بس میں سوار اجنبی — جنات کا سفر
السلام علیکم! یہ کہانی میرے دو جاننے والوں، احمد اور شاہد، کے ساتھ پیش آنے والے ایک خوفناک واقعے کی ہے، جس نے ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا اور سننے والوں کی راتوں کی نیند اڑا دی۔ دونوں بھائی کراچی میں ایک ٹریول کمپنی کے ملازم تھے، جہاں وہ بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ایماندار، محنتی، اور ایک دوسرے کے لیے ہر مشکل میں سہارا—لیکن ایک رات نے ان کے یقین اور ہمت کو ایسی آزمائش میں ڈالا کہ آج بھی اسے یاد کر کے لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
ایک شام، جب مغرب کی اذان ہو چکی تھی اور آسمان پر گہرا نیلا رنگ چھا رہا تھا، کمپنی کے دفتر سے احمد اور شاہد کو ایک ہنگامی بکنگ کا آرڈر ملا۔ ایک خاندان نے بس کراچی سے حیدرآباد کے لیے بک کی تھی، جہاں وہ کسی رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ خاندان میں دس سے بارہ افراد تھے—بوڑھے، بچے، اور خواتین۔ وقت کم تھا، سو دونوں بھائی فوراً تیاری میں جُت گئے۔ احمد نے بس کا ایندھن اور مکینکل حالات چیک کیے، جبکہ شاہد نے سیٹوں کو صاف کیا اور مسافروں کے سامان کے لیے جگہ بنائی۔ لیکن اس سب کے دوران، ایک عجیب سی بے چینی ان کے دلوں کو چھو رہی تھی۔ بس اسٹینڈ پر ہوا غیر معمولی طور پر ٹھنڈی تھی، حالانکہ گرمیوں کا موسم تھا۔ شاہد نے احمد سے کہا، "بھائی، دل بہت گھبرا رہا ہے۔ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔" احمد نے ہلکا سا مذاق اڑاتے ہوئے کہا، "شاہد، تمہاری فلموں والی باتیں شروع ہو گئیں۔ بس اپنا کام کرو!" لیکن اس کے اپنے دل میں بھی ایک عجیب سی گھنٹی بج رہی تھی، جیسے کوئی ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہو۔
جب خاندان بس میں سوار ہوا، تو ماحول کو ہلکا کرنے کے لیے احمد نے بس کا پرانا ریڈیو آن کیا اور ایک مقبول گانا بجانے لگا۔ لیکن اچانک، خاندان کے ایک بزرگ نے سخت لہجے میں کہا، "یہ کیا بکواس ہے؟ فوراً بند کرو!" ان کی آواز میں غصہ تو تھا ہی، لیکن اس سے زیادہ ایک عجیب سی شدت تھی۔ احمد نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا۔ خاندان کے باقی افراد بھی ناراض دکھائی دیے—بچوں کی آنکھیں چمک رہی تھیں، جیسے وہ کوئی راز چھپا رہے ہوں، اور خواتین نے اپنے نقابوں کو اور مضبوطی سے پکڑ لیا۔ شاہد نے ہنسی کو دباتے ہوئے کہا، "اتنا غصہ صرف ایک گانے پر؟" لیکن اس کی بات نے ماحول کو اور کشیدہ کر دیا۔ بزرگ نے اسے گھورا، اور ان کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو انسانی نہیں لگتی تھی۔
سفر شروع ہوا۔ بس حیدرآباد کی طرف بڑھ رہی تھی، لیکن ماحول میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ کچھ دیر بعد، بزرگ نے کہا، "بیٹا، بس روک دو۔ ہمیں عشاء کی نماز پڑھنی ہے۔" شاہد، جو اب تک ان کے رویے سے تنگ آ چکا تھا، بے دھیانی میں بول پڑا، "چاچا، حیدرآباد پہنچ کر گھر پر پڑھ لیجیے۔ ہمیں رات بارہ بجے تک واپس اسٹینڈ پر رپورٹ کرنا ہے۔" اس کی بات سن کر بزرگ کا چہرہ لال ہو گیا۔ انہوں نے دھیمی لیکن دھمکی آمیز آواز میں کہا، "تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم کس سے بات کر رہے ہو؟" احمد نے شاہد کو ڈانٹا کہ وہ خاموش رہے، لیکن خاندان کے افراد آپس میں عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے، جیسے کوئی گہرا راز ان کے درمیان ہو۔
رات کے دس بجے، بس حیدرآباد کے ایک سنسان اسٹاپ پر رکی۔ مسافروں نے خاموشی سے اپنا سامان لے کر اتر گیا، بغیر کوئی شکریہ کہے یا کوئی بات کیے۔ ان کی نظریں احمد اور شاہد پر ٹھہری ہوئی تھیں، جیسے وہ کچھ سوچ رہے ہوں۔ احمد نے سوچا کہ شاید وہ جلدی میں ہیں، اور رات دس بج کر پندرہ منٹ پر اس نے بس کو کراچی کی طرف موڑ دیا۔ سڑک سنسان تھی، اور بس کی ہیڈلائٹس کے علاوہ دور دور تک کوئی روشنی نہ تھی۔
شاہد نے بس کی رفتار بڑھاتے ہوئے کہا، "بھائی، سب مسافر تو اتر گئے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ بس میں اب بھی کوئی ہے۔" احمد نے ہنستے ہوئے کہا، "تمہاری عادت ہے، ہر بار یہی کہتے ہو۔" لیکن چند منٹ بعد، انہیں عجیب سی آہٹ سنائی دی، جیسے کوئی آہستہ آہستہ سانس لے رہا ہو۔ شاہد نے پیچھے مڑ کر دیکھا، اور اس کی چیخ نکل گئی۔ سیٹ خالی تھی، لیکن سیٹ پر ناخنوں کے گہرے نشانات تھے، جیسے کسی نے زور سے کھرچا ہو۔ خون کی چند بوندیں بھی سیٹ پر بکھری ہوئی تھیں، جو ابھی تازہ لگ رہی تھیں۔ احمد نے گاڑی کی رفتار تیز کر دی، لیکن اب بس کے اندر سے عجیب سی آوازیں آنے لگیں—کبھی ہنسی، کبھی رونے کی آواز، اور کبھی جیسے کوئی ان سے سرگوشی کر رہا ہو۔
اچانک، بس کا ریڈیو خود بخود آن ہو گیا۔ وہی گانا جو احمد نے شروع میں بجایا تھا، اب خود بخود بج رہا تھا، لیکن اس کی آواز بھاری اور خوفناک ہو گئی تھی، جیسے کوئی غیر انسانی مخلوق اسے گا رہی ہو۔ شاہد نے چیخ کر کہا، "بھائی، یہ بند کرو!" لیکن جیسے ہی احمد نے ریڈیو بند کرنے کی کوشش کی، اس کا بٹن ٹوٹ گیا، اور گانا اور بلند ہو گیا۔ بس کے شیشوں پر اچانک دھند چھا گئی، اور شیشوں پر ہاتھوں کے نشانات ابھرنے لگے، جیسے کوئی باہر سے شیشوں کو چھو رہا ہو۔ لیکن باہر تو کوئی نہ تھا—صرف اندھیرا اور سنسان سڑک!
شاہد کے کان میں ایک دھیمی آواز گونجی، "تم نے ہمیں ناراض کر دیا۔ اب تم ہمارے ہو۔" اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا، "کون ہے؟" لیکن جواب میں ایک خوفناک ہنسی گونجی، جو بس کے ہر کونے سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔ احمد نے گاڑی روکنے کی کوشش کی، لیکن اسٹیرنگ ویل خود بخود حرکت کر رہا تھا۔ بس ایک ایسی سڑک پر جا رہی تھی جو انہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ دونوں طرف گھنے درخت تھے، جن کی شاخیں بس کے شیشوں کو کھرچ رہی تھیں، اور شاخوں کے درمیان سے عجیب سی آنکھیں جھانک رہی تھیں۔
رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ دو گھنٹے گزر چکے تھے، لیکن کراچی کا کوئی نشان نہ تھا۔ گھڑی پر 2 بج رہے تھے، جیسے وہ ایک دائرے میں گھوم رہے ہوں۔ اچانک، بس کے پیچھے سے ایک عورت کی چیخ سنائی دی۔ شاہد نے پیچھے دیکھا، اور اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ ایک سفید لباس میں ملبوس عورت، جس کا چہرہ نقاب سے ڈھکا تھا، آخری سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھوں سے خون ٹپک رہا تھا، اور اس کا سر عجیب طرح سے جھک رہا تھا، جیسے وہ زندہ نہ ہو۔ شاہد نے احمد سے کہا، "بھائی، پیچھے دیکھو!" لیکن جب احمد نے آئینے میں دیکھا، وہاں کوئی نہ تھا۔ لیکن شاہد اب بھی اس عورت کو دیکھ رہا تھا، جو اب آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کے قدموں کی آواز نہیں تھی، لیکن اس کی موجودگی سے بس کے اندر سردی بڑھتی جا رہی تھی۔
احمد نے قرآن پاک کی آیات پڑھنی شروع کیں، لیکن جیسے ہی وہ آیات پڑھتا، بس کے اندر سے ایک زور دار چیخ بلند ہوتی، جیسے کوئی اس کی آواز سے تکلیف میں ہو۔ بس کے دروازے خود بخود کھلنے اور بند ہونے لگے، اور ہر بار جب دروازہ کھلتا، ایک ٹھنڈی ہوا اندر آتی، جس میں عجیب سی بدبو شامل تھی—جیسے کوئی چیز سڑ رہی ہو۔ شاہد نے دیکھا کہ بس کی چھت پر کچھ سائے حرکت کر رہے تھے، جیسے کوئی اوپر چل رہا ہو۔ جب اس نے اوپر دیکھا، تو اسے کچھ لمبے، کالے سائے نظر آئے، جن کی آنکھیں سرخ تھیں اور وہ بس کی طرف جھانک رہے تھے۔
اچانک، بس ایک جھٹکے کے ساتھ رکی۔ احمد اور شاہد نے باہر دیکھا تو ایک پرانا، خستہ حال قبرستان نظر آیا۔ قبرستان کی دیوار پر لکھا تھا، "یہ جگہ ان کی ہے جو ہماری نافرمانی کرتے ہیں۔" دونوں بھائیوں کے ہاتھ پاؤں سرد پڑ گئے۔ بس کا انجن خود بخود بند ہو گیا، اور اب بس کے اندر مکمل خاموشی تھی—سوائے اس دھیمی سرگوشی کے جو کہہ رہی تھی، "تم نے ہمیں روکا۔ تم نے ہمیں ناراض کیا۔ اب ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔"
شاہد نے ڈرتے ہوئے کہا، "بھائی، یہ وہی خاندان تھا۔ یہ انسان نہیں تھے۔" احمد نے کہا، "شاہد، ہمت رکھو۔ ہم نے ان سے معافی مانگ لی۔" دونوں نے مل کر بلند آواز میں معافی مانگنی شروع کی اور درود شریف پڑھنے لگے۔ لیکن جیسے ہی وہ درود پڑھتے، بس کے شیشوں پر زور زور سے دستک ہوتی، جیسے کوئی اندر آنا چاہتا ہو۔ شیشوں پر اب خون کے دھبے نمودار ہو رہے تھے، اور ہر دھبے کے ساتھ ایک چیخ سنائی دیتی۔
رات بھر وہ اسی قبرستان کے سامنے کھڑے رہے۔ بس کا دروازہ کھلتا اور بند ہوتا رہا، اور ہر بار جب دروازہ کھلتا، ایک سیاہ سایہ بس کے اندر جھانکتا۔ صبح کی اذان کی آواز کے ساتھ ہی بس کا انجن اچانک چالو ہوا، اور بس خود بخود کراچی کی طرف چل پڑی۔ جب وہ کراچی کے بس اسٹینڈ پر پہنچے، تو ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ انہوں نے بس روکی اور باہر نکل کر سانس لی۔ لیکن جب انہوں نے کمپنی کے ریکارڈ چیک کیے، تو ان کے ہاتھ پاؤں سرد پڑ گئے۔ کوئی بکنگ ہی نہیں ہوئی تھی! دفتر والوں نے بتایا کہ گزشتہ رات کوئی خاندان نے ان کی بس بک نہیں کی تھی۔ پھر وہ خاندان کون تھا، جسے انہوں نے حیدرآباد لے کر گئے؟
بس کے اندر اب بھی خون کے دھبے، ناخنوں کے نشانات، اور ایک عجیب سی بدبو تھی۔ بس کی آخری سیٹ پر ایک پرانا، پھٹا ہوا نقاب پڑا تھا، جو رات کو اس عورت کا تھا۔ جب احمد نے اسے ہاتھ لگایا، تو اسے لگا جیسے کوئی اس کی کلائی کو زور سے پکڑ رہا ہو۔ اس نے چیخ کر نقاب پھینک دیا، اور وہ نقاب ہوا میں غائب ہو گیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ جنات تھے، جو انسانوں کی شکل میں سفر کرتے ہیں۔ وہ نیک جنات تھے، جو اللہ کی عبادت کے لیے جا رہے تھے، لیکن احمد اور شاہد کی نافرمانی اور گانے بجانے سے ناراض ہو گئے۔ انہوں نے دونوں بھائیوں کو سبق سکھانے کے لیے اپنی موجودگی کے خوفناک نشانات چھوڑے۔
اس خوفناک واقعے کے بعد دونوں نے ٹریول کمپنی کی نوکری ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی۔ احمد تو اس صدمے سے ایک سال تک بیمار رہا، نہ راتوں کو چین سے سو سکا، نہ دن میں سکون ملا۔ وہ رات کے وقت سرگوشیوں اور شیشوں پر دستک کی آوازوں سے ڈرتا رہا، اور اس کا جسم خوف سے کپکپاتا تھا۔ شاہد نے بھی اس واقعے کو کبھی نہیں بھلایا، اور وہ اکثر کہتا کہ بس کی وہ رات ان کے دل و دماغ پر ایک داغ کی طرح چھپ گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ جنات آج بھی اس بس کے ساتھ جڑے ہیں، اور رات کے سناٹے میں ان کی موجودگی کا احساس ہر خاص و عام کو ہوتا ہے۔ بس اب اسٹینڈ پر کھڑی زنگ آلود ہو رہی ہے، لیکن اس کے شیشوں پر اب بھی کبھی کبھار ہاتھوں کے نشانات اور
خون کے دھبے نظر آتے ہیں...
امید ہے ہے کہ آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہوگی۔ اپنی رائے نیچے کمنٹ میں ضرور دیجئے۔ آپ کی رائے میرے لیے بہت اہم ہے۔
Follow: Subscribe for latest updates
Comments
Post a Comment