Search This Blog
Welcome to Sam Write Heart! I'm a passionate writer who loves to express thoughts, emotions, and everyday moments through words. Sometimes I write stories, sometimes tips, recipes, or just what's on my heart. This blog is a little corner of my world where I share real feelings, creative ideas, and little inspirations. Thank you for being here — your support means everything!
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
انتقام اور ساتھ
(پندرہ سال پہلے)چلیں میں پہلے اپکو اپنی فیملی سے ملواؤں ۔
ابو امی بڑا بھائی نقاش عمر بارہ سال بہن ریشم عمر گیارہ سال پھر میں ہانیہ عمر چار سال اور پھر چھوٹا بھائی نجم ایک سال۔ ہمارے حالات بہت اچھے تھے پھر نہ جانے کس کی نظر لگی اور سب ختم ہوگیا۔ کاروبار ختم ابو کا بڑی مشکل سے ایک درمیانی طبقے کے علاقے میں گھر دیکھا کرایہ کم لگا تو ابو نے ہاں کردی۔
آس پڑوس سے جب چھان بین کی تو پتہ چلا اس گھر میں کوئی دو ماہ سے زیادہ رہ نہیں پایا ہے ۔امی نے پریشان ہو کر کہا کہ چھوڑیں کوئی اور گھر دیکھیں پر ابو نہیں مانے ۔اور گھر لے لیا ۔
گھر دو کمروں بیچ میں صحن سامنے کیچن اور باتھروم تھا۔ اندر والے روم میں ایک چھوٹا سا اسٹور روم تھا ۔ اچھا گھر تھا دو دن تو صفائی اور سامان جگہ پر رکھنے میں لگ گئے ۔
ابو نے ایک کمپنی میں ملازمت کر لی۔سب معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ ایک ہفتے بعد رات کو امی کی انکھ کسی آواز سے کھلی ۔
امی نے دیکھا کہ میں بستر سے غائب ہوں اور سامنے بیلن تختہ لے کر بیٹھی ہوں ۔
حیرانی والی بات یہ تھی امی کے لیے کے اسٹور روم کا بٹن جس پر کسی بڑے کا ہاتھ ہی جا سکتا تھا میں نے کیسے آن کیا اور جب دروازے کی کنڈی اوپر سے لگی تھی میں بیلن تختہ اندر کیسے لای
۔امی نے مجھے آواز دی ہانی یہاں کیا کر رہی ہیں؟
امی میں بابا کے لیے روٹی بنا رہی ہوں۔میں نے مصروف ہوکر جواب دیا ۔امی تھوڑی سی ٹھٹکی ۔پھر نارمل ہوکر پوچھا اچھا بابا کہاں ہے ؟
مما یہ رہے نہ سامنے بیٹھے ہیں
۔امی نے ہاتھ پکڑ کر مجھے اٹھایا اور بستر میں سلا دیا کہ صبح کرنا جو کرنا ہے ابھی سو جاؤ
۔انھوں نے آیت الکرسی پڑھ کر دم کری اور سلادیا ۔سوچا صبح اٹھ کر میاں سے بات کرینگی۔
صبح بچوں کو اور میاں کو ناشتہ دینے میں اور گھر کے کاموں میں وہ یہ بات بھول گئیں ۔
رات کو جب سب سو گئے تو ان کی انکھ بڑی بیٹی کے جگانے سے کھلی۔
انھوں نے پوچھا کیا ہوا؟
امی وہ ہانی ...ادھرررر اسٹووووور ۔ ۔۔۔!!! ۔ریشم نے ڈرتے ڈرتے اسٹور کی طرف اشارہ کیا ۔
امی کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ حیران رہ گئیں
میں اسی جگہ بیلن تختہ لی کر بیٹھی تھی پر اج آٹا بھی تھا اور امی نے دروازے کی طرف دیکھا تو کنڈی ویسے ہی لگی تھی۔
امی اٹھ کر میرے پاس آئی
ہانی !میرا بیٹا کیا کر رہا ہے؟امی نے پیار سے پوچھا ۔
امی با با کی لیے روٹی بنا رہی ہوں۔میں نے بتایا۔
اچھا چلو آؤ سو جاؤ صبح بنانا۔
میں نے سامنے ایسے دیکھا جیسے کسی سے اجازت لے رہی ہوں اور پھر امی کے ساتھ اٹھ گئی۔
امی نے جاتے جاتے دیکھا تو تختے پر روٹی گول اور صیح بنی تھی ۔
جو چار سال کی بچی کے لیے ممکن نہیں۔امی نے واپس مجھے سلا دیا اگلے دن امی برتن دہو رہی تھی کے اچانک امی نے
محسوس کیا کے کوئی پیچھے سے گزرا ہے انھیں وہم
لگا ۔پھر وہ کام میں مصروف ہوگئیں ۔وہ منے کو
فیڈر بنا کر دے رہی تھیں ۔بچوں کے اسکول سے آ نے
کا وقت تھا ۔کے ہانیہ اندر آئی اسکول کا بیگ لیکر
امی نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا ہانیہ اپ اندر کیسے
آئی مین گیٹ تو بند تھا ؟
ماما وہ بابا نے دروازہ کھولا ۔ہانی نے بیگ رکھتے ہوئے کہا ۔
اب تو وہ سچ مچ میں پریشان ہوگئیں کیونکہ دروازہ
تو بند تھا اچانک سے دروازہ بجا تو وہ حیران ہو
گئیں باہر انکے دونوں بڑے بچے تھےلیکن اگر ہانیہ اندر
آگئی تھی تو دروازہ بند کس نے کرا ؟؟؟
لاک تک ہانیہ کا
ہاتھ تو نہیں جاتا ۔صورتحال واقعی اب خراب ہو
رہی تھی۔ انھوں نے رات کو اپنے شوہر سے بات کی۔
تو انھوں نے کہا" اپکا وہم ہے بس پڑوس کی بات کو
اب تک خود پر سوار رکھا ہے".
اگلا دن اتوار تھا ابو گھر پر تھے لیٹے ہوئے تھے کے
انھیں محسوس ہوا کوئی ان کو دیکھ رہا ہے انہوں نے
فوراً آنکھیں کھولیں تو کوئی سفید سا سایہ سامنے
سے ہٹا. اسکا مطلب بیگم صیح کہ رہی ہیں اچانک
کیچن سے چیخنے کی آواز آئی .ریشم ڈر کے مارے
کانپ رہی تھی
کیا ہوا؟؟؟ ابو امی نے پوچھا۔
وہاں کوئی تھا اس نے دوسرے کمرے کی طرف اشارہ کرا۔
امی نے ابو سے کہا۔"میں نے کہا تھا نہ مت لیں یہ گھر "
ابو واقعی میں اب سنجیدگی سے سوچنے لگے رات
ہوئی تو سب سونے کے لیے لیٹ گئے امی نے کیچن
میں بیلن تختہ چیک کرا ابو نے کنڈی صیح ںسے لگائی
آدھی رات کو نقاش نے امی کو جگایا ۔امی! ہانیہ کو
دیکھیں اس نے اسٹور روم کی طرف انگلی کی
امی نے دیکھا تو ہکا بکا رہ گئیں پھر سے
وہی منظر۔میاں کو جگایا وہ بھی پریشان
ہانی بیٹا کیا کر رہی ہو؟؟
ابو نے پوچھا پاپا روٹی بنارہی بابا کے لیے۔
ابو اسکے پاس گئے۔" اچھا ابھی سوجاؤ کل بنا دینا اسکول جانا ہے نا"
اچھا ٹھیک ہے پاپا۔ہانی نے اٹھتے ہوئے کہا
بابا میں کل روٹی بنا کر دونگی اپکو۔
ہاں ہاں وعدہ ۔اسنے جیسے کسی کی بات کا جواب دیا
ابو نے اسے اپنے پاس لٹایا
دوسرے دن مسجد کے مولوی صاحب کے پاس گئے
انہیں کہا مجھے کوئی ایسی چیز دے جس کی وجہ سے میں انہیں دیکھ سکوں۔
اتنا تو انھیں بھی پتہ تھا کہ یہ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو بھی روح ہے
مولوی صاحب نے تعویذ دیا کہ پہن لیں ابو نے وہ پہنا
اور گھر آ گئے انھوں نے گھر میں قدم رکھا اور
انھوں نے جیسے ہی سامنے دیکھا سامنے ہانیہ بیٹھی
تھی اور اس کے ساتھ ہی کوئی بزرگ بیٹھے تھے ۔
سفید لمبا سا جبہ جیسے عربی لوگ پہنتے ہیں ۔سفید داڑھی ،سر پر صافہ ابو مطمئن ہو گئے تھوڑے چہرے پر نور اور ہلکا سا تبسم۔
ابو ان کے قریب گئے اور سلام کیا ۔
"اسلام وعلیکم بابا". ابو نے ادب سے ہی کہا کیونکہ ان کے نورانی چہرے کو دیکھ کر ہی ابو نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ کوئی اللّٰہ والے ہیں ۔
"وعلیکم السلام "کہو بیٹا ! کیوں ضرورت پڑی مجھ سے بات کرنے کی ''۔انھوں نے تعویذ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
آواز میں رعب اور دبدبہ تھا گھر والے پریشان کے ابو بات کس سے کر رہے ہیں ما سوائے ہانیہ کے ۔
""بابا "اگر اپکو ھمارے یہاں رہنے سے مسئلہ ہے تو میں چلا جاتا ہوں پر میرے بچوں کو کچھ مت کریں۔"اس طرح ہانیہ کا رات اٹھنا ریشم نقاش کا ڈرنا "میری بیوی بھی اپکی موجودگی محسوس کر کے ڈرتی ہے ۔ابو نے آرام سے دبے لفظوں میں پوری بات سمیٹی ۔
"میں نے اج تک کسی کو نقصان نہیں پہنچایا" ۔بابا نے اطمینان سے جواب دیا ۔
"تو بابا ہم سے پہلے جو لوگ تھے وہ ؟" ابو نے حیرانی سے پوچھا ۔
"وہ نشہ کرتے تھے گھر ناپاک رکھتے تھے آزان کے وقت سو رہے ہوتے تھے اور گھر میں گانا چل رہا ہوتا تھا میں انھیں صرف ہونے کا احساس دلاتا تھا جس سے وہ ڈر کر چلے جاتے" ۔بابا جی نے تحمل سے کہا
"پر بابا اس طرح ہم ۔۔۔ ؟"ابو نے سوال کیا اور امی لوگوں کی طرف اشارہ کیا۔
"ٹھیک ہے میں جا رہا ہوں۔یہی مناسب ہے کیونکہ میرا اس طرح رہنا بھی ٹھیک نہیں ۔"ان کی نظر امی اور بچوں پر پڑی جو واقعی خوفزدہ تھے ۔
"بابا اپ کہاں جا رہے ہیں ؟"ہانیہ نے کہا ۔
"کہیں نہیں میرا بچہ اپ کے لیے میں کہیں نہیں جا سکتا "۔بابا نے اس کو پیار کرتے ہوئے کہا ۔
وہ ابو کو سلام کر غائب ہو گئے ۔ابو نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور امی کو اشارہ کیا کہ سب صیح ہوگیا ہے۔
اور واقعی میں پھر کبھی ہانیہ رات کو نہیں جاگی کسی سے بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔گھر میں بھی کسی کی موجودگی محسوس نہیں ہوئی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
(پندرہ سال بعد)
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
ماما میں جارہی ہوں کالج ۔ہانی کی آواز آئ ۔
ہاں بیٹا جائیں اللّٰہ کی امان ۔امی نے کہا
ریشم اور نقاش یونی جاتے ۔نقاش پارٹ ٹائم کام بھی کر رہا تھا ریشم شام میں ٹیوشن پڑھاتی ۔ابو کو ترقی ہوئی تھی ۔ہانیہ فسٹ ائیر کی اسٹوڈنٹ تھی ۔
وہ گھر چھوڑے ہوئے انھیں 4 سال ہو چکے تھے ۔وہ نہیں جاتے وہ گھر چھوڑ کر انھیں نو سال ہو چکے تھے لیکن اگر وہ واقعہ نہیں ہوتا
🌸🌸🌸🌸🌸
چار سال پہلے
🌸🌸🌸🌸🌸
شام کا وقت تھا۔ابو کے آنے کا وقت تھا۔ بڑے بچے دونوں اکیڈمی گئے تھے ۔نجم باہر کھیلنے گیا تھا ۔
ہانی کمرے میں بیٹھی اپنا اسکول کا کام کر رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا اسٹور میں کچھ آواز آئی ہے اس نے دھیان نہیں دیا پر اسے پھر آواز آئی ۔اسے لگ رہا تھا جیسے کوئی اسے بلا رہا ہو ہلکی ہلکی سی آواز اسنے آنکھیں بند کی غور کرنے لگی تو کسی کی آواز کچھ یوں سنائی دی
"ہانیہ روٹی !ہانیہ روٹی! اس نے اچانک آنکھیں کھول دی .
"یہ آواززززز یہ آوازززز؟ "اس نے خود سے پوچھا. "کہاں سنی ہے کہاں ؟ ۔ذہن پر زور دینے کے بعد بھی اسے یاد نہیں آرہا تھا
(اب وہ پندرہ سال کی لڑکی تھی بچپن والی بات کا اسے کچھ پتہ نہیں تھا کیونکہ تب وہ محض چار سال کی تھی اور کبھی گھر والوں نے بھی اس بات کا زکر نہیں کیا اس لیے وہ انجان تھی)
اسے محسوس ہوا اسٹور روم میں کوئی چیز گھوم رہی ہے وہ آہستہ آہستہ اسٹور روم کی طرف گئی
دروازے کے پاس پہنچی تو اس نے دیکھا کےبیچ میں بیلن رکھا ہے.
" یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟" اس نے خود کلامی کی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا وہ چونک گئی
"ہانی یہاں کیا کر رہی ہو ؟.امی نے پوچھا۔
" ماما کچھ نہیں اسٹور سے کچھ آوازیں آرہی تھی مجھے لگا چوہا ہے میں آئی تو بیلن یہاں رکھا تھا پتہ نہیں کون لایا "۔ہانی نے کہا۔
بیلن ؟یہاں کیسے؟۔ امی سوچ میں پڑ گئیں
امی؟ امی کہاں گم ہوگئیں؟۔ ہانی نے امی کو ہلایا۔
"ہاں۔۔ اوہ ۔۔کوووچھھھ کووچھ کچھ نہیں چلو تم چلو یہاں سے پڑھائی کرو" ۔امی نے کہا
"جی جی چلیں".ہانی نے کہا
امی نے اسٹور سے نکلتے ہوئے سوچا کہیں وہ واپس ۔"نہیں نہیں یہ کیسے ممکن ہے "امی نے سوچ کو رد کیا ۔
رونوں صحن میں آگئے دروازہ بجا تو ہانی نے کھولا
"ابو اسلام وعلیکم"ہانی نے سر جھکا کر سلام کیا۔
" وعلیکم السلام کیسا ہے میرا بچہ؟"ابو نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔
"میں ٹھیک ابو"ہانی نے کہا۔
دونوں اکر صحن میں بیٹھے دونوں باتیں کرنے لگے۔
ابو نے دیکھا امی خاصی چپ ہیں ۔
"کیا ہوا بیگم آپ کچھ پریشان نظر ارہی ہیں؟" ابو نے پوچھا ۔
امی نے چونک کر ابو کو دیکھا پھر سوچا رات کو بتائیں گی
۔"جی وہ کچھ نہیں بس طبیعت تھوڑی ٹھیک نہیں "امی نے بولا ۔
"ارے نہیں نہیں! ابو اصل میں اپکو پتہ ہے نہ امی چوہے سے کتنا ڈرتی ہیں بس وہ اسٹور روم میں شاید چوہا اگیا ہے امی ڈر رہی ہیں" ہانی نے ہنستے ہوئے کہا۔
"چلو بیٹا! اپکی امی کسی سے تو ڈرتی ہیں ورنہ ہمیں تو لگا تھا بس ڈراتی ہیں" ابو نے مذاق میں کہا.
جسے سن کر ہانی اور گھر میں داخل ہونے والے نقاش اور ریشم کا بھی قہقہہ بلند ہوا ۔ امی کے بھی چہرے پر مسکراہٹ آگئی ۔
ان باتوں میں ہی شام گزر گئی
رات کو ابو جلدی سو گئے تو امی نے بھی ذکر نہیں کیا۔
ادھی رات کے وقت ہانی کی انکھ کھلی اسٹور روم سے کچھ آوازیں آرہی تھیں
" لگتا ہے چوہا ہی ہے اف اللّٰہ میری اسٹوری بکس آپی بھائی کے نوٹس کہیں ریک پر نہ چلا جائے یہ" وہ اٹھ کر اسٹور روم گئی لائٹ آن کرنے لگی ہی تھی کہ کچھ رینگتا ہوا اسکے پاؤں سے اکر ٹکرایا.
" ابھی بتاتی ہوں چوہے کے بچے". لائٹ آن کی ہی تھی کے اس نے دیکھا پاؤں کے پاس بیلن پڑا ہے۔
" یہ یہاں اوھووو ماما بھی نہ! لگتا ہے شام میں بھول گئی لے جانا " اس نے نیچے جھک کر اٹھایا تو نظر سامنے گئی
یہ تختہ یہاں شام میں تو نہیں تھا ۔وہ الجھن کا شکار ہو گئی ۔"پر امی یہ چیزیں یہاں کیوں رکھ رہی ہیں ؟" ۔وہ دونوں اٹھا کر مڑنے لگی تو اسے محسوس ہوا کسی نے آواز دی ہو
"روٹی بنا دو" اسنے پلٹ کر دیکھا پر کوئی نہیں.
"یہ آواز کہاں سنی ہے؟" خیر چھوڑو۔۔ اس نے زیادہ دھیان نہیں دیا۔
وہ بیلن تختہ کیچن میں رکھ کر اکر سوگئی۔
" امی یہ اپنے بیلن تختہ اسٹور روم میں کیوں رکھا تھا؟ ۔" صبح ناشتے کے دوران ہانی نے پوچھا.
بیک وقت ابو امی نقاش اور ریشم کا ہاتھ رکا۔
" میں نے تو نہیں رکھا تھا". امی نے حیرانی سے کہا
"نہیں امی رات کو اسٹور روم سے آواز آئی میری انکھ کھلی میں گئی تو دیکھا بیلن تختہ رکھا تھا اٹھا کر میں نے کیچن میں رکھا" ہانی نے بتایا.
اس نے روٹی اور آواز والی بات اسلیئے نہیں بتائی کی شاید وہم ہو ۔
امی ابو نقاش ریشم نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔
"ہانی بیٹا آپ نجم کے ساتھ اسکول جائیں لیٹ ہو جائیں گی " ابو نے جلدی سے بات بدلی ۔
"جی ابو " ہانی نے کہا ۔
دونوں نے بیگ اٹھائے اور اسکول کی لیے نکل گئے۔
" ہانیہ کے ابو کل شام بھی یہی ہوا تھا ہانیہ کو بیلن ملا تھا اسٹور سے کہیں بابا پھر سے تو ؟؟
"نہہیں نہیں ہی کیسے ممکن ہے" ابو نے امی کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔
"پر یہ جو ہورہا ہے" امی نے پریشان ہو کر کہا.
" مولوی صاحب تو گاؤں گئے ہیں مہینے بعد آنا ہوگا ان کا اور وہ تعویذ تو میں سمندر میں ٹھنڈا کر چکا چلیں میی شام میں کسی عامل کو دیکھتا ہوں "ابو نے کہا.
" جی ٹھیک ہے "امی نے بولا۔
سب گھر سے چلے گئے تو امی بھی کام نمٹانے لگی گھر کے پورا دن تو کچھ نہیں ہوا
شام میں ہانی امی کے ساتھ کام کرنے لگی ۔دروازہ کھول دیا تھا کہ بیچ میں جانا نہ پڑے۔ ویسے بھی اب دیکھا بھالا محلہ تھا اور چوری ڈکیتی اتنی نہیں تھی ۔
امی کے ساتھ ہانی شام کا ناشتہ بنانے لگی کے دونوں کو لگا پیچھے سے کوئی کمرے میں گیا۔
"لگتا ہے ابو آگئے" ہانی نے کہا.
" ہاں پر سلام نہیں کیا " امی کو تعجب ہوا ۔
"دیکھو تو کہیں طبیعت خراب نہ ہو اللّٰہ نہ کرے"امی نے پریشانی والے لہجے میں کہا۔
" جی امی" ہاتھ دھو کر وہ نکلنے والی تھی کہ ابو کی آواز آئی ابو گھر میں داخل ہو رہے تھے.
" اسلام وعلیکم " ابو نے سلام کیا
امی اور ہانی نے چونک کر دیکھا۔
" ابو یہاں ہیں تو شاید نقاش بھائی؟" ہانی نے امی سے کہا .
"اسلام وعلیکم " نقاش اور ریشم سلام کرتے ہوئے اندر آے نجم بھی ان کے ساتھ اندر آیا.
اب واقعی دونوں چونکی کیونکہ وہم ایک کو ہو سکتا ہے دونوں کو نہیں ہانی فوراً اندر گئی
روم خالی اسٹور روم میں دیکھا وہ بھی خالی۔ باہر اکر امی کو دیکھ کر نفی میں سر ہلایا ۔
" کیا ہوا سب خیریت ؟"ابو نے پوچھا .
ہانی نے پوری بات بتائی ابو کو بھی لگا معاملہ سنجیدہ ہورہا ہے ۔
"شاید وہم ہوگا اپکا چلیں سب ناشتہ کریں ".ابو نے دھیان بٹایا سب کا اور پورے دن کے حال۔پوچھنے لگے سب سے .
رات کو امی سے کہا "بس اب گھر بدلتے ہیں ".
" ہاں میں بھی یہی کہنے والی تھی ."امی نے ہاں میں ہاں ملائی۔
"کل ہی اسٹیٹ ایجنٹ سے بات کرتا ہوں" ابو نے کہا. اور امی کو سونے کا کہ کر سوگئے ادھی رات کو ہانی کی انکھ کھلی۔۔۔۔۔
ہانی کی آنکھ کھلی اسے محسوس ہورہا تھا جیسے کسی نے سر پر ہاتھ رکھا تھا اسنے برابر میں سوئی بہن کو دیکھا دوسرے پلنگ پر دونوں بھائی بھی سو رہے تھے ۔
"لگ رہا ہے ٹیسٹ کی ٹینشن کچھ زیادہ ہوگئی ہے"۔ اس نے واپس آنکھیں بند کی اور سونے کی کوشش کرنےلگی۔
ہلکی ہلکی غنودگی طاری ہو رہی تھی کہ پھر سے کسی نے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اس نے فوراً آنکھیں کھولیں پر بہن بے خبر سو رہی تھی ۔
"ہانی ۔۔۔۔۔ہانی ۔۔۔۔۔۔۔میرا بچہ روٹی"۔ آواز آئی ہلکی سی "اففففففف اففف یہ آواز "اسنے سر کو دبایا ۔"کہاں سنی ہے کیوں یاد نہیں آرہا ".
"ٹھک۔۔۔۔ ٹھک۔۔۔" اسٹور سے آواز آئی۔ ہانی نے چونک کر دیکھا۔
" یا اللّٰہ کیا کروں اس چوہے کا ".بستر سے اٹھتے ہوئے کہا اسٹور کی طرف گئی ۔
بلب آن کیا سامنے کا منظر چونکانے کہ لیئے کافی تھا بیلن تختہ اور آٹا رکھا تھا۔
" یہ اف اج کل کیا ہوگیا ہے امی کو". اس نے سر پر ہاتھ مارا ۔
سامان اٹھایا اور جیسے ہی پلٹی دروازے کی طرف دیکھ کر اس نے زوردار چیخ ماری بیلن تختہ ہاتھ سے گرا اور وہ بیہوش ہو گئی ۔
۔ریشم دونوں بھائی اور امی ابو کی چیخ کی آواز سے فوراً انکھ کھلی ۔سب فوراً اسٹور کی طرف گئے۔ دیکھا تو ھانی بے ہوش تھی اور پاس بیلن تختہ پڑا تھا ۔
"ہانیییی۔۔۔۔۔۔۔ ہانیییی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"امی رونے لگ گئی ابو نے فوراً پانی چھڑکا ۔
"امممممممم۔۔۔اممممی "ہانی نے تھوڑا ہوش میں اتے ہوئے کہا ۔"ہاں ہانی میری جان آنکھیں کھولو ". امی نے پیار سے کہا .
ہانی نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں ابو نے پانی دیا کچھ بہتر ہوئی ۔
" تم وہاں کیاکر رہی تھی اس ٹائم اور چلائی کیوں؟" ابو نے پوچھا۔
"وہ ابو مجھے آوازیں آئیں تو میں اسٹور میں گئی دیکھا تو بیلن تختہ اور آٹا رکھا تھا میں نے اٹھایا کہ کیچن میں رکھ دوں جیسے پیچھے مڑی مجھے دروازے پر کوئی دکھا سفید رنگ کا لباس پہنا تھا بزرگ جیسے لگ رہے تھے میں ڈر گئی۔ " ہانی نے بتایا ۔
"بس اسی دن کے لیے منع کرتی تھی جاسوسی اور ڈراؤنی کہانیاں نہ پڑھو اب اثر ہورہا ہے نہ۔" آپی نے سر پر ہلکا سا مار کر مذاق میں کہا ۔تاکہ وہ ڈرے نہ۔
"نہیں اپی میں سچ کہ ۔۔۔۔"
"بس چپ کرو امی نے بات کاٹی چلو سونے اور ہانی تم میرے ساتھ سوگی۔ "
" پر امی۔۔۔۔۔۔۔ "
"کہا نہ میں نے چلو۔" ماں تھی کیسے دل مانتا ۔
چاروں بچے سو گئے۔ تو امی نے اکر ابو سے کہا" دیکھا جس کا ڈر تھا وہی ہوا وہ واپس آگئے پر کیوں؟". امی نے تشویش سے پوچھا ۔
"کیونکہ انھوں نے کہا تھا ہانی سے کے میں تمھیں کیسے چھوڑ سکتا ہوں اور میں نے اس وقت غور نہیں کیا تھا"۔ابو نے وضاحت دی ۔
" اپ ایک کام کریں کل ہانی کو بھائی جان کے گھر چھوڑ دیں ہم سامان کل ہی پیک کرنا شروع کرتے ہیں بس گھر خالی کرتے ہیں"۔امی نے فوراً کہا۔
" ہاں میرے کمپنی کی طرف ایک فلیٹ مل رہا ہے وہاں چلتے ہیں"۔ ابو نے بتایا ۔
"جی ٹھیک ہے" ۔امی نے فوراً کہا۔
اگلے دن ابو نے کہا" ہانی بیٹا میں اپکو ماموں کے گھر چھوڑ رہا ہوں اپ کچھ دن وہیں رہیں گی فبیہا کہ ساتھ اسکول جائیں گی ۔"ابو نے ہانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
"یاہووووووو مزہ آئیگا" ہانی نے خوشی سے چلا کر کہا۔
فبیہا ہانی کی کزن تھی دونوں کا اسکول ایک تھا دوستی بھی خوب تھی اس لیے ہانی خوش تھی ۔
ابو نے ہانی کو ماموں کے گھر چھوڑا اور ماموں سے لیٹ ہونے کا کہ کر کمپنی نکل گئے ۔
امی نے دونوں بڑوں کی چھٹی کروائی اور گھر کا سامان پیک کرنے لگے شام تک سب ہو چکا تھا بس رات کا کھانا کھا کر سب سوگئے
صبح ابو نے سوزوکی منگوائی اور سامان بھرنا شروع کر دیا ۔
ایڈوانس وہ نئے گھر کا پہلے ہی دے چکے تھے امی کو لگا کہ شاید ان لوگوں کے جانے پر کچھ ہوگا پر ایسا کچھ نہیں ہوا سب کچھ آرام سے ہوگیا نئے گھر میں سب اچھے سے رکھ دیا ۔
ابو نے کہا
" ہانی کو لانا چاہئے اب "۔
ابو نے نقاش سے کہا" ہانی کو لے آؤ".
انھوں نے بائک کی چابی دی نقاش ماموں کے گھر گیا ملنے کے بعد بتایا کہ ہانی کو لینے ایا ہوں ہانی کمرے میں گئی بیگ لائی ماموں مامی کو پیار کیا ۔
"آتے رہنا" مامی نے پیار سے کہا.
"جی مامی" ہانی نے پیار لیتے ہوے کہا ۔فبیہا سے گلے ملی اور بھائی کہ ساتھ بائک پر بیٹھ گئ۔
" بھائی چلیں ریس لگاتے ہیں". ہانی نے پر جوش ہوکر کہا.
" پاگل ہو گئی ہو". بھائی نے ڈانٹا۔
" بس میں سمجھ گئی بھائی ڈر گئے" ہانی نے تنگ کیا۔
نہیں ایسا نہیں ہے " بھائی نے انکار کیا ۔
"ہاں ہاں بھائی ڈر گئے "۔ہانی نے چڑایا
"بس کر جاؤ ابھی دیکھنا ".بھائی نے اسپیڈ تیز کری جوش میں اکر.
ابھی ایک منٹ ہی ہوا تھا کہ یوٹرن سے ایک لڑکے کی بائک سامنے ائی اور دونوں بائک ٹکرا گئی لڑکا گرا اسکے اوپر اسکی بائک نقاش کے انکھ کے اوپر گھرا کٹ لگ گیا ہانی روڈ پر گری تھی پاؤں مڑ گیا تھا اسنے سامنے دیکھا تو ایک کار تیزی سے اس کی طرف آرہی تھی ۔۔۔۔۔۔
_
ہانی نے فوراً اٹھنے کی کوشش کی پر موچ کی وجہ سے ہل نہیں سکی . اچانک ایسے لگا جیسے کسی نے پکڑ کراسے سائیڈ کردیا. اسی وقت کار تیزی سے اس کے پاس سے گزری اور وہ پہلی بار تھا جب ہانی نے موت کو اتنے قریب دیکھا.
لوگ آئے بھائی کو اٹھنے میں مدد کی وہ لڑکا تو اسی وقت بائک اٹھا کر بھاگ گیا. اچھا ہوا سامنے ہی کلینک تھا بھائی کو ٹانکے آئے تھے ۔ بھائی کی ٹینشن میں ہانی نے دھیان نہیں دیا کہ اس کے اس کے پاؤں میں درد نہیں ہے موچ کا۔
بھائی یہ ہم کہاں جا رہے ہیں. اس نے دوسرے روڈ پر بائک موڑی تو ہانی نے پوچھا ۔ہم نے گھر نیا لیا ھے وہ چھوڑ دیا ہے مالک مکان نے کہا تھا کچھ کام کرانا ہے .اس نے کسی حد تک ہانی کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ۔
ارےےےے واہ اور مجھے بھی نہیں بتایا بس میں بات نہیں کرونگی کسسی سے . اکیلے اکیلے سب کرلیا اس نے روٹھنے والے انداز میں کہا ۔اچھا اترو اگیا گھر ۔ بھائی نے کہا ۔ گھر تو اچھا ہےاس نے دیکھتے ہوے کہا ۔ہاں اب چلو مجھے چکر آرہے ہیں. بھائی کو کمزوری لگ رہی تھی۔ بھائی ایک کام کرے میں سہارا دیتی ہوں ۔چلیں ۔اس نے اگے بڑھتے ہوئے کہا۔
سنیں اتنا ٹائم ہوگیا یہ دونوں کہاں رہ گئے بھائی کا فون آیا تھاکہ پہنچے یا نہیں ۔امی نے پریشانی سے کہا ۔ہاں کافی ٹائم ہوگیا ۔ابو بھی پریشان ہوئے۔
دروازہ بجا ۔شاید یہ دونوں ہیں امی فوراً لپکی نقاش جیسے دروازہ کھولا سامنے کا منظر دیکھ کر امی چلا اٹھیں ۔ابو دروازے کی طرف گئے دیکھا کہ نقاش کہ انکھ کے اوپر ٹانکے آئے ہیں اور خراشیں ہیں ہانی نے سہارا دیا ہوا ہے ۔
نقاش کیا ہوا بیٹا ابو نے پوچھا ۔کچھ نہیں ابو وہ سامنے سے بندہ اسپیڈ میں آرہا تھا ہم یو ٹرن لے رہے تھے تو ٹکر ہوگئی۔ بھائی نے بولا۔تب ہی کہتا ہوں احتیاط کیا کرو۔ ابو نے کہا ۔
کتنی چوٹ لگ گئی میرے بچے کو جاؤ آرام کرو میں ہلدی والا دودھ لائی ۔ نقاش روم میں گیا امی کیچن میں.
ہانی بیٹا آپ ٹھیک ہو ابو نے پوچھا ۔ہاں بابا میں ٹھیک ہوں بلکل پاؤں میں موچ آئی تھی کچھ دیر بعد ٹھیک ہوگئی تھی ۔گھر اچھا ہے. پر ابو اپ لوگوں نے بتایا نہیں مجھے اس نے نروٹھے پن سے کہا ۔ بیٹا سر پرائزئ دینا تھا نہ ۔ابو نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اچھااا جی ویسے ابو آپی اور نجم کہاں ہے ۔ اس نے اندر جھانک کے پوچھا ریشم دوست کے گھر گئی ہے پڑھائی کا پوچھنے نجم سو رہا ہے ۔ ابو نے بتایا ۔
امی نے کیچن سے اس کی پہلی بات سن کر غور کیا کہ نقاش کو جیسے چوٹ لگی ہے ہانی کو تو اس مقابلے میں کچھ نہیں ہوا. ما شاءاللہ سے وہ تو بلکل ٹھیک ہے ایک خراش بھی نہیں آئی ۔گرے تو دونوں ساتھ تھے جیسے ہانی نے بتایا۔
ایسی کچھ سوچ ہانی کے دماغ میں بھی چل رہی تھی ۔ابو میں زرا کچھ دیر آرام کرلوں اس نے دیکھا لاونج کے بعد دو چھوٹے روم ہیں اس نے اندر جھانکا تو نجم سو رہا تھا اور بھائی برابر میں لیٹے تھے اندر .وہ دوسرے روم گئی تو آپی اور اس کا سامان سیٹ تھا ۔
ہاں یہ صیح ہے ہمارا الگ بھائیوں کا الگ اور ماسٹر بیڈ روم ماما پاپا کا ویسے یہاں اسٹور روم اوہ ہوو ہہاہہاہاہا میں بھی نہ اب کیا اسٹور روم میرے ساتھ ساتھ رہے گا ۔' اسی لمحے اسے محسوس ہوا کوئی ہلکے سے ہنسا ہے ۔اف صیح کہتی ہے آپی سر پر سوار ہوگئیں ہیں کہانیاں میرے ۔ اس نے سوچا اور بستر پر لیٹ گئی ۔
ویسے چوٹ تو میری کہنی پر بھی لگی تھی اور میری موچ ۔اس نے اٹھ کر پاؤں دیکھا تو بلکل صیح. کہنی پر بھی کوئی نشان نہیں ۔اور مجھ سے تو اٹھا نہیں جا رہا تھا تو پھر میں سائیڈ کیسے ہوئی اتنی جلدی کوئی روڈ پر تو نہیں آ سکتا مدد ک لیے ۔ چلو اللّٰہ نے حفاظت کیی ہمممممم ہوگا کوئی اللّٰہ کا بندہ ۔۔۔میں تو سوؤں۔ 🌸🌸🌸🌸🌸
(چار سال بعد )
🌸🌸🌸🌸🌸
اس واقعے کے بعد سب نارمل رہا چار سال ہوگئے پھر ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ۔
حال
ابو جاب پر تھے ۔بڑے دونوں یونی نجم اسکول ہانی کالج تھی ۔گرمیوں کے دن تھے مئئ کے آخری دن چل رہے تھے۔
امی نے فرش پر پانی ڈالا کے تھوڑا ٹھنڈا ہوجاے۔دروازہ بجا اس ٹائم کون اگیا کون .امی نے پوچھا امی میں کھولیں. ہانی کی آواز آئ. امی نے دروازہ کھولا ارے ابھی تو تمھیں گئے ہوے ایک گھنٹہ ہوا کیسے آگئی ۔امی وہ پریکٹیکل جمع کروانا تھا بھول گئی تھی لاسٹ ڈیٹ ہے کل رات تک ٹیسٹ یاد کر رہی تھی. اچھا اچھا جاؤ۔امی نے کہا جی جی ۔وہ تیزی سے چلتے ہوئے اندر جانے لگی ۔
ٹائیل کی وجہ سے اس کی نظر پانی پر نہیں گئی وہ اسپیڈ میں چلی پاؤں پھسلا وہ چلائی امیییییییی ۔امی نے فورا دیکھا ہانی منہ کے بل گری اس کا سر دروازے پر لگا امی بھاگتے ہوے گئی اسے اٹھایا
ہانی بیٹا ٹھیک ہوں امی نے فوراً پوچھا ۔ پر وہ اس جگہ کو دیکھ رہی تھی ۔ کیا ہوا بیٹا امی نے ہوچھا ۔امی ایسے لگا کسی نی مجھے سنبھالا کسی نے سر کے سامنے ہاتھ کردیا مجھے دروازہ نہیں لگا ۔حیرت تو امی کو بھی ہوئی تھی ۔اسکے بیگ سے موبائل کی رنگنگ کی آواز آئی اس نے فورا اٹھ کر موبائل دیکھا امی میں چلتی ہوں فرینڈ کے مسیج ارہے ۔
اس نے کمرے میں جاکر دوسرا یونیفارم نکالا .پہن کر پریکٹیکل لے کر کالج بھاگی ۔امی نے پانی وائپر سے صاف کیا پر وہ بھی سوچ رہیں تھی کہ حیرت ہے ہانی گری پر اللّٰہ کا شکر نہیں لگی ۔ورنہ جتنی زور سے یہ گری تھی اور کیا کہ رہی تھی وہ کسی کا ہاتھ محسوس ہورہا تھا نہیں نہیں وہم ہوگا اس . امی دوبارہ کام میں مصروف ہوگئیں
ہانی کالج پہنچی پریکٹیکل جمع کروایا کلاس میں گئی تو فبیہا نے پوچھا کہاں رہ گئی تھی. ارے کہیں نہیں یار گر گئی تھی گھر میں فرش گیلا تھا کپڑے گیلے ہوگئے تھے چینج کرنے میں ٹائم لگ گیا اس نے نے بتایا ۔
اوہوو لگی تو نہیں کہیں تمہیں فبیہا نے تشویش سے پوچھا ۔ لگی ۔۔۔۔ہانی سوچ میں ڈوب گئی ۔او میڈم فبیہا نے ہلایا کہاں گم ہوگئی ۔کہیں نہیں ہاں بس بچت ہوگئ کہیں نہیں لگی چلو کینٹین بھوک لگی ہے ۔ہاں چلو ۔دونوں کینٹین کی طرف چلی گئیں۔
اسلام وعلیکم امی ہانی نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا ۔وعلیکم اسلام ہانی کیسا گزرا دن ۔امی نے پوچھا ۔ ٹھیک امی تھوڑی تھکن ہورہی ہے بس سونگی ۔پہلے کھانا کھا لو نہیں امی بس بھوک نہیں۔کینٹین میں کافی کچھ کھالیا تھا ۔ اچھا چلو ٹھیک ہے آرام کرو ۔۔
کمرے میں گئی فریش ہوکر لیٹی تو اج کا واقعہ اسے یاد آیا ۔میں پھسلی ۔۔۔۔فرش پر گری ۔۔۔۔۔میرا سر دروازے سے ٹکرایا ۔۔۔تو پھر میں بچ کیسے ؟؟. اور وہ ہاتھ ایسا لگا کسے کی انگلیاں تھیں اس نے محسوس کیا جانا پہچانا سا لمس تھا ۔ سوچتے سوچتے وہ سوگئ شام میں اٹھی تو سب لاونج میں بیٹھے تھے ۔
اٹھ گئی محترمہ ۔بھائی نے چھیڑا ۔امییییی ہانی چلائی۔ نقاش نہ کرو اسے بیٹھو میں چائے لاتی ہوں ۔امی نے پیار سے کہا ۔اللہ اللّٰہ امی کچھ اسے بھی کرنے دیں انیس کی ہو چکی ہے ۔اپی نے کہا۔ نہیں آپی یہ بس سو سکتی ہے اور ناولز پڑھ سکتی ہے ۔نجم نے بھی مذاق بنایا ۔
ابو دیکھیں نہ ۔ہانی نے ابو سے کہا ۔بھئ کہ تو صیح رہے ہیں سب ابو نے بھی کہا۔ابو اپ بھی ۔وہ روہانسی ہوگئ۔ارے بھئ سیکھ جائے گی بچی ہے ۔امی نے اس کی سائیڈ لی ۔نہیں امی بس ٹھیک اج سے رات کا کھانا میرا میں بناؤں گی ۔ہانی نے فوراً کہا۔
یا اللّٰہ رحم بھئ میں تو اج باھر سے بریانی لاونگا ۔نقاش نے کہا ھمارے لیے بھی لے آنا نجم اور ریشم نے کہا۔اف دیکھ لینا اتنا اچھا بناونگی نہ اور ہے نہ گائیڈ کیے لیے ۔بس میں اج کڑھائ اور روٹیاں بناؤں گی ۔ چلو دیکھتے ہیں نقاش نے کہا ۔
مغرب کے بعد امی کے ساتھ ملکر کڑھائی بنا لی. باری روٹیوں کی تھی .بس بیٹا میں بنا لونگی نہیں امی میں بناتی ہوں. اس نے آٹا گوندھنا شروع کیا آرام سے اور امی بھی کچھ پل کے لیے حیران رہ گئیں اس نے صحیح گوندھا تھا ۔
جب وہ پیڑا بن اکر روٹی بیلنے لگی اس کے ذہن میں جھماکا ہوا۔یہ پہلے میں کر چکی ہوں اسے یاد آیا .وہ آہستہ آہستہ ہاتھ گھومانے لگی ۔میں بیٹھی ہوتی تھی کوئی سامنے ہوتا تھا میں ایسے ہاتھ گھماتی تھی اس نے ہاتھ روک دیا روٹی بیل دی تھی توے پر ڈال دی امی کو حیرانی پر حیرانی تھی ۔
ہانی تم نے کہیں سے دیکھا ہے یا میرے پیچھے میں کبھی بنائی ہے ۔امی نے پوچھا ۔نہیں امی بس مجھے ایسا لگا کہ میں نے پہلے کبھی ایسے کیا ہے اور میرے ہاتھ ہلتے گئے ۔اس نے جواب دیا۔امی چونکی پر کچھ کہا نہیں۔
ارے واہ واہ کیا خوشبو ہے اور روٹیاں تو دیکھو واہ کیا گول گول اور پھولی ہوئی ۔نقاش نے دسترخوان پر بیٹھتے ہوئے کہا۔بس میں نے کہا تھا نہ ہانی نہیں کر سکتی کچھ ۔امی نے ہی بنایا آخر ۔نجم نے کہا ۔
نہیں ہانی نے ہی بنایا ہے میں نے صرف سمجھایا ہے ۔امی نے سنجیدگی سے کہا ۔ارے واہ ہماری بیٹی نے تو کمال کر دیا۔ابو نے تعریف کی ۔ہانی بہت خوش ہوئی سب کو کھانا بہت پسند آیا۔ بس پھر رات کے برتن بھی ہانی دھوئے گی ۔ آپی نے کہا ۔ہاں ہاں ٹھیک ہے ۔اس نے ہامی بھرلی۔
کھانے کے برتن سمیٹ کر جب وہ جانے لگی تو پیچھے سے آواز آئی ہانیہ میری روٹی۔ وہ فوراً پیچھے مڑی ۔ بابا اس کے منہ سے خود الفاظ ادا ہوے۔پیچھے کوئی نہیں تھا پر یہ آواز اور میں نے بابا کیوں کہا ۔ہانی امی کی آواز پر وہ پلٹی ۔ جی امی کی ہوا بیٹا کام ختم نہیں ہوا ہوگیا امی بس آرہی تھی ۔
اچھا چلو تمھاری چھوٹی مامی کی کال آئی ہے ۔امی نے کہا ۔جی امی چلیں ۔اواز والی بات اس نے امی کو نہیں بتائی اسے پتہ تھا امی چھوٹی چھوٹی بات پر پریشان ہو جاتی ہیں ۔دونوں لاونج میں گئے تو ریشم نے کہا آجائیں محترمہ مامی پوچھے جا رہیں آپ کا ۔ریشم نے فون دیا مامی کو ۔
اسلام وعلیکم مامی ۔ہانی نے فون لیتے ہوئے کہا ۔وعلیکم اسلام میری جان خوش رہو کیسی ہو ۔مامی نے پوچھا میں ٹھیک مامی اپ بتائیں اور ماموں کیسا ہیں ۔ہاں وہ ٹھیک ہیں دراصل وہ اج کام کے سلسلے میں دوسرے شہر جانے والے ہیں دو دن بعد آئیں گے تو تم۔یہاں آجاؤ رکنے کے لیے مامی نے بات بتائی ۔
ارےے جی جی مامی میں امی ابو سے پوچھ لوں پھر آجاؤں گی بھائی کے ساتھ ۔ہانی نے کیا ۔میں پوچھ چکی ہوں دونوں سے انھوں نے اجازت دے دی ہے ۔مامی نے کہا ۔اچھا چلیں ٹھیک ہیں مامی میں پیکنگ کر لوں ۔ اچھا اللّٰہ حافظ مامی نے کہا۔ جی اللّٰہ حافظ۔ہانی نے کال کٹ کی ۔
ابو امی پھر میں جاؤں ۔اس نے پوچھا ہاں ہاں جاؤ بیٹا ۔
(مامی کی کوئی اولاد نہیں تھی. اس لیے جب ماموں کام سے دوسرے شہر جاتے تو مامی ہانی کو بلا لیتی تھیں .اس کی باتوں اور شرارتوں سے ان کا دل لگا رہتا تھا)۔
شام میں نقاش نے اسے ڈروپ کردیا ۔اور وہیں سے اکیڈمی چلا گیا ۔
اسلام وعلیکم مامی ۔اس نے مامی کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا ۔وعلیکم اسلام میری گڑیا آگئی مامی پیار کرتے ہوئے کہا ۔ہاں جی میں آگئی مامی ماموں کہا ہیں چلے گئے کیا ۔نہیں عشاء کے بعد جائیں گے ابھی تو مغرب ہونے والی ہے ۔ آپ کے ماموں کیچن میں سینڈوچ ریڈی کر رہے پتہ ہے نہ تمہیں انکے کوکنگ کا شوق مامی نے مسکراتے ہوئے بتایا
ہاہاہا جی اچھا میں بیگ رکھ دوں روم میں پھر ملتی ان سے ۔ وہ اوپر گئی بیگ رکھ کر سیدھا کیچن میں گئی سامنے وائٹ ڈریس میں کوئی کھڑا تھا پر ہانی کی طرف پیٹھ تھی اسلام و علیکم ماموں جیسے ہی وہ بڑھی اچانک لائٹ گئی کیچن میں اندھیرا ہوگیا وہ اگے بڑھی تو کسی سے ٹکرا گئی وہ اچانک پیچھے ہوئی ماموں کیا ہوا لائٹ کیوں گئی اس ٹائم ۔
ہانی ہانی یہاں آ جاؤ ۔ لاونج سے مامی ماموں دونوں کی آواز آئی ۔اب سچ مچ وہ چونکی لائٹ واپس آگئی ہانی بلکل اپنی جگہ فریز ہوگئ اگر ماموں باہر تھے تو یہاں کون تھا وہ فوراً باہر گئی ماموں اپ ابھی کیچن میں تھے جب میں نے سلام کیا ارے نہیں بچہ میں تو کب سے یہیں ہوں جب اپ کو اوپر جاتے دیکھا تھا ۔ اپ اوپر جارہی تھیں تو میں یہاں آیا تھا
تو پھر وہ کون تھا ۔اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے کیونکہ وہ کسی سے ٹکرائی تھی ۔کیا ہوا ہانی بچہ کچھ پریشان لگ رہی مامی نے پوچھا ۔نہیں مامی اس نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔
کچھ نہیں مامی بس ایسے ہی۔اس نے بمشکل مسکراتے ہوئے کہا۔ اچھا آؤ سینڈوچ اور چائے لو ۔مامی نے کہا۔ہاں بھئ کھاؤ اور بتاؤ ایسا مزیدار سینڈوچ کھایا ہے ۔ماموں نے فخر سے کہا ۔جی ماموں۔ پر اس کا دھیان بار بار وہیں جا رہا تھا
ہانی بیٹا طبیعت تو ٹھیک ہے نہ خاموش ہو اج ۔مامی نے پوچھا ۔ہاں مامی بس سر درد ہورہا ہے ٹیبلیٹ لی کے سوتی ہوں ہاں اچھا ٹھیک ہے ۔جاؤ آرام کرو ۔مامی نے پیار کیا ۔وہ کمرے میں اکر لیٹی تو سو گئی
آدھی رات کو اس کی انکھ کھلی تو اسے پیاس لگ رہی تھی وہ کیچن میں گئی فریج سے پانی نکالا جگ میں بھر کر مڑی تھی کے سامنے کا۔منظر دیکھ کر وہ سناٹے میں اگئ ۔
گلاس اور جگ اس کے ہاتھ سے گر گیا ۔اس نے زور دار چیخ ماری . مامی کی آواز اس کی چیخ سے کھلی ۔وہ باہر آئیں اوپر جانے لگی تو انھوں نے دیکھا کیچن کی لائٹ جلی ہیں وی کیچن میں گئی تو ہانی زمین پر خوفزدہ بیٹھی کانپ رہی تھی ۔
ہانی کیا ہوا ہانی ۔مامی اس کے پاس بیٹھیں مامی وہ ادھر اس نے انگلی سی اشارہ کیا ۔انھوں نے دیکھا تو سامنے بیلن تختہ رکھا تھا یہ یہاں ؟؟؟۔ایک۔لمحے کے وہ بھی چونکی پھر انھوں نے ہانی سے پوچھا کے چلائی کیوں وہ مامی کوئی بیٹھا تھا یہاں ۔اس نے ڈرتے ڈرتے بتایا ۔
ارے بیٹا کون ہوگا سب دروازے تو بند ہیں ۔انھوں نے ڈر کم کیا اس کا نہیں مامی کوئی تھا اچھا اٹھو سونے چلو بس ایسے ہی ڈر گئی ہوگی ۔پر اندر سے مطمئن وہ بھی نہیں تھی کیونکہ رات کو وہ جب جگ میں پانی لینے آئیں تھی تویہ چیزیں یہاں نہیں تھیں اپنی جگہ پر تھیں۔
وہ اسےلے کر باہر نکلی اپنے ساتھ سلایا مامی کی گود میں سر رکھ کر وہ سو بھی گئ پر مامی کو نیند نہیں آرہی تھی انھیں لگ رہا تھا کچھ تو گڑ بڑ ہے صبح جب وہ کیچن میں گئیں تو انھوں نے دیکھا کے ۔۔۔۔۔۔۔
انھوں نے سامنے دیکھا کہ تختہ بیلن اپنی جگہ پر ہے ۔پر میں نے تو اٹھایا نہیں اور ماسی ابھی تک آئی نہیں ہیں اس کا مطلب واقعی کچھ مسئلہ ہے ہانی کے ساتھ۔ انھوں نے سوچتے ہوئے چائے چڑھائی۔ آملیٹ ریڈی کرا اور سلائس لے کر باہر آگئیں ۔۔
ناشتے سے فارغ ہو کر انھوں نے برتن دھوئے اور ٹی وی لاونج میں جا کر بیٹھ گئیں ۔ہانی انھیں بہت عزیز تھی۔ کچھ سوچتے ہوئے انھوں نے ایک فیصلہ کیا ۔
موبائیل اٹھا کر کال ملائی ۔مجھے آپ سے ملنا ہے آپ آجائیں یا میں آجاؤں جیسا اپ کہیں ۔جی اچھا صحیح ہے دوسری طرف سے بات کرکے انھوں نے کال کاٹ دی ۔پھر انھوں نے ہانی کی ماما کو کال۔ملائ باجی ہانی کچھ دن تک۔یہیں رہے گی ویسے بھی کالج سے اف ہے اب ۔ انھوں نے کہا
جی بھابھی جیسا اپ کو ٹھیک لگے پھر ادھر ادھر کی بات کے بعد انھوں نے فون رکھ دیا۔ ٹی وی آن کیا نیوز وغیرہ دیکھنے لگیں ۔ہنای کچھ دیر میں روم۔سے نکلتے ہوئے آئی ۔اٹھ گئی میری بیٹی ۔جی مامی اس نے صوفے پر لیٹ کر مامی کی گود میں سر رکھ لیا ۔
مامی ۔ہاں کہو انھوں نے پوچھا ۔مامی کل رات اگر وہ میرا وہم۔تھا کے کوئی وہاں تھا تو بیلن تختہ وہاں کیا کر رہا تھا ۔اس نے اٹھتے ہوے پوچھا اور مامی کل شام جب میں کیچن میں گئی تو کوئی کھڑا تھا میں سمجھی ماموں ہیں میں اندھیرے کی وجہ سے ٹکرائ بھی تھی پر اسی ٹائم آپ لوگوں نے آواز دی اور لائٹ آئی کوئی نہیں تھا کیچن میں ۔
اچھا کل تبھی تم کل خاموش تھی ۔اچھا یہ بتاؤ یہ سب یہاں آنے کے بعد ہوا ہے تمہارے ساتھ ۔انھوں نے پوچھا ۔نہیں مامی کچھ دنوں سے ہی ہورہا ہے اس نے پھسلنے والے دن سے سے ابھی تک کی ساری باتیں تفسیل سے بتائی ۔
بابا ہمممممم تمھارے منہ سے یہ کیوں نکلا۔مامی پتہ نہیں پر پتہ نہیں کیوں یہ آواز جانی پہچانی لگتی ہے مجھے پر یاد نہیں آتا ۔
اچھا چلو فریش ہو جاؤ ناشتہ کرو ہمیں کہیں جانا ہے ۔مامی نے کہا۔مامی کہاں جارہے ہیں ۔اس نے تجسّس سے پوچھا ۔ملوانا ہے تمھیں کسی سے ۔اچھا مامی ٹھیک ہے وہ کیچن میں گئی تھوڑا ڈر لگ رہا تھا پھر مامی بھی آگئی تو مطمئن ہوگئ ۔بیلن تختے کو دیکھ کر اسکے جسم میں جھر جھری سی آگئی۔
ناشتہ کر کے اس نے فریش ہوکر عبایا پہنا اسکارف باندھا ۔باہر مامی بھی عبایا پہنے اسی کے انتظار میں تھی ۔چلو انھوں نے گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے کہا ۔مامی ہم جا کہا رہے ہیں ۔اس نے گاڑی میں بیٹھ کر پوچھا ۔صبر لڑکی صبر ۔مامی نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
کچھ ہی دیر میں گاڑی ایک متواسط درجے کے علاقے میں داخل ہوئی ۔ ایک گھر کے سامنے گاڑی روکی مامی نے اترو ہانی مامی نے بیل بجائی ۔اندر سے بچہ ایا جی کس سے ملنا ہے بیٹا دادا کو بولیں ۔طیبہ آنٹی آئی ہیں۔
جی جی آئیں دادا نے کہا تھا کوئی آنٹی آئیں اور یہ نام۔بتائیی تو اندر لے آؤں ۔وہ دونوں اندر گئی۔ ڈرائنگ روم میں سفید چادر اور گاؤ تکیے لگے تھے ۔بیٹھے میں دادا کو بلاؤں۔وہ بچہ اندرگیا
تھوڑی دیر میں سفید شلوار قمیص سر پر ٹوپی میں ایک بزرگ اندر آئیں دونوں کھڑی ہوئیں سلام کیا انھوں نے سر پر ہاتھ رکھا ان کی بہو اندر آئیں دونوں کو سلام کیا ناشتہ رکھا اور حال چال پوچھ کر باہر چلی گئیں انھیں پتہ تھا کہ ابھی ان لوگوں نے اپنا مئسلہ بتانا۔ ہے۔
اپ لوگ ناشتہ کریں بزرگ نے کہا۔ حاجی صاحب دراصل ہم۔ ناشتہ کر کے ائے تھے میں بس زرا بچی کی وجہ سے پریشان ہوں جو اس کے ساتھ ہورہا ہے ۔انھوں نے جلدی جلدی کہا ۔بزرگ نے ہانی کو دیکھا پریشان نہ ہو بیٹا وہ اپکو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ۔خود غور کرو اج تک جب بھی تمہیں کچھ ہوا ہے اس نے سنبھالا ہے ہمیشہ انسیت ہے اسے تم سے کس وجہ سے ہے یہ وہی بتا سکتا ہے پر ڈرو مت تم۔نے اس کے کام انا ہے انکے اس طرح بولنے پر جہاں مامی چونکی وہیں ہانی سوچ میں پڑ گئی ہاں واقعی بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا میں بچی میرا سر دروازے پر نہیں لگا ۔ پر میں ان کے کام۔۔۔۔
تو دادا وہ مجھ سے چاہتے کیا ہیں ۔یہ تو بیٹا وہ ہی بتا سکتا ہے میں اتنا ہی بتا سکتا ہوں جتنی میری دسترس ہے ۔انھوں نے کہا ۔پر وہ مجھ سے کیا بات کرنا چاہتے ہیں ۔اس نے بے چینی سے پوچھا ۔مستقبل کی باتیں صرف وہ رب جانتا ہے بیٹا۔
ٹھیک ہے حاجی صاحب پھر ہم۔چلتے ہیں بہت شکریہ ۔ ارے بیٹھے ۔انھوں نے کہا ۔نہیں نہیں بس اب چلتے ہیں جزاک اللّہ ۔انھوں نے دونوں کے سر ہر ہاتھ رکھا ۔وہ دونوں بایر آگئیں ۔مامی کچھ مطمئن تھی کے کم از کم کچھ نقصان تو نہیں ہوگا ہانی کو
مامی کیا یہ صحیح کہ رہے تھے ۔ہانی نے ہوچھا ہاں بیٹا بس اللّٰہ کی خاطر مدد کرتے ہیں اور پھر جیسا تم نے بتایا کہ جس طرح تم بچی ہو تو پھر وہ نقصان کیوں پہنچائے گیں۔ ااچھا مامی میں کچھ دن کے لیے اپ کے پاس رہونگی ۔اس نے کہا ۔ہاں میں پہلے ہی کہہ چکی ہوں باجی سے کے یہاں چھوڑ دیں ۔
ویسے بھی اس سچویشن میں تمھارا وہاں رہنا ٹھیک نہیں۔گھر آیا تو دونوں اندر آئیں ۔ابھی دوپہر کے کھانے میں ٹائم ہے تم بیٹھو ٹی وی دیکھو یا روم میں جاکر ناولز انجوئے کرو میں شاور لی کر وظائف پڑھونگی انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مامی اوپر گئیں تو اس نے سوچا کیچن سے کچھ کھانے کا لے کر بس ناول پڑھے ۔اس نے کیچن میں قدم رکھا تھا کہ سامنے دیکھ کر اس کے قدم وہیں جم۔گئے۔کوئی چھوٹی بچی تھی اور زمین پر بیٹھ کر کچھ کر رہی تھی وہ آہستہ آہستہ قریب گئی بچی کے پاس سے مسلسل آواز آرہی تھی ٹھک۔۔۔۔۔۔ٹھکک۔۔۔۔
وہ جیسے ہی ہلکے ہلکے قدم لے کر اس کے سامنے گئی ۔وہ بری طرح چونک گئی یہ تو میں ہوں اور وہ بیلن کو تختے پر مار رہی تھی اور ہنس رہی تھی ۔
ہانی میرا بچہ کچھ یاد ایا وہ آواز سن کر چونکی ۔کککک۔ ۔۔۔۔کون ہے ۔۔۔۔ککک کون ہے ۔اس نے پوچھا میں ہوں ہانی کا بابا ۔اس نے مٹھاس سے بھرا لہجہ سنا ۔ایک پل کے لیے سوچا چلائے ۔پر پھر اسے یاد آیا اسلامیات کی مس ثوبیہ نے بتایا تھا ۔کہ اشرف المخلوقات ہے اور انھیں سب پر سب سے زیادہ فضیلت ہے۔
آپ سامنے آئیں اس نے ہمت کر کے کہا دل ہی دل میں سورہ الفلق پڑھ رہی تھی اسے لگا پیچھے کوئی کھڑا ہے وہ پیچھے مڑی تو کوئی سفید لباس میں بزرگ تھے ۔ چہرہ نورانی تھا ۔اپ کون ہیں میں نے اپ کو کہاں دیکھا ہے ۔اور اپ میرے ساتھ یہ سب کیوں کر رہے ہیں اس نے ہمت کر کے پوچھا ۔میری روح کو سکون چاہیے بیٹا مجھے انصاف چاہیے جس میں صرف تم میری مدد کر سکتی ہو ۔
اس نے نا سمجھی سے دیکھا۔بتاتا ہوں بیٹا سب بتاتا ہوں اور س لمحے ان کے چہرے پر جو درد تھا ہانی کے دل۔ میں دکھ کا احساس ہوا ۔
___
دو بھائی تھے ہم۔ میں بڑا محمد شاہ اور وہ محمد علی بہت پیار کرتا تھا میں اس سے جان سے زیادہ ۔پر وہ مجھ سے دور بھاگتا تھا ۔ابا جان نے مجھے دینی اور دنیاوی تعلیم دلوائی ۔
بالغ ہوا تو میں نے تھوڑے پیسوں سے آٹے کا کام شروع کیا ۔ آہستہ آہستہ کر کے خوب ترقی دی اللّٰہ نے ۔میں پچیس کا تھا جب اماں کی ڈیتھ ہوئی ۔ابو اور چھوٹے کو میں نے سنبھالا۔وقت کے ساتھ ساتھ وہ اور دور ہوتا گیا مجھ سے پڑھائی میں بھی دلچسپی نہیں لیتا ابا نہیں کچھ کہتے تھے کہ ماں نہیں ہے کیا کریں ۔میری تو وہ پہلے بھی نہیں سنتا تھا
ابا نے سوچا میری شادی کرا دے میری بیگم حمیدہ بہت سلجھی ہوئی نیک اطوار کی مالک۔تھی اتے ہی دوسرے دن پورا گھر سنبھال لیا۔میں نے غور کرا علی کا رویہ اس کے ساتھ بھی ویسی تھا وہ کبھی کبھی بدتمیزی بھی کر جاتا پر وہ کچھ نہیں کہتی تھی ۔
ہماری شادی کو پانچ سال ہوگئے تھے ہر اولاد نہیں ہوئی تھی ہم۔اللہ سے شکوہ نہیں کرتے تھے بس دعا کرتے تھے وہ جوان ہوا اپنے لیے لڑکی پسند کری ابو نے چھان بین کروائی تو پتہ چلا کہ وہ لوگ شادی میں گانے بجانے کا کام کرتے ہیں ابا نے انکار کر دیا تو اس نے گھر چھوڑنے کی دھمکی دے دی ابا محبت میں مجبور ہوگئے اور ہاں کردی وہ بہت خوش تھا
خوب دھوم دھام سے شادی ہوئی میں نے پیسہ پانی کی طرح بہایا میں اس کی خوشی میں خوش تھا ۔اس کی بیوی شروع میں ٹھیک رہی پھر اس نے الگ ہونے کا کہ دیا کے اپنا حصہ لو اور چکو وہ روز ابا پر زور دینے لگا ۔
اخر ایک دن ابا نے جائیداد کا بٹوارہ کردیا اورپھر اس رات ابا سوئے تو دوبارہ نہیں جاگے اس نے کوئی خاص افسوس نہیں کرا بس سامان باندھا اور بیوی کو لے کر چلا گیا ۔پتہ۔نہیں کس جگہ گیا کے شراب اور جوئے کی لت لگ گئ
۔اس میں سارا پیسہ لٹانے لگا میں نے سارا پیسہ اپنے کاروبار میں لگایا اللّٰہ برکت ڈالتا گیا اور شادی کے آٹھویں سال۔ہمیں خوش خبری ملی کے ہماری اولاد آنے والی ہے میں نے غریبوں میں کھانا تقسیم کیا میں بہت خوش تھا ۔اللہ اللّٰہ کر کے نو مہینے گزرے اور میرے تو مانو پاؤں زمین پر ہی نہیں ٹک رہے تھے
میں نے بچی کو پیار ترسےہوئے حمیدہ سے پوچھا نام کیا رکھیں ۔ہانیہ۔۔۔۔۔ہانی جو دم بخود انھیں سن رہی تھی فورا کہنے لگی اس لیے اپ مجھے ایسے پیار کرتے ہانیہ اپکی بیٹی کا نام۔تھا ۔ہاں س وجہ سے بھی اور میں تمھیں نظر اتا ہوں اس لیے بھی
۔پھر کیا ہوا؟ ہانیہ کو لیکر ہم میاں بیوی اس کے گر گئے تو اسکی بیوی نے شور شروع کردی کہ میری اولاد نہث تو مذاق بنا رہے ہو میرا ۔اور علی نے بھی بھت سنا کر ہمیں نکال دیا میرا دل دکھا پر میں نے چھوڑ دیا ما شاءاللہ سے چار سال کی ہانیہ ہوگئ س دوران میں نے عمرے کے لیے پیسے جمع کر کیے تھیے بس میں ہانی اور اس کی والدہ سب سے مل ج۔مل۔کر جانے لگے تو علی کا فون آیا ۔کاش کاش انھوں نے حسرت سے کہا میں فون نہیں اٹھاتا۔اس نے کہا بھائی میں شرمندہ ہوں بس اپ۔اجائیں مجھ سے ملنے میں معافی چاہتا ہوں
یہ تو اچھی بات تھی نہ کے انھوں نے آپ سے معافی کا کہا۔ہانی نے بولا۔نہ۔۔۔۔نہہہیں وہ رو رہے تھے ہانی کے سمجھ نہیں ارہا تھا کہیا کہے ۔ایسا کیا ہوا تھا اپ بتائیں۔میں نے بیگم سے کہا بس اس سے مل کر سیدھا چلیں گے ایئر پورٹ وہ بھی مان گئی۔
اس کا شام میں فون آیا کے میں اپکے گھر آرہا ہوں آپ مت آئیں ۔میں نے کہا یہ بھی صحیح ہے۔عصر کے بعد وہ اور اس کی بیوی گھر آئے میں اس گلے ملا وہ بھی ملا پر وہ گرم جوشی نہیں تھی اس کی بیوی بھی ایسا لگ رہا تھا بناوٹی ہنسی ہنس رہی تھی ۔اپ کی بیٹی کہاں ہے بھاٹ اس نے بے چینی سے پوچھا سو رہی ہے بس اٹھنے والی ہے پھر ہم۔نے نکلنا ہے۔
بابا ہانیہ نیند میں اٹھ کر آئی اور میرے پاس بیٹھ گئی ۔ لو اٹھ گئی بیٹا چاچو سے ملو ۔وہ نہیں جانا چاہ رہی تھی ارے ارے ڈرو نہیں بیٹا اس نے جیب سے چوکلیٹ نکالی وہ پھر بھی نہیں جا رہی تھی ۔اخر وہی اٹھ گیااور اسے اٹھا لیا ۔وہ رونے لگ گئی ۔بابا بابا اور اسی ٹائم اس نےجیب سے پستول نکال کر ہانی کے کنپٹی پر رکھی۔ وہ بری طرح رونے لگی
علی یہ کیا حرکت ہے ۔میں نے غصہ دکھایا ۔حمیدہ بھی اگے بڑھنے لگی تو ۔س کی بیوی نے اپنے بیگ سے پسٹل نکال۔کر اس کے رکھ دی ۔۔ہاہاہا خبردار جیٹھانی جی ورنہ سب سے پہلے اپ کا ٹکٹ کٹے گا ۔علی کیا چاہتے ہو ۔میں نے پوچھا۔س نے اپنی بیوی کو اشارہ کرا تو اس نے حمیدہ کے پیچھے سر پر زور سے پسٹل مارا اور وہ سر پکڑ کر وہیں بی ے ہوش ہو کر گر گئی
حمیدہ۔۔۔۔۔مہیں چلایا ۔اہستہ بھائی اواز نہیں ۔س نے مجھے بندوق دکھاتے ہوے کہا ہانی کے منہ پر ہاتھ تھا اس کی بیوی نے کاغذات میری طرف بڑھائے سائن کرے بھائی اس میں لکھا ہے کہ اپ اپنی ساری جائیداد بمع کاروبار میرے نام کر رہے ہے نہیں کبھی نہیں میں نے کہا ارے بھائی لگتا ہے اپ کو اپنی بیٹی اور بیوی سے پیار نہیں اس نے پسٹل دکھائی مجھے اور اس کی بیوی نے میری بیگم کو ۔
ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں نے جیب سے پین نکال۔کر سائن کردیا دکھ ہوا تھا میری زندگی بھر کی کمائی اور محنت اور یہ گھر جس سے اتنی یادیں تھیں پر ان دونوں کے لیئے وہ بھی قربان پکڑو اور میری بیٹی کو چھوڑ دو ارے نہیں بھائی اتنی جلدی کیا ہے۔اس نے سفاکی سے۔کہا
اس نے ہانی کو اپنی بیوی کو دیا اور اسے ایک کپڑا سنگھا دیا ۔وہ بے ہوش ہوگئ ۔میں نے آہستہ آہستہ جی۔ کی طرف ہاتھ کرا ۔ااااا اااں بھائی سوچئے گا بھی مت ورنہ یہ گولیاں اپکی بیٹی کے اندر۔
پتہ ہے بھائی قدرت اپ پر ہمیشہ مہربان رہی ہے لیکن اس بار نہیں اس نے کہا اور پسٹل ک رخ میری طرف کردیا ۔ اس میں پارٹ لگا تھا تبھ آواز نہیں آ سکتی تھی میں ان نے آنکھیں بند کرلی
پر اچانک مجھے سسکی کی آواز آئی حمیدہ میرے سامنے آگئی نہ جانے وہ کب ہوش میں آئی تھی اور ہماری باتیں سن رہی تھی وہ نیچے گر گئی ۔میں فورا نیچے بیٹھا حمیدہ حمیدہ اس نے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑ کر چوما اور کہا
مجھے اس جہان میں بھی اپ کا ساتھ چاہیے ۔اور کلمہ پڑھ کر آنکھیں بند کر لی ۔نہیں نہیں حمیدہ نہیں مت جاؤ۔میں رونے لگا مجھے عشق تھا اس سے۔ بھائی چلیں بھابھی تو گئی اب اپ کا نمبر اس نے میری طرف پسٹل کی اور میرے پاؤ ں پر ماردی میں سن پڑ گیا درد کی شدت اتنی تھی ۔
اس نے دوسرے پاؤں۔پر ماری مجھ سے ہلا بھی نہیں گیا ۔میں ہانیہ کو دیکھ رہا تھا اس کی فکر لگی تھی
اس نے جب ہانیہ کو دیکھتے ہوی مجھے دیکھا تو ہنستے ہوے کہا ۔فکر نہ کریں اسے اتنی تکلیف نہیں دونگا اور دونوں ہاتھ سے پکڑ کر ہانیہ کی گردن ۔۔
پر ہاتھ رکھا اور میں نے آنکھیں بند کرلی۔۔۔۔ جیسے کسی نئے پورے کی ہری ٹہنی ہوتی ہے نہ ٹوٹنے کی ویسی آواز تھی ۔بابا نے سسکی لے کر کہا۔ ہانی زور سے دہاڑے مار مار کر رونے لگی جیسے اس کا کوئی اپنا مر گیا ہو ۔وہ روتی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی ۔
ہانی بیٹا ہانی ۔مامی نیچے اس کی رونے کی آواز سن کر آئی کیا ہوا بیٹا کچھ ہوا ہے پھر ۔انھوں نے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا ۔نہیں مامی وہ مر گئی مامی وہ مر گئی ۔اس ظالم نے ماردیا۔۔ہانی مامی سے لیپٹ کر رودی اچھا آؤ باہر چلو ۔انھوں نے پانی دیا اسے وہ پی کر وہیں لیٹ گئی۔
مامی مے سر کے نیچے تکیہ رکھ دیا۔وہ مسلسل پریشان تھی ہانی کو لے کر اس کے ماں باپ کو نہیں بتا سکتی تھیں وہ لوگ بہت پریشان ہو جاتے۔اللہ رحم کر میری بچی کے ساتھ ۔
شام۔میں وہ سو کر اٹھی .مامی کو کہا کے اسے زرا گھر جانا ہے کام ہے ۔مامی نے بھی نہیں کچھ پوچھا کے وہ خود ہی بتا دیگی ۔ٹھیک ہے میں چھوڑ دیتی ہوں چلو ۔انھوں نے کہا ۔اس نے سامان لیا عبایا پہنا اور مامی کے ساتھ اگئی۔
اسلام وعلیکم بھابھی کیسی ہیں ارے ہانی میرا بچہ اگیا۔ ابو نے پیار کیا۔وعلیکم اسلام بھائی بس آج یہ انے والے ہیں اور ہانی کو بھی یاد ارہی تھی تو میں نے سوچا گھر چھوڑ دوں ۔ گھر میں سب کہاں ہیں نظر نہیں آرہے۔جی وہ بیگم اور باقی تین گرمیوں کے کپڑے اور گھر کا کچھ سامان لینے گئے ہیں ابو نے بتایا۔
اچھا بھائی میں چلتی ہوں ارے بہن بیٹھے ۔نہیں نہیں بھائی بس چلوں گی وہ بس مل کر گئیں تو ہانی نے ابو سے پوچھا ابو یہاں کا مشہور آٹے والا۔کون ہے ۔ کیوں بھئی تم۔نے ساتھ کام کرنا ہے ابو نے ہنس کر پوچھا۔
ابو بتائیں نہ ۔بیٹا بہت سارے ہیں میں کیسے بتا سکتا ہوں ۔ اچھا چھوڑیں اس نے سیریسئ ہو کر کہا ۔بیٹا ایک تو ظفر صاحب ہیں ہمارے پڑوسی دوسرے یہ پیچھے خان صاحب جو رہتے ہیں وہ ۔ انھوں نے بتایا۔
اچھا ٹھیک ہے اس نے کہا۔میں آرام کرتی ہوں اب وہ جانے لھی تو پیچھے سے ابو کی اواز آئی جس پرانے گھر میں ہم۔رہتے تھے ان کے مالک مکان بھی آٹے کا کاروبار کرتے تھے ۔وہ فوراً مڑی محمد علی ۔اس نے کہا ۔ہاں یہی نام تھا تمھیں کیسے پتہ ۔وہ دراصل ابو دوست نے نام لیا تھا ان کا کے آٹا اچھا ملتا ہے پر میں نا بھول گئی تھی ۔اس نے جلدی سے وضاحت دی ۔
اچھا اچھا بھئ بڑا ہی نیک بندہ ہے ابو نے تعریف کری ۔ہانی کے منہ میں کڑواہٹ گھل گئی۔کیوں ابو اس نے پوچھا۔ارے بیٹا پانچ وقت کا نمازی بندہ ہے ۔اولاد نہی ہے پر کبھی شکوہ نہیں کیا لوگ بتاتے ہیں اس کا ایک بھائی تھا بڑا بہت بھلا آدمی تھا جس دن اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ حج پر جارہا تھا اسی دن ٹرک نے انکی گاڑی اڑا دی اور وہ لوگ اسی وقت انتقال کر گئے۔بہت روتا ہے وہ کہتا ہے کاش مجھے خبر ہوتی تو میں روک لیتا میری معصوم سی بھتیجی اولادوں کی طرح پیار کرتا تھا اسے وہ ۔۔ابو نے اسے تفصیل سے بتایا جسے وہ بہت ظبط سے سن رہی تھی ۔
اچھا ٹھیک ہے ابو زرا میں دوست سے بات کرلوں ۔ہاں بیٹا جاؤ۔
اس نے کمرے میں اکر اپنی دوست منت کو کال ملائی ۔اسلام وعلیکم ہاں منت کیسی ہو اچھا مجھے ایک کام ہے مجھے وہ تمھارا پین چاہیے جو کلاس ٹائم میں تم یوز کرتی ہو ہاں اوکے اس نے کال کٹ کری تو اسے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس ہوئی
بابا میں اپ کا بدلہ لونگی اسے سلاخوں کے پیچھے بھیجوں گی یہ میرا وعدہ ہے ۔اس نے مڑتے ہوئے کہا ۔میں چاہتا تو اسے نقصان پہنچا سکتا تھا پر میں پر نہیں میں چاہتا ہوں وہ اپنے منہ سے اپنے جرم کا اقرار کرے خود ۔انھوں نے کہا ۔جی بابا ٹھیک ہے اچھا بابا اس کے بعد کیا ہوا ۔بابا نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔
ہانیہ کے بعد اس نے میری طرف قدم بڑھائے اور پسٹل میری طرف کرتے ہوئے کہا ۔پتہ ہیں میں اپ سے نفرت کرتا ہوں بچپن سے مجھے کہا جاتا تھا شاہ کی طرح بنو شاہ کی طرح کام کرو۔مجھے چڑ آتی تھی اور یہ جاننے کے بعد کے اپ لوگ میرے سگے نہیں مجھے سب سے نفرت ہوگئی۔
مطلب ہانی نے حیران ہو کر پوچھا۔ابا اسے روڈ سے لائے تھے انھیں رات کے وقت آتے ہوئے فٹ پاتھ سے ملا تھا ۔شکر تھا کے کسی جانور یا اور نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا انھوں مے لاکر اماں کی گود میں دیا کے ہمارا بیٹا ہے اور سب بتایا
اماں نے بہت لاڈ کیے مجھ میں اور اس میں کبھی فرق نہیں کیا پر وہ بچپن سے ایسا تھا ۔اور پھر وہ دن۔۔۔۔۔۔ میں نھیں جانتا تھا وہ اتنی نفرت کرتا ہے مجھ سے اس نے مجھے مارا نہیں بیہوش کردیا اور گاڑی میں ڈالدیا ۔ایسی روڈ پر اس نے گاڑی کھڑی کری جہاں گاڑیاں کم ہی آتی جاتی تھیں
ایک ٹرک والے کو پیسے دے کر اس نے میری گاڑی کو ٹکر لگوادی لوگ جمع ہونا شروع ہوئے اور پھر ہماری ڈیڈ باڈیز کو ہسپتال پہنچایا گیا ۔اتنی خراب حالت تھی کہ جلد ہی دفنانے کا کہا گیا اور وہ میرا بھائی جسے شاید ہی میں نے روتے دیکھا ہو ہمارے جنازے پر ایسا رویا کہ لوگ بھی ترس کھانے لگے ۔
اس کی بیوی اور وہ ہمارے گھر میں چلے گثٹ اور وہاں کا سارا سامان اور میری بیگم اور ہانیہ کی چیزیں اس گھر میں دبا دی جسے میں نے ہانیہ کے نام پر خریدا تھا وہاں اس نے گھر بنوا دیا ۔ہانیہ اور حمیدہ تو اگلے سفر پر چلے گئے پر میں نہ وہیں اس گھر میں رہا ۔
دن گزرتے رہے اس گھر میں جو آتا وہ گھر ناپاک رکھتا جو مجھے پسند نہ تھاجو ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا میں انھیں کسی طرح نکال دیتا پھر تم ائی ہانیہ کی عمر کی ہانیہ نام تھا بہت خوش ہوا سوچا تمھارے ساتھ باتیں کرونگا وقت گزارونگا تمھیں سب بتاؤنگا پر تمھاری والدہ ڈر گئیں
پھر تمہارے والد نے مجھے جانے کا کہا میں تمہارے سامنے نہیں اتا تھا پر تمہارا خیال رکھتا تھا پر چار سال جب مجھے لگا تم میں شعور آرہا ہے تو سوچا تم سے باث کروں پر مگر تمھاری والدہ کو شک ہوا ۔ تم لوگ یہاں آگئے مجھے لگا نہیں میری بیٹی مجھ سے دور چلی گئی اور پھر مجھے انصاف کون دلاے گا ۔
اس لیئے میں تمہیں وہ چیز دکھانے لگا جس سے میں تمھیں یاد آؤں۔مجھے پتہ تھا تم میری مدد کروگی تم سے میری ہانیہ کی خوشبو آتی ہے ۔ہانیہ مسکرانے لگی۔ااور انکھیں صاف کی۔
بس بابا اب اور نہیں اپ کو اور انتظار نہیں کرنا پڑیگا ۔اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے اور وہ جب رسی کھینچتا ہے نہ تو بندہ منہ کے بل گرتا ہے بس مجھے کل اپکی تھوڑی سی مدد چاہیے۔م اور اس نے پوری تفصیل بتادی کے وہ کیا کرنے والی ہے۔ فکر مت کرو میں اپنی بیٹی کو کچھ نہیں ہونے دونگا ۔
______
امی لوگ شام میں آئیں تو ان سے ملی ۔رات میں جب سب کھانےپر بیٹھے تو اس نے ابو سے کہا ابو میں کل منت کے گھر جاؤنگی سمر ویکیشن کا کام۔ہے کچھ اسائنمنٹ ہے اچھا بیٹا ٹھیک ہے بھائی چھوڑ دیگا ۔جی ابو ٹھیک ہے ۔اس نے کہا ۔وہ پوری رات سوئی نہیں پتہ نہیں کیوں اس بندے سے اسے نفرت ہو رہی تھی ۔
فجر کی آزان کی آواز کان میں آئی ۔اس نے اٹھ کر نماز پڑھی دو نوافل پڑھے کہ اللّٰہ مجھے میرے مقصد میں کامیاب کرنا ۔دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔پھر کیچن میں گئی ناشتہ ریڈی کرنے لگی تو بابا کی موجودگی محسوس ہوئی ۔اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا کہ میں اپکو بابا کیوں کہتی ہوں اور روٹی ہی کیوں بناتی تھی ۔
کیونکہ ہانی مجھے بابا کہتی تھی اور اکثر روٹی بنانے کے کوشش کرتی کھلونوں سے اور کہتی بابا بڑے ہو کر میں ماما سے اچھی روٹی بنا کر اپ کو دونگی ۔میں بھی خوش ہو جاتا اور ہاں میں ہاں ملاتا ۔دونوں یونہی باتیں کرنے لگے اور ہانی نے پراٹھے اور خاگینہ بنا لیا ۔سب اٹھ گئے تو ہانی کے ہاتھ کا ناشتہ دیکھ کر خوش ہوئۓاس نے دوپہر مییںپولیس اسٹیشن میں جال۔کیا اور بات سمجھائی پھر بھائی کے پاس آئی کے دوست کے گھر چھوڑ دیں ۔
بھائی نے منت کے گھر چھوڑا اس نے کہا واپسی کے لیے کال کردونگی۔منت اور آنٹی سے ملی منت نے اسے پین دیا اس نے کہا اج زرا جلدی جانا ہے کچھ کام ہے پھر آؤنگی ۔وہ باہر آئی اور رکشہ لگ کر پرانے محلے میں گئی علی کا گھر جانتی تھی کیونکہ کافی بار چھوٹے میں گئی تھی ابو کے ساتھ۔
گھر کے سامنے اکر اس نے پھر پولیس کو کال ملائی جی میں پہنچ گئی ہوں ۔ پین کا ڈیوائس آن کر کے اپنے موبائل سے کنیکٹ کیا اور پین اپنے عبائے کے گلے میں اٹکا دیا کہ نظر نہ آئے۔بیل بجائی تھوڑی دیر میں ایک عورت کی آواز ائی کون ؟. جی میں ہوں ۔ہانیہ ۔انھوں نے لڑکی آواز سن کر دروازہ کھولا ۔
ارے بیٹا تم ہمارے پرانے کرایہ دار کی بیٹی کیسے ہیں سب جی سب ٹھیک ہیں ارے آؤ اندر آؤ ویسی گلی سناٹا ہے آجاؤ۔اسے لے کر اندر آئیں ۔دیکھا تو وہ سامنے بیٹھے تھے آجاؤ بیٹا آجاؤ ۔کیسے ہیں ٹھیک بیٹا بیٹا ۔کیسے آنا ہوا بھئی۔
وہ انکل بس ایسے ہی یہاں سے گزر رہی تھی سوچا ملتی چلوں ۔ویسےاپ جتنے اچھے تھی واقعی میں کوئی مالک مکان نہیں ہو سکتا تھا۔ارے نہیں نہیں بیٹا اپ لوگ بھی بہت اچھے تھے۔ اچھا ویسے ابو بتاتے تھے کے گھر میں کچھ اثر وغیرہ تھا اس پڑوس کے لوگ کہتے تھے
ارے نہیں بیٹا بس لوگ میری جائیداد سے و بس افواہ پھیلاتے ہیں ۔انھوں نے کہا ۔اپ لوگ باتیں کرے میں کچھ کھانے کا لاؤں۔ اوھو انک اپکی نہیں اپنکگ بھائی کی۔اس نے کہا۔ان کے چہرے پر ناگواری آئی پر انھوں نے فوراً موڈ بدلا ۔بس بیٹا میں تو زبردستی سنبھال رہا ہوں ورنہ دو روٹی میں بھی گزارا ہو جاتا ہے ۔ تو اپ کسی یتیم خامے میں دے دیتے پیسے اس نے کہا۔اب کی بار وہ ناگواری چھپا نہیں سکے بیٹا بس سوچا تھا پر بھائی کی نشانی سمجھ کر رکھ لیا ۔انھوں نے غمناک لہجے میں کہا
نشانی تو اس کرائے کے گھر میں دفن ہیں شاید ۔اس نے گھورتے ہوئے کہا۔کیا مطلب کیا کہنا چاہتی ہو تم ۔انھوں نے چونک کر کہا۔ارے بیٹھیں اپنا گھر سمجھے۔پر ہے تو نہیں پر جب زبردستی سائن لے ہی لیے تھے تو کیا کہہ سکتے ہیں پیچھے سے اسے اپنے سر پر کچھ محسوس ہوا ان کی بیگم نے اس کے سر پر پسٹل رکھی ہوئی تھی ۔
لڑکی سچ سچ بتا کس نے بتایا ہے یہ سب تجھے۔ انھوں نے غرا کر کہا ۔پہلے والی مٹھاس لہجے سے غائب تھی ۔ہانی نے اطمینان سے کہا یہی پسٹل تھی جس سے حمیدہ کو مارا تھا ۔تمممممم تمہیں کیسے پتہ سچ بتاؤ یہ راز ہم دونوں کے سوا اج تک کسی کو پتہ نہیں چلا کے انہیں ہم نے مارا تھا ۔تو تمہیں کس نے بتایا ۔
اپ لوگوں کو خدا سے ڈر نہیں لگا کہ اوپر وہ اللّٰہ بھی بیٹھا ہے حساب۔۔۔۔۔۔اےلڑکی یہ تبلیغ کہیں اور کرنا بلکے اب اوپر ہی جاکر کرنا کیونکہ اب تمہارا زندہ رہنا ہمارے لیئے ٹھیک نہیں۔۔اب بھی وقت ہے معافی مانگ کر اپ دونوں اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں۔
ہاہاہاہا اچھا چلو میں مانتا ہوں بھئی کے میں نے اپنے بھائی کو مارا اس کی بیگم گولی چلائی پراسکی بیٹی کو گردن موڑ کر ماردیا ۔لڑکی دنیا صرف پیسٹ سے چلتی ہے ۔انھیں تو مار چکا اب تمھاری باری ان کی بیگم نے اسے پکڑا وہ چھڑوانے لگی کہ اسے بابا سامنے نظر آگئے ۔علی نے جاکر پسٹل کے اگے وہ پارڑ لگا لیا کے آواز نہ آئے ۔
ہانی کے سامنے کھڑے ہوئے اور پسٹل چلانے والے تھے کے انھیں زور کا دھکا لگا وہ میز پر جاکر گرے ۔علی ان کی بیگم چلائی اسے چھوڑ کر آگے بڑھنے لگی تو پاؤں کے بیچ میں کچھ آیا اور صوفے کا کونا ان کے سر ہر لگا ۔۔۔۔اہ وہ چلائی اسی ٹائم پولیس دروازہ توڑ کر اندر آئی ۔۔ساتھ میں ایک نیوز رپورٹر بھی تھی ۔
"ناظرین جیسا کے آپ دیکھ رہے ہیں اس انیس سال نے بچی نے اپنی جان پر کھیل کر ایک فیملی جن کا۔قتل۔کیا گیا تھا ان کے قاتلوں کو پکڑوایا ہے ۔جی انھوں نے خود اپنے جرم کا اقرار بھی کیا ہے۔ٹی وی پر نیوز چل رہی تھی اور گھر والے حیران تھی ۔ابو اسے تو میں دوست کے گھر چھوڑ کر آیا تھا ۔اللہ میری بچی ٹھیک ہو ۔امی نے دعا مانگی۔
پولیس نے دونوں کو ہتھکڑی پہنا دی تھی ۔ہانی کو پولیس والے نے شاباشی دی کگ اس نے بہادرٹ کا کام کیا ۔وہ گھر آئی تو ماموں لوگ سب س کا انتظار کر رہے تھے ۔ہانی کیسا ہے میرا بچہ ؟کیوں کیا یہ سب بتاؤ کچھ ہوجاتا تو امی نے روتے ہوے کہا کچھ نہیں ہوتا امی میں ٹھیک ہوں ۔پر تمہیں یہ سب پتا کیسے چلا ۔ماموں نے پوچھا ۔خواب آیا تھا مجھے ۔اور ہھر اس نے پلان بنانے کے بعد کی ساری بات بتا دی۔
مجھے فخر ہے تم پر ہانی ۔ابو نے ہانی کو پیار کرتے ہوئے کہا سب نے ہانی کو پیار کیا ۔وہ جب ریسٹ کرنے کے لیئے کمرے میں آئی تو اسے کسی کی موجودگی محسوس ہوئی اس نے دیکھا بابا کی انکھ میں آنسو تھے۔تم میری ہانیہ ہو میری بیٹی کس طرح شکریہ ادا کروں میں تمہارا ۔بابا ایسا نہ کہیں بس مجھے سکون مل گیا میرا ضمیر مطمئن ہوگیا ۔میں جاتا ہوں بیٹا اب چلتا ہوں میں اور وہ غائب ہوگئے ۔
بابا بابا اس نے آواز لگائی اپ مجھے چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔اس نے کان کے پاس سرگوشی سنی ۔
ہانی میرا بچہ میں ہمیشہ تمھارے ساتھ ہونگا ہمارا ساتھ کبھی نہیں چھوٹ سکتا خیال رکھنا۔ ہانی مسکرانے لگی اگلے دن نیوز چلی کے دونوں کو پھانسی نکی سزا سنائی ہے اور وہ ساری جائیداد یتیم خانوں میں دے دی ہے۔
ہ
ہانی آنکھیں بند کر کے مسکرانے لگی اور اسے اپنے آس پاس وہی خوشبو محسوس ہوئی جو بابا کی موجودگی میں اتی تھی ۔اس نے آنکھیں کھولی تو کوئی نہیں تھا اس نے مسکراتے ہوئے کہا "صحیح کہا تھا بابا نے ہمارا ساتھ کبھی نہیں چھوٹ سکتا"
Follow: Subscribe for latest updates
Popular Posts
Iyyaka Na’budu Wa Iyyaka Nasta’een – Meaning, Benefits & Importance in Islam (With Arabic, Transliteration & Translation)
- Get link
- X
- Other Apps
Maldives Joins Saudi Arabia, Malaysia, Pakistan, Iran, Algeria, Bangladesh, Iraq and More in Blacklisting Israel with New Travel Ban on Its Citizens: What You Need to Know
- Get link
- X
- Other Apps
.jpeg)
Comments
Post a Comment