کی بھری ہوئی آنکھوں پر ڈالی ۔۔

پھر بے پروائی سے سر جھٹک کر واپس کمرے میں گھس گیا ۔۔

پیچھے شہلا اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتی ناراض بچے کے طرح سینے پر ہاتھ لپیٹ کر دیوار سے پشت ٹکا کر کھڑی ہوگئی ۔۔

ابھی وہ لب کچلتی جھاڑو اس کی اصل جگہ رکھنے کے لیئے سیدھی کھڑی ہوئی ہی تھی جب حویلی کا دیو قامت قیمتی لکڑی کا دروازہ کھلا ۔۔

شہلا نے دیکھا ہاتھ میں سفری بیگ پکڑے وہ شمعون تھا ۔۔

اندر داخل ہوتے شمعون کی نظر فوراً اس پر پڑی تھی ۔۔

وہ اپنی جگہ رک گیا ۔۔

"اسلام علیکم ۔۔"

شہلا اس سے بہت دور تھی ۔۔

سلام کی آواز بھی بہت دھیمی تھی ۔۔

شہلا کو اندازہ تھا شمعون نے اس کا سلام نہیں سنا ہوگا ۔۔

لیکن وہ نہیں جانتی تھی ۔۔

شمعون کی سماعت کتنی تیز تھی ۔۔

شمعون کے لب پل بھر کو پھیلے ۔۔

اس کی نظروں نے دور تک شہلا کا پیچھا کیا تھا بے اختیاری میں وہ شہلا کے پیچھے بڑھنے لگا جب تیمور آفندی اپنے کمرے سے نکلے اور ایک حیران نظر جگمگاتے لائونج پر ڈال کر شمعون کی طرف بڑھے ۔۔

شمعون نے لمحہ بھر میں اپنے سپاٹ چہرے پر مصنوعی رقت طاری کر لی ۔۔

"تیمور بھائی یہ کیا ہوگیا ۔۔

کیسے ہوا یہ سب آخر ۔۔

میرے کاغزات میں کچھ مسئلہ ہوگیا تھا سو میں فوراً کینڈا سے آ نہیں سکا تھا ۔۔

اتنا سب کچھ ہوگیا میرے پیٹھ پیچھے ۔۔

کیسے بھائی ۔۔"

کوشش کے باوجود شمعون اپنی آنکھوں میں ایک آنسو نہیں لا سکا ۔۔

لیکن لہجے کو ہر ممکن حد تک بوجھل کر لیا ۔۔

تیمور آفندی سے کچھ نہیں کہا جا سکا ۔۔

وہ بس شمعون کے چوڑے شانوں میں منہ دیئے خود پر ضبط کرتے رہے ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے کمرے میں داخل ہوتے ساتھ ہی شمعون کی پیشانی کی رگ پھڑکنے لگی اور جبڑے کس گئے ۔۔

اس کی ماں وہاں پہلے سے موجود تھی اور صوفے پر بیٹھی اس کی منتظر تھی ۔۔

"اس رات کے بعد تم اچانک کہیں چھپ کیوں گئے تھے ۔۔"

اس کی ماں بہت سنجیدہ اور پہلے کی بنسبت صحت مند لگ رہی تھی ۔۔

وجہ یقیناً انسانی گوشت اور خون تھا ۔۔

وہ لوگ ہر طرح کا گوشت کھا سکتے تھے ۔۔

انسان کا ۔۔

جانور کا ۔۔

زندہ کا ۔۔

یا مردہ کا ۔۔

لیکن جب ان میں سے کوئی بیمار ہوتا تو انسانی خون اور گوشت ان پر دوائی جیسا اثر کرتا تھا ۔۔

اور سب سے لذیذ بھی وہی گوشت اور خون تھا ۔۔

لیکن کیونکہ ان کے قبیلے کی سرداری شمعون کے پاس تھی ۔۔

سو وہ بہت کم انہیں انسانی گوشت کی طرف بڑھنے دیتا تھا ۔۔

اور اس حویلی کے تمام افراد سے ہمیشہ دور رہنے کو کہتا تھا ۔۔

وجہ صرف یہ تھی کہ وہ تیمور آفندی سے بے حد محبت کرتا تھا ۔۔

اور تیمور آفندی حویلی کے باقی افراد سے بھی محبت کرتے تھے ۔۔

لیکن اب شمعون کا دل کسی اور کے لیئے بھی دھڑکنے لگا تھا ۔۔

اس کے اندر شرارے پھوٹ پڑے تھے شہلا کے ہمیشہ کے لیئے حویلی چھوڑ جانے پر ۔۔

وہ حویلی والوں کو سبق دینا چاہتا تھا ۔۔

"دیکھو جب دل سے قریب شخص دور ہوجائے تو کیسا لگتا ہے ۔۔"

شمعون نے حکم دیا تھا کہ تیمور آفندی اور ان فیملی کو چھوڑ کر حویلی میں جس پر چاہے حملہ کردو ۔۔

اس کے حکم کو مدنظر رکھ کر ان بلیوں نما بلائوں نے تینوں فیملیز میں سے کسی نہ کسی ایک فرد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔۔

"تم حویلی والوں پر کبھی حملہ نہیں کرنے دیتے ۔۔

پھر اس رات کیوں ۔۔

وہ بھی ایک ساتھ تین ۔۔"

اس کی ماں اپنی تیز نظروں سے شمعون کے سپاٹ چہرے کو گھور رہی تھی ۔۔

شمعون نے کچھ جواب نہیں دیا ۔۔

"میں کچھ پوچھ رہی ہوں شمعون ۔۔"

اس کی ماں چیخی ۔۔

"میں جواب نہیں دے رہا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جواب نہیں دینا چاہتا ۔۔

اب آپ جا سکتی ہیں ۔۔

آئندہ میری اجازت کے بغیر یہاں نظر نہ آئیں ۔۔"

شمعون اسی سرد بے تاثر انداز میں بولا ۔۔

اس کی ماں آگ اگلتی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جو سکون سے سفری بیگ سے کپڑے نکال کر وارڈروب میں سیٹ کر رہا تھا ۔۔

"تم کچھ ایسا تو نہیں کر رہے جو قبیلے کے اصولوں کے خلاف ہو ۔۔

شمعون میں قبیلے سے الگ ہونے کی سزا جھیل چکی ہوں ۔۔

تم خود کا خیال رکھو شمعون میرے بیٹے ۔۔

ورنہ تم قبیلے کی سرداری سے ہی نہیں بلکہ قبیلے سے بھی ہاتھ دھو سکتے ہو ۔۔

اپنی طاقتیں بھی گوا سکتے ہو ۔۔"

"یہ قبیلے کی بدقسمتی ہوگی کہ وہ مجھ سے ہاتھ دھوئے گا ۔۔

اب آپ جائیں ۔۔"

شمعون رکھائی سے کہہ کر ٹرائوزر اور شرٹ اٹھائے واشروم میں گھس گیا ۔۔

پیچھے اس کی ماں لب بھینچ کر اپنے اصل روپ میں لوٹتی کھڑکی سے کود گئی جب نظریں ہوا کے دوش پر اڑتے سیاہ بالوں پر اٹک گئیں ۔۔

بال اتنے خوبصورت اور دراز تھے کہ وہ خود کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے نہیں روک سکی ۔۔

"یہ کون ہے ۔۔

حویلی میں پہلے کبھی نظر نہیں آئی ۔۔"

وہ چمکیلی نظروں سے شہلا کو دیکھتی اس کی طرف بڑھنے لگی جب اچانک ایک پتھر اس کے سر پر پڑا ۔۔

وہ غرا کر پلٹی ۔۔

شہلا نے بھی چونک کر اسے دیکھا اور اچھل کر کئی فٹ دور ہوئی ۔۔

وہ گارڈن میں بینچ پر بیٹھی اپنے بالوں کی چوٹی بنا رہی تھی ۔۔

موسم اتنا خوبصورت تھا ۔۔

وہ باتھ لے کر بال سکھا کر بے اختیاری میں سر سبز لان میں چلی آئی تھی ۔۔

وہ سیاہ بلی حمزہ کو تیز نظروں سے گھورتی چحلانگ لگا کر درختوں کی ٹہنیوں میں گم ہوگئی ۔۔

حمزہ نے ہاتھ میں پکڑا دوسرا پتھر جھٹکے سے زمین پر پھینکا پھر گھور کر شہلا کو دیکھا جو سہمی نظروں سے درخت کی ٹہنیون کو دیکھ رہی تھی ۔۔

"آپ کے بال بہت خوبصورت ہیں لیکن کیا ان کی نمائش کرنی ضروری ہے ۔۔

حویلی کے حالات سے آپ واقف ہیں ۔۔

بہتر ہے کمرے کے علاوہ کہیں تنہا بیٹھنے سے گریز کریں ۔۔

ہر کوئی آپ کی حفاظت پر نہیں لگا رہے گا ۔۔

سب کو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں ۔۔"

حمزہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا جبکہ شہلا اتنی خوفزدہ تھی کہ آگے سے کچھ بھی کہہ نہیں سکی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمعون آفندی ۔۔

جس نے جب آنکھ کھولی ۔۔

جب اسے ان باتوں کا مطلب بھی نہیں پتا تھا ۔۔

تب ہی اس کی چاروں تائیاں اور پھپھو بڑھ چڑھ کر اسے اس کی ذات کی حقیقت سے روشناس کراو چکی تھیں ۔۔

"ناجائز ہء تو ۔۔

گناہ ہے تو ۔۔"

اسے بچپن میں ہی بتا دیا گیا تھا ۔۔

اس کی سوتیلی ماں یعنی تیمور آفندی کی ماں جب تک زندہ رہیں اس کی ذات کو بلکل ان دیکھا کر دیا کرتی تھیں ۔۔

باپ کو تو اس نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا ۔۔

بس سنا تھا کہ وہ اس کی پیدائش سے بھی پہلے ہی موت کو گلے لگا چکا ہے ۔۔

اس کے سوتیلے بھائیوں کے اپنے بھی بال بچے تھے ۔۔

اس پر جب نظر ڈالی جاتی حقارت بھری ہی ڈالی جاتی ۔۔

صرف ایک تیمور آفندی تھے جو اس پر جان چھڑکتے تھے ۔۔

ان کی گھر میں موجودگی تک کوئی اسے کچھ نہیں سکتا تھا ۔۔

وہ شمعون کو اپنی پہلی اولاد کی طرح چاہتے تھے ۔۔

اس لیئے شمعون کی بھی ان میں جان بسی رہتی تھی ۔۔

وہ کوئی دبو یا صابر شاکر سا بچہ نہیں تھا ۔۔

وہ بڑوں کا بدلہ ان کے بچوں کو مار پیٹ کر نکال لیتا تھا ۔۔

پھپھو کچھ کہتیں تو وہ ان کے اٹھارہ سالہ طبیب کی چمڑی ادھیڑ دیتا ۔۔

جمنہ بیگم نے کچھ کہا تو حمزہ کا سر غصہ میں پھاڑ دیا ۔۔

یوں حالات بد سے بد سے بدتر ہوتے گئے ۔۔

نہ حویلی والوں کے دلوں میں اس کے لیئے کبھی جگہ بنی نہ اس نے بنانی ضروری سمجھی ۔۔

اس کے پاس تیمور آفندی کی محبت اور سپورٹ تھی ۔۔

یہ کافی تھا ۔۔

شمعون تیرہ سال تک اپنے اصل سے ناواقف رہا جب ایک دن اچانک ایک بڑی سی سیاہ بلی درختوں کے جھنڈ سے نکل کر اس کے قریب چلی آئی ۔۔

وہ رات کی ویرانی میں بیٹھا باسکٹ بال کو انگلی پر گھما رہا تھا ۔۔

اتنی بڑی سیاہ بلی اپنے قریب دیکھ کر وہ عام بچوں کی طرح ڈرا نہیں تھا لیکن ناگواری محسوس کر کے اٹھنے لگا تھا ۔۔

جب اس کی سیاہ بے رونق آنکھوں نے ایک ناقابل یقین منظر دیکھا ۔۔

وہ بلی ایک لمبی سی خوبصورت عورت کا روپ دھار چکی تھی ۔۔

اس کی کشادہ پیشانی پر ننھے ننھے پسینے چمکنے لگے جب اِدھر اُدھر سے کئی اور بلیاں بھی آتی ہوئی نظر آئیں ۔۔

پھر آہستہ آہستہ سب ہی انسانوں کا روپ بدلنے لگیں ۔۔

لیکن ایک بات سب میں مشترکہ تھی ۔۔

سب کی آنکھیں بلکل سیاہ اور بے رونق تھیں ۔۔

بلکل شمعون کی اپنی آنکھوں جیسی ۔۔

اور اس شب شمعون کو اپنی حقیقت معلوم ہوئی ۔۔

شمعون کا خاندان اپنے قبیلے کا سردار خاندان تھا ۔۔

سب سے پہلے جو بھی لڑکا ان کے خاندان میں جنم لیتا ۔۔

اسے سرداری دے دی جاتی ۔۔

اور پھر اس کے مر جانے کے بعد سرداری نئے لڑکے کو سونپ دی جاتی ۔۔

اس کے نانا مر چکے تھے اور اس کی ماں "ایونا" اپنے باپ کی اکلوتی بیٹی تھی اور وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا ۔۔

سو سرداری کا تاج اس کے سر سجا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی نانی کو کسی بڑی غلطی کے پاداش قبیلے والوں نے قبیلے سے دور کردیا تھا ۔۔

وہ انسانی دنیا میں بے آسرا تھی جب حویلی کے ایک بڑے بزرگ نے اس پر رحم کھا کر اسے اپنی حویلی میں پناہ دے دی تھی ۔۔

یہاں اس نے ملازمہ کے طور پر کام شروع کر دیا جب ایک دن بھوک اور کمزوری سے نڈھال ہو کر ایک شخص کا قتل کر کے اس کے خون اور گوشت سے اپنا پیٹ بھر لیا ۔۔

(وہ وہی شخص تھا جسے تیمور آفندی نے اپنے بچپن میں مرتے دیکھا تھا)

پھر ایک دن شمعون کی ماں ایونا اس دنیا میں آئی ۔۔

بلا کی خوبصورت ۔۔

اس پر تیمور آفندی کے رنگین مزاج باپ کی نظر پڑی تو اس نے اپنی طاقتوں سے ناواقف اس کی ماں کا جنسی استحصال کردیا ۔۔

(شمعون کی نانی نے مزید انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیئے ۔۔

ایونا کو اس کی حقیقت نہیں بتائی تھی ۔۔

کہیں وہ اس کی طرح جذباتی ہو کر انسانی خون نہ کر دے)

کیونکہ تیمور کی ماں انسانی دنیا میں رہی تھی اور اسے اس کی حقیقت کے متعلق کبھی بتایا نہیں گیا تھا سو وہ خود کو بچانے میں ناکام رہی ۔۔

پھر جب شمعون کی پیدائش کے دن قریب آنے لگے ۔۔

تب قبیلے والوں نے ایونا اور اس کی ماں کو قبیلے میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ۔۔

ایونا قبیلے کے ڈر سے شمعون کو حویلی میں ہی چھوڑ کر اپنی دنیا میں چلی گئی ۔۔

لیکن جب ان کے خاندان میں کوئی اور لڑکا سرداری کے لیئے نہیں پیدا ہوا ۔۔

تب ان سب کو شمعون کے بارے میں بتا دیا ۔۔

اور یوں شمعون اپنے اصل سے آگاہ ہوا ۔۔

اور قبیلے کا سردار بنا ۔۔

اپنی حقیقت سے واقف ہو کر وہ اور بھی ظالم ہوگیا تھا ۔۔

حویلی کے بچوں کی اس نے جان نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔

اس کی پھپھو جو بیوہ تھیں اور سب سے بڑے تایا ایک ایکسڈنٹ کا شکار ہو کر دنیا سے چلے گئے ۔۔

اور یوں اسے اپنے پھپھو زاد کزن طبیب (جو اسے سب سے زیادہ زہر لگتا تھا) کا شکار کرنے کا موقع مل گیا ۔۔

شمعون اس وقت سولہ سال کا تھا ۔۔

پوری حویلی دو اموات پر افسردگی کی چادر اوڑھے ہوئے تھی ۔۔

جب اس نے طیب کو بے دردی سے ختم کر کے اپنی بھوک اور پیاس مٹا لی تھی ۔۔

شمعون نہیں جانتا تھا بیڈ کے نیچے طبیب کی چھوٹی بہن طوبی کسی شرار کے لیئے چھپی ہوئی ہے ۔۔

اس نے سب اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا لیکن وہ کسی کو ٹھیک سے کچھ بتا نہیں سکتی تھی کیونکہ اس کی دماغی حالت درست نہیں رہی تھی ۔۔

وہ سب ہی کو دیکھ کر چیخنے لگتی ۔۔

سو طوبی کو حویلی کے ایک کمرے میں بند رکھا جاتا تھا ۔۔

دوسری طرف شمعون حویلی کے باقی افراد کو بھی ایسے ہی موت کے گھاٹ اتار دینا چاہتا تھا لیکن طبیب کی موت کے دن اس نے اپنے جان سے عزیز تیمور بھائی کو جس طرح روتے دیکھا تھا ۔۔

وہ اندر ہی اندر نادم ہوگیا تھا ۔۔

اس دن اس نے عہد کیا تھا ۔۔

وہ حویلی کے کسی شخص پر کبھی حملہ نہیں کرے گا ۔۔

وہ جنگل بیابان میں یا قبرستان میں جا کر جانوروں اور مردوں کا گوشت اور خون کھاتا پیتا تھا ۔۔

اس شب بھی وہ ایک جنگل نما جگہ پر کوئی شکار تلاش کر رہا تھا جب اس کا سامنا ایک درخت کے نیچے بیٹھے کچھ پڑھتے سفید لباس اور داڑھی والے شخص سے ہوا ۔۔

شمعون کو اس شخص کے اندر سے پھوٹتی خوشبو سے وحشت ہونے لگی ۔۔

وہ وہاں سے جانا چاہتا تھا ۔۔

جب اس بزرگ شخص نے بھی جان لیا کہ بظاہر اس خوبرو شخص کے پیچھے ایک خوفناک بلا ہے ۔۔

وہ اس پر پڑھ کر کچھ پھونکتا رہا ۔۔

شمعون کی سانسیں اکھڑنے لگیں ۔۔

وہ خود کو بچانے کے لیئے بھاگتا رہا ۔۔

وہ جنگل سے باہر تو پہنچ گیا تھا لیکن ایک عجیب سا لکڑی کا ننھا ٹکڑا اس کے پیر میں پھنستا اس کی جان اندر ہی اندر نکالنے لگا ۔۔

وہ خود بہ خود بلے کا روپ دھار چکا تھا ۔۔

شمعون کو لگنے لگا وہ کچھ ہی دیر میں مر جائے گا ۔۔

جب اسے ایک انسانی آواز سنائی دی ۔۔

"چاچی دروازہ کھولیں ۔۔

چاچی پلیز ۔۔"

وہ خود اس لکڑی کے ٹکڑے کو نکال نہیں سکتا تھا اس لیئے اس نے شہلا سے مدد لینے کا سوچا ۔۔

اور شہلا نے شمعون کی بچی کھچی طاقتوں کے زیر اثر اس کی مدد کی بھی تھی ۔۔

لکڑی کا ٹکڑا نکل جانے کے بعد شمعون بہت کمزوری محسوس کر رہا تھا ۔۔

اب اسے دوا ۔۔

(یعنی کے انسانی گوشت)  کی اشد ضرورت تھی ۔۔

اس نے شہلا پر حملہ کرنے کا سوچا ۔۔

ابھی وہ اس کے خون کو چاٹنے ہی لگا تھا جب ایک عورت (شہلا کی چاچی) کمرے میں چلی آئی ۔۔

اور اندر کا منظر دیکھ کر چیخنے لگی ۔۔

اور یوں اس نے شہلا کو چھوڑ باقی سب کے خون اور گوشت پر ہاتھ صاف کر لیا ۔۔

وہ شہلا کو بھی ختم کر دینا چاہتا تھا ۔۔

لیکن اس کے احسان کی وجہ سے اسے زندہ چھوڑ آیا ۔۔

اور اب شمعون کو اندازہ ہو رہا تھا ۔۔

اس نے شہلا کو کسی احسان کے بوجھ تلے زندہ نہیں چھوڑا تھا ۔۔

معاملہ کچھ اور تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 5

شہلا خالی خالی نظروں سے وسیع و عریض رقبے پر پھیلے لان کو دیکھ رہی تھی ۔۔

سونے سے پہلے اس نے ہمیشہ کی طرح اپنے بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنا لیا تھا ۔۔

لیکن ہوا کے زور پر اس کے جوڑے سے بالوں کی موٹی موٹی لٹیں نکل کر لہرانے لگی تھیں ۔۔

وہ بہت خوبصورت تو نہیں تھی ۔۔

دبتی ہوئی گندمی رنگت ۔۔

بھرا بھرا گول چہرہ ۔۔

چھوٹی چھوٹی غلافی آنکھیں تھیں ۔۔

جن کی پتلیاں کافی بڑی تھیں ۔۔

چپٹی سی ناک کو لونگ نے سجا دیا تھا ۔۔

ہونٹوں کا کٹائو بہت دلکش نہیں تھا ۔۔

لیکن قطار سے بنے موتیوں جیسے دانتوں کی وجہ سے مسکراہٹ بہت پیاری لگتی تھی ۔۔

لیکن وہ مسکراتی کب تھی ۔۔

اسے خود بھی یاد نہیں آیا وہ آخری دفعہ کب مسکرائی تھی ۔۔

جبراً لب پھیلا لینا مسکرانا تو نہیں ہوتا نا ۔۔

اڑتے بالوں کو سمیٹ کر شہلا نے جوڑے کو تھپتھپایا تو سیاہ ریشمی بالوں کا جوڑا کھلتا چلا گیا ۔۔

اس نے بھی پروہ نہیں کی ۔۔

ہوا کے دوش پر اڑتے گدگداتے بال مزہ دے رہے تھے ۔۔

آنکھیں بند کر کے اس نے رات کی رانی کی خوشبوں اپنی سانسوں میں کھینچی تھی ۔۔

اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا درختوں کی ٹہنیوں سے دو سرخ آنکھیں کب سے اسے تک رہی تھیں ۔۔

اس کے بالوں میں کسی کا دل اٹکا تھا اس بات سے انجان وہ سوچ رہی تھی۔۔

"اتنے دراز بال سنبھالنے مشکل ہوتے ہیں ۔۔

کاٹ لوں گی کل ۔۔"

تھوڑی دیر اور خوشبودار ٹھنڈی ہوا سانوں میں اتارنے کے بعد وہ کمرے کے اندر چلی گئی تھی ۔۔

جبکہ وہ سیاہ بلا چھلانگ لگا کر اس کی گیلری میں کودا تھا جس سے اچھی خاصی آواز ہوئی تھی ۔۔

بلے نے گیلری کا دروازہ اپنے مضبوط وجود سے کھولنے کی کوشش کی لیکن دروازہ اندر سے بند تھا ۔۔

وہ دروازے کو قہربار نظروں سے گھورنے لگا ۔۔

وہ اپنی انسانی شکل میں ہوتا یا بلے کا روپ دھارے ہوتا ۔۔

وہ یا اس کے قبیلے کے باقی لوگ ایسی کسی دیوار یا دروازے کے آر پار نہیں ہوسکتے تھے ۔۔

وہ بے بس سا اُدھر اُدھر چکرانے لگا ۔۔

وہ کچھ دیر اور شہلا کو دیکھنا چاہتا تھا ۔۔

یا شائد دیکھتے ہی رہنا چاہتا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حمزہ نے سگرٹ کا دھواں فزائوں کے سپرد کر کے وجدان کی طرف دیکھا جو اس سے چار سال بڑا تھا ۔۔

چہرے پر بلا کی سنجہدگی تھی جو اس حادثے کے بعد اور بھی بڑھ گئی تھی ۔۔

حمزہ نے اپنی بہن کو کھویا تھا تو وجدان نے بھی اپنی ماں کو کھو دیا تھا ۔۔

وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا تھا ۔۔

باپ تو شفقت لٹاتا ہی تھا لیکن اپنی ماں کی آنکھ کا تارا تھا وہ ۔۔

اتنا بڑا ہونے کے باوجود وہ اس کے کان کے پیچھے کالا ٹیکا لگایا کرتی تھیں ۔۔

سب کزنز اسے "ماں کا لاڈلا" کہہ کہہ کر چھیڑا کرتے تھے ۔۔

وہ بھی اپنی ماں کے لیئے اتنا ہی حساس تھا جتنا حمزہ ہانیہ کے لیئے ۔۔

سر جھٹک کر حمزہ نے آنکھ کے کنارے سے آنسو صاف کیا ۔۔

ایک ٹھنڈی سانس بھر کر اس نے بہن کی یادوں سے پیچھا چھڑوایا تھا ۔۔

وہ دونوں شام ڈھلے آفس سے واپس لوٹ رہے تھے ۔۔

جو بھی تھا کبھی نہ کبھی صبر آنا ہی تھا ۔۔

حویلی والوں کو بھی رفتہ رفتہ آنے لگا تھا ۔۔

سب روٹین کی طرف لوٹ رہے تھے ۔۔

مرد حضرات تو چار و ناچار کام پر جاتے ہی تھے ۔۔

مگر آج تمام خواتین بھی کچن میں رات کے کھانے کی تیاریوں میں مصروف تھیں ۔۔

کچن سے اشتہاانگیز کھانے کی خوشبوئیں آ رہی تھیں ۔۔

تینوں لڑکیاں تو بس کچھ بھی ہلکا پھلکا الٹا سیدھا بنا کر جان چھڑا لیتی تھیں ۔۔

اور ذائقہ اتنا خراب ہوتا تھا کہ اگر کسی کو بھوک لگ ہی جاتی تو ایک دو نوالے کھا کر ہی بھوک مر جاتی تھی ۔۔

حمزہ کی بھوک بہت عرصے بعد چمکی تھی ۔۔

وہ فریش ہو کر آیا تو ڈائننگ ٹیبل پر سب جمع تھے ۔۔

غیر ارادی طور پر نظروں نے کسی کو تلاشہ تو وہ اسی وقت کچن سے ایک ڈونگا اٹھائے آتی نظر آئی ۔۔

حمزہ کی نظریں ساکت رہ گئی تھیں ۔۔

صرف حمزہ کی ہی نہیں ۔۔

دو کالی آنکھوں میں بھی اچانک ناگواری اتر آئی تھی ۔۔

شہلا کے اونچی پونی میں جکڑے ریشمی سیاہ بال کندھوں سے ذرا ہی نیچے آ رہے تھے ۔۔

صبح ہی اس نے اپنے بالوں کو کاٹا تھا ۔۔

اب وہ گردن بہت ہلکی پھلکی محسوس کر رہی تھی ۔۔

اپنے لیئے کھانا نکالتے ہوئے اس نے بے پروائی سے سر اٹھایا تو نظریں حمزہ کی نظروں سے ٹکرائیں ۔۔

حمزہ نے اپنی نظریں فوراً نہیں ہٹائی تھیں بلکہ ایک عدد گھوری سے نواز کر نظروں کا رخ بدلا تھا ۔۔

شہلا کچھ سمجھے بغیر ہی خجل ہوگئی ۔۔

خجالت مٹانے کو اس نے اِدھر اُدھر دیکھا تو اس بار نظریں شمعون کی سیاہ آنکھوں سے جا ٹکرائیں ۔۔

شمعون کوئی تاثر دیئے بغیر کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا لیکن اس کی کشادہ پیشانی پر ایک گہرا بل نمایاں تھا ۔۔

"کیا مسئلہ ہے ان چچا بھتیجا کے ساتھ ۔۔"

دل میں بڑبڑاتے ہوئے شہلا بھی کھانے کی پلیٹ پر جھک گئی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امتل نازیہ اور فرح کے ساتھ لان میں چہل قدمی کرتے ہوئے وہ ہانیہ کی غیر موجودگی کافی محسوس کر رہی تھی ۔۔

ہانیہ اپنے تمام کزنز میں سب سے چھوٹی تھی ۔۔

لیکن سب سے بردبار بھی وہی تھی ۔۔

ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے شہلا نے جویریہ بیگم کو اس طرف آتا دیکھا ۔۔

"امتل ۔۔"

"جی امی ۔۔"

امتل ان کے قریب ہوئی ۔۔

"یہ کھانا طوبی کو دے آئو ۔۔"

"امی مجھے نہ کہا کریں ۔۔

اس نے پچھلی بار بھی میرا سر دیوار سے مار دیا تھا ۔۔"

امتل نے پیشانی پر بکھرے چھوٹے چھوٹے کٹے ہوئے بال پیچھے کر کے انہیں وہ گمشدہ نشان دکھانے کی کوشش کی ۔۔

"چل جا نا میرا بچہ ۔۔

میرے سے سیڑھیاں نہیں چڑھی جاتیں ۔۔

اور تو ڈر مت ۔۔

حمزہ جا رہا ہے ساتھ ۔۔"

انہوں نے اپنے پیچھے آتے حمزہ کی طرف اشارہ کیا ۔۔

امتل کی تیوری ہنوز چڑھی رہی ۔۔

فرح نیند کا کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ نازیہ کے فون پر کال آئی تو وہ سائڈ ہوگئی ۔۔

شہلا طوبی کے قصے کو جانتی تھی اور جویریہ بیگم کی تیوریاں بھی دیکھ چکی تھی سو ان سے کچھ فاصلے پر ہو کر ٹہلنے لگی ۔۔

"یہ لے شاباش لے جا ۔۔"

حمزہ جب پاس آیا تب انہوں نے زبردستی امتل کو ٹرے تھمائی اور مسکراتی نظروں سے امتل اور اس کے پہلو میں کھڑے حمزہ کو دیکھتی ہوئی وہاں سے چل دیں ۔۔

وہ اپنی لاابالی سی بیٹی کو کیسے اپنے خیالات سمجھاتیں ۔۔

براہ راست کچھ کہنے سے بھی ڈر رہی تھیں کہ کہیں امتل خواب سجانا نہ شروع کردے ۔۔

اور بعد میں اگر قسمت کو یہ منظور نہ ہو ۔۔

تو ان کی اکلوتی بیٹی کا ننھا سا دل ٹوٹ جائے ۔۔

سو وہ اپنی طرف سے ڈھکی چھپی کوشش کر رہی تھیں حمزہ اور امتل کی جوڑی بنانے کی ۔۔

کچھ دور کھڑی شہلا نے بڑی گہری نظروں سے ساری کاروائی ملاحظہ کی پھر دھیرے سے ہنس پڑی ۔۔

شائد ساری مائیں ایسی ہوتی ہیں ۔۔

"ارے واہ ۔۔"

ابھی وہ آگے بڑھ رہی تھی جب مسکراتی ہوئی مدھم آواز پر اچھل کر پلٹی ۔۔

شمعون ایک درخت کے تنے سے کمر ٹکائے نہ جانے کب سے وہاں کھڑا تھا ۔۔

شہلا اس کی موجودگی بلکل محسوس نہیں کر سکی تھی ۔۔

وہ خود پر حیران ہو رہی تھی جب شمعون آگے بڑھا اور اس کے پہلو میں آ کر کھڑا ہوگیا ۔۔

"اب سمجھ آیا آپ کم کم کیوں مسکراتی ہیں ۔۔"

شہلا نے کوئی جواب نہیں دیا اور انگلیاں چٹخانے لگی ۔۔

کسی انجان مرد سے تنہائی میں بات کرنے کا یہ اس کا پہلا تجربہ تھا ۔۔

سو اس کے مساموں سے پسینہ پھوٹنے لگا ۔۔

شمعون نے گہری نظروں سے اس کی گھبراہٹ ملاحظہ کی پھر قدم آگے بڑھا دیئے ۔۔

ساتھ ہی شہلا کو بھی چلنے کا اشارہ دیا ۔۔

شہلا نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے قدم گھسیٹنے لگی ۔۔

امتل کے ساتھ آگے بڑھتے حمزہ نے حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا ۔۔

دیکھا تو امتل نے بھی تھا ۔۔

"ہو نہ ہو ۔۔

یہ میڈم اتنی ساری مصیبتیں جھیل کر فلمی سچویشن میں ہماری حویلی میں ہماری چاچی بننے ہی آئی ہیں ۔۔

لکھوا لیں مجھ سے حمزہ بھائی ۔۔

قدرت کو یہی منظور یے ۔۔"

امتل نان اسٹاپ بول رہی تھی ۔۔

حمزہ نے ترچھی نظروں سے اسے گھورا ۔۔

"تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو کہ چاچی بننے ہی آئی ہے ۔۔"

حمزہ نے منہ ایسا بنا لیا تھا جیسے منہ میں کڑوا بادام آیا ہو ۔۔

"اوہوووووو"

امتل کی آنکھیں پہلے باہر کو ابلیں پھر شرارت سے آنکھیں مٹکائیں اور چہک کر بولی ۔۔

"ممکن ہے بھابی بننے آئی ہو ۔۔

اب ٹھیک ہے ۔۔"

حمزہ اس کی بات پر ڈانٹنے کی کوشش کی لیکن منہ سے مدھم سی ہنسی نکل گئی ۔۔

امتل نے بھی پھر چھیڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔۔

کچن سے نکلتی جویریہ بیگم کا چہرہ کھل اٹھا یہ منظر دیکھ کر ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہلا کو اب نیند آنے لگی تھی ۔۔

حویلی کی لائٹس اندر سے آف کر دی گئی تھیں لیکن شمعون اسے جانے ہی نہیں دے رہا تھا ۔۔

شہلا سوچ رہی تھی کاش وہ تھوڑی بے مروت ہوتی ۔۔

سو ٹکا سا کوئی جواب دے کر چلتی بنتی ۔۔

لیکن ہائے رے مروت نام کی یہ مصیبت ۔۔

ہاں مگر اتنا تھا کہ اب وہ جبراً ہونٹ مسکرانے کے انداز میں پھیلا کر جواب نہیں دے رہی تھی ۔۔

سنجیدہ سا چہرہ بنائے ہوں ہاں میں جواب دیتی اپنی کوفت ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔

اور شمعون سب محسوس کر کے بھی انجان بن رہا تھا ۔۔

"شہلا ۔۔"

نہ جانے شمعون کی اس گمبھیر پکار میں کیا تھا کہ شہلا کا چہرہ پسینے میں نہا گیا ۔۔

جیسے باتوں کی شروعات میں ہوا تھا ۔۔

شہلا نے لرزتی پلکیں بمشکل اٹھا کر شمعون کی طرف دیکھا ۔۔

"ڈونٹ مائنڈ لیکن ایسا لگتا یے اس حویلی میں آپ کو کوئی خاص پسند نہیں کرتا ۔۔

جیسے مجھے بھی کوئی پسند نہیں کرتا ۔۔

آئیں دونوں ایک دوسرے کو پسند کر لیں ۔۔"

شمعون نے اچانک اس کے سامنے ہو کر اپنا چوڑا ہاتھ اس کے آگے پھیلا دیا ۔۔

شمعون جانتا تھا یہ سب بہت عجلت میں ہوگیا تھا لیکن اب وہ مزید دیر نہیں چاہتا تھا ۔۔

ہرگز نہیں چاہتا تھا ۔۔

شہلا نے آنکھیں پھاڑ کر پہلے اپنے سامنے پھیلی ہتھیلی کو دیکھا پھر شمعون کے چہرے کو ۔۔

جہاں سنجیدگی کے علاوہ بھی کچھ تھا جس نے شہلا کو نظریں چرانے پر مجبور کردیا تھا ۔۔

شہلا کو بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔

مہینہ ہی ہوا تھا ابھی اس حادثے کو گزرے اور شمعون سسے پرپوز کر رہا تھا ۔۔

جھجھکتے ہوئے شہلا دو قدم پیچھے ہوئی اور پھر بھاگتی چلی گئی ۔۔

پیچھے اپنے خالی ہاتھ کو گھورتا شمعون اپنے اندر پکتے لاوے کو محسوس کر کے پہلی بار خوفزدہ ہوگیا ۔۔

"نہیں ابھی کچھ نہیں ۔۔

ہاں نہیں کیا تو ناں بھی نہیں کیا ۔۔

مجھے صبر کرنا چاہیے ۔۔

ڈائریکٹ جواب ملنے تک ۔۔

صبر شمعون صبر ۔۔

صبر ۔۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



تین مہینے ہونے کو آئے تھے ۔۔


حویلی میں سب کچھ معمول پر آچکا تھا ۔۔


اپنے اپنے دلوں کے زخم چھپائے سب اب مسکرانے لگے تھے ۔۔


سوائے شمعون کے ۔۔


جس کے چہرے پر ہمیشہ رہنے والی وہ مدھم سی مسکان اب بلکل غائب ہوچکی تھی ۔۔


شہلا بے اسے پرپوز پر جواب تو کیا دیا تھا ۔۔


الٹا اس سے کنی کترا کر گزرنے لگی تھی ۔۔


اتنی بڑی حویلی تھی ۔۔


جس طرف شمعون جاتا وہ وہاں سے فوراً بھاگ لیتی ۔۔


سوائے رات کو کچھ دیر گیلری کے وہ اسے شاذ و نادر ہی نظر آتی تھی ۔۔


اور اس کے اس گریز نے شمعون کو سخت مشکل میں ڈال رکھا تھا ۔۔


وہ کوئی عام سا انسان تو تھا نہیں جو کسی لڑکی کے جذبات سمجھتا ۔۔


وہ کم ہی کسی کا احساس کرتا تھا ۔۔


اور اب اس کی بس ہو چکی تھی ۔۔


اسے جتنا وقت دینا تھا شہلا کو اس سے زیادہ ہی دے دیا تھا ۔۔


اس وقت وہ پیشانی پر ایک گہری لکیر لیئے آر یا پار کرنے جا رہا تھا ۔۔


شہلا اسے لان میں بینچ پر بیٹھی کسی اخبار کے مطالعہ میں مصروف نظر آئی ۔۔


توقع کے مطابق شمعون کو دیکھتے کے ساتھ ہی وہ اٹھ کر بھاگنے کو ہو رہی تھی جب شمعون دیوار کی طرح اس کے سامنے کھڑا ہوگیا ۔۔


شہلا کو اپنے فرار کی تمام راہیں مسدود نظر آئیں تو سر جھکا کر بے بس سی کھڑی ہوگئی اور انگلیاں چٹخانے لگی ۔۔


اس کے بس میں یہی تھا ۔۔


"کوئی واضع جواب نہ دو ۔۔


اشارہ تو دو ۔۔"


شمعون اسے پکڑ کر جھنجوڑ دینا چاہتا تھا ۔۔


اور گرج کر پوچھنا چاہتا تھا ۔۔


لیکن وہ شہلا کے سامنے ایسا کچھ کر نہیں سکا ۔۔


اسے اپنی ہی آواز اجنبی لگی ۔۔


طویل سانس خارج کر کے شہلا نے خود کو کپوز کیا پھر ذرا کی ذرا نظریں اٹھا کر شمعون کے بے بس سے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔


شہلا نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی اسے یوں پرپوز کرے گا ۔۔


بہت سادہ سی مشرقی لڑکی کی زندگی تھی اس کی ۔۔


اس نے کبھی غیر ضروری طور پر کسی مرد سے بات نہیں کی تھی ۔۔


وہ اس شہزادے جیسے شخص کو کیا جواب دیتی جس کے آگے نظریں بھی اٹھاتے ہوئے جھجک جاتی تھی ۔۔


"شہلا ۔۔


کسی کا اتنا صبر نہیں آزماتے ۔۔"


شمعون نے مٹھیاں بھینچ کر خود پر کنٹرول کرتے ہوئے نرمی سے کہا ۔۔


"مم مجھے ۔۔


ایکچلی مجھے ۔۔"


"شہلا بیٹا ۔۔"


پیچھے سے آتی تیمور آفندی کی آواز پر شہلا کی جان میں جان آئی اور وہ سرپٹ وہاں سے بھاگتی چلی گئی ۔۔


تیمور آفندی جو اسے حویلی کی باقی لڑکیوں کے ساتھ شاپنگ پر جانے کا کہنے آئے تھے (جس سے شہلا منع کر چکی تھی) حق دق کھڑے رہ گئے جبکہ شمعون کی آنکھوں کی پتلیوں کا سائز خود بہ خود سکڑنے لگا ۔۔


وہ تیمور آفندی سے نظریں بچا کر تیزی سے مڑگیا اور پیچھے تیمور آفندی کبھی اس راستے کو دیکھتے جہاں سے شہلا گزری تھی تو کبھی شمعون کی چوڑی پشت کو دیکھتے ۔۔


کچھ دیر دماغ کی پیچیں لڑانے کے بعد ان کے ذہن میں کچھ کلک ہوا تھا ۔۔


بے ساختہ ان کے لب سیٹی کے انداز میں سکڑ گئے تھے ۔۔


"اوہ ۔۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تیمور آفندی نے بالآخر اسے رات کو جا ہی لیا ۔۔


وہ لان میں سر جھکائے چہل قدمی کر رہا تھا ۔۔


رات کے پونے دو ہو رہے تھے ۔۔


ساری حویلی میں اندھیرا چھایا تھا ۔۔


لان کی لائٹس بھی بند تھیں ۔۔


تیمور آفندی کی یونہی گھبراہٹ میں آنکھ کھلی تو وہ کمرے کی کھڑکی میں چلے آئے ۔۔


جہاں اندھیرے لان میں انہیں ایک ہیولا ٹہلتا نظر آیا ۔۔


تیمور آفندی نے فوراً اندازہ لگا لیا وہ کون ہو سکتا تھا ۔۔


شمعون کی ہمیشہ سے عادت تھی ۔۔


جب کسی الجھن میں ہوتا یونہی اندھیرے لان میں تنہا ٹہلنے لگتا ۔۔


شمعون کے قریب جاتے ہوئے انہوں نے اس کی بار بار اٹھتی نظروں کے تعاقب میں دیکھا جو شہلا کے کمرے کی گیلری ہر منڈلا رہی تھیں ۔۔


اپنے اندازے کے صحیح ثابت ہونے پر وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے اس کے پیچھے جا کھڑے ہوئے اور ہمیشہ کی طرح "ہائو" کر کے اسے ڈرانے کی کوشش کی ۔۔


لیکن شمعون بھی ہمیشہ کی طرح ان کی آمد سے پہلے ہی واقف ہوگیا تھا ۔۔


جب ہی پل بھر کی مسکان لبوں پر سجا کر پلٹا پھر انہیں اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا ۔۔


وہ دونوں بھائی کچھ دیر تک خاموشی سے ٹہلتے رہے پھر تیمور آفندی نے ہی گلا کھنکھار کر بات کی شروعات کی ۔۔


"کیوں پریشان ہو ۔۔"


"آپ کو جب یہ پتہ چل چکا ہے کہ میں پریشان ہوں ۔۔


تو یہ کیسے ممکن ہے پریشانی کی وجہ سے ناواقف ہوں ۔۔"


دھیمی آواز میں پوچھتے ہوئے شمعون نے ان پر ایک مصنوعی گھوری ڈالی ۔۔


پھر دونوں ہنس دیئے ۔۔


شمعون کی ہنسی بہت مدھم اور مختصر تھی لیکن تیمور آفندی کی ہنسی زندگی سے بہت بھرپور تھی ۔۔


"اب سب کچھ بتائو مجھے شروع سے اب تک ۔۔


کیا چل رہا ہے درمیان ۔۔


اور کب سے چل رہا ہے ۔۔"


شمعون نے جواباً انہیں مختصر لفظوں میں اپنے مختصر ترین پرپوزل اور طویل ترین صبر کی داستان سنادی ۔۔


جسے سن کے تیمور آفندی نے ہنکار بھری ۔۔


"بیٹا جی وہ ایک پیور مشرقی لڑکی ہے ۔۔


اور ایسی سیدھی سادی اچھی لڑکیاں پرپوزل پر فوراً جواب نہیں دے دیتیں ۔۔


اور تمہیں چاہیے تھا تم پہلے ہی مجھ سے بات کرتے ۔۔


پھر میں اس سے بات کرتا تو معاملہ اب تک آر یا پار لگ چکا ہوتا ۔۔"


"تو پھر آپ کریں نا بات اس سے ۔۔"


شمعون فوراً بولا تھا ۔۔


"ہاں بھئی کرلیں گے ۔۔ اتاولے کیوں ہو رہے ہو صبر کرو ۔۔"


"تین مہینوں سے کر رہا ہوں ۔۔"


شمعون کے تیوری چڑھا کر کہنے پر وہ ہنس پڑے ۔۔


"صبح تک کا اور کرلو ۔۔"


شرارت سے کہہ کر تیمور آفندی نے خود سے تین انچ زیادہ اونچے اپنے چھوٹے بھائی کی پیشانی چومی ۔۔


وہ خود بھی نہیں جانتے تھے شمعون انہیں اتنا عزیز کیوں تھا ۔۔


شائد اپنی بچپن کی تنہائی کی وجہ سے ۔۔


وجہ جو بھی تھی ۔۔


حقیقت یہی تھی کہ شمعون ان کے لیئے امتل سے کم بلکل نہیں تھا ۔۔


وہ جو بچپن سے گم صم تنہا تنہا رہتا آیا تھا ۔۔


اب تیمور آفندی اسے خوش دیکھنا چاہتے تھے ۔۔


وہ دل سے چاہتے تھے کہ ان کے چھوٹے بھائی کی دلی مراد بر آئے ۔۔


ان کے پیار کرنے سے شمعون کی آنکھوں کی سردمہری غائب ہوگئی ۔۔


اور وہ ہلکا سا مسکرا دیا ۔۔


"اچھا بھئی اب سونے چلو ۔۔


تمہاری بھابی کی آنکھ کھلی اور مجھے نہ پایا تو خوف سے چیخ چیخ کر مردوں کو بھی جگا دے گی ۔۔"


وہ کوئی گزرا وقت یاد کر کے ہنسے اور شمعون کی پشت تھپکتے اسے اپنے ساتھ اندر لے جانے لگے ۔۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سو بالآخر تھانے جانے سے پہلے تیمور آفندی نے شہلا سے بات کر ہی لی تھی ۔۔


اور سوال اٹھتا ہے ۔۔


کیا بات کی تھیں ۔۔


تو وہی باتیں تھیں جو ایسے موقعوں پر کی جاتی ہیں ۔۔


شہلا کو اندازہ نہیں تھا کہ شمعون اتنی "جلدی" مچا دیگا ۔۔


تین مہینے اس کے لیئے یقیناً جلدی تھے کیونکہ اس کے دل میں فلحال کچھ بھی نہیں تھا ۔۔


لیکن شمعون نے یہ تین ماہ تین صدیوں کی طرح گزارے تھے ۔۔


ساری لڑکیاں کالج یونیورسٹی گئی ہوئی تھیں ۔۔


صرف ایک فرح باجی تھیں جو ان سب جھمیلوں سے فارغ تھیں اور ہر وقت فون پر اپنے منکوح سہیل سے محو گفتگو رہتیں ۔۔


سہیل، تیمور آفندی کے سب سے بڑے مرحوم بھائی کے اکلوتے فرزند بھی ہیں جو جاب کے سلسلے میں سات سمندر پار آباد ہیں ۔۔


سو اس وقت شہلا لائونج میں تنہا بیٹھی اپنا جواب سوچ رہی تھی جو اسے آج شام دینا تھا ۔۔


حویلی کے مرد حضرات اپنے کام سے کام رکھتے تھے حمزہ کے علاوہ جو بلاوجہ اس سے چڑتا تھا ۔۔


اور ایک تھے تیمور آفندی ۔۔


جو اس پر امتل کی طرح ہی شفقت لٹاتے تھے ۔۔


بات کی جائے شمعون کی تو اس کی شمعون سے کوئی خاص بات چیت نہیں ہوئی تھی ۔۔


لیکن جب ہوئی تب ایسی ہوئی کہ وہ ہر وقت اس سے چھپتی رہتی تھی ۔۔


یعنی وہ شمعون کے متعلق زیادہ نہیں جانتی تھی ۔۔


لڑکیاں سب اس کے ساتھ بہت فرینڈلی تھیں ۔۔


جبکہ خواتین ۔۔


ہاں ۔۔


حویلی کی خواتین کی آنکھوں میں اس نے اپنے لیئے کافی بار ناگواری دیکھی تھی ۔۔


وہ سب خواتین پڑھی لکھی تھیں ۔۔


کچھ ایسا ویسا سخت سست کبھی نہیں کہا تھا ۔۔


لیکن نظریں بھی بولتی ہیں نا ۔۔


"کیا یہ خواتین مجھے اس گھر میں قبول کریں گی ۔۔"


شہلا کے دل نے کانپ کر سوچا ۔۔


وہ اس حویلی میں بغیر کسی رشتے کے کب تک رہ سکتی تھی ۔۔


وہ سنجیدگی سے سوچتی تو یہ سوال بہت بڑا لگتا ۔۔


"ہاں واقعی مجھے حویلی میں رہنے کے لیئے کسی سہارے کی ضرورت ہے ۔۔


میں ہمدردی کے نام پر ہمیشہ یہاں نہیں پڑی رہ سکتی ۔۔


پھر شمعون تیمور انکل کے بھائی ہیں ۔۔


انکل کتنا پیار بھی کرتے ہیں ان سے ۔۔


اگر میرے اپنے حیات ہوتے ۔۔


تو شمعون صاحب کے رشتے پر خوشی خوشی راضی ہوجاتے ۔۔


ان میں بظاہر تو ایسی کوئی خرابی بھی نہیں ۔۔


انہیں حویلی کے باقی مرد حضرات کی طرح سگرٹ تک تو پیتے نہیں دیکھا ۔۔"


(شہلا بی بی وہ خون جو پیتے ہیں ۔۔)


شہلا جیسے اچانک ایک فیصلے پر پہنچ ک مطمئین ہوگئی ۔۔


اس کے دماغ میں تیمور آفندی کی آواز گونجنے لگی ۔۔


"شہلا یہ ہرگز مت سوچنا کہ تمہارے جواب کا تمہارے یہاں رہنے پر کوئی اثر پڑے گا ۔۔


تم میری بیٹی کی طرح ہو ۔۔


بیٹی بن کر یہاں آئی ہو ۔۔


اور بیٹیاں اگر "انکار" کردیں تو انہیں گھر سے نکال نہیں دیتے ۔۔


سو کھلے دل و دماغ سے فیصلہ کرنا ۔۔


جو بھی کرنا ۔۔"


اور شہلا نے واقعی کھلے دل س دماغ سے سوچا ۔۔


اور دونوں کی طرف سے ایک ہی جواب آیا تھا ۔۔


"کوئی حرج تو نہیں ۔۔"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


"اے لڑکی سنو ۔۔"


حمنہ بیگم کی ناگواری میں لپٹی پکار پر سیڑھیاں چڑھتی شہلا جبکہ باہر سے ابھی ابھی لوٹتا شمعون بھی اپنی جگہ رک گیا تھا ۔۔


"جی ۔۔"


"میں بہت تھک گئی ہوں ۔۔


تم یہ کھانا اوپر طوبی کو دے آئو ۔۔


سب سے آخر میں ہے اس کا کمرہ ۔۔"


انہوں نے کھانے کی ٹرے اس کی طرف بڑھائی جسے شہلا نے جھجک کر تھام لیا ۔۔


شمعون تیزی سے ان کی طرف بڑھا اور ناگواری سے بولا ۔۔


"بھابی وہ مہمان ہے ۔۔


اگر طوبی نے کوئی نقصان پہنچا دیا اسے تو ۔۔"


"تو ۔۔"


حمنہ بیگم نے سینہ تان کر پوچھا ۔۔


"اور میاں خوب سمجھ آ رہی ہیں تمہاری ہمدردیاں ۔۔


جو کبھی حویلی والوں کے لیئے تو نہیں جاگیں ۔۔"


"یہاں آپ نے "گھر والوں" کی جگہ "حویلی والوں" کہہ کر اچھی طرح سمجھا دیا ہے آپ لوگوں کو میری ہمدردی کی کتنی ضرورت ہے ۔۔"


شمعون کو اپنے خون میں ابال خوب محسوس ہو رہا تھا ۔۔


"ہنہہ ۔۔


مجھے تم سے بحث نہیں کرنی ۔۔


اور تم سنو لڑکی ۔۔


مہمان تین دن کا ہوتا ہے ۔۔


یہاں چار مہینے ہوگئے ہیں ۔۔


خود کو مہمان سمجھ کر ہم سے چاکریاں کروانا بند کرو اور ہاتھ بٹایا کرو ۔۔


اب یہ لے جائو ۔۔"


انہوں نے ٹرے کی طرف اشارہ کیا اور شمعون کی سرد نگاہوں کو نظرانداز کرتی وہاں سے گزر گئیں ۔۔


شہلا بیچاری یہ بھی نہیں کہہ سکی کہ آپ لوگوں نے ہی ایک بار کہا تھا ۔۔


"مہمان بن کر رہو ۔۔

چچ چ

سگی بننے کی ضرورت نہیں ۔۔"


سر جھٹک کر شہلا سیڑھیاں چڑھنے لگی تو شمعون کے دل کا چور حواس باختہ ہوگیا ۔۔


"رکو شہلا ۔۔


امتل اور نازیہ ابھی کالج سے لوٹنے والی ہوں گی ۔۔


وہ ہی لے جائیں گی ۔۔


طوبی تم پر کوئی اٹیک کر سکتی ہے ۔۔"


شمعون نے اس سے ٹرے لینا چاہی لیکن وہ پیچھے کرگئی ۔۔


"اٹس اوکے ۔۔


کسی نہ کسی پر اٹیک ہونا ہی ہے تو مجھ پر سہی ۔۔


ویسے بھی اب ہمیشہ یہاں رہنا ہے ۔۔


نفع نقصان ہر چیز میں ساتھ دینا چاہیے ۔۔"


غیر ارادی طور پر شہلا اقرار کر بیٹھی تھی ۔۔


اور پھر شمعون کے ٹھٹک کر دیکھنے پر سٹپٹا کر آگے بڑھ گئی ۔۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



"کیا مطلب شہلا ۔۔"

شمعون نے اس کی کلائی تھام کر روک لیا اور سنجیدگی سے پوچھنے لگا ۔۔

البتہ آنکھیں پہلی بار یوں چمک رہی تھیں ۔۔

شہلا سے کوئی جواب نہیں بن پایا تو وہ کھانا ٹھنڈا ہوجانے کا کہتی ہوئی جھنجلا کر اپنی کلائی چھڑوانے لگی ۔۔

ہاتھ میں پکڑی ٹرے کی وجہ سے وہ زیادہ مزاحمت نہیں کر پا رہی تھی ۔۔

شمعون نے گہری نظروں سے اس کی گھبراہٹ ملاحظہ کی ۔۔

پھر جیسے ترس کھا کر اس کی کلائی چھوڑ دی ۔۔

شہلا ایک اچٹتی سی گھوری اس پر ڈال کر آگے بڑھ گئی تو وہ بھی مسکراہٹ دبائے اس کے ہمقدم ہوگیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں جب طوبی کے کمرے کے باہر پہنچے تب شہلا کے چہرے پر کچھ گھبراہٹ تھی ۔۔

جبکہ شمعون کا چہرہ بلکل سرد ہوگیا تھا ۔۔

اگر طوبی دماغی طور پر معذور نہ ہو چکی ہوتی تو اب تک وہ اس کا بھی صفایا کر چکا ہوتا ۔۔

جبڑے بھینچ کر شمعون نے کمرے کا لاک کھولا ۔۔

کمرے میں اندھیرا تھا ۔۔

تیمور نے گردن نکال کر اندر کا جائزہ لیا ۔۔

بیڈ پر دراز ہیولا دیکھ کر وہ کچھ مطمئین ہوگیا اور شہلا کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔۔

شہلا نیم اندھیرے کمرے میں بمشکل میز تک پہنچی ۔۔

ٹرے میز پر رکھ کر اس نے آگے بڑھ کر دیوار گیر کھڑکی کے پردے ہٹائے ۔۔

پورا کمرہ سورج کی تیز روشنی میں نہا گیا ۔۔

شمعون نے ترچھی ناگوار نظروں سے "اوں ہوں" کر کے نیند سے بیدار ہوتی طوبی کو گھورا پھر صوفے پر ٹک گیا جبکہ شہلا لب کچلتی طوبی کو اٹھتا دیکھنے لگی ۔۔

"طوبی نقصان پہنچا دیگی ۔۔

طوبی یہ کر دیگی ۔۔

طوبی وہ کر دیگی ۔۔"

حویلی کے مکینوں نے باتیں ہی کچھ ایسی کی تھیں کہ وہ دل ہی دل میں سخت پریشان ہوگئی تھی ۔۔

لیکن اب شمعون کو وہیں بیٹھتا دیکھ کر کچھ مطمئین بھی ہوگئی تھی ۔۔

طوبی نے عجیب سی نظروں سے شہلا کو گھورا پھر گردن موڑ کر شمعون کی طرف دیکھا ۔۔

شمعون پاس پڑا کوئی میگزین اٹھا کر چہرے کے آگے کر چکا تھا ۔۔

وہ ہر بار یہی کرتا تھا ۔۔

اسے نہیں اندازہ تھا ۔۔

کہ طوبی اس کے چہرے سے واقف ہے یا نہیں ۔۔

لیکن احتیاط ضروری تھی ۔۔

"کیوں آئے ہو تم لوگ یہاں ۔۔

کون ہو تم لوگ ۔۔

تت تم لوگ وہی بلائیں ہو ناں ۔۔

تم لوگ ابھی بلیاں بن جائوگے ۔۔

بڑی بڑی بلیاں ۔۔

لال لال آنکھوں والی ۔۔

پھپ پھر ۔۔

پھر تم لوگ میری گردن سے گوشت نوچوگے ۔۔

ہے ناں ۔۔

میرا خون پی لو گے تم لوگ ۔۔

میری جان لے لوگے تم لوگ ۔۔

جیسے طبیب بھائی کی لی تھی ۔۔

طبیب بھائی کی طرح مجھے مار دو گے تم لوگ ۔۔

مار دوگے ہے ناں ۔۔

ہاں ۔۔

مار دوگے ۔۔

پھر میں اپنے ماماں پاپا اور بھائی کے پاس چلی جائوں گی ۔۔

اوپر آسمانوں میں ۔۔

جہاں اللہ میاں بھی ہوتے ہیں ۔۔

وہاں کوئی مجھے کچھ نہیں کر سکے گا ۔۔

تم لوگ بھی نہیں ۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔"

چیخ چیخ کر بولتے بولتے طوبی اب قہقے لگانے لگی تھی ۔۔

اس کے پیروں میں زنجیر تھی جو بیڈ کی پائنتی سے بندھی تھی ۔۔

طوبی تالیاں پیٹ پیٹ کر اب شمعون اور شہلا کو اپنے پاس آنے کی اور اپنا خون پینے کی آفر کر رہی تھی ۔۔

"آئو ناں ۔۔

ختم کردو مجھے ۔۔

مجھے آسمان پر جانا ہے ۔۔

اپنے بھائی اور ماماں پاپا سے ملنا ہے ۔۔

پلیز میرا خون پیو ناں ۔۔"

شمعون جو میگزین کے اوپر سے اپنی سیاہ سرد آنکھوں سے طوبی کا تماشہ دیکھ رہا تھا ۔۔

اب اکتا کر شہلا کی طرف دیکھنے لگا ۔۔

اس کا خیال تھا شہلا خوفزدہ ہوگی ۔۔

لیکن شہلا کی چھوٹی چھوٹی غلافی آنکھوں صرف ترحم تھا ۔۔

اور بہت زیادہ تھا ۔۔

شمعون کو عجیب سے احساسات نے گھیر لیا جب ہی اس نے اٹھ کر شہلا کو چلنے کا کہا ۔۔

"یہ ابھی کھانے کے موڈ میں نہیں لگ رہی ۔۔

ایک وقت نہیں کھائے گی تو مر نہیں جائے گی ۔۔

تم چلو ۔۔"

شہلا نے حیرت اور افسوس سے شمعون کے کٹھور انداز کو ملاحظہ کیا پھر نفی میں سر ہلا کر اسے جانے کا اشارہ دیا اور خود طوبی کے قریب بڑھ گئی ۔۔

شمعون تیوریاں چڑھائے کھڑکی کی طرف رخ موڑ کر کھڑا ہوگیا ۔۔

طوبی سے یہ ہمدردی کوئی بھی کر لیتا لیکن شہلا نہیں ۔۔

وہ اکتایا ہوا سا پشت سے شہلا اور طوبی کی باتوں کی آوازیں سننے لگا ۔۔

"آپ یہ کھانا کھالیں پلیز ۔۔"

شہلا کی آواز کانپ رہی تھی ۔۔

حویلی کا ہر فرد خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا ۔۔

لیکن سامنے بیٹھی یہ لڑکی ۔۔

جسے ایک حادثے نے ناکارہ بنا دیا تھا ۔۔

اس کے حسن کے آگے ساری حویلی والوں کا یکجا حسن بھی کچھ نہیں تھا ۔۔

ایک حسن سے مالامال وجود کو اس حال میں دیکھ کر شہلا کا افسوس اور بھی بڑھ گیا تھا ۔۔

طوبی کھانے کا کہنے پر بچوں کی طرح نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔

"پہلے تم مجھے کھائو پلیز ۔۔

مجھے مرنا ہے ۔۔

مجھے بھائی کے پاس جانا ہے ۔۔

مجھے ماماں پاپا چاہئیں ۔۔"

شمعون نے کوفت سے ہاتھ کی مٹھی بنا کر اپنے سرپر ماری ۔۔

اس کا دماغ سہی خراب ہو رہا تھا ۔۔

"طوبی آپ کھانا کھالیں ۔۔

ایسے رہیں گی تو آپ کے ماماں پاپا اور بھائی ۔۔

سب کو تکلیف ہوگی ۔۔"

"تم بلی ہو ۔۔

تم مجھے کھانا کیوں کھلانا چاہتی ہو ۔۔

اوہ آئی سی ۔۔

تم اس اسٹوری والی وچ کی طرح کروگی ۔۔

میں کھانا کھا کر موٹی ہوجائوں گی تب تم میرا ڈھیر سارا گوشت کھائوگی ۔۔

ہے ناں ۔۔"

"ہاں ہم ایسا ہی کریں گے ۔۔

تمہارا سارا گوشت کھاجائیں گے ۔۔

یہ ہڈیاں نہیں کھانی ہمیں گوشت کھانا ہے ۔۔

اور گوشت بنانے کے لیئے ضروری ہے کہ تم یہ سارا کھانا کھائو ڈیئر ۔۔"

شمعون اس سب سے بیزار ہو کر اچانک چیخ پڑا اور بیڈ پر طوبی کے دائیں بائیں دونوں ہاتھ ٹکا کر آہستہ سے چبا چبا کر بولا ۔۔

شمعون کی پتلیاں غصے سے چھوٹی ہوگئی تھیں ۔۔

چہرے کے خدو خال نارمل ہونے کے باوجود ان میں ایک خوفزدہ کرنے والا تاثر نظر آرہا تھا ۔۔

شہلا شمعون کو بیڈ کے نزدیک آتا دیکھ کر پہلے ہی پیچھے ہوگئی تھی ۔۔

جب ہی شمعون کا چہرہ دیکھنے سے رہ گئی تھی ۔۔

لیکن طوبی ۔۔

طوبی پر تو جیسے بجلیاں گری تھیں ۔۔

ان آنکھوں کو بھلا کیسے بھول سکتی تھی وہ ۔۔

یہ وہی آنکھیں تو تھیں ۔۔

اور اس کے اتنے نزدیک بھی ۔۔

پہلے پہل تو طوبی کو لگا اس کی آواز کھو گئی ہے ۔۔

پھر اس نے وہ شور اٹھایا کہ شہلا کی بھی خوف سے چیخیں نکل گئیں ۔۔

اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر شہلا وہیں بیٹھنے لگی تھی لیکن شمعون کمرے میں بھاگے آتے وجدان کو طوبی کو سنبھالنے کا کہہ کر شہلا کو ساتھ لیئے کمرے سے باہر نکل آیا ۔۔

"اے لو ایک کام دیا وہ تک ہوا نہیں ۔۔

اللہ ہی حافظ ہے بھئی ان کا تو ۔۔"

حمنہ بیگم بھی نیچے سے اوپر بھاگی آئی تھیں ۔۔

طوبی کے کمرے میں جاتے ہوئے شہلا کو تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے زبان کے نشتر چلانے ضروری سمجھے ۔۔

شمعون ان پر اچٹتی نظر ڈال کر ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا ۔۔

اس کے لبوں پر لمحہ بھر کو عجیب سی مسکراہٹ بکھری پھر معدوم ہوئی تھی ۔۔

"ہم باہر آگئے ہیں ۔۔

اب سب ٹھیک ہے ۔۔

میں نے تو پہلے ہی کہا تھا چلتے ہیں ۔۔

مجھے اس کی طبیعت کا پتہ جو ہے ۔۔

ہر کسی پر ہمدردیاں نہیں نچھاور کردیتے شہلا ۔۔

ابھی میں نہ آتا تمہارے ساتھ ۔۔

کوئی نقصان پہنچا دیتی وہ تمہیں ۔۔

پھر ۔۔"

شہلا نے کوئی جواب نہیں دیا اور غائب دماغی سے طوبی کے کمرے کے کمرے کے دروازے کو دیکھنے لگی جہاں سے طوبی کی آواز ہنوز آ رہی تھی ۔۔

"وہ آ چکا یے ۔۔

وہ پھر سے آچکا ہے ۔۔

وہ ہم سب کو مار دے گا جیسے بھائی کو مار دیا تھا ۔۔

بچائیں مجھے مامی ۔۔

بچائیں مجھے ۔۔"

"شہلا مت سنو اس کی باتیں ۔۔

جائو اپنے کمرے میں ۔۔"

شمعون نے جبڑے بھینچ کر بدقت نرمی سے کہا ۔۔

شہلا لب بھینچ کر مرے مرے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔

اور پیچھے تیمور نے گھور کر طوبی کے کمرے کی طرف دیکھا ۔۔

"ایک بار شہلا میری ہوجائے ۔۔

سب کو ٹھکانے لگادوں گا ۔۔"

شمعون اندر ہی اندر دہاڑتا ہوا بجتے ہوئے فون کی طرف متوجہ ہوا ۔۔

فون اس کی کمپنی کی طرف سے تھا ۔۔

فون کان سے لگا کر وہ سائڈ ہوگیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام ڈھلے کا وقت تھا ۔۔

موسم ابر آلود تھا ۔۔

گیلری میں کھڑی وہ سرمئی بادلوں پر نظریں ٹکائے طوبی کے متعلق ہی سوچ رہی تھی جب امتل نے آ کر اسے تیمور صاحب کا بلاوا پہنچایا ۔۔

شہلا غائب دماغی سے سر ہلا کر اس کے پیچھے نکل گئی لیکن لائبریری کے دروازے پر پہنچ کر اچانک ذہن میں کچھ کلک ہوا ۔۔

"کہیں تیمور انکل ۔۔

شمعون کے بارے میں تو ۔۔

اففف ۔۔

کیسے جواب دوں ۔۔

تیمور انکل کیا سوچ رہے ہونگے ۔۔

اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے ان کے خاندان میں ۔۔

اور میں ان کی حویلی میں رہ کر کیا کیا گل کھلاتی پھر رہی ہوں ۔۔"

اپنی سوچوں میں گم اسے احساس نہیں ہوا کہ شمعون اس کے بلکل قریب آ چکا ہے ۔۔

شہلا کے شانے کے اوپر سے اپنا چہرہ آگے کر کے شمعون کچھ دیر تک شہلا کے ترچھے چہرے پر آتے جاتے رنگ دیکھتا رہا پھر اس کے کان کے قریب ہونٹ کر کے مدھم گمبھیر آواز میں التجائیا گویا ہوا ۔۔

"ہاں کہنا شہلا ۔۔

پلیز ۔۔"

کان پر گرم سانسوں کا احساس ۔۔

اور یہ التجا ۔۔

شہلا اچھل کر پیچھے ہوئی تو نظریں شمعون کی آنکھوں سے ٹکرائیں ۔۔

جو ہمیشہ کی طرح آج بے تاثر نہیں تھیں ۔۔

کچھ کہہ رہی تھیں ۔۔

کچھ پوچھ رہی تھیں ۔۔

اکسا رہی تھیں ۔۔

شہلا کو اپنے گال تمتاتے محسوس ہوئے تو خود سے ہی گھبراتی ہوئی وہ جلدی سے لائبریری میں گھس گئی ۔۔

پیچھے شمعون شاد سا مسکرا دیا ۔۔

وہ اب مطمئین تھا ۔۔

کیونکہ وہ اپنا کام کر چکا تھا ۔۔

اسے سو فیصد یقین تھا کہ شہلا اب ہاں ہی کرے گی ۔۔

وہ کچھ وقت کے لیئے اس کے ذہن کو اپنے سحر میں لے چکا تھا ۔۔

شہلا اگرچہ خود بھی "ہاں" کہنے کا فیصلہ کر چکی تھی ۔۔

لیکن شمعون جانتا تھا ۔۔

انسان اپنی باتوں پر کم ہی قائم رہتے ہیں ۔۔

پھر اس کا دل بھی ایک بے نام سے خوف کا شکار رہتا تھا ۔۔

شہلا کی طرف سے ایک دھڑکا لگا رہتا تھا ۔۔

سو اس نے اپنا سحر چلانا ضروری سمجھا تھا ۔۔

اوپر جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھ کر شمعون نے اپنی نظریں لائبریری کے بند دروازے پر جما دی تھیں ۔۔

سگرٹ کے کش لیتا حمزہ جب اپنے کمرے سے نکلا تو شمعون کے چہرے پر پھیلی گہری مسکان دیکھ کر حیران ہوا ۔۔

شمعون کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنا ایسا ہی تھا جیسے رات کے وقت سورج دیکھنا ۔۔

"چاچو ۔۔"

حمزہ نے شمعون کے قریب جا کر پکارا ۔۔

شمعون کی مسکراہٹ معدوم ہوگئی اور اس نے سپاٹ نظروں سے حمزہ کو دیکھا ۔۔

"خوش لگ رہے ہیں ۔۔"

حمزہ نے ابرو اچکا کر پوچھا ۔۔

"تو ۔۔؟

تکلیف ہو رہی ہے تمہیں ۔۔"

شمعون کی طرف سے طنزیہ جواب ملنے کی ہی امید تھی ۔۔

اور وہی ملا بھی ۔۔

حمزہ کوفت سے اسے دیکھتا ہوا پلٹنے لگا جب لائبریری کا دروازہ کھلا ۔۔

پہلے شہلا نکلی ۔۔

بڑی جلدی میں لگتی تھی ۔۔

سیڑھیوں پر شمعون کو دیکھا تو سٹپٹا کر لان میں بھاگ گئی ۔۔

شمعون بے ساختہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا ۔۔

حمزہ چونک کر ٹکر ٹکر کبھی شمعون کو دیکھتا تو کبھی اس راہ کو جہاں سے شہلا گئی تھی ۔۔

ابھی وہ الجھا ہوا سا شہلا کے پیچھے جانے کا سوچ ہی رہا تھا جب اندر سے بڑبڑاتی ہوئی جویریہ بیگم بھی نکلیں ۔۔

ان کے ساتھ تیمور آفندی بھی تھے ۔۔

"تیمور آپ ایک بار ۔۔

شہلا کو شمعون کی حقیقت تو بتا دیتے ۔۔

ایسے ہی جلد بازی میں رشتہ جوڑ دیا ۔۔

کل کو وہ لڑکی گلا کرے کہ مجھے ایک حرام ۔۔"

جویریہ بیگم کی چلتی زبان شمعون کی چڑھی تیوری دیکھ کر رک گئی ۔۔

گڑبڑا کر وہ سر جھٹکتی ہوئی حویلی کی باقی خواتین کو اس نئے رشتے کے بارے میں بتانے بھاگ نکلیں ۔۔

جبکہ تیمور آفندی شمعون کی طرف بانہیں پھیلا کر بڑھ گئے ۔۔

شمعون مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ ان کے گلے لگ گیا ۔۔

پیچھے کھڑا حمزہ خود کو دنیا کا سب سے بیوقوف انسان محسوس کر رہا تھا ۔۔

بالآخر تیمور آفندی کو اس کا دھیان بھی آ ہی گیا اور وہ ایسے ہی بانہیں پھیلائے پھیلائے اس کی طرف بڑھے ۔۔

حمزہ خجل سا ہو کر ہنس پڑا ۔۔

"اب بتائیں ناں ۔۔

کیا ہو رہا ہے ۔۔

چاچی کیوں بگڑ رہی ہیں ۔۔"

"ارے تمہاری چاچی کب نہیں بگڑتیں ۔۔

اسے چھوڑو ۔۔

بات یہ ہے کہ ۔۔

شمعون اور شہلا کی شادی کا فیصلہ کیا ہے ہم نے ۔۔

سب اسی مہینے ہوگا سادگی سے ۔۔

کمپنی کے کام سے شمعون پھر کینیڈا چلا جائے گا ۔۔

بہت وقت لگ جائے گا اگر اس کی واپسی کا انتظار کیا ۔۔

اور یہ ہوا جا رہا ہے بے صبرا ۔۔"

آخر میں تیمور آفندی نے شرارت سے شمعون کو دیکھا تو وہ اس بار اپنی ہنسی روک نہیں سکا ۔۔

ان دونوں کے ہنستے مسکراتے چہروں کو دیکھتے ہوئے حمزہ کو اپنا آپ بلکل خالی خالی محسوس ہو رہا تھا ۔۔

ابھی تو اس کے دل میں محبت کی ننھی سی کونپل پھوٹی تھی ۔۔

زیادہ وقت تو نہیں گزرا تھا ۔۔

ایک یہی تو شغل تھا اس کا آج کل صرف ۔۔

چوری چوری شہلا کو دیکھنا ۔۔

ڈانٹ ڈپٹ کر اسے اپنی طرف متوجہ رکھنے کی کوشش کرنا ۔۔

(خواہ برا ہی سوچے ۔۔

لیکن سوچے تو سہی ۔۔)

محبت ہوگئی تھی ۔۔

لیکن پہلی پہلی نئی نئی تھی ۔۔

ابھی محبت نبھانے کا سلیقہ نہیں آتا تھا ۔۔

پھر جو حالات چل رہے تھے حویلی میں ۔۔

کیا ایسے میں اس کا اظہار محبت اچھا لگتا ۔۔؟

بلکل نہیں ۔۔

لیکن اس بیچارے کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔

کہ اس کا تکلف ۔۔

اس کی خاموشی ۔۔

اس کا اتنا بڑا نقصان کر دے گی ۔۔

اور وہ بیٹھا دیکھتا رہ جائے گا ۔۔

جیسے ہی یہ خبر حویلی میں پھیلی ۔۔

ایک شور سا مچ گیا تھا ۔۔

کوئی ناگواری کا اظہار کر رہا تھا تو کوئی حیرت کا ۔۔

کوئی کوئی خوش بھی لگ رہا تھا ۔۔

"چلو کوئی تو خوشی کی گھڑی نصیب ہوئی ۔۔"

جعفر صاحب کی بیوہ شمائلہ بیگم کی عدت بھی کچھ دن پہلے ہی ختم ہوئی تھی ۔۔

انہوں نے اپنا واویلا شروع کر رکھا تھا ۔۔

ایسے میں سیڑھیوں پر شاک کی کیفیت میں بیٹھے حمزہ پر توجہ کسے دینی تھی ۔۔

گم صم سا وہ سب کو دیکھتا رہا ۔۔

پھر پھیکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کی تمام تقریب حویلی میں ہی رکھی گئی تھی ۔۔

حویلی کے مکینوں کے سوا تیمور آفندی کے ہی کچھ جاننے والے شامل تھے ۔۔

اور شہلا کی طرف سے صرف فیروزہ خالہ اور ان کے اہل خانہ مدعو تھے ۔۔

اس قدر سادگی سے شادی پر تیمور آفندی نے اس سے بہت معزرت کی تھی ۔۔

شہلا خود اپنی جگہ شرمندہ تھی ۔۔

کیسی دلہن تھی وہ ۔۔

جہیز وغیرہ تو دور کی بات ۔۔

اپنے لباس اور زیورات سمیت کسی چیز میں بھی تو اس کی طرف سے ایک پھوٹی کوڑی نہیں لگی تھی ۔۔

وہ تو خود شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں تھی اور کسی سے نظر نہیں ملا پا رہی تھی ۔۔

اب بات اگر شہلا کی ذاتی تیاری کی کی جائے تو کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ شمعون نے کیا کیا نہیں کیا ہوگا ۔۔

مشہور و معروف ڈیزائنر کا سرخ اناری برائیڈل ڈریس ۔۔

جس پر کہیں کہیں سلور اور سیاہ کا ہلکا ہلکا دیدہ زیب کام ہوا تھا ۔۔

بھاری بھرکم دوپٹے کے کناروں پر ننھے ننھے موتی سجے تھے ۔۔

ڈائمنڈ جویلری میں اس کی رنگت چمک رہی تھی ۔۔

سرخ لبوں سے جھانکتے موتیوں جیسے دانت بہت بھلے لگ رہے تھے جن سے وہ الجھن میں گھری ہونٹ کاٹ رہی تھی ۔۔

پور پور سجی وہ ایک الگ ہی چھب میں تھی اور حویلی کی خواتین کو سخت حیران کر رہی تھی ۔۔

بہت سے لوگ اتنے بڑے حادثے کے بعد اچانک شادی پر ناخوش تھے ۔۔

لیکن پروہ کسے تھی ۔۔

ان لوگوں نے کبھی شمعون کو اہمیت کے قابل نہیں سمجھا تھا ۔۔

اسے ہر معاملے سے دور رکھا تھا ۔۔

پھر اس کے ذاتی معاملے میں کیسے کچھ کہہ سکتے تھے ۔۔

نکاح کے بعد جب شمعون لان سے اٹھ کر مرد حضرات سمیت لائونج میں آیا تو شہلا کو کہیں نہ پا کر اچھا خاصہ تلملا گیا ۔۔

اشارے سے امتل کو پاس بلایا جو حمزہ کو میسجز کیئے جا رہی تھی ۔۔

صبح سے وہ نہ جانے کہاں چھپا بیٹھا تھا ۔۔

"جی ۔۔"

امتل کا انداز لٹھ مار تھا ۔۔

شمعون نے گہری سانس خارج کر کے خود کو کچھ سخت کہنے سے روکا ۔۔

"شہلا کہاں ہے ۔۔؟

یہاں کیوں نہیں یے ۔۔؟"

"اسے تھکاوٹ ہو رہی تھی ۔۔

اس لیئے کمرے میں بھیج دیا آپ کے ۔۔"

شمعون کی پیشانی کا بل دیکھ کر امتل سیدھی ہوگئی اور گھبراہٹ میں جلدی جلدی بتا کر وہاں سے بھاگ نکلی ۔۔

جبکہ شمعون مطمئین ہو کر تیمور آفندی کی جانب متوجہ ہوگیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمعون جب کمرے میں داخل ہوا ۔۔

تب تک شہلا رو رو کر اپنی آنکھیں سجا چکی تھی ۔۔

ظاہر ہے یہ وقت ہی کچھ ایسا تھا ۔۔

اپنوں کی یاد آنی فطری تھی ۔۔

شمعون کے آنے پر شہلا نے جلدی سے اپنی آنکھیں ہنائی ہاتھوں کی پشت سے پونچھیں ۔۔

شہلا کو اندازہ تھا وہ اس وقت خوف و ہراس سے بلکل ٹھنڈی یخ ہو رہی تھی ۔۔

موسم ابھی اتنا سرد نہیں تھا ۔۔

پھر بھی شہلا اپنا برف برف وجود محسوس کر سکتی تھی ۔۔

شمعون دم بخود سا لمبی لمبی گھنی پلکوں پر ٹکے آنسئوں کا رقص دیکھنے لگا ۔۔

شہلا گھبراہٹ میں کبھی نظریں اٹھا کر شمعون کی طرف دیکھتی ۔۔

کبھی نظریں جھکا لیتی ۔۔

کبھی ٹیبل پر جلتی شمع کو دیکھتی ۔۔

تو کبھی گیلری کے آگے پڑے سفید پردے کو ۔۔

جو ہلکی ہلکی ہوا کے زور پر لہرا رہا تھا ۔۔

کمرے کی تمام بتیاں بجھی تھیں ۔۔

صرف بیڈ کے سائڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ روشن تھے جن سے زرد خواب ناک روشنی پھوٹ رہی تھی ۔۔

جو شہلا کے وجود کے ساتھ ساتھ ان لمحات کو بھی سحر انگیز بنا رہی تھی ۔۔

شمعون کو لگا اگر اس نے درمیانی فاصلہ مزید کچھ دیر قائم رکھا تو غضب ہی ہوجائے گا ۔۔

اس نے بے اختیار ہو کر اپنا ہاتھ شہلا کے چہرے کی طرف بڑھایا تھا ۔۔

شہلا اپنے سرد گال پر شمعون کا دہکتے مضبوط ہاتھ کا ہلکا سا لمس محسوس کر کے سر جھکا گئی جبکہ شمعون کے چہرے کا رنگ سفید ہونے لگا ۔۔

اس نے کرنٹ کھا کر اپنا ہاتھ پیچھے کیا تھا ۔۔

اتنا ہی نہیں ۔۔

خود بھی وہ کئی قدم پیچھے ہوتا شہلا کو حیران پریشان کر گیا تھا ۔۔

شہلا نے خوفزدہ ہو کر شمعون کی طرف دیکھا جو اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے متوحش سا اِدھر اُدھر چکرا رہا تھا ۔۔

"شش شم ۔۔"

شہلا نے اس سے اس کی طبیعت کے متعلق پوچھنے کی کوشش کی لیکن شمعون اچانک اس کی طرف پلٹا اور شہلا کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تقریباً دبوچ کر گویا ہوا ۔۔

"سوجائو شہلا ۔۔

ابھی اور اسی وقت ۔۔

آرام کرو شاباش ۔۔

اتنی اچانک بننے والے رشتے سے تم گھبرا رہی ہوں گی ناں ۔۔

میں تمہارے احساسات سمجھ رہا ہوں ۔۔

تم خود کو مینٹلی تیار کرو ۔۔

ساری الجھنیں بھلا دو ۔۔

میں صبر کر سکتا ہوں ۔۔

گڈ نائٹ ۔۔"

اپنی بات مکمل کر کے شمعون جھٹکے سے اس کا چہرہ چھوڑ کر کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔۔

پیچھے شہلا خوف اور حیرت کی مورت بنی سیج پر بیٹھی رہ گئی ۔۔

اسے شمعون کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا ۔۔

اور وجہ شمعون کے الفاظ نہیں اس کا انداز تھا ۔۔

اگر یہی باتیں وہ نارملی کرتا تو شہلا کے دل میں اس کی قدر بے انتہا بڑھ جاتی ۔۔

اسے واقعی ابھی کچھ وقت چاہیے تھا ۔۔

لیکن شمعون کا انداز تو ایسا تھا کہ شہلا کے دل میں الٹا ایک خوف سا بیٹھ گیا تھا ۔۔

کچھ دیر تک شہلا بیٹھی انتظار کرتی رہی کہ شائد ابھی شمعون آئے گا اور اپنے رویئے کی وضاحت دے گا ۔۔

لیکن انتظار انتظار ہی رہا ۔۔

تھک ہار کر وہ چینج کرنے اٹھ گئی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمعون لان میں لگے جھولے پر بیٹھا تھا ۔۔

جھولا آہستہ آہستہ آگے پیچھے ہل رہا تھا ۔۔

جبکہ اس کی نظریں اپنے کمرے کی گیلری پر جمی تھیں ۔۔

بے بسی کے احساس سے شمعون کا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا ۔۔

اور آنکھوں کی پتلیاں چھوٹے چھوٹے نقطوں کی شکل اختیار کر چکی تھیں ۔۔

"کیوں کیوں کیوں ۔۔

کیوں نہیں ہوں میں ایک عام انسان ۔۔

کیوں میں اپنی محبت کو پا کر بھی چھو نہیں سکتا ۔۔

کیا فائدہ میری اتنی طاقتوں کا ۔۔

آخر کیوں نہیں ۔۔"

شمعون چیخنا چاہتا تھا لیکن اس کی چیخ ساری حویلی کی نیندیں اڑا سکتی تھی سو وہ دل میں دہاڑتا رہا ۔۔

اس نے جب شہلا کے چہرے کو چھوا تھا تب اسے یوں محسوس ہوا تھا جیسے اس کے جسم سے آگ کی لپیٹیں نکل رہی ہوں ۔۔

شہلا کے نرم سرد گال میں در حقیقت اس کی انگلیاں گڑ جانے کو ہو رہی تھیں ۔۔

وہ سرتاپا آگ تھا ۔۔

وہ شہلا کو جلا کر خاکستر کر سکتا تھا ۔۔

اگر معاملہ محبت کا نہ ہوتا صرف جسمانی تعلق کا ہوتا جو اس جیسی بہت سی دوسری مخلوقات  کسی انسان پر فدا ہو کر قائم کر لیتی ہیں تو وہ بھی پیچھے نہ ہٹتا ۔۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ شہلا کی جان نہیں لے سکتا تھا ۔۔

یہ ناممکن تھا ۔۔

جان ہی لینی ہوتی تو اتنے احتمام ۔۔

اتنا صبر کس لیئے کرتا ۔۔

اتنی بڑی حقیقت کیسے جھٹلا رہا تھا وہ ۔۔

"کیا مصیبت ہے ۔۔"

وہ اندر ہی اندر خود سے لڑ رہا تھا جب اس نے اپنے کمرے کی گیلری میں کودتی اس سیاہ بلی کو دیکھا ۔۔

شمعون لمحوں میں پہچان گیا تھا وہ اس کی ماں تھی ۔۔

اندیشوں میں گھرا وہ بھی سیاہ بلے کا روپ دھارتا درختوں کی دو تین چھلانگوں کے بعد اپنی ماں کے مقابل تھا ۔۔

ایونا نے سرد نظروں سے اسے گھورا اور غرائی ۔۔

"کون یے یہ ۔۔؟

تمہارے کمرے میں کیا کر رہی ہے ۔۔

یہ سب کیا چل رہا ہے شمعون ۔۔

مت کہنا کہ تم وہ ناقابل معافی غلطی کر چکے ہو ۔۔"

جواباً شمعون بھی اس سے اونچا غرایا ۔۔

"یہ میرا ذاتی معاملہ ہے ۔۔

میں اس میں کسی کی دخل اندازی برداشت نہیں کروں گا ۔۔

آپ صرف اتنا کریں کہ اس لڑکی سے دور رہیں ۔۔

بھوک لگی ہے آپ کو ۔۔

کل تک کا صبر کریں ۔۔

کچھ کرتا ہوں میں ۔۔

لیکن اس لڑکی کی طرف آپ نے یا قبیلے والوں نے نظر اٹھا کر بھی دیکھا تو انجام بہت بھیانک ہوگا ۔۔"

"تم ایک آدم زادی کے لیئے اپنی ماں اور قبیلے کی دشمنی مول لے رہے ہو ۔۔"

"میں کسی سے دشمنی مول نہیں لے رہا ۔۔

یہ آپ لوگ ہوں گے جو اس لڑکی کی طرف بڑھ کر مجھ سے دشمنی کریں گے ۔۔

میں نے کہہ دیا دور رہیں مطلب دور رہیں ۔۔"

شمعون کی غراہٹ ناقابل برداشت حد تک کریہہ تھی ۔۔

کچی نیند میں ڈولتی شہلا چونک کر اٹھ بیٹھی اور گیلری میں دو بڑی بڑی سیاہ بلیوں کو ایک دوسرے پر غراتے دیکھ کر خوف سے چیختے چیختے رہ گئی ۔۔

یہ بلیاں وہی بلائیں تھیں ۔۔

ان کے حد سے زیادہ بڑے سائز دیکھ کر شہلا نے اندازہ لگا لیا ۔۔

منہ پر ہاتھ رکھ کر شہلا نے یہاں وہاں شمعون کو ڈھونڈنا چاہا اور شمعون کو کہیں نہ پا کر مزید خوفزدہ ہوگئی ۔۔

شمعون نے ایونا سے بحث کرتے ہوئے ایک نظر شہلا پر ڈالی جو خوف سے سکڑی بیٹھی تھی ۔۔

پھر ایونا کو گھورا ۔۔

"کہا ناں جائیں یہاں سے ۔۔"

"اس مصیبت کو جڑ سے ختم کیئے بغیر میں نہیں جائونگی ۔۔"

ایونا نے نفرت سے کہتے کے ساتھ ہی شہلا کی طرف چھلانگ لگائی تھی لیکن شمعون نے اچھل کر ایونا کو دبوچ کر نیچے گرا لیا ۔۔

شہلا چیخوں کا گلا گھونٹی ہوئی تیزی سے کمرے سے باہر بھاگی ۔۔

اندر دونوں بلیوں نے وہ طوفان بدتمیزی مچا دیا کہ کوئی چیز اپبی جگہ سلامت نہیں رہی تھی ۔۔

اوپر سے بلیوں کی کان پھاڑتی غراہٹیں ۔۔

حویلی کے کمروں کے دروازے کھٹاکھٹ کھلے ۔۔

سب خوفزدہ سے لائونج میں جمع ہوگئے ۔۔

وجدان نے ہمت کر کے شمعون کے کمرے کا دروازہ بند کردیا لیکن شور غراہٹیں چیخیں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تیز ہوتی جا رہی تھیں ۔۔

شہلا کا رنگ ہلدی کی طرح زرد ہو چکا تھا ۔۔

شمعون کی فکر میں الگ دل پریشان تھا ۔۔

نہ جانے اسے کیا پریشانی تھی ۔۔

وہ اسے یوں تنہا چھوڑ کر کہاں چلا گیا تھا ۔۔

"یہ بلیاں ۔۔

توبہ ۔۔

اللہ خیر کرے ۔۔ ۔۔

خدارا کچھ کریں فخر ۔۔"

حمنہ بیگم اپنے شوہر سے مخاطب ہوئیں ۔۔

"کیا کروں ۔۔؟

اندر جا کر ان کا ڈنر بن جائوں ۔۔"

فخر آفندی پریشانی سے چلائے ۔۔

کچھ وقت پہلے ہی انہوں نے ہانیہ کو کھویا تھا ۔۔

اور اب یہ حمزہ پتہ نہیں صبح سے کہاں گم تھا ۔۔

"آرام سے فخر بھائی ۔۔"

تیمور آفندی نے اپنے بڑے بھائی کا شانہ تھپتھپایا پھر شہلا کے پاس جا کر بیٹھ گئے ۔۔

"شہلا بیٹا ۔۔

شمعون کہاں ہے ۔۔؟"

شہلا ان کے پوچھنے پر خالی خالی نظروں سے انہیں دیکھنے لگی ۔۔

"کیسا لاپروہ لڑکا ہے آپ کا پیارا بھائی ۔۔

شادی کے لیئے اتاولا ہو رہا تھا ۔۔

اب ہوگئی تو ان حالات میں اپنی دلہن کو تنہا چھوڑ کر بھاگ گیا ۔۔"

جویریہ بیگم نے ہاتھ نچا نچا کر کہا ۔۔

باقی خواتین نے ہاں میں ہاں ملانی ضروری سمجھی جب اچانک بلیوں کا شور بلکل بند ہوگیا اور ہر طرف موت کی سی خاموشی چھاگئی ۔۔

ایسی ہیبت ناک خاموشی تھی ۔۔

سب ٹکر ٹکر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔۔

"کون توڑے یہ خاموشی ۔۔؟"

"کون کرے یہ ہمت ۔۔؟"

سب کی آنکھوں میں یہی سوال تھا جب لائونج کا بھاری دروازہ کھول کر شمعون اندر داخل ہوا ۔۔

اس کے قدموں کی دھمک نے خاموشی کو توڑ ہی دیا ۔۔

سب کے سب گردنیں موڑے اسے دیکھ رہے تھے اور وہ شہلا کو ۔۔

"کیا ہوا ہے سب ٹھیک ہے ۔۔؟

یہاں کیوں جمع ہیں آپ لوگ ۔۔؟"

شہلا کے روئے روئے چہرے سے اپنی سپاٹ نظریں ہٹا کر وہ تیمور آفندی سے مخاطب ہوا ۔۔

"پہلے تم بتائو تم کہاں تھے ۔۔

کچھ ہوش ہے کیا حالات چل رہے ہیں ۔۔

ایسے میں تم اسے اکیلا چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہو ۔۔

یہ لڑکی اب تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔

اتنی لاپراہی برتو گے تو کیسے چلے گا شمعون ۔۔

تم سے یہ امید نہیں تھی ۔۔"

تیمور آفندی کی آواز اونچی سے سونچی ترین ہوگئی تھی ۔۔

انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہوا تھا ۔۔

سب حق دق تھے ۔۔

کیونکہ پہلی بار تیمور آفندی شمعون سے اس طرح مخاطب ہوئے تھے ۔۔

شمعون کی ضبط سے مٹھیاں بھینچ گئی تھیں ۔۔

لیکن وہ سر جھکائے چپ رہا کونکہ مقابل تیمور آفندی تھے ۔۔

جو شہلا کی ہی بھلائی سوچ کر اس طرح بات کر رہے تھے ۔۔

"کینیڈا سے ایک کال آگئی تھی ۔۔

ڈسٹربنس کے خیال سے باہرچلا گیا تھا ۔۔

لان مں بیٹھے بیٹھے ہی آنکھ لگ گئی ۔۔

پھر اندازہ نہیں ہوا کسی چیز کا ۔۔

اب بتائیں گے پلیز کے سب یہاں کیوں جمع ہیں ۔۔"

تیمور آفندی چپ سے ہوگئے ۔۔

پھر اسے ساری صورتحال سمجھانے لگے ۔۔

جبکہ شہلا حیرت سے اپنی ڈبڈبائی آنکھوں سے شمعون کو دیکھ رہی تھی ۔۔

جس نے کس اعتماد سے فون کال کا جھوٹ بولا تھا ۔۔

"اوہ ۔۔

اتنا سب ہوگیا اور میں بے خبر رہا ۔۔

تم ٹھیک ہو ۔۔؟"

آخر میں س نے جھک کر شہلا سے پوچھا ۔۔

لیکن شہلا کچھ غصے سے اپنی نظریں اس پر سے ہٹا گئی ۔۔

اس کے اس انداز پر شمعون کے اندر آتش فشاں سا پھٹا تھا ۔۔

"چلیں پھر چل کر دیکھیں اب اتنی خاموشی کیوں ہوگئی ہے ۔۔"

شمعون نے تیمور آفندی سے کہا ۔۔

وہ سر ہلا کر آگے بڑھنے لگے ۔۔

جب جویریہ بیگم ان سے بولیں ۔۔

"صبح تک کا انتظار کر لیں ۔۔"

"تاکہ کوئی اور حادثہ ہوجائے ۔۔"

تیمور آفندی خفگی سے کہہ کر آگے بڑھے ۔۔

اب سب سے آگے شمعون تھا ۔۔

پھر تیمور آفندی ۔۔

اور ان کے پیچھے وجدان تھا ۔۔

پیچھے حمزہ بھی سارا دن اپنی ناکام محبت کا سوگ منا کر حویلی لوٹ آیا تھا اور اب حمنہ بیگم اور فخر صاحب کی جھڑکیاں حیرت سے سن رہا تھا ۔۔

شمعون نے جب اپنے کمرے کے دروازے کے ہینڈل کو پکڑا تب اس کے چہرے پر ایک رنگ سا آ کر گزرا تھا ۔۔

وہ جانتا تھا اسے کیا دیکھنے کو ملنے والا تھا جبکہ تیمور آفندی اور وجدان دم سادھے کھڑے تھے ۔۔

شمعون نے لاک گھمایا ۔۔

دروازہ بے آواز کھلتا چلا گیا ۔۔

سامنے کمرے کی حالت ایسی تھی جیسے یہاں سے کوئی طوفان گزرا ہو ۔۔

کوئی چیز بھی تو اپنی جگہ سلامت نہیں تھی ۔۔

لیکن سب سے خوفزدہ کر دینے والی چیز وہ مردہ سیاہ بلی تھی جس کے اندر سے سیاہ گاڑھا سیال بہہ بہہ کر اس کے آس پاس کی جگہ کو گھیر رہا تھا ۔۔

"اوہ خدا ۔۔"

تیمور آفندی بڑبڑائے ۔۔

وجدان نیچے سب کو بتانے بھاگا ۔۔

جبکہ شمعون کی سرد آنکھوں سے ایک موتی گرا جسے اس نے تیمور آفندی سے چھپا کر صاف کر لیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاریجب شہلا شمعون کے کپڑے لے کر کمرے میں آئی ۔۔

تب وہ نہانے جا چکا تھا ۔۔

کپڑے بیڈ پر رکھ کر وہ گزری شب کی تمام صورتحال کو ذہن میں دہرانے لگی ۔۔

بلیاں تو خیر ایک خوفناک حقیقت تھیں ۔۔

لیکن شمعون کے رویئے کے پیچھے کیا کہانی تھی ۔۔

یہ شہلا سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔

ابھی وہ انگلیاں مروڑتی ہوئی شمعون کے عجیب و غریب رویئے کا کوئی سرا ڈھونڈنے میں مگن تھی ۔۔

جب باتھ روم سے کچھ گرنے کی کافی اونچی آواز ابھری ۔۔

شہلا تیزی سے باتھروم کے دروازے کی طرف بڑھی ۔۔

"شمعون ۔۔"

ہلکی سی دستک دے کر شہلا نے پکارا ۔۔

لیکن جواب ندارد ۔۔

"شمعون آپ ٹھیک ہیں ۔۔

پلیز کوئی تو جواب دیں ۔۔"

شہلا کا دل گھبرانے لگا ۔۔

اس کو اندازہ بھی نہیں ہوا تھا کے اس کی آواز میں نمی گھل گئی تھی ۔۔

"شم ۔۔"

اس کی اگلی پکار ادھوری رہ گئی کیونکہ شمعون نے دروازہ کھول دیا تھا ۔۔

لیکن اس کی سیاہ آنکھیں ادھ کھلی سی تھیں ۔۔

جیسے بہت مشکل سے کھول رکھی ہوں ۔۔

اس نے باتھ گائون لپیٹ رکھا تھا ۔۔

اور اس وقت شہلا نے بغور اس کا چہرہ دیکھا ۔۔

زخم تو تھے ہی ۔۔

ساتھ ہی پورے چہرے پر زردی گھلی تھی ۔۔

اس سے ٹھیک سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا ۔۔

شہلا نے اسے سہارا دینا چاہا لیکن اس وقت شمعون کے حواسوں پر خون کی پیاس سوار تھی ۔۔

اس نے شہلا کو یوں پیچھے دھکیلا جیسے شہلا کو اچھوت کی بیماری  ہو ۔۔

شہلا اچانک دور دھکیلے جانے پر زور سے دیوار سے جا لگی ۔۔

شہلا کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی ۔۔

وہ سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔

کیوں کر رہا تھا شمعون اس کے ساتھ ایسا ۔۔

حالانکہ بہت بار وہ اس کی بے رونق رہنے والی آنکھوں میں اپنے لیئے ایک خاص جذبہ چمکتے دیکھ چکی تھی ۔۔

پھر کیا وجہ تھی آخر ۔۔

شمعون نے گرنے کے سے انداز میں بیڈ پر بیٹھ کر شہلا کے چہرے کو  دیکھا ۔۔

اس کے خوفزدہ تاثرات پر دل اور بوجھل ہوگیا ۔۔

لیکن وہ کر بھی کیا سکتا تھا ۔۔

یونہی بیٹھے بیٹھے وہ چکراتے سر کے ساتھ شہلا کے چہرے پر پھیلے ہزن و ملال کے تاثرات دیکھتے دیکھتے اچانک پیچھے کو گر گیا ۔۔

شہلا تیزی سے اس کی طرف بڑھی ۔۔

کافی بار اسے پکارا لیکن جواب نہ ملنے پر تیمور آفندی کو بلانے بھاگ گئی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور آفندی نے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی پوری کوشش کی ۔۔

لیکن وہ نقاہت زدہ سا لب سختی سے بھینچے نفی میں سر ہلاتا رہا ۔۔

اس کا رویئہ انہیں حیران پریشان کر رہا تھا ۔۔

وہ منہ سے کچھ بول ہی نہیں رہا تھا ۔۔

بس چڑا ہوا سا اشاروں سے جواب دے رہا تھا ۔۔

درحقیقت شمعون اس وقت اپنی پیاس پر ضبط کر رہا تھا ۔۔

"شمعون بیٹا تمہیں ۔۔"

"بھائی آپ جائیں یہاں سے ۔۔

اور شہلا کو بھی لے جائیں ۔۔

پلیز جائیں ۔۔

اکیلا چھوڑیں مجھے ۔۔

پلیز بھائی ۔۔"

اس کا ضبط اچانک ٹوٹا تو وہ ان کی بات کاٹ کر حلق پھاڑ کے دہاڑ اٹھا ۔۔

شہلا نے بے ساختہ کانوں پر ہاتھ رکھ لیئے ۔۔

جبکہ چہرہ لٹھے کی مانند سفید ہوگیا ۔۔

تیمور آفندی خاموشی سے شہلا کو ساتھ لیئے باہر نکلنے لگے ۔۔

لیکن جاتے جاتے اچانک مڑ کر بھائی کی محبت سے مجبور پوچھ بیٹھے ۔۔

"تم اس بلی کو پھینکنے گئے تھے ۔۔

کہیں تمہارے اس حال کے پیچھے وہ بلیاں ہی تو نہیں ۔۔"

پہلے تو شمعون کچھ دیر تک سنجیدگی سے انہیں دیکھتا رہا ۔۔

پھر منہ بنا کر سر اثبات میں ہلا کر چہرہ موڑ لیا ۔۔

ٹھنڈی سانس بھر کر تیمور آفندی نے شہلا کو پھر سے چلنے کا اشارہ دیا جو ان کے ساتھ ہی رک گئی تھی اور بھیگی بھیگی الجھی نظروں سے شمعون کو دیکھ رہی تھی ۔۔

کمرے سے نکلنے سے پہلے شہلا نے ایک بار پھر شمعون کی طرف دیکھا ۔۔

اسی وقت شمعون نے بھی اپنا چہرہ موڑ کر اس کی طرف دیکھ لیا ۔۔

نظروں سے نظریں ٹکرائیں ۔۔

پھر جانے کیا ہوا کہ الفاظ بے ساختگی میں شہلا کے لبوں سے پھسلنے لگے ۔۔

"میں نے اپنے سب پیاروں کو کھو دیا ہے شمعون ۔۔

اب ایک آپ ہی میرے جینے کی وجہ ہیں ۔۔

جو بھی پریشانی ہے شیئر کر لیں ۔۔

پلیز ٹھیک ہوجائیں ۔۔"

گہری سانس بھر کر وہ شمعون کی ساکت نظروں سے گھبرا کر باہر نکل گئی اور دروازہ بند کر لیا ۔۔

لیکن شمعون کی نظریں ویسے ہی دروازے پر جمی رہیں جہاں کچھ دیر پہلے شہلا کھڑی تھی ۔۔

"اور اگر تمہیں پتہ چل جائے ۔۔

کہ اپنے پیاروں کو تم نے میری وجہ سے ہی کھویا ہے ۔۔

تو ممکن ہے کہ میں جو تمہارے جینے کی وجہ ہوں ۔۔

تم مجھے ہی ختم کرنے پر تل جائو ۔۔"

ہنوز دروازے پر نظریں جمائے شمعون پراسرار سے لہجے میں بڑبڑایا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمعون سارا دن کمرے میں تنہا بند رہا ۔۔

نہ کسی سے بات کی نہ کچھ کھانے پینے کو مانگا ۔۔

اس کا رویئہ سب کو چونکا رہا تھا ۔۔

لیکن کوئی بھی کچھ اخذ کرنے سے قاصر تھا ۔۔

اور حقیقت جو تھی وہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی ۔۔

رات کے کھانے کے بعد شہلا لان میں لگے جھولے میں جا بیٹھی ۔۔

اس کی مہندی کا رنگ بہت گہرا تھا ۔۔

کتنے فسانے مشہور تھے ۔۔

مہندی کے گہرے رنگ کے حوالے سے ۔۔

سارے جھوٹ نکلے ۔۔

وہ ایک دن کی دلہن تھی ۔۔

کوئی دیکھتا تو یقین نہ کرتا ۔۔

بال صبح سے سنوارے نہیں تھے ۔۔

بس الٹے سیدھے جوڑے میں سمائے تھے ۔۔

سادہ سا آسمانی رنگ کا سوٹ ۔۔

پریشان کن سوچوں سے کملایا ہوا چہرہ ۔۔

"جو کبھی نہ سوچا تھا وہ سب ہو رہا یے ۔۔

اور اچھا نہیں ہو رہا ہے ۔۔"

دل میں بڑبڑاتے ہوئے شہلا نے چونک کر تیمور آفندی کی گاڑی کو اندر داخل ہوتا دیکھا ۔۔

اندر سے بھاگے آتے وجدان نے گیٹ کھولا تھا ۔۔

تیمور آفندی شام سے غائب تھے ۔۔

نہ جانے کہاں گئے تھے ۔۔

ساتھ حمزہ بھی تھا جو گاڑی سے نکل رہا تھا ۔۔

لیکن کوئی تیسری شخصیت بھی ان کے ساتھ تھی ۔۔

لیکن کون ۔۔

شہلا کی کھوجتی نظریں گاڑی کے پچھلے دروازے پر جمی تھیں جب حویلی کی باقی خواتین و حضرات بھی حویلی سے نکل کر گاڑی کی طرف بھاگے ۔۔

شہلا ان سب کے مودبانہ انداز دیکھ کر خود بھی سب خواتین کی طرح دوپٹہ سر پر لے کر ہاتھ باندھ کر آگے بڑھ گئی ۔۔

گاڑی سے نکلنے والے بزرگ شخص کے چہرے پر جاہ و جلال کے ساتھ ایک خاص قسم کا نور اور نرمی بھی تھی ۔۔

شہلا کا سر بلا ارادہ ہی جھک گیا ۔۔

باقی سب کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ۔۔

انہوں نے گاڑی سے نکل کر سب کے سلام کا جواب دیا ۔۔

پھر اپنی روشن آنکھیں سکیڑ کر حویلی کا بغور جائزہ لیا ۔۔

ان کے منہ سے کچھ اجنبی الفاظ نکلے ۔۔

لیکن مطلب پوچھنے کی ہمت کسی سے نہیں ہوئی ۔۔

حویلی کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے بھی ان کی نظریں حویلی کا گہرائی سے جائِزہ لے رہی تھیں ۔۔

شہلا دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ یہ باباجی جو بہت بآثر لگتے ہیں ۔۔

حویلی والوں کو ان بلیوں نما بلائوں سے بچا لیں ۔۔

جب اس کے کان میں جویریہ بیگم کی سرگوشی پڑی ۔۔

جو اچھی خاصی اونچی تھی ۔۔

مخاطب تو تیمور آفندی تھے ۔۔

لیکن سنا سب نے تھا ۔۔

"یہ بابا جی اصلی ہیں ناں ۔۔

پہلے کی طرح کسی دھوکے باز کو تو نہیں لے آئے اٹھا کر ۔۔"

"عظیم عورت ۔۔

خدارا چپ کر جائو ۔۔"

تیمور آفندی کے بھنا کر کہنے پر شہلا سمیت سب کے لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ بکھر گئی ۔۔

اندر پہنچ کر انہوں نے سب کو اشارہ کیا کہ وہ ان کے پیچھے نہ آئیں ۔۔

پھر لائونج میں چکر کاٹتے ہوئے کچھ پڑھ پڑھ کر شہادت کی انگلی پر پھونکتے ۔۔

اور انگلی سے اپنے سر کے اوپر ایک دو پھیرے لگاتے ۔۔

کافی دیر تک یہ عمل جاری رہا ۔۔

سب سانس روکے "کچھ ہونے" کے منتظر تھے ۔۔

کوئی نہیں جانتا تھا کہ جو ہونا تھا وہ ہو رہا تھا ۔۔

یعنی شمعون اندر اپنے کمرے میں تکلیف کی شدت سے بیڈ پر لوٹ رہا تھا ۔۔

وہ پہلے ہی سخت کمزور تھا ۔۔

اس کا ارادہ رات کو سب کے سوجانے کے بعد حویلی کے کسی مکین کا خون پینے کا تھا ۔۔

لیکن یہ اچانک کیا ہونے لگا تھا ۔۔

شمعون سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔

اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں ۔۔

اس کی ایسی حالت پہلے بھی تو ہوئی تھی ۔۔

لیکن کب ۔۔؟

ہاں جب وہ شہلا سے ملا تھا ۔۔

ذہن میں جب جھماکہ ہوا تو اس کی آنکھیں ۔۔

جن کی پتلیاں چھوٹی چھوٹی ہوگئی تھیں ۔۔

پھیل گئیں ۔۔

اس کی آنکھوں میں دہشت واضع تھی ۔۔

"یہاں کیا کر رہا ہے وہ عامل ۔۔"

درد سے کراہتے ہوئے وہ بمشکل بولا ۔۔

"میں مر جائونگا ۔۔

یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔"

شمعون بے بسی سے اپنی انگلیوں کے پوروں سے ابھرتے ناخن دیکھنے لگا ۔۔

پھر دانت ۔۔

پھر ناک ۔۔

پھر کان ۔۔

ہر چیز تبدیل ہوتی گئی ۔۔

اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سیاہ بلا بن گیا ۔۔

بیڈ پر پڑا شمعون ایسے محسوس کر رہا تھا جیسے اس کے اندر کیلیں چبھائی جا رہی ہوں ۔۔

اچانک اس کے ایک پنجے میں ۔۔

پھر دوسرے پنجے میں ۔۔

ایک کے اوپر ایک چاروں پنجوں میں ویسے ہی لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے خود بہ خود نہ جانے کیسے کھب گئے ۔۔

جیسا ٹکڑا جنگل میں کھبا تھا ۔۔

اب وہ چلنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا ۔۔

ساتھ هى اس بار درد حد سے سوا تھا ۔۔

شمعون اپنی غراہٹ روک نہیں سکا ۔۔

اس کی دہشت ناک غراہٹ سب نے سنی تھی ۔۔

سب کی نظریں نیچے بنے گیسٹ روم کے دروازے پر جم گئیں ۔۔

"یہاں ہے وہ ۔۔

یہاں ہے وہ بلا ۔۔"

اس بزرگ کے پرجوش ہو کر کہنے پر تیمور آفندی اور شہلا نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔

"وہاں تو شمعون تھا ۔۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شمعون کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے ۔۔

اسے فکر صرف تیمور آفندی اور شہلا کی تھی ۔۔

وہ بے بسی کی تصویر بنا انتظار میں تھا کہ کب اس کا برسوں سے چھپایا راز افشاں ہو ۔۔

جب کمرے کی گیلری سے وہ تین سیاہ بلیاں اندر داخل ہوئیں ۔۔

پل بھر میں ان میں سے ایک بلا انسانی شکل میں ڈھل کر تیزی سے شمعون کی طرف بڑھا اور اسے اٹھا کر گیلری کے ذریعہ باہر نکل گیا ۔۔

دھاڑ سے دروازہ کھول کر تیمور آفندی اور ان کے ساتھ وہ بزرگ بھی اندر داخل ہوئے ۔۔

شہلا کمرے کے باہر ہی کھڑی خوفزدہ نظروں سے ہر طرف کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔

جبکہ حویلی کے باقی مکین حیرت زدہ سے اشاروں کنایوں میں باتیں کر رہے تھے ۔۔

"شمعون ۔۔"

تیمور آفندی نے اسے پکارا لیکن وہ ہوتا تو کوئی جواب آتا ناں ۔۔

وہ بزرگ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے گیلری کی طرف بڑھے ۔۔

لیکن باہر ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی ۔۔

کسی ذی روح کی موجودگی کا دور تک نام و نشان نہیں تھا ۔۔

جبکہ تیمور آفندی مسلسل شمعون کو پکارتے ہوئے کمرے کا دیوانہ وار جائزہ لے رہے تھے ۔۔

اور شہلا دھڑکتے دل کے ساتھ آیات کریمہ کا ورد زیر لب شروع کر چکی تھی ۔۔

گہری سانس بھر کر وہ بزرگ گیلری سے پیچھے ہوئے ۔۔

پھر آنکھیں بند کیئے تھوڑی دیر تک وہی نافہم الفاظ دھیمی آواز میں دہراتے رہے ۔۔

"شمعون کون ہے ۔۔؟"

اچانک آنکھیں کھول کر انہوں نے سرد مہری سے تیمور آفندی سے پوچھا جو تشویش ناک نظروں سے کمرے میں نظریں دوڑا رہے تھے ۔۔

شمعون کا غائب ہونا معمولی بات نہیں تھی ۔۔

بقول شہلا کے وہ کچھ دیر پہلے تک یہیں موجود تھا ۔۔

اور اس کی حالت بھی ایسی نہیں تھی کہ اچانک خود سے کہیں آ جا سکتا ۔۔

اب ان بزرگ کے سوال سے زیادہ وہ لہجے پر چونکے تھے ۔۔

خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر انہوں نے پہلے شہلا کو دیکھا جس کا چہرہ ان ہی کی طرح سفید ہو رہا تھا ۔۔

"شمعون میرا چھوٹا بھائی ہے ۔۔

جس کا میں نے آپ کو بتایا تھا ۔۔

کہ بلیوں نے حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا ۔۔"

تیمور آفندی گھٹی گھٹی آواز میں بولے ۔۔

ان کا ذہن انہیں کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا ۔۔

لیکن دل اس بات کو ماننے سے انکاری تھا ۔۔

تیمور آفندی کے جواب پر وہ عجیب سا مسکرائے ۔۔

"کیا مجھے شمعون کی کوئی تصویر ملے گی ۔۔؟"

"معاف کیجیئے گا ۔۔

شمعون نے کبھی تصویریں نہیں کھنچوائیں ۔۔"

تیمور آفندی نے پیشانی سے پسینہ صاف کر کے جواب دیا ۔۔

"سہیل اور فرح کے نکاح میں ان کی ایک تصویر آپ نے زبردستی کھنچوائی تھی تیمور چاچو ۔۔"

کب سے خاموش کھڑے حمزہ نے اچانک طنزیہ کہا اور پھر خود ہی تصویر لانے کا کہہ کر ایک کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔

شہلا کا دل سکڑ کر سمٹا ۔۔

کیا ہونے والا ہے آخر ۔۔؟

دل اتنی اسپیڈ میں کیوں دھڑک رہا ہے ۔۔

دماغ خالی خالی کیوں ہے ۔۔

اچھی خاصی ٹھنڈک میں پسینے کیوں آ رہے ہیں ۔۔

بہت سے سوال اٹھ رہے تھے ۔۔

جن کا جواب فلحال کسی کے پاس نہیں تھا ۔۔

حمزہ شمعون کی تصویر لے کر بھاگتا ہوا آیا اور عجیب ولولے کی کیفیت میں وہ تصویر ان کی طرف بڑھا دی ۔۔

وہ بزرگ اپنے مئوکل کے ذریعہ شمعون کی تصویر کا سہارا لے کر کچھ جاننا چاہتے تھے ۔۔

لیکن اس کی انہیں ضرورت ہی نہیں پڑی ۔۔

تصویر میں نظر آتا شمعون کا سرد و سپاٹ چہرہ دیکھ کر وہ خود ہی ٹھٹھک گئے ۔۔

جنگل کی وہ مہینوں پہلے کی رات وہ ہرگز نہیں بھولے تھے جب ایک آدم خور غیر انسانی مخلوق انہیں انسانی شکل میں نظر آئی تھی ۔۔

انہوں نے پوری کوشش کی تھی عمل کے سہارے شمعون کو ختم کرنے کی ۔۔

لیکن بدقسمتی سے "کسی" نے وہ لکڑی کا ٹکڑا اس کے پنجے سے نکال کر ان کے عمل کو ناکام بنا دیا ۔۔

سارا معاملہ ان کے سمجھ آنے لگا ۔۔

تصویر حمزہ کو واپس لوٹاتے ہوئے انہوں نے ٹھنڈی سانس خارج کر کے تیمور آفندی کی طرف دیکھا ۔۔

تیمور آفندی بہت بار ان کے آستانے پر آ کر ان کی منت کر چکے تھے ۔۔

لیکن ہر بار وہ مصروف ہوتے اور حویلی آنے سے رہ جاتے ۔۔

آج بھی وہ ایک ضروری چلہ کاٹنے والے تھے لیکن تیمور آفندی آج ان کے آگے گڑگڑا اٹھے تھے ۔۔

شمعون کے لیئے ان کی فکرمندی اور محبت یہیں سے ظاہر تھی کہ شمعون پر ہوئے حملے نے ان کا برسوں کا صبر ختم کردیا تھا ۔۔

"تیمور تم اپنے بھائی سے بہت پیار کرتے ہو ۔۔

اس لیئے یقیناً میری بات سن کے سب سے زیادہ تکلیف تم ہی اٹھائوگے ۔۔

خود کو مضبوط کرو ۔۔"

ان کی تہمید نے تیمور آفندی کو ٹھٹھکا دیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"میں نہیں مانتا ۔۔

میرا بھائی کوئی بلا ولا نہیں ہے ۔۔

آپ کو غلط فہمی ہوئی ہوگی ۔۔

ہو سکتا ہے جنگل میں وہ بلا شمعون کے بھیس میں ہو ۔۔"

تیمور آفندی مسلسل اس سچ کو ماننے سے انکاری ہو رہے تھے ۔۔

ان کے تو سر پر گویا پوری حویلی آگری تھی اس انکشاف پر ۔۔

"ہائے ۔۔

میرا سہاگ اجاڑ دیا اس بے غیرت بلا نے ۔۔

ارے اسے پالا پوسا ۔۔

کھلایا پلایا اور یہ صلہ ملا ہمیں ۔۔

خدا غارت کرے اس منحوس بلا کو ۔۔"

شمائلہ بیگم نے واویلا شروع کردیا اور آخر میں پھپھک کر رو پڑیں ۔۔

آخر کو ان کے شوہر کی جان لی تھی اس بلا نے ۔۔

"مم مجھے بھی یقین نہیں آ رہا ۔۔

شمعون چاچو ہمیشہ سے ہمارے ساتھ ہیں ۔۔

یہ ناممکن ہے ۔۔"

وجدان بے یقینی سے نفی میں سر ہلانے لگا ۔۔

"لیکن مجھے پورا یقین یے ۔۔

اگر ایمانداری سے ہم ہر چیز پر غور کریں تو یہ ممکن نظر آتا ہے ۔۔

جب کبھی حویلی والوں پر حملہ ہوا ہے ۔۔

وہ شخص حویلی سے غائب رہا ہے ۔۔

تیمور چاچو کی فیملی کو چھوڑ کر حویلی کی ہر فیملی نے اس بلا کا عتاب سہا ہے ۔۔"

حمزہ سب سے زیادہ بپھر رہا تھا ۔۔

ہانیہ کا معصوم چہرہ مسلسل نظروں کے آگے چکرا رہا تھا ۔۔

اس کے اٹھائے گئے پوائنٹ قابل غور تھے ۔۔

پھر سب سے بڑی بات ۔۔

اچانک شمعون کا غائب ہوجانا ۔۔

لائونج میں بحث جاری تھی ۔۔

کسی کو فوراً یقین آگیا تھا ۔۔

کوئی اب بھی بے یقین تھا ۔۔

کوئی دلائل دے رہا تھا ۔۔

کوئی اعتراض اٹھا رہا تھا ۔۔

اور گم صم سی سب کی تکرار سنتی شہلا چپ چاپ اٹھ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی ۔۔

اس کا رخ طوبی کے کمرے کی طرف تھا ۔۔

راستے میں پڑنے والے شمعون کے کمرے کے دروازے پر وہ کچھ لمحوں کے لیئے رک گئی تھی ۔۔

پھر جھلملائی نظریں لیئے سر جھٹک کر قدم آگے بڑھا دیئے ۔۔

شہلا کو طوبی کا اس دن کا رویہ یاد آ رہا تھا ۔۔

شمعون کے نزدیک آنے پر وہ جس طرح چیخنے لگی تھی ۔۔

اور بھی بہت سے مشکوک کر دینے والے مناظر بھی ذہن کے پردے پر چکرانے لگے ۔۔

دماغ کے بند دروازے کھلتے جا رہے تھے ۔۔

بہت کچھ واضع ہو رہا تھا ۔۔

گہری سانس بھر کر اس نے طوبی کے قریب جا کر پکارا ۔۔

لیکن جواب ندارد ۔۔

"طوبی ۔۔؟"

شہلا کو اس کے بے سدھ انداز نے ٹھٹھکا دیا ۔۔

اس کا دل بند ہونے لگا ۔۔

"طوبی پلیز اٹھیں ۔۔

بات کرنی ہے مجھے آپ سے کچھ ۔۔

مجھے بتائیں کیا شمعون ہے وہ بلا ۔۔؟

طوبی پلیز اٹھیں بتائیں ۔۔

طوبی پلیز آنکھیں کھولیں ۔۔

کیا ہوا ہے آپ کو ۔۔؟

طوبی ۔۔"

شہلا کی اگلی پکار حلق میں ہی گھٹ گئی ۔۔

بلیوں کے غرانے کی کریہہ آواز نے اسے ٹھٹھکا دیا ۔۔

تیزی سے وہ بیڈ سے دور ہوئی تھی کیونکہ طوبی جو لحاف سرتاپا اوڑھے لیٹی تھی ۔۔

آواز اسی لحاف میں سے آ رہی تھی ۔۔

اور اب اندر سے دو تین وجود ہلتے بھی دکھنے لگے ۔۔

وہ وجود کن کے تھے شہلا کو سمجھنے میں مشکل نہیں ہوئی ۔۔

وہ دبے پائوں الٹے قدموں پیچھے ہونے لگی جب تیز آوازوں کے ساتھ چار بلیاں چھلانگیں لگا کر لحاف سے نکلیں ۔۔

ان کی چھلانگوں کی وجہ سے طوبی کا لحاف اس پر سے ہٹ گیا ۔۔

اور طوبی کا چرا پھٹا وجود دیکھ کر شہلا کے حلق سے وہ چیخیں نکلیں کہ نیچے لائونج میں بیٹھے سب لوگ اوپر کی طرف دوڑ پڑے ۔۔

وہ بزرگ جو جانے کی تیاری میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے سب کے ساتھ ہی ہو لیئے ۔۔

شہلا کی چیخیں رک ہی نہیں رہی تھیں ۔۔

نہ نظریں طوبی کے وجود سے ہٹ رہی تھیں ۔۔

وہ چاروں بلیاں شہلا کو گھورتی ہوئی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر باہر کود گئیں ۔۔

اور شہلا یونہی چیختے چیختے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


جنگل سے گزر کر بستی کی طرف بڑھتے ہوئے اس کا چہرہ ضرورت سے زیادہ سرد تھا ۔۔

یوں لگتا تھا وہ اندر ہی اندر خود سے کوئی جنگ لڑ رہا ہو ۔۔

سیاہ آنکھوں کے آگے بار بار شہلا کا وہ خوفزدہ انداز لہرا رہا تھا ۔۔

جب وہ طوبی کے کمرے میں اسے دیکھ کر پیچھے ہو رہی تھی ۔۔

لیکن اس کا قصور نہیں تھا ۔۔

وہ بھوک اور کمزوری سے نڈھال تھا ۔۔

طوبی کے زندہ رہنے سے کسی کو فائدہ ہی کیا تھا ۔۔؟

سو جونہی اس عامل نے اپنا عمل درمیان میں روکا ۔۔

شمعون اپنے ساتھیوں سمیت طوبی کے کمرے میں گھس گیا ۔۔

اور مٹا ڈالی اپنی بھوک اور پیاس ۔۔

لیکن شہلا یا باقی حویلی والے کبھی یہ نہیں سمجھ سکتے تھے ۔۔

جیسے ایک عام انسان پر شدید بھوک میں حرام بھی حلال ہوجاتا ہے ۔۔

ویسے ہی وہ بھی مجبور ہوجاتا تھا ۔۔

اگر اس کے نصیب میں یہی "غذا" لکھ دی گئی تھی ۔۔

تو وہ کیا کر سکتا تھا ۔۔

وہ کوئی عام انسان نہیں تھا ۔۔

کوئی اور مخلوق تھا ۔۔

تو کیا اس میں اس کا کوئی قصور تھا ۔۔؟

کوئی نہیں سمجھنے والا تھا اس کے احساسات ۔۔

حویلی والے تو دور ۔۔

اس پر جان نچھاور کرنے والے تیمور آفندی ۔۔

اور اس کی پیاری شہلا ۔۔

کوئی بھی تو نہیں سمجھنے والا تھا اسے ۔۔

وہ بس ایک عفریت تھا ۔۔

ایک خوفناک غیر انسانی مخلوق ۔۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس میں کوئی احساسات نہیں تھے ۔۔

اگر احساسات نہ ہوتے تو کیا وہ شہلا سے محبت کرتا ۔۔

بھلا احساس بغیر بھی کوئی محبت کرتا ہے ۔۔

یہ انسان ہوتے ہیں جن کی ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی ۔۔

وہ تو بھرے پیٹ کے ساتھ کبھی کسی کو کچھ کہتا ہی نہیں تھا ۔۔

(اگر سامنے والے سے دشمنی نہ ہوتی تو ۔۔!)

لیکن اس کی باتیں سمجھے گا کون ۔۔

چلو کوئی نہ سمجھے ۔۔

لیکن شہلا ۔۔!

سوچوں کے دھارے سے نکل کر شمعون نے بستی کی حدود میں قدم رکھ دیئے ۔۔

اور انسانی نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔۔

شمعون کی بستی ہی نہیں ۔۔

بستی کی حدود میں داخل ہونے والے بھی انسانی نظروں سے اوجھل ہوجاتے تھے ۔۔

لیکن جب کوئی عام انسان غلطی سے ان کی دنیا کی حدود کی طرف قدم بڑھاتا ۔۔

تو تمام قبیلے والے اسے خوفزدہ کر کے جنگل سے بھاگنے پر مجبور کر دیتے ۔۔

انسانی دنیا میں یہ جنگل آسیب زدہ مشہور ہو چکا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"شمعون ۔۔"

شمعون جب اس چھوٹی سی غار میں بلے کے روپ میں داخل ہوا ۔۔

شاکوپا کو اپنا منتظر پایا ۔۔

شمعون خاموشی سے اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔

سر بھی جھکا دیا ۔۔

"میں جانتا ہوں تمہارے ذہن میں کئی سوالات ہیں ۔۔

جن میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ تمہاری مدد کر کے تمہیں اس اللہ والے بندے سے کیوں بچایا گیا ۔۔؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ تم ہمارے مجرم ہو ۔۔

تمہیں سزا دینے کا یا معاف کرنے کا حق بھی ہم ہی رکھتے ہیں ۔۔

دوسری وجہ یہ بھی ہے ۔۔

کہ تم اکیلے نہیں ہو ۔۔

ایک تم اس کے قابو میں چلے گئے تو ہمارے پورے قبیلے کی جان خطرے میں پڑ جائے گی ۔۔

سمجھ رہے ہو ناں تم ۔۔؟"

"جی ۔۔"

شمعون نے سر جھکائے جھکائے ہی دھیمی آواز میں کہا ۔۔

"کچھ اور پوچھنا چاہتے ہو ۔۔؟"

شاکوپا نے بغور اس کا چہرہ دیکھ کر پوچھا ۔۔

شمعون نے جواباً کرب سے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔

"جب انسان کے ساتھ دوسری مخلوق رشتہ نہیں بنا سکتی ۔۔

تو انہیں انسان سے محبت کیوں ہوتی یے شاکوپا ۔۔؟"

شاکوپا اس سوال پر چپ سا رہ گیا ۔۔

اندر کہیں نا کہیں شاکوپا کو اندازہ تھا ۔۔

شمعون اس سے ایسا ہی کوئی سوال پوچھے گا ۔۔

یہ معاملے تو تمام مخلوقات کو بنانے والا ہی جانے یا اس کے خاص بندے ۔۔

ہم بس اپنی حقیقت جانتے ہیں ۔۔

ہم کون ہیں ۔۔

کیوں ہیں ۔۔

کیا کر سکتے ہیں ۔۔

اور کیا نہیں ۔۔

اور انسان سے محبت ہم "نہیں" کر سکتے سمجھے ۔۔

کیونکہ یہ اس انسان کے لیئے ہی نہیں بلکہ ہمارے لیئے بھی نقصان دہ ہے ۔۔"

شاکوپا کا انداز قدرے نرم تھا ۔۔

وہ اب ایونا کے قتل کی وجہ سے شمعون سے خفا بھی نہیں لگ رہا تھا ۔۔

شاکوپا شمعون کے خاندان کی ہمیشہ سے غلامی کرتا آ رہا تھا ۔۔

شائد اس لیئے بھی وہ شمعون کو موقع دینا چاہتا تھا ۔۔

وہ پرانے نظریات کا حامی تھا ۔۔

شاکوپا کی خواہش تھی ۔۔

شمعون سب کچھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لیئے بستی میں بس جائے اور سرداری کرے ۔۔

شمعون کچھ دیر تک سنجیدگی سے  شاکوپا کے جھریوں بھرے لٹکتی ہوئی سیاہ جلد والے چہرے کو گھورتا رہا ۔۔

پھر حتمی لہجہ میں بولا ۔۔

"میں نے شہلا کے لیئے بہت کچھ برداشت کیا ہے ۔۔

میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔

مجھ سے سرداری لے لی جائے ۔۔

لیکن مجھے شہلا کو یہاں لانے کی اجازت دی جائے ۔۔

کیونکہ میرا اب حویلی میں رہنا ناممکن ہے ۔۔

اور شہلا کے بغیر رہنا بھی ممکن نہیں ۔۔

شاکوپا مجھے وہ چاہیے ۔۔

جان کے علاوہ جو چاہیں آپ مجھ سے لے لیں بدلے میں ۔۔

کیونکہ جان نہیں ہوگی تو شہلا کے ساتھ جیوں گا کیسے ۔۔"

آخر میں شمعون ذرا سا مسکرا دیا ۔۔

شاکوپا نے افسوس سے سر ہلایا ۔۔

جیسے کہہ رہا ہو ۔۔"تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔"

پھر سنجیدگی سے پوچھنے لگا ۔۔

"شمعون تمہیں شہلا سے کچھ نہیں مل سکتا ۔۔

تم جانتے ہو تمہارے خمیر میں آگ بھی شامل ہے ۔۔

اور یہ آگ کسی انسان کی جان لے سکتی ہے ۔۔

اور تم اس کی جان لو گے نہیں ۔۔

پھر کیوں پیچھے پڑے ہو اس کے ۔۔

چھوڑ دو اسے ۔۔

اپنی اور اس کی دونوں کی زندگی مشکل بنا رہے ہو ۔۔"

"نہیں شاکوپا نہیں ۔۔"

شمعون اس کی بات کاٹ کر دہاڑا ۔۔

"میں نہیں رہ پائونگا اس کے بنا ۔۔

میں اسے دیکھ کر ہی خوش ہوں ۔۔

لیکن دور نہیں جانے دونگا ۔۔

وہ میری بیوی ہے ۔۔"

"اس شادی کی کوئی اہمیت نہیں ۔۔"

شاکوپا اب کی بار جھنجلایا ۔۔

"میری نظر میں ہے ۔۔

میں اپنی ماں پر پڑا ہوں تو کیا ہوا ۔۔

میں ایک آدم زاد کی اولاد ہوں ۔۔

پھر کیسے نہیں اس نکاح کی اہمیت ۔۔"

شاکوپا کو بالآخر اندازہ ہوگیا کہ وہ بیکار میں اس سے بحث کر رہا ہے ۔۔

شمعون کبھی نہیں سمجھے گا ۔۔

جب کوئی اور مخلوق انسان پر عاشق ہوتی ہے ۔۔

وہ عشق پھر سب سے خطرناک عشق ہوتا ہے ۔۔

جہاں سے واپسی عاملوں کے جھاڑو کھائے بغیر ممکن نہیں ۔۔

اور شاکوپا ظاہر سے کسی عامل سے بات چیت کر کے اپنی اور قبیلے کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا ۔۔

اب جو کرنا تھا اسے خود ہی کرنا تھا ۔۔

لیکن کیا ۔۔؟

شاکوپا نے شمعون کو جا کر آرام کرنے کی ہدایت کی ۔۔

کیونکہ وہ جتنا زخمی تھا ۔۔

اس حساب سے اس نے خون بہت کم مقدار میں پیا تھا ۔۔

سو اس وقت بھی وہ کمزور سا لگ رہا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بستی میں رہتے ہوئے شمعون کو چار روز گزر چکے تھے ۔۔

اس وقت انسانی دنیا میں گہری رات کا سماں تھا جبکہ بستی والوں کا گویا دن شروع ہوا تھا ۔۔

شاکوپا نہر سے پانی پی رہا تھا جب شمعون اس کے قریب جا کھڑا ہوا ۔۔

شاکوپا نے سوالیا نظروں سے اسے دیکھا جو اپنے انسانی روپ میں ڈھلا کھڑا تھا ۔۔

شاکوپا بھی انسانی شکل میں ڈھل کر اس کے مقابل ہوا ۔۔

"بہت صبر کر لیا میں نے ۔۔

اب اور نہیں ۔۔

میں شہلا سے ملنے جا رہا ہوں ۔۔"

شمعون جبڑے بھینچ کر بولا ۔۔

"کوئی فائدہ نہیں ۔۔

مجھے معلومات ملی ہیں کہ اس عامل نے ایک خاص حصار حویلی کے گرد کھینچا ہے ۔۔

ہم سمیت کوئی بلا اس حصار کو پار نہیں کر سکتی ۔۔

اور ساتھ ہی وہ شہلا کے گلے میں کوئی اسم شریف ڈال گیا ہے ۔۔

وہ حویلی سے باہر بھی نکل آئے ۔۔

تب بھی تم اس کے سائے تک بھی نہیں پہنچ سکتے ۔۔"

شاکوپا کے انکشافات نے شمعون کو کچھ لمحوں کے لیئے ساکت کر دیا ۔۔

اور پھر وہ غصے کی زیادتی سے کانپ اٹھا ۔۔

"دیکھتا ہوں کس کی مجال ہے کہ مجھے شہلا کے قریب جانے سے روکے ۔۔

اب پہلے اس عامل کو ٹھکانے لگانا ہوگا ۔۔"

شمعون مٹھیاں بھینچے آگے کی پلاننگ سوچنے لگا جب شاکوپا کوفت سے بولا ۔۔

"ایک بار نہیں دو بار ۔۔

تم مرنے کے قریب پہنچ گئے تھے ۔۔

پھر بھی اس عامل کی قابلیت پر شک ہے تمہیں ۔۔؟

وہ دور سے تمہاری موجودگی محسوس کر لے گا ۔۔

آج کل وہ ہمارے ہی پیچھے چلے کاٹ رہا ہے ۔۔

ایسے میں بستی سے نکلنا خطرے سے خالی نہیں ۔۔

تم نے شائد غور نہیں کیا ۔۔

کوئی بھی بستی سے باہر نہیں جا رہا ۔۔

شکار کو خود ہی بستی کی طرف متوجہ کر کے غذا کا انتظام کیا جا رہا ہے ۔۔"

شاکوپا سختی سے کہہ کر جانے لگا لیکن اگلے ہی پل چونک کر مڑا ۔۔

شمعون نہر میں اتر رہا تھا ۔۔

انسانی روپ میں ہونے کی وجہ سے وہ نہر میں ڈوب نہیں رہا تھا ۔۔

نہر کے دوسری طرف سے انسانی دنیا کی حدود شروع ہوجاتی تھیں ۔۔

اور شمعون دوسری طرف جا رہا تھا ۔۔

"ایک بات یاد رکھنا ۔۔

زندہ لوٹ آئے تو ٹھیک ۔۔

لیکن اس بار کوئی تمہاری مدد کو نہیں آئیگا ۔۔

کیونکہ اس بار سوال سارے قبیلے کی زندگی کا ہے ۔۔"

چاند کی دودھیا روشنی میں جگمگاتا سیاہ پانی چیر کر آگے بڑھتا شمعون لمحہ بھر کو رکا ۔۔

پھر بغیر مڑے سر اثبات میں ہلا کر آگے بڑھ گیا ۔۔

نہر کے دوسری اور سارا قبیلہ شمعون کو یوں گم صم ہو کر دیکھ رہا تھا جیسے آخری بار دیکھ رہا ہو ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طوبی کا سوئم بھی ہو چکا تھا ۔۔حویلی والوں کے چہرے پتھریلے ہو چکے تھے ۔۔

یہ احساس سب کو تڑپا رہا تھا کہ ان کے پیاروں کی قاتل وہ خونی بلا ان کے درمیان تھی اور وہ انجان بیٹھے رہے ۔۔

تیمور آفندی کو کسی نے کچھ کہا نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ دل میں خود کو سب کا مجرم سمجھتے ہوئے نظریں جھکائے پھر رہے تھے ۔۔

یہ سچ تھا کہ اب بھی وہ شمعون سے نفرت نہیں کر پا رہے تھے ۔۔

محبت جو اس قدر کر لی تھی ۔۔

اب نفرت ناممکن تھی ۔۔

لیکن ان کا دل خوف اور دکھ سے بوجھل تھا ۔۔

ان کے کتنے ہی پیاروں کی کیسی اجڑی پجڑی لاشیں انہوں نے اٹھائی تھیں ۔۔

اور طوبی ۔۔؟

وہ تو کتنی معصوم اور بے ضرر تھی ۔۔

اسے بھی نہ چھوڑا ۔۔

کیا تھا آخر ۔۔

کیا تھا اگر شمعون حویلی والوں کی جان نہ لیتا ۔۔

شائد ان کے دل کی حالت اتنی خراب نہ ہوتی ۔۔

شائد ان کا مان اتنی بری طرح نہ ٹوٹتا ۔۔

شائد ۔۔

تیمور آفندی نے شمعون کی اکلوتی تصویر کو لائٹر کے اس چھوٹے سے نارنجی گولے کی نظر کر دیا ۔۔

اس کے علاوہ وہ کر ہی کیا سکتے تھے ۔۔

معاملہ کسی انسان کا نہیں تھا جو وہ شمعون کی کھوج کرتے ۔۔

اب عامل سے ہی امیدیں تھیں ۔۔

یہ تھا تیمور آفندی کی طرف کا قصہ ۔۔

اور اب رہ گئی شہلا ۔۔

تو شہلا اب وہی پہلے والی شہلا بن چکی تھی جو بلکل بے سہارا تھی ۔۔

جسے تیمور آفندی نے اپنی رحمدلی کے ہاتھوں مجبور ہو کر حویلی میں پناہ دے دی تھی ۔۔

جس کا حویلی پر کوئی حق نہیں تھا ۔۔

سہمی سہمی گیسٹ روم میں رہائش پزیر وہ بے سہارا لڑکی ۔۔

جو حویلی والوں کی کاٹ دار نظروں کی ضد میں رہتی تھی ۔۔

پہلے لڑکیاں وغیرہ اس سے ہمدردی تو رکھتی تھیں ۔۔

اب تو بلکل ہی کترائی کترائی پھرتی تھیں ۔۔

ٹھنڈی سانس بھر کر شہلا نے رو رو کر سوج جانے والی آنکھوں کو دوپٹے سے صاف کیا ۔۔

رات کا نہ جانے کونسا پہر تھا ۔۔

وہ کمرے میں گیلری میں کھڑی اپنے نصیب کے حیرت انگیز کھیل پر حیران تھی ۔۔

اس کا سب کچھ چھین لینے والی خون آشام بلا ۔۔

بقول عامل بابا کے ۔۔

اس پر عاشق ہو چکی تھی ۔۔

یہی نہیں ۔۔

بلکہ وہ خود اس بلا سے نکاح بھی کر چکی تھی پورے ہوش و حواس میں ۔۔

اب نہ جانے آگے زندگی اسے اپنے کون کون سے نرالے رنگ دکھانے والی تھی ۔۔

شہلا ان ہی سوچوں میں تھی ۔۔

جب اسے گیلری میں کھڑے کھڑے ۔۔

دور روڈ پر ایک ہیولا بھاگتا نظر آیا ۔۔

شہلا نے خوفزدہ ہو کر غور کیا تو وہ بہت بڑے سائز کا سرخ آنکھوں والا بلا تھا ۔۔

جس کی آنکھوں کی چمک دور سے بھی واضع تھی ۔۔

شہلا نے چیخ روکنے کے لیئے دونوں ہاتھ لبوں پر جما لیئے ۔۔

کیونکہ وہ بلا حویلی کے گیٹ کے نزدیک آ کر رک گیا تھا ۔۔

اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ انسانی شکل میں ڈھل گیا ۔۔

دور سے بھی شہلا اندازہ لگا تھی ۔۔

وہ کوئی اور نہیں ۔۔

اس کا مجرم ۔۔

اس کا محرم ۔۔

ایک بلا تھا ۔۔

وہ شمعون تھا ۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



شمعون ایک ٹک دور نظر آتی شہلا کو دیکھ رہا تھا ۔۔

اس کی نظریں تیز تھیں ۔۔

سو وہ شہلا کی نسبت فاصلے کے باوجود اسے واضع دیکھ سکتا تھا ۔۔

اس نے بے اختیاری میں حویلی کی حدود میں قدم بڑھائے ۔۔

لیکن اگلے ہی پل اچھل کر پیچھے ہوگیا ۔۔

جان لیوا سا کرنٹ تھا جو سارے جسم میں دوڑ گیا تھا ۔۔

شمعون کا دل جیسے دو پل کے لیئے دھڑکنا بھول گیا تھا ۔۔

حصار بہت سخت معلوم ہوتا تھا ۔۔

حویلی کی دہلیز پر ناگوار گھوری ڈال کر شمعون نے پھر گیلری کی طرف دیکھا ۔۔

لیکن اب وہاں شہلا موجود نہیں تھی ۔۔

شمعون کے چہرے پر غیض و غضب کے آثار نظر آنے لگے ۔۔

اسے لگا تھا شہلا اسے ایک موقع دے گی ۔۔

اس کی بات سنے گی ۔۔

اور شائد سمجھے گی بھی ۔۔

لیکن وہ تو ۔۔!

اب اس کی آنکھوں میں غصہ و بے بسی واضع تھے ۔۔

مختلف جذبات میں ایک ساتھ گھرا وہ اچانک حلق کے بل دہاڑ اٹھا ۔۔

"شہلا ۔۔"

اور شہلا جو اپنی آنکھوں سے ایک بلے کو ۔۔

ایک انسان کے روپ میں ڈھلتا دیکھ کر دہشت زدہ ہوتی کمرے میں بھاگ آئی تھی اور گہری گہری سانسیں بھر رہی تھی ۔۔

شمعون کی لرزا دینے والے دہاڑ پر ہوش میں آتی بے اختیار چیخ پڑی تھی ۔۔

تو وقت آ چکا تھا ۔۔

نہ جانے اس کی زندگی کی کتاب کے بند ہونے کا ۔۔

یا کوئی نیا باب شروع ہونے کا ۔۔

یا ہو سکتا ہے یہ شمعون کی زندگی کا ہی آخری وقت ہو ۔۔

آخری خیال کے آتے کے ساتھ ہی شہلا کا دل ایک پل کے لیئے رک گیا ۔۔

کمال تھا ۔۔

جس حیوان نے اس کا سب کچھ چھین لیا تھا ۔۔

اس حیوان کی موت کا خیال اس کا دل بند کر گیا تھا ۔۔

شائد اس لیئے کہ وہ حیوان اپنے انسانی روپ میں اس پر بہت مہربان رہا تھا ۔۔

جانے ان کے نکاح کی کوئی حقیقت تھی یا نہیں ۔۔

لیکن شہلا نے تو مکمل ہوش و حواس میں قبول کیا تھا اسے ۔۔

جو بھی کیا تھا جیسے بھی کیا تھا ۔۔

سو اس کے جذبات بھی وہی تھے جو کسی بھی عام لڑکی کے ایسی سوچ پر ہو سکتے تھے ۔۔

شہلا کا دل ایک پل کے لیئے نرم ہوا تھا ۔۔

لیکن فقط ایک پل کے لیئے ۔۔

پھر نظروں کے سامنے اپنے پیاروں کے چہرے لہرانے لگے ۔۔

جو اس حیوان کی خوفناک بھوک کا نشانہ بن گئے تھے ۔۔

اف ۔۔

اس صبح کا منظر ۔۔

کتنا ہیبت ناک تھا ۔۔

اس کے چھوٹے چھوٹے معصوم کزنز ۔۔

ناصر کو تو گویا پالا ہی اس نے تھا ۔۔

اور معصوم سی چھوٹی سی سب کا خیال رکھنے والی ہانیہ ۔۔

وہ خود سے بھی بیگانہ طوبی ۔۔

سب کا کیا قصور تھا آخر ۔۔

اگلے ہی پل شہلا کا دل ہی نہیں چہرہ بھی سخت ہوگیا تھا ۔۔

ابھی وہ کیا کروں کیا نہ کروں کی سوچ میں تھی جب دروازے پر زوردار سی دستک ہوئی ۔۔

ساتھ ہی تیمور آفندی کی پریشان سی پکاریں بھی جاری تھیں ۔۔

شہلا نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا ۔۔

تیمور آفندی کے پیچھے وجدان امتل نازیہ اور حمزہ بھی موجود تھے ۔۔

"تم ٹھیک تو ہو ۔۔؟

میں نے کھڑکی سے دیکھا تھا ۔۔

شمعون آیا ہے ۔۔

اس کی دہاڑ سن کر میں ڈر گیا تھا ۔۔

سب ٹھیک ہے ناں ۔۔"

پریشانی سے کہتے ہوئے تیمور آفندی گیلری میں چلے گئے ۔۔

لیکن اب گیٹ پر کوئی موجود نہیں تھا ۔۔

تیمور آفندی نے اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کیا ۔۔

خدا جانے اب کہاں چلا گیا تھا وہ ۔۔

اتنی جلدی ہار مان کر تو یقیناً نہیں جا سکتا تھا ۔۔

"آخر کہاں چلا گیا وہ ۔۔؟"

حمزہ نے غصے سے بپھر کر تیمور آفندی سے یوں پوچھا جیسے تیمور آفندی نے شمعون کو چھپایا ہو ۔۔

وجدان نے حمزہ کا بازو پکڑ کر ناگواری سے جھٹکا ۔۔

"آئندہ چاچو سے اس طرح بات مت کرنا حمزہ ۔۔

تم نے ہی نہیں میں نے بھی نقصان اٹھایا ہے ۔۔

اس کا مطلب یہ نہیں تم اتنے اوور ہوجائو ۔۔

ہماری طرح چاچو بھی لاعلم ہی تھے ۔۔"

"لیکن ان کے دل میں پھوٹتے رہتے تھے ناں اس شیطان کی ہمدردی کے سوتے ۔۔

جب کبھی اس نے بچپن میں ہمیں تکلیف پہنچائی یہ اس کی ڈھال بن جاتے تھے ۔۔

ہم نظر ہی نہیں آتے تھے ۔۔

اب بھگتیں ۔۔"

حمزہ پھاڑ کھانے والے انداز میں بولا ۔۔

وجدان کوفت زدہ ہو کر گیلری سے نکل گیا ۔۔

حمزہ کا پارہ ہمیشہ سے ہی ہائی تھا ۔۔

اسے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا ۔۔

تیمور آفندی حمزہ کی مزید جلی کٹی سنتے ۔۔

لب کچلتے ہوئے سنسان اندھیری روڈ پر اپنی نم نظریں دوڑانے لگے ۔۔

امتل اور نازیہ نے پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جبکہ پیچھے کھڑی شہلا کچھ نہ کر کے بھی چور سی بن گئی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک تکلیف دہ جھٹکے سے شمعون کی سیاہ آنکھیں کھلیں اور پھر کھلتی ہی چلی گئیں ۔۔

حیرت سے شمعون اپنے جسم کے گرد لپٹی اس موٹی سی زنجیر کو دیکھ رہا تھا جس میں سے آگ کی لپیٹیں نکل رہی تھیں ۔۔

آگ کی گرمائش کا اسے احساس تو ہو رہا تھا لیکن یہ آگ اسے فلحال نقصان نہیں پہنچا رہی تھی ۔۔

شمعون نے آس پاس نظریں دوڑائیں ۔۔

آس پاس صرف اندھیرا تھا ۔۔

اسے اپنے وجود کے سوا کچھ بھی  نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔

شمعون کے چہرے پر الجھن چھا گئی ۔۔

ابھی ۔۔

ابھی ایک لمحہ پہلے ہی تو وہ حویلی کے باہر موجود تھا ۔۔

شہلا کی بے رخی سے دل برداشتہ وہ حویلی میں جانے کی یا شہلا کو حویلی سے بلوانے کی کوئی تدبیر سوچ رہا تھا ۔۔

جب اچانک اسے ایک زوردار جھٹکا لگا ۔۔

اور پھر وہ یہاں موجود تھا ۔۔

"کون ہے ۔۔؟

کس کی مجال ہے یہ ۔۔؟

اگر تو وہی عامل ہے تو سن ۔۔

میں کچھ نہیں چاہتا ۔۔

اپنی بیوی کو اپنی بستی میں لیجانا چاہتا ہوں بس ۔۔

مجھے اور کچھ نہیں چاہیے ۔۔

مجھے جانے دے ۔۔"

شمعون چیخ کر بولا ۔۔

پھر تھوڑی دیر جواب ملنے کا انتظار کیا ۔۔

لیکن جب کوئی جواب نہ ملا ۔۔

تب پھر سے چلایا ۔۔

"اگر تو مجھے مارنا چاہتا ہے ۔۔

تو یاد رکھنا میرے قبیلے کے لوگ پوری حویلی کو ختم کردیں گے ۔۔

تو شائد جانتا نہیں ۔۔

میں قبیلے کا سردار ہوں ۔۔"

شمعون نے اپنی بات مکمل کر کے ایک بار پھر کسی جواب کا انتظار کیا ۔۔

لیکن اب بھی ہر طرف خاموشی ہی رہی ۔۔

شمعون کا غصے سے حال برا تھا ۔۔

نہ جانے یہ کیسی زنجیر تھی ۔۔

اس کی ساری طاقتیں بیکار جا رہی تھیں ۔۔

"کیوں چھپ کر بیٹھا ہے ۔۔

بڑا نیک اور بآثر بنتا ہے ۔۔

اتنی ہمت نہیں کہ میرے سامنے آئے ۔۔

سامنے آ اگر مقابلے کی ہمت ہے تو ۔۔

ہنہہ اگر مقابلے کی ہمت ہوتی تو مجھے یوں بے بس نہ کرتا ۔۔"

خود کو اس زنجیر سے آزاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے شمعون کا غصہ عروج پر تھا ۔۔

انسان واقعی اشرف المخلوقات تھا ۔۔

اس کی جگہ کوئی باشعور انسان ہوتا تو کیا محبت میں اتنا بیوقوفانہ قدم اٹھاتا ۔۔؟

یقیناً نہیں ۔۔

لیکن وہ اٹھا چکا تھا ۔۔

اور اب بھگت رہا تھا ۔۔

زنجیروں سے نکلتی آگ کی تپش زور پکڑتی جا رہی تھی ۔۔

شمعون کو ایسا لگ رہا تھا ۔۔

جیسے زنجیر اس کے گوشت میں دھیرے دھیرے دھنس رہی ہو ۔۔

اس کا گوشت گل رہا ہو ۔۔

اپنی طرز کا سلو پوائزن کہہ سکتے ہیں ہم اسے ۔۔

"بلکل ٹھیک کہا ۔۔"

ایک جانی پہچانی آواز اچانک گونجی ۔۔

ساتھ ہی اندھیرے کمرے میں انسانی وجود سے مشابہ آگ بڑھکنے لگی ۔۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ آگ ایک کریہہ صورت بوڑھے شخص کا روپ دھار گئی ۔۔

اس کے سر پر بال نام کو نہیں تھے ۔۔

لیکن ایک عجیب سا شیطانی شکل کا نشان سر پر بنا تھا ۔۔

اس کریہہ صورت شخص کے دانت انسانی دانتوں کے سائز کے ہی تھے لیکن آخر میں جا کر نوکیلے ہوجاتے تھے ۔۔

کوئلے سی رنگت والے چہرے پر خوب ہی پھٹکار برس رہی تھی ۔۔

سیاہ لباس میں کھڑا وہ دانت نکوستا شخص نہ جانے کون تھا ۔۔

شمعون چونک گیا ۔۔

جو آواز اس نے سنی تھی وہ اس شخص کی نہیں تھی ۔۔

وہ اس آواز کو اچھی طرح پہچانتا تھا ۔۔

"خیمو ۔۔

"کہاں چھپا ہے تو غدار ۔۔

کیوں کر رہا ہے یہ سب ۔۔

کون ہے یہ ۔۔؟"

شمعون کی چیخ اس بار اتنی اونچی نہیں تھی ۔۔

کیونکہ وہ سخت حیرت میں مبتلا تھا ۔۔

خیمو اس کے قبیلے کا ایک عام سا فرد تھا ۔۔

 ۔۔

اس میں صرف اور صرف نقصان تھا ۔۔

ان کے سرخ و سفید چہرے پر لہراتے تفکر کے سائے دیکھ کر وہ اندیکھا وجود بے ساختہ پوچھ بیٹھا ۔۔

"کیا اب کچھ بہت غلط ہونے کا امکان ہے پیر صاحب ۔۔؟"

"اللہ سب کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے قمر ۔۔

ہمیں کچھ کرنا ہوگا ۔۔

شمعون کے دیگر قبیلے والے تنہا ہوتے تو سب اتنا مشکل نہیں تھا ۔۔

یہ مخلوق آدم خور ضرور ہے ۔۔

لیکن بہت طاقتور نہیں ۔۔

مگر وہ شنکر جادوگر ۔۔

وہ بہت زیادہ خطرناک ہے ۔۔

بہت سی تباہ کاریوں کا ذمہ دار ہے ۔۔

اس سے نبٹنا آسان نہیں ۔۔

فلحال تو جلد از جلد تیمور صاحب کو بلوائو ۔۔

حویلی کے دیگر افراد میں اس تمام صورتحال میں وہی معقول نظر آتے ہیں ۔۔"

"جی پیر صاحب ۔۔"

ایک خوبصورت مردانہ آواز گونجی ۔۔

ار پھر دروازے پر لگا سفید پردہ ذرا سا ہلا ۔۔

گویا قمر چلا گیا تھا ۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"اللہ ھو اکبر ۔۔

اللہ ھو اکبر ۔۔"

اذان کی آواز پر شہلا نے چونک کر گیلری کی طرف دیکھا ۔۔

وہ سوچوں مں گھری زمین پر سکڑی بیٹھی تھی ۔۔

اور بیڈ سے ٹیک لگا رکھی تھی ۔۔

اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ کتنی دیر گزر چکی تھی ۔۔

چونکہ موسم سرد ہو چکا تھا سو آسمان نے اب بھی سیاہ چادر اوڑھ رکھی تھی ۔۔

وہ وضو کرنے کے خیال سے اٹھی اور ایک لمبی انگڑائی لی ۔۔

ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے جسم اکڑ رہا تھا ۔۔

ابھی شہلا نے ہاتھوں کو جھٹکنا شروع ہی کیا تھا جب کچھ آوازوں پر گیلری کی طرف دوڑ پڑی ۔۔

تیمور آفندی گاڑی میں بیٹھ رہے  تھے ۔۔

حویلی کے دیگر مرد حضرات بھی وہاں موجود تھے ۔۔

اچانک حمزہ بھی وہاں چلا آیا ۔۔

اور تیمور آفندی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔

وجدان نے گیٹ کھولا اور گاڑی باہر نکل گئی ۔۔

"اس وقت تیمور انکل کہاں جا رہے ہیں ۔۔

کچھ گڑ بڑ لگتی ہے ۔۔

یا اللہ ۔۔

سب خیر رکھیئے گا ۔۔

مزید کوئی نقصان اٹھانے کا ۔۔

کسی کو کھونے کا ۔۔

حوصلہ نہیں ہے ۔۔"

دو آنسو شہلا کی آنکھوں سے نکلے اور دوپٹے میں جذب ہوگئے ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فجر کی نماز مسجد میں ادا کر کے وہ لوگ پیر صاحب کے آستانے پر جا پہنچے ۔۔

جہاں وہ بے صبری سے ان کا انتظار کر رہے تھے ۔۔

کسی کتاب میں سے بغور کچھ پڑھتے ہوئے انہوں نے تیمور آفندی او حمزہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔

وہ دونوں پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے زمین پر بچھی چٹائی پر بیٹھ گئے ۔۔

اب پیر صاحب کی نظریں کتاب کے کھلے اوراق پر جمی تھیں اور تیمور آفندی اور حمزہ کی ان کے چہرے پر ۔۔

ان کا چہرہ سپاٹ تھا لیکن لب دھیرے دھیرے ہل رہے تھے ۔۔

شائد وہ کچھ پڑھ رہے تھے ۔۔

بالآخر پندرہ منٹ کا صبر آزما وقت ختم ہوا اور پیر صاحب نے کتاب بند کر کے دراز میں رکھ دی ۔۔

پھر اپنی پرسوچ روشن نظریں ان دونوں کے الجھن بھرے چہروں پر ٹکا دیں ۔۔

"کیا چاہتے ہو تیمور ۔۔؟

شمعون نے جان چھڑانا چاہتے ہو ۔۔

یا اسے سزا دینا چاہتے ہو ۔۔

کہ وہ تکلیف میں رہے ۔۔؟"

ان کا مخاطب تیمور آفندی تھے لیکن جواب جھٹ سے حمزہ کی طرف سے آیا تھا ۔۔

"دونو ۔۔

دونو صورتیں ممکن ہوں تو کیا ہی بات ہے پیر صاحب ۔۔

اس نے ہمیں اتنی تکلیف دی ہے ۔۔

اسے بھی تکلیف ہونی چاہیے ۔۔

پل پل ہونی چاہیے ۔۔

اور ہم دوبارہ اسے اپنے آس پاس نہیں دیکھنا چاہتے ۔۔

ہمیشہ کے لیئے جان چھڑوائیں اس سے ۔۔

احسان ہوگا آپ کا ہم غم کے ماروں پر ۔۔"

حمزہ کا جوش اس وقت ٹھنڈا پڑ گیا جب پیر صاحب کی پیشانی پر ایک گہرا بل پڑ گیا ۔۔

"میں تیمور سے مخاطب ہوں ۔۔

جذباتی لڑکے ۔۔

تم بیچ میں مت بولو ۔۔"

"معذرت پیر صاحب ۔۔

کیوں ناں بولوں میں بیچ میں ۔۔؟

مجھے پورا حق ہے ۔۔

اس بلا نے میرا نقصان کیا ہے ۔۔

باقی حویلی کا کیا ہے ۔۔

یہ تو رہ رہے تھے مزے میں ۔۔

انہوں نے تو اپنے کسی پیارے کو نہیں کھویا ۔۔

انہیں کیا احساس ہوگا ۔۔

میں ان کے ساتھ یہاں آیا بھی اس لیئے ہوں کہ کہیں یہ آپ کو منع نہ کردیں اسے نقصان پہنچانے سے ۔۔

بہت عزیز ہے وہ انہیں ۔۔"

"میں اسے یا کسی کو بھی بلا ضرورت نقصان پہنچاتا ہی نہیں ۔۔

نقصان پہنچانا میرا کام نہیں ہے ۔۔

میں بھلائی کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔

اگر معاملہ بات سے حل ہوجائے تو بات ہی کیا ہے ۔۔"

پیر صاحب اب کے بار نرمی سے گویا ہوئے ۔۔

"لیکن اس نے ہمارا جو جانی نقصان کیا ہے ۔۔"

حمزہ جھبجلا کر بولا ۔۔

"بیٹے ۔۔

ساری کائنات کو بنانے والے نے ۔۔

اسے ایسا ہی بنایا ہے ۔۔

یہ بات ذہن میں بٹھانے کی کوشش  کرو ۔۔

ہر مخلسق کی ایک فطرت ہوتی ہے ۔۔

اور مخلوق اپنی فطرت سے مجبور ہوتی ہے ۔۔

خیر ۔۔

میرے پاس تم سے بحث کا وقت نہیں ۔۔

وقت بہت کم ہے ۔۔

تیمور تم میری بات غور سے سنو اور حمزہ ۔۔!

تم بلکل چپ رہو ۔۔"

پھر تمام صورتحال جان لینے کے بعد تیمور آفندی تو پریشان ہو اٹھے تھے جبکہ حمزہ فوراً پرجوش ہو کر بولا ۔۔

"تو اس میں برا کیا ہے ۔۔؟

لیجائے وہ جادوگر شمعون کو اپنے ساتھ ۔۔

اس سے جان ہی تو ہم چھڑوانا چاہتے ہیں ۔۔"

"ایک بات واضع بتائو مجھے ۔۔

تم شمعون سے جان چھڑوانا چاہتے ہو یا اس آدم خور مخلوق سے ۔۔؟"

حمزہ پیر صاحب کے اس سوال پر چپ سا ہوگیا ۔۔

اسے چپ دیکھ کر پیر صاحب مزید بولے ۔۔

"یہ مخلوق عام جنوں کے مقابلے میں تعداد میں بہت کم ہے ۔۔

تین سے چار سو کی تعداد میں ہونگے ۔۔

شمعون سے جان چھڑوا لو گے ۔۔

تب بھی یہ خون خرابہ نہیں رکے گا ۔۔

بلکہ حالات اور خراب ہو جائیں گے ۔۔

کیونکہ خیمو اور اس کے دیگر ساتھی شمعون کے خلاف ہیں ۔۔

اور شمعون کا تعلق حویلی سے ہے ۔۔

شمعون کے اس پجاری کے غلامی میں جاتے کے ساتھ ہی وہ لوگ حویلی پر بہت خوفناک حملہ کر سکتے ہیں ۔۔

سمجھے ۔۔؟

اب تم لوگ یہیں بیٹھو ۔۔

میں شاکوپا سے بات کرنے جا رہا ہوں ۔۔"

"کیا شاکوپا ۔۔؟"

"یہ شاکوپا کون ہے ۔۔؟"

حمزہ اور تیمور آفندی نے ایک ساتھ پوچھا ۔۔

"وہ اسی قبیلے کا ایک بزرگ ہے ۔۔"

پیر صاحب کی اطلاع پر دونوں چچا بھتیجہ نے ہونق سی شکل بنا کر ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔

نہ جانے کیا ہونے والا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمعون کا گوشت گل رہا تھا ۔۔

اذیت سے وہ مسلسل غرا رہا تھا ۔۔

اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں ۔۔

جیسے بلے کے روپ میں ہوجاتی تھیں ۔۔

اس کے دانے ناخن اور کان بھی بلے

جیزے ہو چکے تھے ۔۔

لیکن جسمانی طور پر اور ناک نقش اب بھی انسانوں جیسے ہی تھے۔۔

جبکہ خیموں اور اس کے دیگر ساتھی سنجیدہ چہروں کے ساتھ شنکر جادوگر کی کاروائی کا جائزہ لے رہے تھے ۔۔

وہ کیا کیا کر رہا تھا ان کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔

قریب ہی ایک تھال میں تازہ خون پڑا تھا جبکہ ایک مردہ انسانی وجود دیوار کے ساتھ پڑا تھا ۔۔

یہ خون اس ہی قسمت کے مارے کا تھا جسے شنکر جادوگر کے حکم پر خیمو کہیں سے اٹھا لایا تھا ۔۔

شنکر جادوگر نہ جانے کون سی بولی بول رہا تھا ۔۔

خون کا رنگ سیاہ ہونے لگا تھا ۔۔

اور دیکھتے ہی دیکھتے سرخ خون سیاہ سیال میں بدل گیا تھا ۔۔

"یہ خون اسے پلا دو ۔۔"

شنکر جادوگر نے آنکھیں بند کیئے کیئے شمعون کی طرف اشارہ کیا ۔۔

خیموں تیزی سے تھال اٹھا کر اس کی طرف بڑھا ۔۔

لیکن اچانک ہی خون اپنے اصل رنگ میں لوٹ گیا ۔۔

خیموں نے الجھ کر شنکر کی طرف دیکھا ۔۔

"جیسے پوچھ رہا ہو ۔۔

"کیا اب بھی پلادوں ۔۔؟"

جبکہ شنکر کی آنکھیں اب بھی بند تھیں ۔۔

لیکن اس کا سیاہ کریہہ چہرہ اچانک پسینے سے تر ہوگیا تھا ۔۔

تھوڑی دیر بعد اس نے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔

اس کا چہرہ غصے میں اور خوفناک لگ رہا تھا ۔۔

"جنگ کی تیاری کرو ۔۔

تمہارے قبیلے کے کچھ لوگ یہاں آتے ہی ہونگے اس کی مدد کو ۔۔

میں ذرا اس عامل دیوا کا کریاکرم کروں ۔۔

مجھ سے ٹکراتا ہے ۔۔

شنکر جادوگر سے ۔۔

ہنہہ ۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوپہر کے سوا دو ہو رہے تھے لیکن ماحول کی پراسراریت اپنے عروج پر تھی ۔۔

سرمئی بادلوں نے سورج کو چھپا رکھا تھا ۔۔

گہری شام ہو چکی تھی بھری دوپہر کے پہر میں ہی ۔۔

عموماً ایسے موسم میں ہوائیں چلا کرتی ہیں ۔۔

ہر چیز میں ایک شادابی جھلکتی ہے ۔۔

لیکن اس بار عجیب خاموشی اور دم گھونٹ دینے والا حبس تھا ۔۔

شہلا  گیلری میں آسمان پر نظریں جمائے خالی الذہنی کی کیفیت میں کھڑی تھی ۔۔

لان میں چہل قدمی کرتی ۔۔

اور موسم کی پراسرایت کو محسوس کرتی امتل نے سر اٹھا کر شہلا کی طرف دیکھا ۔۔

پھر کچھ سوچ کر اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔

"میں نے ڈسٹرب تو نہیں کر دیا تمہیں ۔۔؟"

امتل کی پکار پر شہلا چونک کر اس کی طرف پلٹی پھر پھیکی سی ہنسی ہنس کر نفی میں سر ہلا گئی ۔۔

ساتھ ہی اس کے لبوں سے بلا ارادہ شکوہ سا پھسل گیا ۔۔

"میں تو منتظر ہی رہتی ہوں ۔۔

کوئی ڈسٹرب ہی کردے ۔۔

اب تو یہ حال ہے کہ جب میں بولتی ہوں ناں امتل ۔۔

تو اپنی آواز اجنبی لگتی ہے ۔۔"

امتل شرمندہ ہو کر نظریں چرانے لگی ۔۔

طوبی والے حادثے کے بعد سب بے وجہ ہی شہلا سے کترانے لگے تھے ۔۔

اس بیچاری کا بھلا کیا قصور تھا ۔۔؟

تیمور آفندی کی طرح وہ بھی شمعون کی حقیقت سے انجان تھی ۔۔

کچھ دیر تک دونوں چپ چاپ غیر مرئی نقطوں کو گھورتی رہیں جب اچانک ایک موٹی سی بوند آ کر شہلا کی ناک پر گری ۔۔

شہلا اپنے دھیان سے چونک اٹھی ۔۔

اسے لگا شائد بوندا باندی شروع ہوگئی ہے ۔۔

لیکن ایسا کچھ نہیں تھا ۔۔

الجھتے ہوئے شہلا نے اپنی دو انگلیوں سے ناک کے اوپر چھو کر دیکھا تو اس کا رنگ اڑ گیا ۔۔

وہ گہرا سرخ سیال تھا ۔۔

امتل نے بھی حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا ۔۔

اور پھر وہ ڈر کر بے ساختہ دو قدم پیچھے ہوئی ۔۔

کیونکہ ایک کے بعد پھر دوسری ۔۔

دوسری کے بعد تیسری ۔۔

تیسری کے بعد پھر ایک کے اوپر ایک خون کی بوندیں شہلا کے چہرے پر نہ جانے کہاں سے گر رہی تھیں ۔۔

شہلا خوفزدہ سی اپنا چہرہ دوپٹے سے صاف کرتے ہوئے گیلری سے نکلتی ہوئی باتھروم میں بھاگ گئی ۔۔

باتھروم میں تو کھلی چھت نہیں تھی ۔۔

پھر بھی بوندیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔۔

جنہیں صاف کرتے ہوئے شہلا کا دماغ مائوف ہو رہا تھا ۔۔

وہ شاور کھول کر اس کے نیچے کھڑی ہوگئی اور دیوانہ وار خود کو صاف کرنے لگی ۔۔

لیکن شاور کے تیز پانی میں بھی بوندوں کا سلسلہ جاری رہا ۔۔

"شہلا ۔۔

شہلا تم ٹھیک ہو ۔۔؟

کیا اندر بھی وہ خون کی بوندیں گر رہی ہیں ۔۔"

واشروم کے دروازے پر دستک دے کر امتل نے اونچی آواز میں پوچھا ۔۔

شہلا نے جواب دینے کے لیئے لب کھولے لیکن اچانک اسے واش بیسن کے شیشے میں اپنے سامنے ایک خوفناک صورت نظر آئی ۔۔

اور پھر خوف سے چیخ مار کر وہ بیہوش ہوگئی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"اوہ خدا ۔۔"

خاموشی سے آنکھیں بند کیئے اور سر جھکائے بیٹھے وہ جھٹکے سے سیدھے ہوئے ۔۔

"کیا بات ہے پیر صاحب ۔۔؟"

تیمور آفندی جو پیر صاحب کا دیا گیا اسم مبارک ان کے حکم پر بار بار پڑھے جا رہے تھے گھبرا کر بولے ۔۔

"اس شیطان کے چیلے نے شہلا کو ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہے ۔۔

وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا ہے ۔۔

یہ کیا ہوگیا ۔۔"

ان کے چہرے پر چھائی پریشانی دیکھ کر تیمور آفندی بھی سخت پریشان ہوگئے ۔۔

ورنہ صبح سے جاری شنکر جادوگر اور پیر صاحب کی پراسرار جنگ کے بعد انہیں لگا تھا کچھ دیر بعد سب ٹھیک ہوجائیگا ۔۔

اور اگلا دن حویلی پر خوشیوں کے در کھول دے گا ۔۔

مگر یہاں تو ۔۔!

"لیکن پیر صاحب ۔۔

آپ نے شہلا کے لیئے ایک تعویز دیا تھا ۔۔

جس کے بعد کوئی بھی بدروح اس کے قریب نہیں بھٹک سکتی تھی ۔۔

پھر کیسے ۔۔؟"

"وہ بہت شاطر ہے ۔۔

اس نے خون کی بارش کا چھلاوا ظاہر کیا ۔۔

جو صرف آنکھوں کا دھوکا تھا ۔۔

پھر توقع کے مطابق شہلا حواس کھونے لگی ۔۔

اور اسی بدحواسی میں وہ تعویز بھی اتار بیٹھی ۔۔"

"اسی لیئے کہتے ہیں جوش نہیں ہوش سے کام لو ۔۔"

پیر صاحب کی بات ختم ہوتے کے ساتھ ہی مدھم سی خوبصورت مردانہ آواز قریب سے ابھری ۔۔

تیمور آفندی بیٹھے بیٹھے اچھل پڑے ۔۔

"تیمور ۔۔

تم اشرف المخلوق ہو ۔۔

اور صرف آواز سے ڈر پڑے ۔۔؟

اور تم قمر ۔۔

آٙئندہ اس طرح مت بولنا کہ سب کو سنائی دو ۔۔

یہ شرارت کا وقت نہیں ۔۔"

پیر صاحب نے تیمور آفندی اور اس اندیکھے وجود کو گھورا اور پھر سے اپنا عمل شروع کردیا ۔۔

جبکہ تیمور آفندی گہری سانس بھر کر کمرے میں نظریں دوڑانے لگے ۔۔

گویا قمر کو دیکھنے کی کوشش کی ۔۔

رہا حمزہ تو وہ کچھ دیر پہلے ہی پیر صاحب کی طرف سے مطمئین ہو کر حویلی نکل گیا تھا ۔۔

اب اس میں مزید کسی کو کھونے کا یارا نہ تھا ۔۔

وہ سب کو اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہتا تھا ۔۔

لیکن حویلی پہنچ کر جب اسے شہلا کے اچانک غائب ہوجانے کی اطلاع ملی ۔۔

تب ایک پل کو اس کا دل رک کر دھڑکا تھا ۔۔

"وہ کہاں چلی گئی ۔۔

میرے اللہ اسے اپنی امان میں رکھنا ۔۔"

اس کے دل کی گہرائیوں سے ایک دعا چپکے سے نکلی تھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمعون کی حالت اب قدرے بہتر تھی ۔۔

زنجیروں کی تپش اور سختی اب قدرے کم تھی ۔۔

اسے اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ یہ زنجیریں اسے موت کے منہ میں لیجا کر واپس کیسے کھینچ لائی ہیں ۔۔

۔

یہ ماجرا کیا تھا ۔۔

شمعون سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔

ہاں لیکن اس الجھن میں بھی اس کی نظریں دیوار کے ساتھ پڑی اس لاش کی طرف بھٹکتی ہوئی جا رہی تھیں ۔۔

وہ بھوکا پیاسا اور سخت کمزور ہو رہا تھا ۔۔

ایسے میں گوشت اور خون کی خوشبو اسے پاگل کر رہی تھی ۔۔

لیکن وہ لاچار تھا ۔۔

"ایک بار اس زنجیر سے آزاد ہوجائوں میں ۔۔

خیموں میں خود تیرے اور تیرے ان پلوں کے چیتھڑے اڑا دونگا ۔۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ایک سنسان علاقہ تھا ۔۔

آس پاس صرف کھنڈر ہی کھنڈر تھے ۔۔

عام طور پر یہاں نشئی وغیرہ بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے ۔۔

لیکن خیموں کچھ دن پہلے ہی سب کا "صفایہ" کر چکا تھا ۔۔

اور اس وقت کافی پرجوش لگ رہا تھا ۔۔

خیموں کے پیچھے اس کے دس کے دس ساتھی موجود تھے ۔۔

لیکن اس وقت کافی گھبرائے ہوئے تھے ۔۔

کیونکہ ان کے ماں باپ سمیت تقریباً پورا قبیلہ ان کے سامنے موجود تھا ۔۔

اور غم و غصے سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔

"تم لوگ ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔۔؟

اپنے ہی قبیلے کے سردار کو ایک شیطان کے پجاری کی غلامی میں دینے کی کوشش کر رہے ہو ۔۔؟

یہ غداری ہے ۔۔"

شاکوپا آگے بڑھ کر چیخا ۔۔

"اور جو شمعون نے کیا شاکوپا وہ ۔۔؟

اس نے ایک معمولی انسان کے لیئے اپنی ماں کو مار دیا ۔۔"

"وہ اس کی زندگی کا ذاتی معاملہ ہے ۔۔

بے شک اس نے جو کیا وہ غلط کیا ۔۔

لیکن اس کی نیت غلط نہیں تھی ۔۔

وہ ایونا کو مارنے کی نیت سے اس پر حملہ آور نہیں ہوا تھا ۔۔

یہ ایونا کی بدقسمتی تھی کہ وہ شمعون کے اس آدم زادی کے لیئے احساسات سمجھ نہیں سکی ۔۔"

"آپ تو کر رہے ہیں اس خاندان کی صدیوں سے غلامی شاکوپا ۔۔

یہی بولیں گے ۔۔

لیکن اب بس ۔۔

نہ میں کرونگا نہ میرے بعد کوئی اس کی غلامی کریگا ۔۔

قبیلے میں جو سرداری کے لیئے بہتر ہوگا وہی سردار بنے گا ۔۔"

خیموں کے اکڑ کر کہنے پر شاکوپا پراسرار سا مسکرایا ۔۔

"اور تمہیں یہ کیوں لگتا یے خیموں ۔۔؟

کہ پورے قبیلے میں تم سے اہل کوئی نہیں ۔۔

تم تو شمعون سے بھی اس لڑائی میں ہار گئے تھے ۔۔

پھر کس بنا پر خود کو سرداری کا حقدار سمجھتے ہو ۔۔؟

اچھا چلو شمعون کا ذکر چھوڑ دیتے ہیں ۔۔

تم زیہم کو ہرا کر دکھا دو ۔۔"

شاکوپا نے خیموں کے پیچھے کھڑے اس کے ہی حامی کی طرف اشارہ کیا ۔۔

زیہم اپنے نام پر چونک گیا ۔۔

"مجھے تو زیہم تم سے زیادہ بہتر لگتا ہے ۔۔"

شاکوپا کی چال صرف قبیلے کے بڑے بزرگ ہی سمجھے تھے ۔۔

اور سمجھ کر مسکرا دیئے ۔۔

یعنی لوہا لوہے کو کاٹنے والا تھا ۔۔

خیموں نے ناگوار غصیلی نظروں سے گردن موڑ کر زیہم کو دیکھا تو زیہم غرور سے گردن اکڑا کر آگے بڑھا ۔۔

زیہم واقعی جسمانی لحاظ سے پورے قبیلے میں سب سے زیادہ بھرپور تھا ۔۔

جب وہ بلے کے روپ میں ڈھلتا تو اس پر کسی ریچھ کا گمان ہوتا ۔۔

ایک پل کے لیئے خیموں کا رنگ اڑ گیا لیکن پھر وہ پرسکون ہوگیا ۔۔

اس کے ساتھ شنکر جادوگر تھا ۔۔

جادوگروں کا بھی جادوگر ۔۔

اس نے شاکوپا سے کچھ دیر کی اجازت مانگی اور بلی کے روپ میں بدل کر چھلانگیں لگاتا کھنڈرات کو عبور کرتا شنکر جادوگر تک پہنچا جو زمین پر بے ہوش پڑی شہلا کے قریب بیٹھا خون اور الو کے سر کے ساتھ نہ جانے کیا کر رہا تھا ۔۔

"شنکر جادوگر ۔۔!

مجھے اپنے جادو کے سہارے اتنی طاقت دو کے میں لڑائی میں کسی کو بھی لمحوں میں دھول چٹا دوں ۔۔"

خیموں بڑا پرجوش ہو کر بول رہا تھا جیسے اسے یقین ہو ۔۔

یہاں وہ بولے گا ۔۔

وہاں شنکر جادوگر اس کے دل کی مراد پوری کر کے اس سے پوچھے گا "اور کچھ ۔۔؟"

لیکن شنکر جادوگر نے تو اس پر ایک نظر بھی نہیں ڈالی تھی ۔۔

جواب دینا تو دور کی بات ۔۔

خیموں کو بے عزتی محسوس ہوئی ۔۔

"شنکر جادوگر ۔۔

میں نے تم سے کچھ کہا ہے ۔۔"

خیموں کی اگلی پکار بھی شنکر جادوگر نے ان سنی کر دی ۔۔

"شنکر جادوگر ۔۔

کوئی جواب تو دو ۔۔

تم اس طرح نہیں کر سکتے ۔۔

میں نے تمہاری اتنی مدد کی ہے ۔۔"

"مورخ ۔۔"

خیموں کے چلانے پر شنکر جادوگر نے اچانک اس کی بات کاٹ کر غیض و غضب سے اس کی طرف دیکھا ۔۔

"کونسی مدد ہیں ۔۔؟

کونسی مدد ۔۔؟

شنکر جادوگر کو کسی کی مدد کی  آشا ناہی ۔۔

جب تک ماں کالی ہم پر اپنی کرہا رکھے ہے ۔۔

ہمیں توہاری کیا ۔۔

کسی بڑے سے بڑے جادوگر کی بھی ضرورت ناہی ۔۔

دو ٹکے کا بلا آوے ہے ہم سے سوال کرنے ۔۔

پتا جی لگے ہیں ہم توہارے ۔۔

یہ کردے وہ کردے ۔۔

چل جا نکل جا ۔۔

تیرا میرا واسطہ ختم ۔۔

تجھے سرپنج کی جگہ خالی چاہیے تھی ۔۔

او ہم نے کردی ۔۔

اب سرپنج بننے کے واسطے تو جنگ لڑے یا آگ کے دریا کو پار کرے ۔۔

ہمیں پروہ ناہی ۔۔

اب جا یہاں سے نکل جا ۔۔

ورنہ بھسم کر دینگے ایک ہی پھونک میں ۔۔"

شنکر جادوگر کی آواز اور نظروں میں ایسی دہشت تھی ۔۔

کہ خیمو کا رنگ اڑ گیا ۔۔

وہ تیزی سے واپسی کے لیئے مڑ گیا ۔۔

بلکل اچانک ہی خیموں نے اندر ہی اندر فیصلہ کر لیا تھا کہ شاکوپا کو اس جگہ کے بارے میں بتا دیگا جہاں شمعوب قید تھا ۔۔

اور شہلا کی خبر بھی پہنچا دیگا ۔۔

سب سے معافی مانگ لے گا ۔۔

وہ جذباتی ہوگیا تھا ۔۔

شائد لالچی بھی ۔۔

لیکن کیا فائدہ ہوا ۔۔؟

سرداری کے لیئے تو ابھی بھی بہت کچھ کرنا تھا ۔۔

اور ظاہر ہے وہ کامیاب نہیں ہونے والا تھا ۔۔

جب سرداری اس کے نصیب میں ہی نہیں ہے تو شمعون کے ہی سہی ۔۔

دل میں ارادے باندھتا خیموں نہیں جانتا تھا ۔۔

دور بیٹھا شنکر جادوگر اس کے دل کی آواز بآسانی سن رہا تھا ۔۔

اور عجیب سا مسکرا رہا تھا ۔۔

"پاپی ۔۔

ہم سے دھوکا کرت ہے ۔۔"

بڑبڑاتے ہوئے اس نے ہاتھوں میں مٹھی بھر مٹی اٹھائی ۔۔

کچھ جنتر منتر پڑھ کر اس پر پھونکے ۔۔

مٹی ہاتھ سے نکل کر ہوا میں تیز تیز گھومنے لگی ۔۔

جیسے کوئی ننھا سا طوفان ہو ۔۔

شنکر نے عجیب زبان میں اس ریت کے ننھے سے مرغولے سے کچھ کہا ۔۔

جس پر ریت کا مرغولہ تیزی سے دور جاتے خیموں کی طرف بڑھ گیا ۔۔

اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ریت کا شیطانی طوفان خیموں کے جسم کا سارا ماس اڑاتا آگے بڑھ گیا ۔۔

اب اس ریت کے ننھے طوفان کا رخ قبیلے کے اس فرد کی طرف تھا جو شاکوپا کے حکم پر خیموں کا پیچھا کرتے کرتے یہاں تک پہنچا تھا ۔۔

اور چھپ کر تمام کاروائی ملاحظہ کر رہا تھا ۔۔

خیموں کا اتنا ہیبت ناک انجام دیکھ کر وہ بلے کے روپ میں ڈھلتا تیزی سے آگے بھاگا لیکن اس طوفان نے اسے بھی جا لیا ۔۔

اور اس کے ساتھ وہی کیا جو خیموں کے ساتھ کیا تھا ۔۔

اور اب اس طوفان کا رخ اس طرف تھا جہاں قبیلے کے دیگر افراد محو انتظار تھے ۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمعون نیند کے زیر اثر کھڑے کھڑے ہی جھولنے لگا تھا ۔۔

اس کی طاقت صفر ہو چکی تھی ۔۔

وہ بار بار اس بدبو اڑاتی لاش کی طرف دیکھتا جو اندھیرے کمرے میں اس کی زنجیروں سے پھوٹتی آتشیں روشنی کے باعث واضع تھی ۔۔

اس کا رنگ زرد جبکہ چہرہ سکڑنے لگا تھا ۔۔

اب وہ خیموں کو گالیاں دیتے دیتے بھی تھک گیا تھا ۔۔

دل و دماغ میں صرف شہلا کا خیال تھا ۔۔

نہ جانے وہ کس حال میں ہوگی ۔۔؟

اسے یاد تو یقیناً نہیں کر رہی ہوگی ۔۔

"شائد ڈر رہی ہوگی ۔۔"

دل نے بوجھل سا ہو کر سوچا ۔۔

شمعون اذیت کے اس تمام عرصے میں پہلی بار مسکرا دیا ۔۔

کہ ۔۔

اچانک اسے پیچھے سے کچھ روشنی  اور ہوا اندر آتی محسوس ہوئی ۔۔

ساتھ ہی عجیب سی آواز بھی تھی ۔۔

جیسے تیز بارش ہو رہی ہو ۔۔

شمعون چوکنا ہوگیا ۔۔

"تو گویا یہ انسانی دنیا کا ہی ایک حصہ ہے ۔۔

اور باہر نکلنے کا راستہ پیچھے کی جانب بنا ہے ۔۔"

ذہن میں ایک کوندا سا لپکا ۔۔

اب شمعون جبڑے کسے ۔۔

چہرہ ذرا موڑے ۔۔

آنے والے کے قدموں کی چاپ سننے لگا ۔۔

پھر بالآخر اندر آنے والا اس کے پہلو میں پہنچ گیا ۔۔

جس کے چہرے پر نظر پڑتے کے ساتھ ہی شمعون ساکت رہ گیا ۔۔

کچھ دیر بعد لب بےآواز ہلے ۔۔

"شہلا ۔۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہلا ۔۔

شہلا کیا یہ واقعی تم ہو ۔۔؟

نہیں نہیں تم یہاں کیسے آسکتی ہو ۔۔؟

شہلا بتائو نا ۔۔

بولو تو سہی کچھ ۔۔

پلیز کچھ تو بولو ۔۔"


شمعون یقین و بے یقینی کی کیفیت میں شہلا کو سر سے پیر تک بغور جائزہ لیتی نظروں سے دیکھتے ہوئے مسلسل بول رہا تھا ۔۔

پیچھے کا راستہ شائد اب بھی کھلا تھا کیونکہ باہر سے روشنی اندر کو آ رہی تھی ۔۔

جس کے باعث وہ غار نما کمرہ روشن ہو گیا تھا ۔۔


شہلا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے قریب چلی آئی ۔۔

شمعون کی چلتی زبان کو تالے لگ گئے ۔۔

اس کا دھیان اب جا کر اس کالے ٹیکے پر پڑا تھا جو شہلا کے ماتھے پر سجا تھا ۔۔


"یہ یقیناً اس جادوگر کی چال ہے ۔۔"


شمعون دل میں سوچتے ہوئے شہلا کو الجھ کر دیکھنے لگا ۔۔

جو بے تاثر نظروں سے اسے گھورے جا رہی تھی ۔۔

شہلا کے جسم سے پھوٹتی خون اور گوشت کی خوشبو بھی شمعون کے اعصابوں پر سوار ہوئی جا رہی تھی ۔۔

شمعون دوہری اذیت کا شکار ہونے لگا ۔۔

وہ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا پیچھے ہونے کی ۔۔

لیکن زنجیر کی وجہ سے یہ ناممکن تھا ۔۔

جبکہ شہلا اس کے اتنے قریب ہو چکی تھی کہ شمعون اپنی گردن پر شہلا کی گرم سانسیں محسوس کر سکتا تھا ۔۔

جبکہ خود اس نے اپنی سانسیں روک رکھی تھیں ۔۔

تاکہ وہ شہلا کے خون کی خوشبو سونگھ کر اس پر حملہ آور نہ ہوجائے ۔۔


شمعون کو یہ وقت اپنی زندگی کا سب سے مشکل وقت لگ رہا تھا ۔۔

یہ شہلا ہی تھی ۔۔

اتنا اندازہ تو اسے ہوگیا تھا ۔۔

لیکن یہ یہاں کیسے اور کیوں آئی تھی ۔۔

وہ سمجھ نہیں سکا ۔۔


"کیا وہ جادوگر چاہتا ہے کہ میں ۔۔

میں شہلا پر حملہ کردوں ۔۔؟

کیا چاہتا ہے آخر وہ ۔۔

کیا چاہتا ہے تو شیطان ۔۔؟"


شمعون دل میں بڑبڑاتے ہوئے اچانک چیخ اٹھا ۔۔

شہلا کی طرف دیکھنے سے وہ مکمل گریزاں تھا ۔۔

ساتھ ہی وہ بار بار اپنی زبان ہونٹوں پر پھیر رہا تھا ۔۔

نظریں گھوم پھر کر ناچاہتے ہوئے بھی شہلا کی طرف اٹھ رہی تھیں ۔۔


"شش شہلا پلیز کچھ دور ہوجائو ۔۔"


جانتے ہوئے بھی کہ شہلا کا دماغ اس کے اپنے کنٹرول میں نہیں ہے ۔۔

وہ چیخ پڑا ۔۔

بے بسی کی انتہائوں پر پہنچ کر شمعون اچانک ہی ضبط کھو کر شہلا کی گردن کی طرف جھک گیا ۔۔

اس نے شہلا کی گردن کے بڑے حصے کو اپنے پہلے سے لمبے دانتوں میں جکڑ لیا ۔۔

وہ شہلا کا گوشت اس کی گردن سے اکھیڑنے والا تھا جب ایک کرنٹ سا اسے لگا اور وہ پیچھے ہوگیا ۔۔

اس کا منہ خون سے بھرا تھا ۔۔

جبکہ شہلا کھلی ساکت آنکھوں کے ساتھ ایک چیخ بھی مارے بغیر زمین پر ڈھیر ہوگئی ۔۔

اس کی گردن سے خون کافی مقدار میں نکل رہا تھا ۔۔

شمعون جنونی ہوتا ہوا شہلا کے بیہوش وجود پر جھکنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن زنجیر نے اس کی یہ کوشش بھی ناکام بنادی ۔۔


تھا نہ وہ حیوان ۔۔

کون سے رشتے ۔۔

کونسے ناتے ۔۔

کون سی محبت ۔۔

اس کے لیئے سب سے بڑھ کر اس کی بھوک تھی ۔۔

بھوک تو انسان کو بھی بعض اوقات حیوان بنا دیتی ہے ۔۔

وہ تو پھر تھا ہی حیوان ۔۔!


اسی بھوک سے شمعون پاگل ہو رہا تھا ۔۔

اس کی غراہٹیں بہت اونچی تھیں ۔۔

جب اس کی زنجیریں خود بہ خود مدھم پڑتے پڑتے اچانک غائب ہوگئیں ۔۔

لیکن شمعون نے کسی چیز پر دھیان نہ دیا اور پھرتی سے شہلا پر جھکنے لگا جب ایک بار پھر کرنٹ سا اس کے وجود میں دوڑ گیا ۔۔

اور یہ کرنٹ اتنا شدید تھا کہ شمعون کئی فٹ دور جا گرا ۔۔


دراصل اس کے ہر عمل کے پیچھے پیر صاحب اور شنکر جادوگر کی کی کاروائیاں تھیں ۔۔


شنکر جادو گر نے شہلا پر جادو کیا تھا ۔۔

اسے قربانی کے لیئے ایک اور شخص چاہیے تھا ۔۔

پھر وہ شہلا کیوں نہیں ۔۔

زیادہ تباہی ۔۔

زیادہ خون خرابہ ۔۔

یہی تو شیطان اور اس کے چیلوں کی چاہ ہوتی ہے ۔۔


شہلا کے خون پر شنکر جادوگر نے ایسا جادو کیا تھا ۔۔

کہ اگر شمعون اس کے خون کے سات گھونٹ پی لیتا ۔۔

تو شنکر جادوگر کی غلامی میں چلا جاتا ۔۔


شنکر جادوگر نے ہی شمعون کی زنجیریں کھولی تھیں ۔۔

جبکہ شمعون کو روکنے والے پیر صاحب تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شمعون کے جھٹکے سے سنبھل کر اٹھ بیٹھنے سے پہلے ہی تیمور آفندی اور پیر صاحب غار کے اندر داخل ہوئے تھے ۔۔


"تیمور ۔۔

شہلا کو ساتھ لے جائو ۔۔

جو آیات میں نے پڑھنے کو کہی تھیں ۔۔

وہ پڑھ کر شہلا پر دم کرو ۔۔

یہ انشااللہ ہوش میں لوٹ آئے گی ۔۔

جلدی جائو ۔۔"


پیر صاحب کے حکم پر تیمور آفندی جو پہلے ہی گڑبڑائے ہوئے تھے ۔۔

کہ پیر صاحب کے آستانے پر بیٹھے بیٹھے وہ اچانک اس ویرانے میں کیسے ہہنچ گئے ۔۔

مزید سٹپٹا کر سر اثبات میں ہلاتے ہوئے شہلا کی طرف بڑھے اور اسے اپنے شانے پر لاد لیا ۔۔

جبکہ شمعون اذیت سے چیخے جا رہا تھا ۔۔

وہ کرنٹ کے جھٹکے اسے مسلسل لگ رہے تھے ۔۔


اب غار میں صرف وہ دیوار سے لگی لاش ۔۔

پیر صاحب ۔۔

اور غصے سے غراتا شمعون تھا ۔۔


لیکن شمعون کی غراہٹیں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دھیمی پڑتی جا رہی تھیں ۔۔

اور کچھ دیر بعد ہی وہ گھٹنوں کے بل گر گیا تھا ۔۔

لیکن ہلکی ہلکی سہمی ہوئی سی غراہٹیں اب بھی جاری تھیں ۔۔


بغور اسے دیکھتے ہوئے پیر صاحب نے گہری سانس خارج کر کے افسوس بھری نظر شمعون پر ڈالی ۔۔

کتنا خوبرو تھا وہ ۔۔

لیکن قسمت کیا تھی اس کی ۔۔


"اور تم اس آدم زادی سے محبت کے دعویدار ہو ۔۔؟

بھوک میں تم نے جس پر حملہ کر دیا ۔۔

اس کے ہی گوشت سے تم نے اپنی بھوک مٹانا چاہی ۔۔؟"


پیر صاحب کے سخت لہجے پر شمعون دھیرے دھیرے ہوش کی طرف لوٹنے لگا ۔۔

اور اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اس کے چہرے پر شدید گھبراہٹ نمایاں ہوگئی ۔۔

اس نے اپنا جھکا سر اٹھا کر متوحش نظروں سے پیر صاحب کی طرف دیکھا ۔۔


"وہ ٹھیک یے نا ۔۔؟"


"انشااللہ ٹھیک ہی رہے گی ۔۔

اگر تم اس سے ہمیشہ کے لیئے دور ہوجانے کا عہد کرو تو ۔۔"


"یہ ناممکن ہے ۔۔"


شمعون چیخ کر بولا ۔۔

لیکن اچانک اسے پھر ایک جھٹکا لگا اور وہ اپنا سر جھکا گیا ۔۔

لیکن سفید آنکھوں میں چمکتی چھوٹی چھوٹی پتلیاں پیر صاحب کے وجود پر ہی جما رکھی تھیں ۔۔


"ناممکن ہے ۔۔؟

تم اب بھی یہ کہہ رہے ہو ۔۔؟

آج ہم نہ آتے وقت پر ۔۔

تو تم اب تک اس کی ہڈیاں بھنبھوڑ رہے ہوتے شمعون ۔۔

قدرت کے ہر کام میں کچھ مصلحت ہوتی ہے ۔۔

اس بات کو قبول کرلو کہ تم کسی انسان کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتے ۔۔"


"حویلی والوں کے ساتھ سالوں رہا ہوں میں ۔۔"


"تو کیا وہ تمہارے عتاب سے محفوظ رہے ۔۔؟"


پیر صاحب کے طنزیہ پوچھنے پر شمعون مزید کچھ کہہ نہیں سکا ۔۔


"اب تم شہلا کو چھوڑ دو ۔۔

میں تمہیں چھوڑ دونگا ۔۔

ورنہ محبوراً مجھے وہ کرنا پڑے گا جو تمہیں پسند نہیں آئیگا ۔۔"


شمعون نے اس بات پر طنزاً ایک ابرو اچکایا ۔۔


"پھر آپ مجبوراً کچھ کر ڈالیں پیر صاحب ۔۔

کیونکہ میں شہلا کو ایسے نہیں چھوڑونگا ۔۔"


پیر صاحب نے لب بھینچ لیئے ۔۔

ایک تو شمعون کی ضد ۔۔

اوپر سے وہ محسوس کر سکتے تھے کہ شنکر جادوگر اسی طرف آ رہا ہے ۔۔


"میری بات سنو ۔۔

پہلے شنکر کا کام تمام کرنا ضروری ہے ۔۔

ورنہ وہ کسی کو سکون سے جینے نہیں دیگا ۔۔

سمجھ رہے ہو تم ۔۔؟"


شمعون نے جواباً سر کو ہلکی سی جنبش دی اور اگلے ہی پل بلے کا روپ دھار کر بدبو اڑاتی اس لاش پر جھپٹ پڑا ۔۔

پیر صاحب نے ٹھنڈی سانس بھر کر چہرہ موڑ لیا ۔۔

کہ بہرحال یہ ایک خوفناک ترین منظر تھا ۔۔


شنکر جادو گر آگ کے شعلے کی طرح وہاں پہنچا تھا ۔۔


شمعون سیاہ بلے کے روپ میں ہی غصے سے اس کی طرف پلٹا ۔۔

اس کی غراہٹیں سن کر وہ شنکر جادوگر قہقہ لگا کر ہنس پڑا ۔۔


"اس بڈھے کے کارن ۔۔

مورکھ تو بڑا اکڑ رہا یے ۔۔

پہلے اسی کو بھسم کریں گے ہم ۔۔"


شنکر جادوگر کی سخت نظریں پیر صاحب کی طرف اٹھیں ۔۔

پیر صاحب نے اس کی دھمکی پر کوئی تاثر نہ دیا ۔۔


شمعون بے بس تھا ہیر صاحب کے حکم پر ۔۔

ورنہ اس کا دل تو چاہ رہا تھا ۔۔

شنکر جادوگر کا مختصر سا وجود چبا کر رکھ دے ۔۔

اس جادوگر کی وجہ سے وہ شہلا پر حملہ کر چکا تھا ۔۔

پیر صاحب نے اسے منع کر رکھا تھا کہ ان کے اشارے تک وہ شنکر جادوگر سے دور ہی رہے ۔۔

اور یہاں شمعون واقعی بے بس تھا ۔۔


وہ ساتھ ہی الجھ بھی رہا تھا ۔۔

نہ جانے کیسی جنگ ہونے والی تھی ۔۔

وہ اسی الجھن میں تھا جب اچانک شنکر جادوگر نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔۔


ٹھنڈی سانس بھر کر پیر صاحب نے بغور ادھر ادھر نظریں دوڑائیں ۔۔

پھر کچھ پڑھ کر ایک طرف کو پھونک دیا ۔۔

وہاں سے ہلکی سی چنگھاری نکلی تھی ۔۔

یہ عمل وہ کافی دیر تک دوہراتے رہے ۔۔

وہ جہاں جہاں پھونکتے وہاں سے چنگھاریاں پھوٹ پڑتیں ۔۔

جبکہ پیر صاحب کا رنگ زرد ہوتا جا رہا تھا ۔۔

اور چہرے پر بھی تکلیف کے سائے تھے ۔۔


شمعون حیرت سے سب ملاحظہ کرتا رہا ۔۔

یہاں تک کہ آگ کا بہت بڑا شعلہ جل کر بجھ گیا ۔۔

اور اس کے ساتھ ہی پیر صاحب بھی لڑکھڑا کر گر پڑے ۔۔

شمعون انسان شکل میں لوٹتا تیزی سے ان کی طرف بڑھا ۔۔


"آپ ٹھیک ہیں ۔۔

اس جادوگر کا کیا ہوا ۔۔؟"


وہ جادوگر ۔۔شائد بچ جائے ۔۔

اس وقت وہ بہت زخمی ہے ۔۔

بچنے کی علامات کم ہی ہیں ۔۔"


گہری گہری سانسیں بھرتے ہوئے پیر صاحب بمشکل بولے ۔۔


"اور ۔۔

اور آپ ۔۔؟

میں آپ کی کچھ مدد کروں ۔۔؟"


شمعون اس وقت سخت گھبرایا ہوا تھا ۔۔


"میرا وقت آچکا ہے میاں ۔۔"


وہ دھیرے سے ہنسے اور کچھ دیر بر بعد ہی کلمہ پڑھتے پڑھتے ۔۔

آخری ہچکی لے کر ساکت ہوگئے ۔۔


دوسری طرف شمعون بے یقینی سے ان کے بےجان وجود کو دیکھتا رہ گیا ۔۔

اس نے خود بہت سی جانیں لی تھیں ۔۔

لیکن اس طرح اس کی اپنی دھڑکن رک نہیں گئی تھی ۔۔

وہ اب بھی بھوکا تھا لیکن پیر صاحب پر حملہ نہ کر سکا ۔۔

اچانک اس کی تیز نظروں کو کچھ روشنی چمکتی نظر آئی ۔۔

دل میں وسوسہ جاگا ۔۔

"شنکر تو نہیں ۔۔؟"

لیکن شنکر کے وجود سے ایسی خوشبو کب پھوٹتی ہے ۔۔


"تم جائو ۔۔

میں یہ سب سنبھال لونگا ۔۔

خوبصورت سی گلوگیر مردانہ آواز شعون کے کان میں گونجی تو وہ ٹرانس کیبفیت میں پیچھے ہوگیا ۔۔


غار سے نکلنے سے پہلے اس نے ایک بار پھر پیر صاحب کی طرف دیکھنا چاہا ۔۔

لیکن وہ اب وہاں موجود نہیں تھے ۔۔

گہری سانس بھر کر وہ پہلے آہستہ آہستہ چلتا ہوا آگے بڑھنے لگا ۔۔

جب اسے دور تیمور آفندی نظر آئے ۔۔

وہ پوری رفتار سے بھاگ کر ان تک پہنچا ۔۔

تیمور آفندی اسے دیکھ کر ساکت رہ گئے ۔۔

حقیقت آشکار ہونے کے بعد وہ آج ان کے سامنے تھا ۔۔


"گلے تو نہیں لگائیں گے ۔۔؟"


شمعون نے آس سے پوچھا ۔۔


"کیا پتہ تم گردن ادھیڑ دو ۔۔"


تیمور آفندی سخت طنز سے بولے ۔۔

ان کے طنز پر شمعون کے دماغ میں جھماکہ ہوا ۔۔


"شہلا کہاں ہے ۔۔"


تیمور آفندی کو جواب دینے کی ضرورت نہیں پڑی ۔۔

شمعون کی نظریں کچھ فاصلے پر زمین پر پڑی شہلا پر پڑیں ۔۔

وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچا ۔۔

شہلا کی گردن پر تیمور آفندی کا رومال بندھا تھا جو پورا سرخ خون میں بھیگ گیا تھا ۔۔

اور شہلا کے لب تھوڑا سا کھلے ہوئے تھے ۔۔

جبکہ چہرہ سفید ہو رہا تھا ۔۔


شہلا کے وجود میں ایسی خاموشی تھی جس نے شمعون کو ششدر کردیا ۔۔

اس نے حیرت سے پھیلی آنکھیں تیمور آفندی کی طرف اٹھائیں ۔۔

تیمور آفندی کی آنکھوں میں نمی جھلکنے لگی ۔۔


"میں نے شہلا کو مار دیا ۔۔؟"


شمعون نے حیرت سے پوچھا ۔۔

وہ کچھ بھی نہ بول سکے ۔۔

وہ خود اب تک بے یقین تھے ۔۔

شمعون نے بہت خطرناک جگہ اپنے دانت گاڑے تھے ۔۔

اور بس وہ زخم شہلا کی زندگی کے خاتمے کا جواز بن گیا ۔۔


"سب کچھ چھن گیا مجھ سے بھائی ۔۔

سب کچھ ۔۔

میں بلکل تنہا رہ گیا ۔۔

میں نے خود اپنا سب ختم کرلیا ۔۔

میں واقعی حیوان ہوں ۔۔

جو محبت کے قابل نہیں ہے ۔۔

ہاں حیوان ہی تو ہوں میں ۔۔"


شمعون کو اس طرح دہاڑیں مار کر روتے دیکھنا انہیں حیران کر رہا تھا ۔۔

وہ ایک بلا تھا ۔۔

ایک آدم خور مخلوق ۔۔

کیا وہ انسان سے ایسی محبت کر سکتا ہے ۔۔

کہ اس کے لیئے یوں رو پڑے ۔۔

وہ دم بخد سے اسے دیکھتے رہے ۔۔


"کیا اس وقت مجھے شمعون کو اس کے قبیلے کے ختم ہوجانے کی اطلاع دینی چاہیے ۔۔؟

نہیں ابھی نہیں ۔۔

یہ خود ہی جان لیگا سہی وقت پر ۔۔"


دل میں سوچتے ہوئے تیمور آفندی نے آنکھوں سے نکلتے آنسو صاف کیئے ۔۔


انہیں اب بھی شمعون پر ترس آ رہا تھا ۔۔

اس کے رونے کا انداز ہی ایسا تھا ۔۔

دل چیر دینے والا ۔۔


"شمعون مجھے شہلا کی لاش لیجانی ہے تم ۔۔"


"کہیں نہیں لے کر جائیں گے آپ اسے ۔۔

اب تو میرا رہنے دیں ۔۔

کیا ۔۔

چاہتے کیا ہیں آپ لوگ آخر ۔۔"


شمعون ان کی بات کاٹ کر چیخا ۔۔


"اب ہی تو نہیں رہنے دے سکتا تمہارے پاس ۔۔"


تیمور آفندی کی بات کی گہرائی سمجھ کر وہ تیزی سے پیچھے ہوا ۔۔

اور پھر ایک آخری نظر باری باری تیمور آفندی اور شہلا پر ڈال کر وہاں سے بھاگتا چلا گیا ۔۔

اس کے آنسو اس کے بھاگنے کی وجہ سے گال پر آنے سے پہلے ہی ہوا میں اڑ جاتے ۔۔


آج شمعون نے تسلیم کر ہی لیا تھا وہ واقعی حیوان تھا ۔۔

انسانوں کے درمیان رہنے کے لیئے بنا ہی نہیں تھا ۔۔

اس نے تو اپنی حیوانیت سے اسے ہی نہیں چھوڑا ۔۔

وہ جسے بے انتہا چاہتا تھا ۔۔

اور آج وہ حویلی والوں کی تکلیف بھی محسوس کر رہا تھا ۔۔

اپنے پیاروں کو کھو دینے کے غم میں ان کا رونا اسے آج سہی معنوں میں سمجھ آرہا تھا ۔۔


وہ بھاگتا رہا بھاگتا رہا ۔۔

یہاں تک کہ وہ اس علاقے میں پہنچ گیا جہاں ہر طرف انسانی ہڈیاں ہی ہڈیاں تھیں ۔۔

پہلے تو اس نے اپنے غم میں توجہ نہیں دی لیکن اچانک جب اس کی نظریں اس ڈھانچے پر پڑیں جس کے نیچے لمبی سی سفید ملگجی داڑھی نظر آرہی تھی ۔۔اس کا باقی لباس ۔۔

شمعون کی رفتار اپنے آپ دھیمی پڑ گئی ۔۔

اس نے بغور اس ڈھانچے کا جائزہ لیا ۔۔

پھر باقی ڈھانچوں کا ۔۔

اور جو کچھ اسے سمجھ آیا اس نے شمعون کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا ۔۔

تو وہ واقعی تنہا رہ گیا تھا ۔۔؟


بلے کے روپ میں ڈھل کر وہ اونچی آوازیں نکال نکال کر اپنے کسی زندہ ساتھی کو پکار رہا تھا ۔۔

لیکن وہاں صرف ہوائوں کا شور تھا ۔۔

ایک چوٹی پر چڑھ کر ہر طرف دیکھنے کے بعد وہ اونچی آواز میں رونے لگا ۔۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


گیارہ سال بعد ۔۔


"ماما ۔۔

ماما ۔۔"


زمان اسے پکارتا ہوا کچن میں ہی چلا آیا ۔۔

جہاں امتل حمزہ کے لیئے کافی تیار کر رہی تھی ۔۔

اپنے نو سالہ بیٹے کو دیکھ کر اس کے لبوں پر پیار بھری مسکان بکھر گئی ۔۔


"جی ماما کی جان ۔۔"


"ماما یہ آرٹیکل دیکھیں ۔۔

اس میں لکھا ہے کہ پاکستان کا وہ علاقہ سب سے زیادہ پراسرار ہے جہاں پرسوں ہماری کار خراب ہوگئی تھی ۔۔

وہاں اکثر بلیاں غراتی دکھائی دیتی ہیں ۔۔

لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہیں ۔۔

اس دن میں نے بھی آپ سے کہا تھا ۔۔

کہ ایک بلی اچانک غائب ہوگئی ۔۔

لیکن آپ نے اور پاپا نے بیلیو ہی نہیں کیا ۔۔"


آخر میں زمان نے خفگی سے حمزہ کو دیکھا جو ابھی ابھی کچن میں آیا تھا ۔۔

اور اس کی بات سن کر اپنی جگہ ساکت رہ گیا تھا ۔۔

لیکن اگلے ہی پل وہ سنبھل کر مسکرایا ۔۔


"تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے ایسے آرٹیکلز پر توجہ دینے کی ۔۔

آج کل ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔۔

یہ روحیں بدروحیں سب جھوٹ ہیں ۔۔

یہ بتائو جو اسٹوری بکس میں نے تمہیں لا کر دی تھیں ان کا کیا بنا ۔۔؟"


"پاپا میں کوئی لڑکی ہوں جو پرنسز کی کہانی پڑھوں ۔۔؟"


حمزہ کا کام ہو چکا تھا ۔۔

زمان کا دھیان بٹ گیا تھا ۔۔


وہ جانتا تھا یہ آرٹیکل جھوٹا نہیں ہے ۔۔

وہ خود اپنی آنکھوں سے پرسوں گاڑی خراب ہونے پر وہاں کئی بلیاں آتی اور غائب ہوتی دیکھ چکا تھا ۔۔

اور اس سب کی وجہ سے بھی واقف تھا ۔۔

لیکن وہ نہیں چاہتا تھا ۔۔

حویلی کی اگلی نسل ایسے کسی بھیانک سچ سے واقف ہو ۔۔

جیسے گیارہ سال سے حویلی والے سکون کی زندگی گزار رہے تھے ۔۔

ہمیشہ گزارتے رہیں ۔۔!


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شمعون اپنی تیز نظروں سے بآسانی ادھر اُدھر کودتی اچھلتی بلیوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔

اب اس نے اپنا بسیرا اسی جگہ بنا لیا تھا جس جگہ نے اس سے سب کچھ چھین لیا تھا ۔۔

قبیلے والے اس سے بچھڑ کر بھی نہ بچھڑے تھے ۔۔

اب یہ تھا کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ۔۔

وہ سب بے ضرر سی بدروح بن چکے تھے ۔۔

جو شمعون کو دیکھ تو سکتے تھے ۔۔

لیکن بات نہیں کرتے تھے ۔۔

بلکہ ایک دوسرے سے بھی اجنبی ہوچکے تھے ۔۔

جو بھی تھا ۔۔

شمعون اب اسی سہارے جی رہا تھا ۔۔

وہ یہیں رہتا ۔۔

کوئی جانور نظر آجاتا تو وہ بھوک مٹا لیتا ۔۔

لیکن نہ بھی ملتا تو وہ خاموشی سے اپنے مرنے کا انتظار کرنے لگتا ۔۔


رہی بات حویلی کی ۔۔

تو حویلی سے وہ تمام تعلقات ختم کر چکا تھا لیکن کوئی تھا جو اب بھی اس سے اپنا تعلق ختم نہیں کر سکا تھا ۔۔


تیمور آفندی تقریباً ہر ماہ یہاں آتے تھے ۔۔

آج بھی آئے تھے ۔۔

ہمیشہ کی طرح گوشت پوست کے بڑے بڑے شاپرز پکڑے ۔۔


"آپ یہ کیوں لاتے ہیں ۔۔؟"


شمعون نے کوفت سے پوچھا ۔۔

وہ بھوکا تھا لیکن پاگل نہیں ہوا تھا بھوک سے ۔۔


"کیونکہ مجھے میرا گوشت بڑا عزیز ہے ۔۔"


"پہلے مجھے چاہ تھی ۔۔

میں طاقتور بنوں ۔۔

میں زندہ رہوں ۔۔

اور مرنے والوں کی دیگر چاہنے والوں کا خیال نہیں تھا ۔۔

لیکن اب ایسا نہیں ہے ۔۔

تو آپ یہ نہ کیا کریں ۔۔

کل کا مرتا آج مر جائوں ۔۔"


"کم از کم میرے مرنے سے پہلے ایسی باتیں مت کرو ۔۔"


تیمور آفندی کوفت سے بولے ۔۔

پھر اس کے پہلو میں ہی بیٹھ گئے ۔۔


"شہلا یاد آتی ہے ۔۔؟"


کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد تیمور آفندی نے پوچھا ۔۔


"میں اسے بھولتا ہی نہیں ۔۔

بھول چکا ہوتا ۔۔

تو جیسا ہوچکا ہوں ویسا نہ ہوتا ۔۔"


مدھم آواز میں کہہ کر شمعون نے پھر اس چھب دکھا کر غائب ہوجانے والے سائے کو دیکھا تھا ۔۔


گیارہ سال سے وہ اس وجود کی موجودگی محسوس کر رہا تھا ۔۔

نہ جانے یہ اس کے آنکھوں کا دھوکا تھا یا دل کا ۔۔

لیکن جو بھی تھا ۔۔

تھا تو سہی ۔۔


تیمور آفندی نے اس کے ساتھ کافی وقت گزارا پھر ہمیشہ کی طرح اس کی پیشانی چوم کر وہاں سے چلے گئے ۔۔


تھوڑی دیر ڈرائیو کے بعد سنگل آنے لگے ۔۔

ساتھ ہی ایک کال بھی ۔۔


"جی بیٹا جی ۔۔؟"


انہوں نے پیار سے اپنے نواسے کو مخاطب کیا ۔۔


"پھر نانو ۔۔

آپ نے دیکھا اس جگہ کچھ ۔۔؟"


زمان بہت اکسائٹڈ لگ رہا تھا ۔۔

اس معصوم کے خیال میں تیمور آفندی پہلی بار اس جگہ گئے تھے وہ بھی صرف اس کی خواہش پر ۔۔


"یار خوار ہی کروایا تم نے ۔۔"


تیمور آفندی ہونٹ لٹکا کر بولے ۔۔


دوسری طرف زمان کے بھی ہونٹ لٹک گئے ۔۔


"بٹ آئی سویئر نانو ۔۔

وہاں گھوسٹ ہے ۔۔"


زمان کے معصوم لیکن پریقین انداز پر اس بار وہ نفی نہیں کر سکے ۔۔

نہ جانے کیوں زمان کو ایسی ویسی چیزوں میں اتنی دلچسی تھی ۔۔


وہ اسے ادھر اُدھر کی باتیں کر کے بہلابے لگے ۔۔

اونچی چوٹیوں پر نظریں دوڑاتے ہوئے انہیں کئی بلیاں نظر آئیں جو ان کی نظر پڑتے ساتھ ہی غائب ہوگئیں ۔۔

وہ سر جھٹک کر پھیکا سا ہنس پڑے ۔۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شہلا دنیا سے چلی گئی تھی ۔۔

لیکن شمعون کے اندر احساس چھوڑ گئی تھی ۔۔

اپنوں کے بچھڑنے کی تکلیف چھوڑ گئی تھی ۔۔

وہ اب بھی حیوان تھا ۔۔

لیکن ٹوٹے دل والا حیوان ۔۔!


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ختم شد 

Follow: Subscribe for latest updates

Comments