Skip to main content

Featured

میری پوری کائنات

آخری آ رام گاہ میری پوری  "کائنات" ۔۔۔  (ایک کہانی جس کے کردار سچے ہیں) وہ ابھی نابالغ تھی کہ اس کا بھائی جو ابھی نوجوانی کی حدوں میں آ رہا تھا محلے کے ایک دکاندار سے اس کی دوستی تھی۔۔ ایک دن اس دکاندار نے اس کے بھائی کو کہا ۔۔ یار پپو!!! تیری بہن جب سودا لینے آتی ہے بالکل گڑیا جیسی دکھتی ہے۔۔ گول چہرے۔ بڑی آنکھیں۔۔ بورے بال کالی انکھیں۔۔ مجھے بہت پیاری لگتی ہے۔۔ بھائی نے کہا ہم سب کو وہ بہت پیاری لگتی ہے کیونکہ گھر کی جان ہے۔۔ سب سے چھوٹی جو ہے۔۔ دکاندار نے پپو کا ہاتھ پکڑا اور اسے دباتے ہوئے کہا۔۔ ایک مرتبہ اسے میری دکان میں دوپہر کو لے آو۔۔ پچاس روپے دوں گا۔۔ پپو نے گھبرا کر انکار کیا ۔۔ کیونکہ پپو اب اس کا مطلب سمجھتا تھا۔۔ اس نے  پپو کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا اگر تو نہیں لائے گا تو جو تیرے ساتھ کرتا ہوں سب محلے کو بتا دوں گا۔۔ مجبوری میں پپو اپنی گڑیا جیسی بہن کو بہلا  پھسلا کر دکاندار کے پاس لے آیا۔۔ اور خود ڈر کر گھر بھاگ گیا۔۔ جب دوپہر کے بعد آیا تو اس کی بہن کے ہاتھوں میں ایک جوس  کا ڈبہ کچھ ٹافیاں تھیں اور وہ دکان کے تھڑے پر نڈھال بیٹی رو رہی تھی۔۔ پپ...

شہزادی کی فقیر سے شادی

 

شہزادی کی فقیر سے شادی

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے، ایک خوبصورت سلطنت میں شہزادی زمرّد رہتی تھی۔ وہ بےحد حسین، ذہین اور نیک دل تھی، مگر غرور اس کی شخصیت کا حصہ نہ تھا۔ وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ اس کی شادی کسی ایسے شخص سے ہو جو سچے دل کا مالک ہو، نہ کہ صرف کسی شہزادے یا بادشاہ سے۔

ایک دن وہ محل کی دیوار کے قریب کھڑی تھی کہ اس کی نظر ایک فقیر پر پڑی، جو درخت کے نیچے بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ وہ محل کے باورچیوں سے ملی ہوئی روٹی لے کر اس فقیر کے پاس گئی اور کہا:

"یہ لو بابا، کھانے کے لیے کچھ لے لو۔"

فقیر نے روٹی لے لی مگر شہزادی کو غور سے دیکھ کر مسکرایا اور کہا:
"بیٹی، تمہیں شاید معلوم نہیں کہ اصل بھوک روٹی کی نہیں ہوتی، بلکہ سکون کی ہوتی ہے۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ سکون کہاں ملتا ہے؟"

شہزادی یہ سن کر حیران ہوئی۔ وہ سوچنے لگی کہ سونے کے محل میں رہنے کے باوجود وہ اکثر اداس اور بےچین محسوس کرتی ہے۔

اس دن کے بعد وہ اکثر اس فقیر کے پاس جانے لگی اور اس سے زندگی کی حقیقتوں کے بارے میں باتیں کرتی۔ فقیر کی باتوں نے اس کے دل میں ایک نئی روشنی پیدا کر دی۔ کچھ عرصہ بعد، شہزادی نے اعلان کیا کہ وہ کسی دولت مند شہزادے سے نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص سے شادی کرے گی جو نیک دل اور عقل مند ہو، چاہے وہ فقیر ہی کیوں نہ ہو۔

یہ سن کر بادشاہ غصے میں آگیا۔ "یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میری بیٹی ایک فقیر سے شادی کرے؟ یہ سلطنت کے اصولوں کے خلاف ہے!" مگر شہزادی اپنی ضد پر قائم رہی۔

بادشاہ نے فقیر کو دربار میں بلایا اور کہا، "اگر تم واقعی شہزادی سے شادی کرنا چاہتے ہو تو تمہیں تین آزمائشوں میں کامیاب ہونا ہوگا۔"

فقیر نے مسکرا کر حامی بھر لی۔

پہلی آزمائش: علم
بادشاہ نے فقیر سے کہا، "اگر تم واقعی دانش مند ہو تو مجھے بتاؤ، انسان کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟"

فقیر نے کہا، "بادشاہ سلامت، انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کا خوف ہے۔ جو شخص خوف پر قابو پا لے، وہ دنیا میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔"

بادشاہ حیران رہ گیا، کیوں کہ اس نے کبھی ایسا جواب نہیں سنا تھا۔

دوسری آزمائش: دولت
بادشاہ نے کہا، "اگر تم واقعی امیر بن سکتے ہو تو مجھے ثابت کر کے دکھاؤ کہ تمہاری دولت کیا ہے؟"

فقیر نے جواب دیا، "میری دولت میری قناعت ہے، میرا علم ہے، میری سچائی ہے۔ یہ ایسی دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہی کوئی اسے چرا سکتا ہے۔"

دربار میں سب خاموش ہو گئے۔ بادشاہ کو محسوس ہوا کہ وہ فقیر کوئی عام آدمی نہیں ہے۔

تیسری آزمائش: بہادری
بادشاہ نے فقیر کو جنگل میں بھیجا اور کہا، "اگر تم واقعی بہادر ہو تو اس جنگل میں تین دن گزار کر آؤ، جہاں درندے بستے ہیں۔"

فقیر تین دن بعد واپس آیا، زندہ اور سلامت۔ بادشاہ نے حیران ہو کر پوچھا، "تم بچ کیسے گئے؟"

فقیر مسکرا کر بولا، "میں نے درندوں سے ڈرنے کے بجائے، ان کے قریب بیٹھ کر ان کی فطرت کو سمجھا۔ میں نے ان پر رحم کیا، اور وہ بھی میرے دوست بن گئے۔"

یہ سن کر بادشاہ خاموش ہوگیا۔ اسے احساس ہوا کہ یہ فقیر واقعی عام آدمی نہیں بلکہ ایک عقلمند اور نیک دل انسان ہے۔

آخرکار، بادشاہ نے خود اپنی بیٹی کی شادی اس فقیر سے کر دی۔ مگر شادی کے بعد شہزادی کو معلوم ہوا کہ وہ فقیر دراصل ایک بھٹکا ہوا شہزادہ تھا، جو دنیا کی حقیقتیں سمجھنے کے لیے اپنی سلطنت چھوڑ چکا تھا۔

یوں، ایک فقیر اور شہزادی کی شادی صرف محبت نہیں بلکہ دانائی اور قناعت کی جیت تھی۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی خوشی دولت میں نہیں بلکہ سادگی اور سچائی میں ہے۔

- ختم شد -

Comments