Skip to main content

Featured

میری پوری کائنات

آخری آ رام گاہ میری پوری  "کائنات" ۔۔۔  (ایک کہانی جس کے کردار سچے ہیں) وہ ابھی نابالغ تھی کہ اس کا بھائی جو ابھی نوجوانی کی حدوں میں آ رہا تھا محلے کے ایک دکاندار سے اس کی دوستی تھی۔۔ ایک دن اس دکاندار نے اس کے بھائی کو کہا ۔۔ یار پپو!!! تیری بہن جب سودا لینے آتی ہے بالکل گڑیا جیسی دکھتی ہے۔۔ گول چہرے۔ بڑی آنکھیں۔۔ بورے بال کالی انکھیں۔۔ مجھے بہت پیاری لگتی ہے۔۔ بھائی نے کہا ہم سب کو وہ بہت پیاری لگتی ہے کیونکہ گھر کی جان ہے۔۔ سب سے چھوٹی جو ہے۔۔ دکاندار نے پپو کا ہاتھ پکڑا اور اسے دباتے ہوئے کہا۔۔ ایک مرتبہ اسے میری دکان میں دوپہر کو لے آو۔۔ پچاس روپے دوں گا۔۔ پپو نے گھبرا کر انکار کیا ۔۔ کیونکہ پپو اب اس کا مطلب سمجھتا تھا۔۔ اس نے  پپو کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا اگر تو نہیں لائے گا تو جو تیرے ساتھ کرتا ہوں سب محلے کو بتا دوں گا۔۔ مجبوری میں پپو اپنی گڑیا جیسی بہن کو بہلا  پھسلا کر دکاندار کے پاس لے آیا۔۔ اور خود ڈر کر گھر بھاگ گیا۔۔ جب دوپہر کے بعد آیا تو اس کی بہن کے ہاتھوں میں ایک جوس  کا ڈبہ کچھ ٹافیاں تھیں اور وہ دکان کے تھڑے پر نڈھال بیٹی رو رہی تھی۔۔ پپ...

آ پ بیتی

 


آ پ بیتی 


حاضر خدمت صرف پڑھنے والوں کہ لیے 🫥😶‍🌫️
ٹرین ایک جھٹکے سے رک گئی میرا مطلوبہ اسٹیشن آگیا تھا میں نے گھڑی دیکھی رات کے گیارہ بجے تھے ٹرین اپنے مقررہ وقت سے دوگھنٹے لیٹ پہنچی تھی میں نے بند کھڑکی کے شیشے پہ چھائی نمی کو ہاتھ سے صاف کر کے باہر دیکھنے کی کوشش کی مگر چونکہ رات کا وقت ہونے کی وجہ سے باہر اندھیرا تھا اور ٹرین کے اندر روشی تھی تو میں باہر کا منظر دیکھنے سے قاصر رہا ۔ میں نے گہری سانس لی اور کھڑا ہوکر اپنی چادر ٹھیک کی اوراپنا مختصر سامان اٹھا کر بوگی سے باہر نکل آیا پلیٹ فارم پہ پاوں رکھتے ہی سرد ہوا اور خنکی نے میرا استقبال کیا تھا بوگی کے گرم ماحول سے یکدم باہر کی خنکی میں آنے سے میرے جسم نے یکدم جھرجھری سی لی میں نے ارد گرد دیکھا دھند کا راج تھا اس بوگی سے اترنے والا میں واحد مسافر تھا مجھ سے کچھ دور آگے کی بوگی سے بھی کچھ لوگوں کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں شاید کچھ لوگ اور بھی اترے تھے جو دھند کی وجہ سے صیح نظر نا آرہے تھے 
میں نے سامنے اسٹیشن کی عمارت کی طرف دیکھا یہ ایک چھوٹا سا اسٹیشن تھا عمارت کے باہر بلب کی زرد روشنی پھیلی تھی 
عمارت کے خارجی و داخلی واحد راستے کے باہر یہ بلب تھا جو اس دھند بھری رات میں اس سنسان اسٹیشن پہ روشنی کا واحد زریعہ تھا اور اپنا فرض پورا کررہا تھا 
میں نے جیب سے موبائل نکالا اور ظفر صاحب کانمبر کال لاگ میں سے نکال کر کال کر دی جو کہ شائد پہلی رنگ پہ اٹھا لی گئ 
السلام علیکم ظفر صاحب کہاں ہیں آپ میں نے پوچھا 
وعلیکم السلام ارمان بھلر بھائی آپ پہنچ گئے میں اسٹیشن کے باہر کار میں ہوں آپ رکیں میں آتا ہوں ۔۔ ظفر صاحب نے جلدی سے کہا   
نہیں آپ زحمت نا کریں میں باہر آرہا ہوں ۔۔۔ میں نے کال کاٹ دی اور خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔۔
دروازے پہ عملے کا کوئی بندہ نا تھا میں دروازے سے نکل ہی رہا تھا کہ سامنے سے دو آدمی آتے دکھائی 
السلام علیکم ارمان بھلر بھائی 
ان میں سے ایک نےکہا اور مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھا دیا وعلیکم السلام کہتے ہوے میں نے دونوں سے مصافحہ کیا
 دوسرے نے میرا سامان زبردستی میرے ہاتھ سے پکڑ لیا ۔یہ میرے اکلوتے دوست ہیں ندیم ۔۔ظفر صاحب نے اپنے دوست کا تعارف کرتے ہوے کہا 
آجائیں جی بس سامنے ہی گاڑی کھڑی ہے ہم چلتے ہوے گاڑی تک جاپہنچے 
کچھ دیر میں ہی ہم روانہ ہوچکے تھے ۔
ظفر صاحب نے گاڑی کا ہیٹر چلادیا تھا گاڑی کا گرم ماحول سکون دے رہا تھااور کچھ دیر پہلے کی خنکی کااحساس ختم ہورہا تھا ۔ کچھ دیر حال احوال دریافت کرنے کے بعد ظفر صاحب نے کہا کہ ارمان صاحب معزرت خواہ ہو ہم پلیٹ فارم پہ نہیں رک سکے دراصل ہم مقررہ وقت پہ پلیٹ فارم پہ ہی تھے مگر جب ہمیں پتا چلا کہ ٹرین گیارہ بجے تک لیٹ ہے تو ہم گاڑی میں آکے بیٹھ گئے مگر جب پونے گیارہ ہوے تو پلیٹ فارم کی طرف گئے مگر اندھیرا اور سنسان پلیٹ فارم پہ رکنے کی ہمت نا ہوئی خوف کے احساس نے گاڑی میں واپس آنے پہ مجبور کر دیا دراصل جن حالات سے ہم آجکل گزر رہے ہیں رات تو کیا دن کو بھی خوف گھیر لیتا ہے ۔ظفر صاحب ایک سانس بولتے گئے ۔ 
نہیں محترم کوئی بات نہیں مجھے ٹرین سے اتر کر آپ تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی آپ یہ بتائیں ہمیں آپکے گھر تک پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا ۔
میں نے پوچھا 
یہاں سے پچیس کلومیٹر سفر تک تو پختہ سڑک ہے پھر سات کلومیٹر ہمارے گاوں تک راستہ کچی سڑک پہ مبنی ہے ۔تو ہمیں بیس سے تیس منٹ لگ سکتے ہیں ۔
طفر صاحب نے جواب دیا 
میں چاہوں گا کہ آپ گھر آنے تک اپنا سارا مسلہ ڈسکس کرلیں
جی مسلہ یہ ہے کہ جیسے آپکو کال پہ بتایا تھا کہ ہم اس طرح کے مسلے میں پھنسے ہیں کہ جس سے نکلنا ہمارے بس سے باہر ہے اس لیے آپکو زحمت دی ہے 
ظفر صاحب نے کھنکار کر گلا صاف کرتے ہوے کہا
میں ایک زمیندار ہوں اللہ نے اتنا کچھ دیا ہے کہ جتنا شکر ادا کروں کم ہے سب بہت اچھے سے گزر رہا تھا ساتھ والے گاوں رشتہ دار ہیں انکے گھر شادی کا فنکشن تھا میں بیگم کے ساتھ وہاں شادی پہ گیا سننے میں آیاتھا کہ جس بچی کی شادی تھی اسے کچھ وقت پہلے آسیب کے مسلے کی وجہ سے دورے پڑتے تھے تو انہوں نے کہیں سے کوئی پیر صاحب بلوا کہ ان سے علاج کروایا تھا اور وہ بچی بلکل ٹھیک ہوگئی تو اسکے گھر والے اسکی شادی کر رہے تھے بارات والے دن میں اور میری بیگم انکے گھر گئے دلہن کی رخصتی کے بعد ہم گھر واپس آرہے تھے کہ بیگم نے راستے میں کہا کہ دلہن کو جب تیار کررہے تھے تو میں بھی اسی کمرے میں تھی وہاں عجیب بات یہ میں نے محسوس کی کہ دلہن نے دو تین بار مجھے غور سے دیکھا اسکے بعد سے میں محسوس کررہی ہوں کہ میرا سر بھاری بھاری ہے اور میں جسم میں بے حد سستی محسوس کر رہی ہوں 
اسکی بات سے مجھے بھی پریشانی ہوئی وہ دن گزر گیا اگلے دن صبح کے وقت بیگم نے مجھے پھر کہا کہ میرا سر بھاری بھاری ہے اور سستی کا احساس ہے ۔۔
ہمارے گاوں میں ایک صاحب دم کرتے ہیں میں انکے پاس گیا اور انکو ساری بات بتاکر گھر لے آیا ۔ 
یہ آسیبی مسلہ ہے لگتا تو یہی ہے کہ اسی لڑکی کے جن انکو پکڑے ہوے ہیں  
بیگم کو دیکھ کر انہوں نے کہا ۔۔ میں اور بیگم دونوں انکی بات سن کر پریشان ہوگئے تھے
خیر انہوں نے کچھ دیر دم کیا اور اگلے دن آنے کا کہہ کر چلے گئے اس رات بیگم نے کافی خوف محسوس کیا ۔
اگلے دن وہ صاحب پھر آکر دم کر گئے اور ایک تعویذ لکھا ہوا دے کر کہا کہ فلاں وقت اسکی دھونی دیں انکے بتاے وقت پہ دھونی دی مگر بیگم کو آرام کیا آنا تھا دھونی کے دوران ہی بیگم کے سر میں درد شروع ہوگیا سارا دن درد رہا رات کو صیح طرح سو نا سکی اگلے دن سر درد سے پھٹ رہا تھا دوا بھی سردرد کی لی مگر درد ناہٹا اس بندے کو بلا لایا اس نے کہا کہ جن جنات کاسایہ ہے وہ تنگ کر رہے ہیں اسکی بات سن کرہمارے خوف میں اضافہ ہوگیا دو تین دن مسلسل دم کروانے کے بعد جب دیکھا کہ آرام نہیں آیا تو میں اس پیر صاحب کو لے آیا جس سے اس دلہن کا علاج کروایا گیا تھا
میں نے انکو شادی والے دن اور اس بندے کی تشخیص اور علاج کا سارا ماجرہ کہہ سنایا ۔ ساری بات سن کہ انہوں نے بیگم کی طرف دیکھتے ہوے کہا کہ تشخیص تو اس بندے نے ٹھیک کی ہے مگر مسلہ کا حل اسکے بس کا نا تھا لہذا وہ علاج نا کر سکا ۔ میں آگیا ہوں سب ٹھیک ہو جاے گا ۔ انہوں نے پڑھنا شروع کر دیا کچھ دیر پڑھنے کے بعد انہوں نے پانی۔کا چھینٹا بیگم کے چہرے پہ مارتے ہوے کہا کیوں آیاہے واپس مردود بتا مگر بیگم نے پہلے پیر صاحب کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف اور بولی کیا مطلب ۔۔ پیر صاحب نے پھر پانی کا چھیٹا مارا اور بولے نام بتا اپنا ۔۔۔
بیگم بے چاری نے پانی صاف کرتے ہوے کہا کہ میں نجمہ ہوں 
مختصر یہ کہ کافی دیر کی کوشش کے بعد پیر صاحب بولے کے میرے ساتھ مذاق تجھے مہنگا پڑے گا میں۔کل پھر آوں گا ۔۔
پیر صاحب نے کہا کہ چونکہ آج وہ تمھاری بیگم۔کی آواز میں مذاق کر رہا ہے مگر ہے یہ وہی مردود ۔ ۔ آج کادن اس کام کے لیے بہتر نہیں تم۔مجھے کل لے آنا اور آنے سے پہلے اس اس سامان کا بندوبست کر کےپہنچا دینا غرض یہ کہ کچھ دن یہ سب جاری رہا پیر صاحب آتے اور کوشش کر کے کوئی نئی بات کرکے چلے جاتے ۔۔ میری مایوسی بڑھ رہی تھی بیگم کو نیند نا آنے کا مرض لگ گیا تھا رات کو کافی دیر سے سوتی اور صبح جلد اٹھ جاتی خوف کا احساس بڑھ گیا تھا سارا دن ایک ہی بات کہ سر بھاری ہے اور جسم میں درد ہے ان دنوں کی ہی بات ہے کہ ایک رات میں بیگم کے پاس ہی بیٹھا رہا تھا مجھے لگا کہ اسے نیند آگئی ہے میں اٹھ کر واش روم چلا گیا میں واش روم ہی تھا کہ مجھے بیگم چینخنے چلانے کی آواز آئی میں جلدی سے واپس آیا تو بیگم چھت کی طرف دیکھے جارہی تھی اور چلاتی جارہی تھی میں نے جلدی سے اس کو کندھوں سے پکڑ کر اسے جنجھوڑا اسکا نام پکارا مگر وہ مسلسل چلا رہی تھی میں نے سائیڈ ٹیبل سے پڑھا ہوا پانی اٹھا کر چلو بھر کر اس کے منہ پہ چھینٹا مارا اور اسکا نام پکارا مگر اسکے چلانے میں کمی ناآئی میں نے لاشعوری طور پہ چھت کی جانب بھی کئی بار دیکھا مگر کچھ ہوتا تو مجھے دکھا
بیگم مسلسل چھت کی جانب دیکھتے چلا رہی تھی میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکے کندھے پکڑ کر جنجھوڑا اس سے یہ ہوا کہ بیگم نے چھت سے نگاہیں ہٹا کر میری طرف دیکھا اور یکدم چینخنا اس نے بند کر دیا کیا ہوا کیوں چینخ رہی ہو میں نے دوبارہ پوچھاوہاں وہاں پہ وہ بوڑھی عورت تھی
بیگم نے چھت کی اشارہ کرتے ہوے سہمے سے لہجہ میں کہا 
میں نے اوپر چھت کی طرف دیکھا مگر وہاں کوئی نا تھا  
مگر وہاں کوئی نہیں تھا تمھارا وہم ہے میں نے اسے سمجھاتے ہوے کہا 
نہیں وہاں وہ عورت تھی بوڑھی سی جو غصے سے مجھے دیکھ رہی تھی مجھے ڈر لگ رہا ہے بیگم نےچھت کی طرف دیکھتے ہوے اونچی آواز میں کہا 
میں نے جلدی سے پڑھا ہوا پانی گلاس میں ڈال کر بیگم کو دیا 
جلدی سے یہ پیو ابھی خوف ختم ہو جاے گا اگلے دن میں نے پیر صاحب کو کال کر کے ساری بات بتائی انہوں نے کہا کہ مجھے ابھی لے جاو ۔ ایک گھنٹے کے اندر میں پیر صاحب کو لیکر گھر آچکا تھا بیگم نے ساری بات پیر صاحب کو سنائی
ساری بات سن کے پیر صاحب نے کہا یہ اسی جن کی ہی شرارت ہے 
بیگم کو سامنے بٹھا کے پیر صاحب نے کافی پڑھائی کی تھی جو بیگم خاموشی سے سنتی رہی تھی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد پیر صاحب نے دو تعویذ دیے کہ انکو پینا اور پہننا ہے اور دوبارہ ایسا کوئی واقعہ پیش نا آنا کا وعدہ کیا تھا 
پیر صاحب کو میں انکے گھر چھوڑ آیا تھا گھر واپس آیا تو بیگم سوئی ہوئی تھی میں سمجھ سکتا تھا کہ ساری رات جاگنے کی وجہ سے وہ اب سوگئی ہے میں نے اٹھانا مناسب ناسمجھا میں نے وہ سارا دن گھر گزارا تھا بیگم کے میکے والے ساتھ والے گاوں ہی رہتے ہیں فون کر کے میں۔نے ساری بات بتا دی تھی بیگم کی والدہ بھابھی اور بھائی ہمارے گھر آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے مویشیوں کا باڑہ ہے گھر کے صحن سے ہی باڑے کا راستہ ہے وہ دو ملازم ہر وقت مویشیوں۔کی دیکھ بھال کے لیے موجود ہوتے ہیں شام سے تھوڑا پہلے کا وقت تھا میں بیگم اور اسکے میکے والوں کے پاس بیٹھا تھا بیگم کی حالت قدرے بہتر تھی کہ باڑے میں کام کرنے والے ملازموں میں سے ایک کی آواز آئی اس نے باہر برامدے میں سے مجھے پکارا تھا 

آرہا ہوں کہہ کر میں۔اندر کمرے سے نکل کر باہر برامدے میں آیا سامنے ملازم کھڑا تھا چوہدری صاحب جلدی کریں باڑے میں چلیں دونوں بھینسوں کے دودھ کو دیکھیں لگتا ہے دودھ نہیں خون نکالا ہو میں یہ سن کر پریشانی کے عالم میں ملازم کے ساتھ باڑے کی طرف چل پڑا 

باڑے میں پہنچ کر ملازم نے دو بالٹیاں لاکر مجھے دکھائیں دونوں میں دودھ کی بجاے خون تھا 

ملازم کے بقول جیسے اس نے دودھ نکالنا شروع کیا تو دودھ کی جگہ خون نکلا اس نے یہ سوچ کر کہ دوسری بھینس کو دودھ نکال لوں پھر اس کے بارے چودھری صاحب کو بتاوں گا اس بھینس کا دودھ نکالنا چھوڑ کر دوسرے برتن میں دوسری بھینس کا دودھ نکالنے کے لیے جابیٹھا مگر اسکی حیرانگی بڑھ گئی جب دوسری بھینس سے بھی دودھ کی جگہ خون نکلا اسی وجہ سے وہ فوراً مجھے بتانے کے لیے آ گیا 

ملازم کی بات سنکر میں خود بھینس کے پاس بیٹھ کر اسکا دودھ نکالنے لگا دودھ کی جگہ خون نکلا تھا حیرانگی کی بات تھی کہ بھینس کے چاروں تھنوں سے خون ہی نکلا تھا

میں مرتا کیاناکرتا کے متصدق وہیں بیٹھے بیٹھے انہی پیر صاحب کو کال ملالی کچھ دیر بعد انہوں نے کال اٹینڈکر لی میں نے سارا ماجرہ کہہ سنایا کہ نجمہ چینخی جارہی ہے اور اوپر چھت کی جانب دیکھ رہی ہے یہ بات کرتے کرتے میں نے لاشعوری طور پہ اوپر چھت کی جانب دیکھا مجھے حیرت کا شدید جھٹکالگا چھت کے اس کونے میں عجیب میلا سا دھواں اکٹھا ہو رہا تھا ۔

پیر صاحب ادھر سے ہیلو ہیلو کر رہے تھے مگر میں دھویں کی طرف دیکھی جارہا ہا تھا جس طرح لکڑیاں جل رہی ہوں اور ان پہ پانی ڈال دیں تو اچانک دھواں اٹھتا ہے اسی طرح کا دھواں ایک سرکل میں اٹھا رہاتھا اور صرف اسی کونے میں موجود تھا میں نے خود کو سنبھالتے ہوے فون پہ توجہ دی اور پیر صاحب کو دھویں کے بارے بتایا پیر صاحب نے کہا جلدی کرو اور میرا دیا ہوا پانی اس دھویں کی طرف پھینک دو فوراً یہ خبیث یہاں سے چلا جاے گا اور کال چلتی رہنے دو نجمہ اس دوران بھی چینخی جارہی تھی میں نے نجمہ کو چھوڑا اور بیڈ کی سائڈ ٹیبل پہ پڑا پیر صاحب کا دیا پانی والا جگ اٹھایا اور واپس نجمہ کے پاس آکرمیں جگ میں۔موجود پانی دھویں پہ اچھال دیا مگر جیسے ہی پانی دھویں پہ پڑا اسی لمحے کونے کی دیوار پہ پڑنے کی بجاے واپس میرے چہرے اور پاس چینختی نجمہ پہ آگرا یوں لگا جیسےکسی ان دیکھی ہستی نے پانی واپس مجھ پہ اچھال دیا ہومیری حیرت میں اضافہ ہوگیا نجمہ بے ہوش ہو چکی تھی اس چیز نے مجھے بہت ہراساں کر دیا تھا میں موبائل ہاتھ میں پکڑے بھیگے چہرے سےپٹپٹی آنکھوں سے کونے میں دھویں کی طرف دیکھ رہا تھا ہاتھ میں فون کا احساس ہوتے ہی دماغ میں پیر صاحب کا خیال آیا کہ وہ کال پہ ہیں میں نے ہکلاتے ہوے انہیں بتایا کہ پانی دھویں پہ پڑنے کی بجاے واپس مجھ پہ اورمیری بیوی پہ آگراہے میری بیوی بے ہوش ہوگئی ہے اور دھواں ویسے موجود ہے اس کے ساتھ مجھے خوف کا احساس ہو رہاہے ۔ پیر صاحب نے ادھر سے کیا کہا مجھے یاد نہیں بس اتنا یاد رہا کہ میں نے نجمہ کو بامشکل اٹھا کر کمرے سے باہر لایا تھا اور زور سے دروازہ بند کر دیا تھا ۔ 

خوف کایہ عالم تھا کہ کہ فون جو اس دوران نجمہ کو اٹھاتے وقت اندر کمرے میں گر گیا تھا کمرے میں جاکر اسے اٹھانے کی ہمت تک ناتھی چینخوں کی آواز سن کے بچے بھی جاگ کر آ گئے تھے کانوں میں باہر کا دروازہ زور زور سے بجاے جانے کی آواز آ رہی تھی میں حواس سنبھالتے ہوے زور سے کون ہے پوچھا آگے سے میرے پڑوسی کزن کی آواز آئی جن کا گھر میرے گھر کے کچھ ہی دور تھابھائی جان دروازہ کھولیں میں گیٹ کی طرف لپکا اور گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھولا سامنے میرے چاچا اور اسکا بیٹا کھڑا تھا کیا ہوا سب خیریت تو ہے چینخوں کی آوازیں آرہی تھیں ہم کافی دیر سے دستک دیے جارہے تھے دونوں نے تشویش سے پوچھا 

 نجمہ کے چینخنے کی آواز آرہی تھی وہ ڈر گئی تھی اور حقیقت تو یہ ہے کہ میں خود اس بار ڈر گیا ہوں میں نے کچھ دیر پہلے کا سارا واقعہ کہہ سنایا چاچاجی میرا اس وقت نجمہ کے پاس رہنا ضروری ہے آپ دونوں میری گاڑی لے جائیں اور فلاں پیر صاحب ( جنکو میرے چاچا جی جانتے تھے) لے آئیں میں نے فون پہ انکو ساری تفصیل بتائی ہوئی ہے 

ہاں ہاں کیوں نہیں اور تمھاری گاڑی میں کیوں جانا ہم اپنی گاڑی پہ جاتے ہیں تم پریشان نا ہو چاچا جی اور انکا بیٹا انہی قدموں واپس لوٹ گئے تھے میں واپس نجمہ کی طرف آیا وہ اسی حالت میں بے سدھ پڑی تھی بچے اس کے پاس پریشان بیٹھے تھے میں نے نجمہ کو اٹھایا اور بچوں کے کمرے میں بیڈ پہ لٹا دیا میں اور میرے بچے نجمہ کے پاس بیٹھ گئے تقریباً ایک گھنٹہ بعد نجمہ ہوش میں آگئی تھی میں نے اسے ہوش میں آتا دیکھتے ہی فوراً تسلی دی اور پیر صاحب کے کچھ دیر تک آجانے کا بتایا نجمہ نے خود کو سنبھالتے ہوے ڈرتے ڈرتے بتایا کہ کمرے میں اوپر کوئی عجیب سے شکل کا کوئی تھا جسے دیکھ کے میں ڈرے جارہی تھی یہ کہہ کر نجمہ نے بچوں۔کو خود سے لگالیا مگر میں نے اسے پانی ہھینکنے اور پانی واپس آگرنے کا کوئی ذکر ناکیا کیونکہ نجمہ کا اس بارے کوئی بات ناکرنا صاف بتا رہاتھا کہ اسے یہ یاد بھی نہیں ہم سب کمرے میں خاموش بیٹھے تھے رات کے شائد تقریباً اڑھائی بج چکے تھے میرے کزن اور چاچاجی کو گئے ڈیڑھ گھنٹہ سے اوپر ہونے والا تھا میں پریشان تھا کہ اب تک تو ان لوگوں کو پیر صاحب کو لیکر واپس آجانا چاہیے تھا میری ہمت نہیں بندھ رہی تھی کہ بیڈ روم میں جاکر اپنا موبائل لیکر آوں جب تین بج چکے تو میں نے سوچا کہ چاچاجی کہ گھر جاکر انکے گھر والوں میں سے کسی کے موبائل سے ان دونوں میں سے کسی کو فون کروں میں نے نجمہ اور بچوں کو اسی کمرے میں موجود رہنے کا کہا اور تقریباً بھاگتا ہوا صحن سے ہوتا گیٹ کا دروازہ کھول کے باہر گلی میں گیا گیٹ کے اوپر لگا گلی میں بلب کی روشنی میں گلی خالی نظر آ رہی تھی بتاتا جاوں کہ میں اور میرے چاچا جی کا اپنی زمین میں گھر تھا چاچا جی کا گھر میرے گھر سے کچھ ہی دور ہے گاوں کے باقی گھر مزید کچھ دور شروع ہوتے ہیں چاچ جی کے گھر کے باہر پہنچ کے میں نے چاچاجی کا گیٹ زور زور سے بجایا کچھ توقف کے بعد پھر بجایا دو چار بار زور زور سے گیٹ بجانے کے بعد اندر سے اونچی آواز میں کون ہے کی آواز آئی میں ہوں علی دروازہ کھولیں کچھ دیر بعد دروازہ کھل گیا دروازے میں میرا وہی کزن جو کچھ دیر پہلے چاچا جی کے ساتھ پیر صاحب کو لینے گیا تھا ۔۔۔ کھڑا تھا ۔۔ طارق تم چاچا جی کے ساتھ پیر صاحب کو لینے نہیں گئے ۔۔۔ میں حیرانی سے پوچھا ۔۔۔

پیر صاحب کون سے پیر صاحب اور میں کیوں جاوں گا علی بھائی کسی پیر کو لینے ۔۔۔ آگے سے طارق نے آنکھیں ملتے ہوے حیرانی سے ہی پوچھا ۔۔

چاچا جی اکیلے گئے ہیں ۔۔ میں نے فوراً پوچھا 

بھائی جان کیاہو گیا ہے ابو بھی کیوں کہاں جائیں گے وہ امدر اپنے کمرے میں سوے ہوے ہیں ۔۔ طارق کا جواب مجھے غصہ دلانے کے لیے کافی تھا ۔۔

کیامطلب اندر اپنے کمرے میں سوے ہیں اگر آپ دونوں نے نہیں جانا تھا تو مجھے پہلے بتادیتے میں اور میں رات کے اسوقت اتنی پریشانی میں تم لوگوں کی واپسی کانتظار کر رہا ہوں اور تم لوگ جانے کی بجاے یا مجھے یہ بتانے کی بجاے کہ تم نہیں گئے یہاں سکون سے سوے ہوے ہو 

تاءسف و غصے سے قدرے اونچی آواز میں کہتے ہوے میں اندر برامدے تک آ چکا تھا سامنے برامدے کے دائیں جانب ہی چاچا جی کا کمرہ تھا میں سیدھا چاچا جی کے کمرے کی طرف بڑھا

علی بھائی کیا کہے جارہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی ۔۔ طارق میرے پیچھے پیچھے بولتا آرہا تھا ۔۔ 

اسی اثنا میں چاچا جی اپنے کمرے کا دروازہ کھول باہر نکلے پیچھے میری چچی بھی تھیں

علی بیٹا رات کے اسوقت سب خیرت تو ہے اور کیوں اتنااونچا بول رہے ہو ۔۔ چاچا جی نے پریشانی سے بھرپور لہجے میں پوچھا ۔۔

چاچا جی آپ اگر رات کے اسوقت پیر صاحب کو لینے نہیں جانا چاہتے تھے تو مجھے بتا دیاہوتا میں اب تک جاکے انکو لا بھی چکا ہوتا نجمہ ڈر کے مارے کانپی جارہی ہے اور آپکو میری پریشانی کا احساس تک نہیں ہے ۔۔ میں دھیمے و دکھ بھرے لہجے میں کہا ۔۔ بیٹا کون سے پیر کی بات کر رہے ہو اور میں نے کیوں جانا تھا اور تم نے مجھے کب کہا جانے کو۔۔ چاچا جی نے حیرانی سے کہا ۔۔۔اس دوران طارق کی بیوی اور میرے چاچا جی کی دونوں بیٹیاں بھی جاگ کے باہر برامدے میں آ گئی تھیں اور حیرانی سے بات کو سمجھتے ہوے مجھے دیکھے جارہی تھیں ۔۔

یہی دو گھنٹے پہلے جب نجمہ کی چینخیں سن آپ اور طارق میرے گھر آے ہیں

میں نے انہیں یاد دلانے کی کوشش کی 

بیٹا خیریت تو ہے کیا کہے جارہے ہو میں اور طارق کب تمھارے پاس آے ہیں ہم بلکل نہیں آے طارق کیا تم گئے ہو چاچاجی نے مجھے کہتے ہوے طارق سے پوچھا ۔۔ سے پوچھا ۔۔۔۔ میں خود نہیں سمجھ رہا کہ علی بھائی کیاکہہ رہے ہیں ہم لوگ تو آج جلد سو گئے تھے اور دونوں گھروں کے درمیان اتنافاصلہ ہے کسی کی چینخنے کی آواز بھی نہیں سنائی دے سکتی اور بھابھی کی کوئی آواز یہاں نا آئی ہے نا ہم نے سنی ہے اور نا ہم۔آپکے گھر آئے ہیں ۔۔طارق نے جلدی سے کہا ۔۔۔

چچی اور طارق کی مسز بھی کہنے لگے گئیں کہ نہیں یہ کہیں نہیں گئے ۔۔ میں حیران کھڑا بے یقینی کی سی کی کیفیت سے منہ پھاڑے انکو دیکھ اور سنے جارہاتھا ۔۔ میں کیسے یقین کرتا میں نے خود دروازہ کھول کر چاچا جی اور طارق کو ساری بات سناکر پیر صاحب کو لانے بھیجا تھا وہم و شک کی بات ہی ناتھی ۔۔۔

اس بات کو چھوڑیں اور چلیں نجمہ کے پاس چلیں چچی نے چاچا جی اور میری طرف دیکھتے ہوے کہا ان کا یہ کہنا تھا کہ میرے دماغ میں گزشتہ سارا واقعہ گھوم گیا میں انہی قدموں سے واپس پلٹا چاچا جی چچی طارق اور اسکی مسز بھی تیز تیز قدموں سے چلے آ رہے تھے گھرجا کر ہم سیدھا اس کمرے کی طرف بڑھے جہاں بچے اور نجمہ موجود تھے کمرے میں جیسے داخل ہوے نجمہ بول اٹھی آپ کے جاتے ہی پیر صاحب آئے ہیں اندر کمرے میں ہیں اسی لیے طارق کو کہا کہ آپ کو بلا لاے۔۔۔نجمہ نے بیڈ روم کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا

پیر صاحب آے ہیں چلو شکر ہے میں نے تسلی محسوس کرتے ہوے کہا 

اور کیا مطلب طارق کو کب کہا تم نے میں نے چونک پوچھا ۔

ابھی جب آپ ہمیں۔کمرے میں رہنے کا کہہ کر گئے تو کچھ ہی دیر میں طارق اور پیر صاحب اندر آے پیر صاحب نے مجھے کہا پریشان نا ہو اور بیڈ روم کی طرف چلے گئے میں نے طارق سے کہا کہ تمھارے بھائی تمھارے گھر گئے ہیں بھاگ کے بلالاو طارق تم نے بتایانہیں کیا انکو نجمہ نڈھال لہجے میں طارق کی طرف دیکھتے ہوے پوچھا ۔طارق جو حیرانی سے منہ کھولے کھڑا تھا نے میری طرف دیکھا ۔۔۔ طارق چلو کمرے میں دیکھیں میں نے جلدی سے کہا میں طارق اور چاچا جی بیڈ روم کی طرف بڑھے بیڈ روم کا دروازہ بند تھا میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا کمرے میں اندر اندھیرا تھا ۔۔۔۔۔ مجھے یاد ہے جب میں نجمہ کو اٹھا کر کمرے سے باہر نکلا تھا کمرے کا بلب روشن تھا

پیر سائیں ۔۔۔پیر سائیں ۔۔۔۔میں نے دروازے میں رک کر پکارا مگر آگے سے کوئی جواب نا ملا ۔۔ میری ہمت نہیں ہورہی تھی کہ کمرے میں داخل ہو جاوں ۔۔۔۔

پیچھ ہٹیں مجھے اندر جانے دیں طارق نے آگے بڑھ کر کمرے میں داخل ہوگیا اور دیوار پہ لگے سوئچ بورڈ کو ٹٹول ٹول کے ڈھونڈنے لگا سوئچ بورڈ کے سارے بٹن طارق نے دبا دیے تھے زیرو کا بلب روشن ہوگیا تھا میں نے فوراً اس کونے کی طرف دیکھا مگر وہا دھویں کا نام و نشان تک نا تھا اسی کے ساتھ کمرے میں پیر صاحب کی موجودگی کا بھی کوئی آثار نا تھا ہم تینوں ایک دوسرے کی طرف دیکھے جارہے تھے آگے بڑھ کے طارق نے واش روم کا دروزہ کھول دیا تھا باہر لگے واش روم کے سوئچ بورڈ پہ بٹن دبانے سے واش روم کابلب روشن ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔

ادھر بھی کوئی نہیں ہے ۔۔طارق نے کہا تھا 

واش روم کے بلب کی روشنی اور زیرو بلب کے روشن ہونے سے مجھے فرش پہ گرا اپنا موبائل نظر آگیا میں نے آگے بڑھ کے جھک کے اسے اٹھا لیا ۔۔۔

چلو چلو یہ کمرہ بند کرو چلو دوسرے کمرے میں چلتے ہیں طارق ادھر آو جلتے رہنے دو بلب جلدے سے باہر آو۔۔۔۔۔ چاچا جی جو دروازے میں ہی اس وقت سے کھڑے تھے نے جلدی سے کہا میرے اور طارق کے باہر نکلتے ہی چاچا جی نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔۔۔

علی بیٹا چلو آج ہمارے گھر چلو ۔۔۔۔ چاچا جی نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھکر کہا اور میرا ہاتھ پکڑ کر نجمہ کی طرف چل پڑے میں چپ چاپ انکے ساتھ نجمہ تک پہنچا۔۔۔۔۔ مختصر یہ کہ کچھ دیر میں ہم سب چاچا کی کہ گھر آ چکے تھے ۔۔نجمہ اور بچے بستر پہ لیٹ چکے تو میں اٹھ کر چاچا جی کے پاس چلا آیا کمرے میں چاچا جی و چچی کے ساتھ طارق بھی بیٹھا تھا۔۔چاچا جی نے مجھے پاس بیٹھنے کو کہا ۔۔۔

علی بیٹا میں اور تمھاری چچی کچھ دن پہلے نجمہ کی عیادت کے لیے آے تھے میں نے سن رکھا تھا کہ تم نجمہ کا روحانی علاج کروا رہے ہو واہس آکے میں نے تمھاری چچی سے کہا تھا کہ روحانی علاج کی بجاے اچھے ڈاکٹر سے نجمہ کاعلاج بہتر رہے گا آگے سے تمھاری چچی نے بتایا کہ ڈاکٹری علاج بھی ہورہا ہے اور روحانی بھی یہ سن کر میں خاموش ہو گیا ۔ابھی جب تم آے اور آکر میرے اور طارق کے پیر کے پاس جانے کا ذکر کیا تو میں شک میں تھا جب تمھارے گھر پہنچے تو آگے سے نجمہ نے بھی اسی طرح کی بات کی میں تم دونوں کی ذہنی حالت میں شک کر رہاتھا مگر جب ہم تمھارے کمرے میں کھڑے تھے مجھے تمھاری ساری بات کی سچائی کا یقین ہو گیا تھا جب واش روم کا بلب جلا کہ طارق نے اندر جھانکا اور پیچھے ہماری طرف مڑکر کہا کہ واش روم میں بھی کوئی نہیں اسی وقت تم موبائل اٹھانے کیلیے آگے بڑھ کے جھکے طارق کا سارا دھیان تمھاری طرف تھا مجھے طارق کے پیچھے کوئی چھوٹے سے قد کا بندہ نظر آیا جس کا رخ دوسری طرف تھا۔۔۔سارا معاملاہ ایک لمحے میں میں سمجھ گیا کہ سمجھنے کے لیے ایک ہی لمحہ کافی ہوتا ہے اس لیے میں نے فوراً تم۔لوگوں کو باہر آنے کا کہا اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا علی بیٹا تھارے گھر جناتی کھیل شروع ہوچکا ہے ۔ میرے اور طارق کی شکل میں تمھارے سامنے آنا طارق اور تمھارے اس پیر صاحب کی اشکل میں نجمہ کے سامنے آنے پھر میرے سامنے آنا یہ انکے کھیل کی واضح نشانیاں ہیں ۔جب ہم تمھارے کمرے کی طرف تھے تمھاری چچی نے تمھارے بچوں سے پوچھا کہ کیا واقعی پیر صاحب کے ساتھ طارق آیا تھا توآگے سے بچوں نے کہا ہے کہ نا طارق چاچو آے ہیں نا کوئی انکے ساتھ امی اچانک دروازے کی طرف دیکھ دوپٹہ درست کرنے لگیں اور کہنے لگیں کہ طارق تم جاو اپنے بھائی کابلالاو مگر ہمیں دروازے میں کوئی نظر نہیں آیا ۔۔تو علی بیٹا یہ واضح ہے کہ تمھیں نجمہ اور مجھے انہی کا دکھلاوا ہوا ہے ۔۔ چاچا جی نے بڑے آرام و ٹھہرے ہوے لہجے میں مجھے بتایا ۔۔ میں جو یہ سب سنتا جارہا تھا اور حیرانی کے ساتھ خوف میں مبتلا ہوتا جارہا تھا چاچا جی کو کمرے کے کونے کی طرف نجمہ کو کسی کے نظر آنے مجھے دھویں کے نظر آنے پانی اچھالنے اور پانی واپس مجھ پہ آ گرنے والا سارا واقعہ سنا دیا 

ساری بات سن کے چاچا جی نے گہری سانس لی

تم پریشان نا ہو جاو آرام کرو صبح ہوتی ہے تو اس مسلے کا حل ڈھونڈتے ہیں 

چاچا جی کے پاس کچھ دیر مزید بیٹھ کر میں نچوں کے پاس آ گیا تھا کب آنکھ لگی کب صب ہوئی پتا ہی نا چلا ۔ صبح تقریباً آٹھ بجے آنکھ کھل گئی تھی نجمہ بچے ابھی سوے ہوے تھے گھر کے باقی افراد کب کے اٹھ چکے تھے میں فریش ہو کر چاچا جی کے کمرے میں چلا گیا مگر چاچا جی کمرے میں نا تھے گھر والوں سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ دیر پہلے طارق کے ساتھ گاڑی پہ چلے گئے ہیں اور میرے بارے کہہ گئے ہیں کہ میں ادھر ہی رکوں گھر ناجاوں ۔ انکا انتظار مجھے گیارہ بجے تک کرناپڑا اس دوران مجھے پیر صاحب کی بھی کال آئی تھی کہہ رہے تھے تم نے بات کرتے کرتے کال کاٹ دی تھی میں نے انکو رات والی ساری تفصیل سنا دی ساری بات سننے کے بعد انہوں نے جانے کیوں اس کام کو مزید ناکرسکنے کی معزرت کر لی تھی کہہ رہے تھے کہ یہ کام میری توقع سے زیادہ مشکل ہے آپ بخوشی کسی اور سے رابطہ کر لیں ۔ انکی اس بات نے مجھے کافی پریشان کر دیا تھا ۔

میرے گھر کے صحن سے ہی ایک دروازہ احاطے کی طرف کھلتا ہے جس میں میری چند بھینسیں اور بکریاں ہیں اور انکا خیال رکھنے کے لیے ایک۔ملازم اپنی بیوی اور آٹھ سالہ بچی کے ساتھ رہتا ہے رات جب چاچا جی کے ساتھ آنے لگے تھے تو اسے اٹھا کر میں نے گھر کا دروازہ اندر سے بند کرنے اور گھر کا خیال رکھنے کا کہہ دیا تھا صبح چاچا جی کے آنے سے پہلے وہ اور اسکی بیوی پتا کرنے آ گئے تھے وہ بتارہاتھا اسکی بیوی نجمہ کو دبانے کے لیے ادھر رک گئ ملازم کو میں نے سختی سے منع کر دیاتھا کہ گاوں میں کسی سے کوئی ذکر ناکرنا 

۔ نجمہ کی اس دوران طبعیت ٹھیک رہی تھی ۔گیارہ بجے تک گاڑی کا ہارن آیا میں سمجھ گیا کہ چاچا جی آ گئے ہیں چاچا جی اور طارق کے ساتھ دو اور آدمی بھی تھے جنہیں کمرے میں بٹھا دیا چاچا جی نے بتایا کہ یہ انکے جاننے والے ہیں میں نے ان سے تمھارا مسلہ تفصیل سے ڈاسکس کیا ہے تم بے فکر رہو اس سارے مسلے کا حل یہ کر لیں گے انکی خاطر مدارت کے بعد چاچا جی نے مجھے نجمہ کو انکے پاس لانے کو کہا میں نجمہ کو بلالایا ان۔میں ایک ادھیڑ عمر عامل تھے اور دوسرا بندہ انکا شاگرد تھا نجمہ کو سامنے بٹھا کر انہوں نے اس پہ پڑھنا شروع کر دیا کافی دیر پڑھتے رہنے کے بعد انہوں نے نجمہ پہ پھونک ماری

کیا تمھارا سر بھاری ہوا ہے اس عامل صاحب نے نجمہ پوچھا جس کا جواب نجمہ نے اثبات میں سر ہلا کر دیا ۔ اس کے بعد پھر انہوں نے پڑھنا شروع کر دیا کافی دیر پڑھنے کے بعد پھر انہوں نے پھونک ماری 

کیا تمھیں متلی کا احساس ہو رہاہے 

انہوں نے نجمہ سے پوچھا 

مگر اس بار نجمہ نے نفی میں سر ہلاکر نا میں جواب دیا ۔۔

 آپ نے رات والا ماجرہ سنایا تھا وہ کس کمرے میں ہوا 

عامل صاحب نے چاچا جی کی طرف منہ کر کے پوچھا 

جی وہ انکے اپنے گھر میں پیش آیا تھا میں رات کو انکو اپنے گھر لے آیا تھا 

چاچا جی نے جواب دیا 

ہمیں اس گھر جانا پڑے گا ۔۔ اس بچی کو فی الوقت یہیں رہنے دیں اور ہمیں انکے گھر لے چلیں عامل صاحب نے کہا۔

میں چاچا جی اور طارق ان دونوں کے ہمراہ میرے گھر کی جانب چل پڑے ۔ ملازم کو اس دوران میں نے کال کر کے دروازہ کھولنے کا کہہ دیا تھا ۔ مجھے وہ کمرہ دکھائیں ۔۔ گھر پہنچنے کے بعد عامل صاحب نے کہا ۔ ہم سیدھا اس کمرے کے دروازے پہ جارکے دروازہ بند تھا میری ابھی بھی ہمت نہیں بندھ رہی تھی دروازہ کھولنے کی میں نے طارق کو اشارہ کیا طارق نے دروازہ کھول دیا ہم عامل صاحب سب سے پہلے کمرےمیں داخل ہوے ان کے پیچھ ہم بھی داخل ہو گئے میں نے اندر داخل ہوتے ہے چھت کے اسی کونے کی طرف دیکھا مگر سب نارمل تھا طارق نے آگے بڑھ کر اٹیچ باتھ کا دروازہ بھی کھول دیا۔۔

کس کونے میں دھواں دیکھا تھا ۔۔ عامل صاحب نے مجھ سے پوچھا جس کا جواب میں نے ہاتھ کا اشارہ اس کونے کی طرف کر کے دے دیا ۔عامل صاحب بیڈ پہ بیٹھ گئے اور آلتی پالتی مار کر انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے لگے پانچ سات منٹ پڑھنے کے بعد انہوں اپنے شاگر کو اشارہ کیا انکے شاگرد نے ہاتھ میں۔پکڑے ایک چھٹے سے پرس نمابیگ سے ایک شاپر نکالا اور اسکی گانٹھ کھول کر عامل صاحب کو دے دی وہ ہلدی نما کچھ تھا عامل صاحب نے اس پہ پھونک مار کر شاپر واپس اپنے شاگرد کو دے کر کونے کی طرف اشارہ کیا انکے شاگرد نے شاپر سے وہ ہلدی نما چیز نکال کر کونے میں گرادی عامل صاحب پھر کچھ پڑھنے لگے کچھ دیر بعد عامل صاحب اٹھے اور کمرے کے چاروں کونوں میں تقریباً دودومنٹ باری باری کھڑے ہوکر پڑھتے رہے ۔مختصر یہ کہ انہوں نے گھر کے سارے کونوں میں کھڑے ہوکر پڑھائی کی یہ سب پڑھ ہٹنے کے بعد انہوں نے اپنے شاگرد کو اشارہ کیا انکے شاگرد نے اپنے بیگ سے سے لوہے کی دو میخیں نکال کر انکو دے دیں جن پہ پھونک کر انہوں نے وہ میخیں مجھے پکڑا دیں اور گھر کے صحن کے دونوں جانب دائں بائیں یہ میخیں گاڑ دینے کا کہا میں اور طارق آگے بڑھے اور انکے بتاے طریقے سے وہ میخیں زمین میں دو دو فٹ کے گڑھے کھود کر گاڑ دیں ۔۔۔ 

جب تک یہ میخیں اس گھر کے صحن میں رہیں گی وہ موذی واپس نا آ سکے گا اب آپ کی فیملی واپس اس گھر آسکتی ہے عامل صاحب نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا

نجمہ کو پہننے کے لیے تعویذ دے کر عامل صاحب طارق کے ہمراہ واپس چلے گئے تھے 

وہ دن سکون سے گزر گیا تھا ۔ مگر رات مجھے چاچا جی کے عامل سے دوبارہ رابطہ کرناپڑگیا ۔ ہمارے کمرے کے دروازے پہ رات کے کسی وقت زور سے دستک ہوئی تھی میں۔ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھا تھا آواز سے نجمہ بھی اٹھ گئ تھی میں نے اٹھ کے دروازہ جو لاک نہیں تھا کھولا مگر باہر کوئی نا تھا میں سمجھا کہ بچوں میں سے کوئی ہوگا میں بچوں۔کے کمرے کی جانب بڑھا کمرے کا بند دروازہ کھول کر میں نے اندر دیکھا بچے اپنے اپنے بستروں پہ محو سوے ہوے تھے ۔واپس کمرے میں آکر میں پریشان تھا کہیں یہ دوبارہ تو کوئی شرارت نہیں ہوئی ۔۔نجمہ کیاتم نے بھی دروازے کی دستک سنی تھی ۔۔۔ میں نے نجمہ سے پوچھا 

بلکل سنی تھی اسی کی آواز سے تو میری آنکھ کھلی ہے ۔۔ نجمہ نے تشویش سے کہا ۔۔ 

اچانک ہم دونوں دوبارہ چونک پڑے ۔۔ دروازے پہ دوبارہ دستک ہوئی تھی ۔۔ میں نے آگے بڑھ کر جلدی سے دروازہ کھول دیا مگر ۔۔ اس بار بھی دروازے پہ کوئی ناتھا ۔۔ نجمہ کی ہلکی سی چینخ اوردروازہ زور دار آواز میں دیوار سے لگنے کی کی آواز آئی تھی میں نے چونک کر پیچھے دیکھا واشروم کا دروازہ زور دار آواز سے کھلا تھا ۔۔اچانک اسی آواز کی وجہ سے نجمہ کی چینخ نکل گئی تھی۔۔ اور وہ ڈر کر میرے پاس بھاگ آ گئ تھی میں اور نجمہ دونوں خوف سے واش روم کی طرف دیکھ رہے تھے میں نے ۔۔۔ اچانک سے واش روم کا دروازہ اسی زور دار آواز سے بند ہوا تھا میں نے نجمہ کا ہاتھ مظبوطی سے پکڑا.......

بیگم ابھی تک سو رہی تھی۔ میں نے دل میں شکر ادا کیا کہ کچھ تو آرام آیا۔ مگر ایک انجانا خوف اب بھی دل میں بیٹھا ہوا تھا۔ دوپہر کے قریب بیگم کی ماں، بھابھی اور بھائی گھر پہنچے۔ اُن کے چہروں پہ بھی پریشانی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے ساری صورتحال تفصیل سے اُن کے سامنے رکھ دی۔ بیگم کی ماں بار بار استغفار پڑھ رہی تھی اور بھائی کی پیشانی پہ بل واضح تھے۔


شام ہوتے ہی بیگم جاگ گئی۔ اُس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، جیسے رات بھر جاگنے اور مسلسل ڈرنے سے تھک چکی ہو۔ ماں کو دیکھ کر اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جیسے کسی نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا ہو۔ بیگم نے آہستہ آواز میں کہا:


"امی... وہ عورت پھر آئے گی... وہ کہہ رہی تھی میں واپس آؤں گی۔"


بیگم کی ماں نے اُسے سینے سے لگا لیا اور سُنتی رہی، مگر میں نے اس جملے پر کان دھرے—"وہ واپس آؤں گی"۔


رات کو ہم سب محتاط تھے۔ پیر صاحب نے تعویذ پہننے اور پانی پینے کی تاکید کی تھی، ہم نے سب کچھ ویسا ہی کیا۔ مگر جیسے جیسے رات گہری ہوئی، گھر میں عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ کمرے کی لائٹ کم کر کے ہم سب ایک جگہ بیٹھے تھے۔ بیگم کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھ جاتیں۔


اچانک بیگم نے چیخ ماری اور اپنے دونوں کانوں کو پکڑ لیا۔


"وہ کچھ بول رہی ہے... وہ کچھ پڑھ رہی ہے میرے کانوں میں... میری آواز میں۔۔۔ میری ہی آواز میں!"


سب گھبرا گئے۔ بھائی نے جلدی سے پانی پڑھ کر اُس پر چھڑکاؤ کیا۔ بیگم زمین پر بیٹھ کر ہانپنے لگی۔ اُس کا چہرہ پیلا پڑ چکا تھا۔


پھر اُس نے جو کہا، ہم سب کے ہوش اڑا دیے:


"یہ گھر اب میرا ہے... وہ تو صرف راستہ ہے... اصل تو کوئی اور ہے... تم نے اُسے بلا لیا ہے۔"


ہم سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ بیگم کی آواز بدل گئی تھی۔ وہ لب جو کبھی دھیرے سے بولتے تھے، اب کسی اور لہجے میں کسی اور زبان میں کچھ عجیب الفاظ ادا کر رہے تھے۔


میں نے فوراً پیر صاحب کو فون کیا، مگر نیٹ ورک نہیں مل رہا تھا۔ باہر نکلا تو لگا جیسے ہوا رک گئی ہو۔ ارد گرد سنّاٹا تھا... کچھ لمحوں کے لیے جیسے وقت ٹھہر گیا ہو۔


بیگم کے بھائی نے کہا، "ہم اُسے یہاں نہیں رکھ سکتے، ہمیں کسی مضبوط جگہ لے جانا ہوگا... ورنہ یہ کچھ اور بن جائے گا۔"


اب یہ محض کوئی سایہ نہیں تھا... لگ رہا تھا جیسے کسی اور دنیا کا دروازہ کھل گیا ہو، اور کوئی آ چکا ہو... جو صرف جانے نہیں آیا، رہنے بھی آیا ہے۔

ہم نے فیصلہ کیا کہ بیگم کو فوراً اُس بزرگ پیر صاحب کے پاس لے جایا جائے جو اس فن میں ماہر مانے جاتے تھے۔ یہ فیصلہ اُس کے بھائی کا تھا، جس نے گاڑی کا بندوبست کیا اور رات ہی کو روانگی طے ہو گئی۔


راستے میں بیگم بار بار ہوش کھوتی اور کچھ ایسی باتیں کہتی جو ہماری سمجھ سے باہر تھیں۔ کبھی ہنستی، کبھی چیختی، اور کبھی اپنے ہاتھوں سے اپنے گلے کو دباتی جیسے کوئی اور اُس پر قابض ہو۔


جب ہم پیر صاحب کے پاس پہنچے، وہ جیسے سب کچھ جانتے تھے۔ انہوں نے ہمیں خاموشی سے بیگم کے ساتھ حجرے میں آنے کو کہا۔ کمرہ مدھم روشنی میں تھا، ایک طرف اگربتیوں کی دھونی تھی، اور دوسرے کونے میں ایک لوہے کا دائرہ کھینچا گیا تھا۔


"اسے دائرے میں بٹھاؤ" پیر صاحب نے کہا۔


جونہی بیگم کو دائرے میں بٹھایا گیا، اُس کی آنکھیں مکمل سفید ہو گئیں۔ پیر صاحب نے آیات پڑھنی شروع کیں اور بیگم سے مخاطب ہوئے:


"نام بتا اپنا، تو کون ہے؟"


بیگم کی آواز گرجی:


"میں وہ ہوں جو اسے رخصتی کے دن دیکھ رہا تھا... میں نے پہچان لیا تھا کہ یہ وہی ہے جس کی ماں نے میرے ساتھ عہد توڑا تھا... اب اس کا خون میرے وعدے کی قیمت ہے!"


پیر صاحب چونکے، ہم سب حیرت زدہ تھے۔


"کون سا وعدہ؟" پیر صاحب نے پوچھا۔


"اس کی ماں نے میرے قبیلے سے ایک بار مدد لی تھی... بدلے میں اس کی پہلی اولاد کا وعدہ کیا تھا... مگر وعدہ توڑ دیا گیا... اب میں اپنا حق لینے آیا ہوں!"


پیر صاحب نے زور سے اللہ اکبر کہا اور دم تیز کر دیا۔ کمرے میں دھواں بڑھ گیا، بیگم نے زور زور سے چیخنا شروع کیا، اور پیر صاحب مسلسل پڑھتے رہے۔


پھر پیر صاحب نے ہم سے کہا:


"اسے آزاد کروانے کے لیے کسی کو قربانی دینا ہوگی، جو اس سے بے پناہ محبت رکھتا ہو... ورنہ یہ وجود ہمیشہ کے لیے اُس کے پاس چلا جائے گا۔"


میرا دل ڈوبنے لگا۔ میں نے بیگم کا ہاتھ تھاما۔ "اگر میری قربانی سے وہ بچ سکتی ہے تو میں تیار ہوں۔"


پیر صاحب نے سر ہلایا اور اپنا عمل جاری رکھا۔


ایک لمحہ ایسا آیا کہ بیگم کا جسم کانپنے لگا، دھواں پورے کمرے میں پھیل چکا تھا، اور جیسے ہی پیر صاحب نے آخری آیت پڑھی، ایک کالی شعلے جیسی چیز بیگم کے منہ سے نکل کر لوہے کے دائرے میں قید ہو گئی۔ ایک خوفناک چیخ سنائی دی اور سب کچھ خاموش ہو گیا۔


بیگم بے ہوش ہو گئی۔


پیر صاحب نے کہا:


"یہ چلا گیا ہے... مگر تم نے ایک قیمت چکائی ہے... تمھاری روح اُس کے راستے میں رکاوٹ بنی ہے... اب تم پر کبھی سایہ نہیں پڑے گا... مگر تمھارے بعد کوئی وعدہ مت توڑنا..."


بیگم کو ہوش آیا تو وہ رو رہی تھی۔ اُس نے مجھے پہچانا، میرا نام پکارا۔


ہم گھر لوٹ آئے۔ وہ رات گزر گئی، مگر میری حالت بگڑتی گئی۔ کمزوری، بے ہوشی، اور آہستہ آہستہ سب کچھ چھننے لگا۔ ایک رات خواب میں وہی بوڑھی عورت آئی... اُس نے مسکرا کر کہا:


"وعدہ پورا ہوا... اب میں جا رہی ہوں..."


---


کچھ وعدے نسلوں کی قیمت پہ پورے ہوتے ہیں۔


ختم شد

Comments