Skip to main content

Featured

میری پوری کائنات

آخری آ رام گاہ میری پوری  "کائنات" ۔۔۔  (ایک کہانی جس کے کردار سچے ہیں) وہ ابھی نابالغ تھی کہ اس کا بھائی جو ابھی نوجوانی کی حدوں میں آ رہا تھا محلے کے ایک دکاندار سے اس کی دوستی تھی۔۔ ایک دن اس دکاندار نے اس کے بھائی کو کہا ۔۔ یار پپو!!! تیری بہن جب سودا لینے آتی ہے بالکل گڑیا جیسی دکھتی ہے۔۔ گول چہرے۔ بڑی آنکھیں۔۔ بورے بال کالی انکھیں۔۔ مجھے بہت پیاری لگتی ہے۔۔ بھائی نے کہا ہم سب کو وہ بہت پیاری لگتی ہے کیونکہ گھر کی جان ہے۔۔ سب سے چھوٹی جو ہے۔۔ دکاندار نے پپو کا ہاتھ پکڑا اور اسے دباتے ہوئے کہا۔۔ ایک مرتبہ اسے میری دکان میں دوپہر کو لے آو۔۔ پچاس روپے دوں گا۔۔ پپو نے گھبرا کر انکار کیا ۔۔ کیونکہ پپو اب اس کا مطلب سمجھتا تھا۔۔ اس نے  پپو کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا اگر تو نہیں لائے گا تو جو تیرے ساتھ کرتا ہوں سب محلے کو بتا دوں گا۔۔ مجبوری میں پپو اپنی گڑیا جیسی بہن کو بہلا  پھسلا کر دکاندار کے پاس لے آیا۔۔ اور خود ڈر کر گھر بھاگ گیا۔۔ جب دوپہر کے بعد آیا تو اس کی بہن کے ہاتھوں میں ایک جوس  کا ڈبہ کچھ ٹافیاں تھیں اور وہ دکان کے تھڑے پر نڈھال بیٹی رو رہی تھی۔۔ پپ...

ڈر ۔۔۔۔۔! ایک اور حقیقت

 

ڈر ۔۔۔۔۔! ایک اور حقیقت


دوستو میں نے اس سے پہلے بہت سے واقعات آپ سے شئیر کیئے اور آج میں آپ سے ایک ایسا واقع شیر کرنے جارہا ہوں اس واقع نے مجھے ڈرا کر رکھ دیا تھا ہلا دیا تھا اور سچ میں مجھے لگا تھا کہ یہ ہوتا ہے ڈر ۔تو دوستو رام گڑھ کے علاقے میں کھبی ہمارا گھر ہوا کرتا تھا اور ہمارے گھر کے ساتھ والا گھر ہمارے دوست خرم کا تھا پر یہ گھر اب خالی تھا کیونکہ خرم اور اس ماما پاپا اور باقی گھر والے ہمیشہ کے لیئے کینیڈا شفٹ ہو گئے تھے اور گھر کی چابی اپنے کسی رشتے دار کو دے کر گئے تھے کیونکہ یہ گھر ان لوگوں کے بزرگوں کی نشانی تھی تو اس وجہ سے وہ اس گھر کو بیچ نہ سکے اور اپنے کسی رشتے دار کے حوالے کر گئے اور ان کے رشتدار کبھی کبھی چکر لگا کر بجلی کے بل وغیرہ لے جایا کرتے تھے۔ اور اس گھر کے صحن میں ایک بہت ہی پرانا امرود کا درخت لگا ہوا تھا جس کے امرود اوپر سے تو پیلے رنگ کے تھے پر اندر سے سرخ رنگ کے ہوتے تھے اور بہت ہی زیادہ میٹھے ہوتے تھے گھر تقریباً چھ سال تک بلکل بند رہا اور اس دوران کبھی اس گھر میں لائٹ بھی نہیں جلی تھی اور ہم اپنی چھت سے اس گھر میں جاتے اور بہت سے امرود توڑ کر لے آتے جبکہ ہمارا گھر ڈبل سٹوری تھا اور یہ گھر سنگل سٹوری تھا پر اس گھر کی چھت پر ایک سٹوروم بنایا ہوا تھا جس کی چھت ہماری چھت سے صرف تھوڑا سا ہی نیچے تھی جس کی وجہ سے ہم آسانی سے پہلے ان کے سٹوروم والی چھت پر جاتے اور وہاں سے ایک دیوار پر اتر کر اس گھر کی نچلی چھت پر چلے جاتے تھے پھر ادھر سے سیڑھیوں سے اتر کر اس گھر کے صحن میں لگے امرود کے درخت کے پاس پہنچ جاتے اور اکثر جب ہم اس گھر میں امرود توڑ رہے ہوتے تھے تو ایک عجیب سی وحشت تاری ہو جاتی اور ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے ہمیں ایسا لگتا تھا جیسے کہ اس گھر کے خالی اندھیرے کمروں سے کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے جب کہ اس گھر میں ہمارے اعلاوہ کوئی بھی نہیں ہوتا تھا اور ہم جلد سے اوپر چھت کی طرف بھاگ جاتے تھے پھر ایک دن ایک شخص جس کا نام عابد تھا اس نے اس گھر کا دروازا کھولا یہ شاید کینیڈا والوں کا رشتدار تھا تو اس نے گھر میں داخل ہوتے ہی چیخیں مارنا شروع کردی اور باہر بھاگ آیا اس وقت ہم اس گھر کے باہر ہی ایک تھڑے پر بیٹھے ہوئے تھے ہم جلدی سے اس کی طرف بڑھے اور اس سے پوچھا کیا ہوا وہ کچھ بولا نہیں اور اس صرف انگلی سے گھر کے اندر اشارہ کیا ہم گھر کے دروازے کے پاس گئے اور باہر سے ہی گھر کے اندر جھانکنے لگے اور عابد دروازے سے کافی دور کھڑا ہوا ڈر سے کانپ رہا تھا میں نے اپنے کزن اظہر سے کہا یار اندر تو کوئی نہیں ہے پھر اس بندے کو کیا ہوا اظہر نے اس بندے کو پوچھا بھائی جان کیا ہوا کیا ہے اور آپ اس طرح کس سے ڈر رہے ہو تو عابد نے جواب دیا یار اندر والے کمرے کے دروازے میں کو خوفناک سی چیز بیٹھی ہوئی ہے اور اس نے دور سے ہی بیٹھے ہوئے اپنے ہاتھ سے میری ٹانگ کو پکڑ لیا تھا اس وجہ سے میری چیخیں نکل گئیں اور اس نے مجھے چھوڑ دیا وہ جو بھی ہے بہت ہی بھیانک شکل میں ہے اور میری ٹانگ میں ابھی تک جلن ہو رہی ہے ۔یہ بات کرتے ہوئے عابد بہت تیزی سے کانپ رہا تھا اتنے میں ایک آدمی جس کا نام نوید تھا وہ آیا اور اس نے عابد سے پوچھا کیا بات ہے عابد آج بہت دن بعد نظر آئے ہو کہاں پر ہوتے ہو آج کل ؟؟ عابد نے اس کی کوئی بات کا جواب نہیں دیا اور تبھی اس بندے نے پھر سے پوچھا عابد بھائی خیر تو ہے نا ؟؟ بڑے ڈرے ہوئے ہو کیا ہوا ہے عابد نے کہا یار میں آج اس گھر کو دیکھنے آیا تھا کیونکہ اس گھر کو کرایا پر دینا ہے لیکن جب میں اندر گیا تو ایک کمرے کے دروازے پر کوئی ڈراؤنی سی چیز بیٹھی ہوئی تھی اور اس نے مجھے ٹانگ سے پکڑ لیا تھا بس میں اس وجہ سے ڈر گیا ہوں ۔ تو وہ بندہ زور زور سے ہنسنے لگا اور بولا کیا یار عابد تو بھی کمال کرتا ہے بھلا بند گھر میں کون ہو سکتا ہے مجھے لگتا ہے تجھے کوئی وہم ہو گیا ہے اور اس وجہ سے تو ڈر گیا ہے ۔عابد نے کہا نہیں یار نوید میں سچ کہہ رہا ہوں واقعی میں اندر کوئی ہے نوید نے کہا اچھا چل پھر میرے ساتھ اندر دیکھتے ہیں کون ہے اندر تو عابد جلدی سے اور پیچھے ہو گیا اس نے نوید سے کہا نہیں نہیں میں اندر نہیں جاؤں گا اندر وہ چیز ہے نوید نے کہا یار تو چل تو سہی اس کی ایسی کی تیسی جس نے میرے یار کو ڈرایا ہے تو عابد نے کہا اچھا چلو پر تم آگے چلو میں تمہارے پیچھے پیچھے چلتا ہوں نوید نے کہا اچھا ٹھیک ہے اب چل اس کے بعد وہ دونوں پھر سے گھر میں گئے اور ہم بھی ان کے پیچھے چل دیئے عابد چلتا ہو اچانک رک جاتا اور اپنی ٹانگ کو دبانے لگ جاتا اور جب ہم سب اندر چلے گئے تو اس جگہ کوئی بھی نہیں تھا جہاں عابد نے کسی کو دیکھا تھا ۔نوید کہنے لگا یار دیکھو یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے یہ کہتے ہوئے نوید کمروں میں جا کر دیکھنے لگا ہمیں بھی اس جگہ کوئی نظر نہیں آیا اتنے میں عابد نے اپنی شلوار کا پاؤنچا اوپر اٹھا کر اپنی ٹانگ کو دیکھا تو اس کی ٹانگ پر نیلے رنگ کے انگلیوں کے نشانات موجود تھے ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے اس کی ٹانگ کو پکڑ کر دبائے رکھا ہو ۔عابد نے نوید کو کہا یار یہ دیکھ پھر یہ نشان میری ٹانگ کیسے آگئے۔ نوید غور سے اس کی ٹانگ کی طرف دیکھنے لگا اور بولا یار یہ تو نیل پڑے ہوئے ہیں تجھے پکا پتا ہے یہ اسی چیز کے ہاتھوں کے نشان ہیں عابد اکتا کر بولا ہاں یار میں جھوٹ کیوں بولوں گا وہ چیز ابھی کچھ دیر پہلے یہی پر بیٹھی تھی عابد نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ پھر نوید بولا پر یار اب تو کوئی بھی نہیں ہے تیرے سامنے میں نے ہر جگہ دیکھ لیا ہے نوید نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا یار تم دونوں چھت پر بھی دیکھ لو جا کر ۔میں اور میرا کزن ہم جلدی سے چھت پر جا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگے لیکن چھت پر بھی ہمیں کوئی نظر نہیں آیا ہم نے واپس نیچے آکر بتا دیا کہ چھت پر کوئی نہیں ہے اس کے بعد ہم سب اس گھر سے باہر نکل آئے عابد بار بار اپنی ٹانگ کو مل رہا تھا لیکن نشان ہلکے نہیں ہو رہے تھے نوید نے کہا ان کو ایسے ہی چھوڑ دو گھر جا کر تھوڑا سا سرسوں کا تیل گرم کرکے اس پر مالش کرو گے تو یہ نشان مٹ جائیں گے اور ہاں اس بارے میں اپنے آنے والے نئے کرایا داروں کو نہ بتانا ورنہ یہ گھر کسی نے کرایا پر نہیں لینا آگے تمہاری مرضی عابد نے کہا نہیں نہیں میں کسی کو نہیں بتاؤں گا اچھا اب میں چلتا ہوں یہ کہہ کر عابد بھائی نے گھر کو تالا لگایا اور چلے گئے اس کے بعد اظہر زور زور سے ہنسنے لگا اور بولا کیا یار یہ تو کوئی نئی فلم چل گئی ہے آج جبکہ ہم سارا دن اسی گھر میں امرود توڑ رہے ہوتے ہیں ہمیں تو کبھی کوئی چیز نظر نہیں آئی ۔ میں نے کہا ہاں یار یہ تو آج کوئی نیا ٹوپی ڈرامہ ہوا ہے ابھی ہم یہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ اچانک سے اس گھر کے اندر سے ایک خوفناک آواز آئی جیسے کوئی بلی رات کو روتی ہے ویسی آواز تھی ۔ اظہر نے کہا یار یہ کیسی آواز تھی میں نے کہا یار کوئی بلی ہوگی جب وہ روتی ہے تو ایسے ہی بھاری آواز نکالتی ہے ۔ اس کے بعد ہم کسی دوست سے ملنے چلے گئے ۔ ایک دن دوپہر کا ٹائم میں اپنی چھت پر دھوپ میں بیٹھا تھا اتنے میں ایک پتنگ کٹ کر آئی میں اٹھ کر اسے پکڑنے گیا لیکن اس کے ساتھ ڈور نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ اس خالی گھر کی نچلی چھت پر جا گری میں فوراً اس گھر کی چھت پر اتر گیا اور پتنگ پکڑ کر واپس اپنی چھت پر جانے لگا تو اتنے میں مجھے اس گھر کے صحن سے کسی کے ہنسنے کی آواز سنائی دی میں نے دیوار سے اس گھر کے صحن میں دیکھا تو مجھے کوئی کالی سی پرچھائی دکھائی دی جو صحن سے کمرے کی طرف جا رہی تھی میں جلدی سے دیوار سے پیچھے ہٹ گیا ۔ میں سمجھا کہ شاید اس گھر میں کوئی نئے کرایا دار آگئے ہیں اس کے بعد میں اپنی چھت پر چلا گیا میں نے پتنگ نیچے اپنے کمرے میں رکھی اور باہر سے اس گھر کے دروازے پر گیا تو دیکھا کہ باہر تو تالا لگا ہوا تھا اب میں سوچ رہا تھا کہ اگر باہر تالا لگا ہے تو پھر جس کو میں نے اس گھر کے صحن میں دیکھا تو وہ کون تھا پھر اتنے اظہر آیا اور مجھے کہنے لگا کیا ہوا اس تالے کو اتنا غور سے کیوں دیکھ رہا ہے ۔میں نے کہا یار یہ دیکھ تالا لگا ہے پر اس گھر میں کوئی ہے میں جب اس گھر کی چھت پر پتنگ پکڑنے گیا تھا تو میں نے اسے دیکھا تھا وہ نیچے صحن میں پھر رہا تھا ۔ اظہر بولا یار اب تو میرے ساتھ رنگ بازی نہ کر عابد بھائی والی میں نہیں ڈرنے والا تیری کسی بھی بات سے۔ میں نے کہا یار میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے دیکھا تھا کوئی کالی سی پرچھائی تھی اظہر بولا چل اب بس کر میں نے کہا نہ تو مجھے نہیں ڈرا سکتا میں تو خود بہت بڑا رنگباز ہوں ۔ اتنے میں ہمارا ہمسایہ دوست امجد آیا اس نے کہا یار کیا ہوا کیا بحث چل رہی ہے دونوں شریکوں میں۔ اظہر نے کہا کچھ نہیں یار یہ کہہ رہا ہے کہ خرم کے گھر میں کوئی ہے جبکہ یہ دیکھ تالا لگا ہوا ہے یہاں اور گزشتہ روز خرم کا ماموں عابد بھی یہی بات کر رہا تھا لیکن جب ہم اندر گئے تو کوئی نہیں تھا اور آج یہ بھائی صاحب کہہ رہے ہیں کہ اندر کوئی ہے اس کو انہوں نے چھت سے دیکھا ہے امجد بولا تو یار اس میں بحث کیسی چلو چھت سے ابھی دیکھ لیتے ہیں اور ساتھ میں امرود بھی توڑ لیں گے آج بہت دل کر رہا ہے امرود کھانے کو ۔ اس کے بعد ہم سب اپنی چھت سے اس گھر کی چھت پر اترے اور آہستہ آہستہ سے سیڑھیوں کی طرف گئے تبھی نیچے سے کسی عورت کے رونے کی آواز آنے لگی جیسے کوئی بین ڈال کر رو رہا ہو ۔ میں نے فوراً آہستہ سی آواز میں کہا دیکھا نا کوئی ہے نیچے اظہر نے بھی آہستہ سے کہا ہاں پر یہ ہے کون اور رو کیوں رہی ہے۔ اتنے میں امجد بولا پر یار باہر تو تالا لگا ہے پھر یہ اندر کیسے آگئ کہیں یہ خرم لوگوں کی رشتدار تو نہیں ؟؟ اظہر بولا کیا پتہ یار ۔ میں نے کہا یار اب بتاؤ نیچے چل کر دیکھیں کہ نہیں ؟؟؟ اظہر نے سر نہ میں ہلاتے ہوئے کہا پتا نہیں۔ امجد بولا یار ایک بار دور سے ہی دیکھ لیں گے چلو پر بلکل خاموشی سے چلنا اس کے بعد ہم آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگے اور ساتھ ادھر اُدھر دیکھ بھی رہے تھے کہ رونے کی آواز کس طرف سے آرہی ہے اور جب ہم صحنِ میں اترے تو دیکھا کہ نیچے کوئی نہیں تھا اور رونے کی آواز بھی تھم گئی تھی بلکل خاموشی تھی ۔ اظہر نے کہا یار یہ کیا چکر ہے ابھی رونے کی آواز ہم سب نے سنی تھی نا پر اب دیکھو کوئی نہیں ہے ۔ میں نے کہا یار چلو چلتے ہیں یہاں سے مجھے تو کوئی اور ہی چکر لگ رہا ہے ۔ امجد بولا یار یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ باہر گلی میں کوئی عورت اس گھر کے دروازے پر بیٹھ کر رو رہی ہو اس وجہ سے ہمیں ایسا لگا جیسے آواز گھر کے اندر سے آرہی ہے اگر نیچے کوئی ہوتا تو نظر آ جاتا ۔ اظہر بولا ہاں یار مجھے لگتا ہے ایسا ہی کچھ ہوا ہے ہمارے ساتھ ۔ میں نے کہا یار کمروں میں دیکھ لو ہو سکتا ہے کوئی وہاں ہو ؟ اظہر نے کہا یار کمروں میں اندھیرا ہے لیکن مجھے پکا یقین ہے کہ کمرے خالی ہیں ۔ اتنے میں کسی کے درخت پر چڑھنے کی آواز آئی جب ہم نے دیکھا تو وہ امجد تھا اور وہ درخت پر بیٹھے ہوئے بولا یار چھوڑو سب کچھ دیکھو کیا کمال کے امرود ہیں آج تو میں پانچ سات توڑ کر ہی اتروں گا ۔ اتنے میں اظہر بھی درخت پر چڑھنے لگا میں نے کہا دو تین میرے لیئے بھی توڑنا ۔ وہ دونوں درخت کے کافی اوپر تک چلے گئے تھے اور میں نیچے کھڑا ان کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں مجھے محسوس ہوا کہ کمرے میں سے کوئی مجھے دیکھ رہا ہے میں نے ابھی اس طرف دیکھا تھا کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیونکہ کمرے میں دو بڑی بڑی چمکتی ہوئی آنکھیں میری طرف دیکھ رہی تھیں اور ان کو دیکھ کر میری آواز ہی بند ہو گئی میں درخت کے اوپر چڑھے ان دونوں کو آواز لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ میرے منہ سے آواز ہی نہیں نکل پارہی تھی میں آہستہ آہستہ سے سیڑھیوں کی طرف بڑا تبھی ایک کالے رنگ کا اک ہاتھ مجھے اپنی طرف آتے دکھائی دیا اور میں پاگلوں کی طرح تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے چھت پر بھاگ آیا اور میں نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا تو وہ مجھے کہہ رہے تھے کیا ہوا میں نے ان دوبارہ بتانا چاہا پر ڈر سے میری آواز ہی نہیں نکل رہی تھی اور میں جلدی سے اپنی چھت کی طرف بڑ رہا تھا اور جب میں نے چھت پر چڑھتے ہوئے ان سیڑھیوں کی طرف دیکھا تو وہ عورت اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں سے جانور کی طرح سیڑھیوں سے اوپر آرہی تھی میں جلدی سے اپنی چھت پر چھڑا اور میں نے ہمت کر کے ایک زور دار آواز میں اظہر اور امجد کو کہا بھاگو وہ سیڑھیوں میں دیکھو جب انہوں نے اس ڈراؤنی چیز کو سیڑھیوں پر دیکھا تو انہوں نے درخت سے ہی ساتھ والے ہمسایوں کی چھت جو درخت کے بلکل پاس ہی اس پر چھلانگ لگا دی اور دونوں چیخیں مارتے ہوئے ہمسایوں کے گھر میں اتر گئے میں بھی جلدی سے نیچے کمرے میں جا کر ایک کونے میں سہم کر بیٹھ گیا اور بری طرح کانپنے لگا کیونکہ مجھے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ ہم نے کیا دیکھا ہے ....

اتنے میں میرے بھائی نے پوچھا کیا ہوا تم ایسے کیوں بیٹھے ہو کیا کر کے آئے ہو ؟؟ میں نے کہا کچھ نہیں مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے بھائی نے تو جاؤ پھر اپنے بستر میں جا کر آرام کرو۔ یہ کہہ کر بھائی چلا گیا پر میں ابھی بھی اسی جگہ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ وہ چیز آخر تھی کیا ۔ پھر اظہر بھاگتا ہوا آیا اور بولا کیا ہو تو ٹھیک ہے نا ؟؟ میں نے کہا ہاں یار مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔ اظر بولا پر یار وہ عورت آئی کہاں سے تھی اور وہ کس قسم کی عورت تھی جو ہاتھوں پیروں سے جانور کی طرح سیڑھیوں پر چھڑ رہی تھی؟؟ میں نے کہا مجھے نہیں معلوم لیکن مجھے ابھی تک بہت ڈر لگ رہا ہے اظہر بولا یار تو نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا تجھے پتہ تھا نہ ہم درخت پر ہیں پھر تو نے ہمیں اس وقت کیوں نہیں بتایا ۔ میں نے کہا یار جب وہ چیز مجھے دیکھ رہی تھی تو میں نے تمہیں بتانے کی کوشش کی پر اس کے سامنے میری آواز ہی نہیں نکل رہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ مجھے اپنے قابو میں کر رہی ہے اسی وجہ سے میں ایک جگہ ہی جام ہو گیا تھا وہ تو جب اس میری طرف ہاتھ بڑھایا تو پتا نہیں کیسے میں ہمت کر کے وہاں سے بھاگ نکلا اور وہ میرے پیچھے بھاگی اس وجہ سے میں بس وہاں سے بھاگ کر اپنی چھت پر آیا اور تمہیں آواز لگا دی ۔ اظہر بولا چل پھر بھی تیرا بہت بہت شکریہ اگر تو ہم تب بھی نہ بتاتا تو شاید وہ چیز ہمیں درخت سے نیچے گرا دیتی کیونکہ تیرے بھاگنے کے بعد وہ چیز درخت پر چڑھ گئی تھی اور اگر ہم ساتھ والوں کی چھت پر چھلانگ نہ لگاتے تو اس نے ہمیں نہیں چھوڑنا تھا۔۔۔ ۔ میں نے کہا امجد کہاں ہے اظہر نے کہا یار وہ جن کی چھت پر ہم نے چھلانگ لگائی تھی انھوں نے ہمیں روک لیا تھا اور وہ سخت ناراض ہو رہے تھے کہ ہم اچانک ان کی چھت سے ان کے گھر میں کیوں اتر گئے اس وجہ سے انھوں نے کہا تھا وہ ہماری شکایت لے کر ادھر آئیں گے وہ تو امجد کے ابو نے آکر معاملہ ٹھنڈا کر دیا اور ہمیں بچا لیا ڈانٹ ڈپٹ سے ورنہ آج ہماری شکایت ہو جانی تھی اور امجد کے ابو اس کو ساتھ لے کر چلے گئے۔ میں نے کہا یار اب ہم اس گھر میں دوبارہ نہیں جائیں گے اظہر بولا یار میرے تو باپ کی توبہ کہ اب میں دوبارہ کبھی ادھر جاؤں ۔ اس کے بعد ہم کافی دن تک ادھر نہیں گئے اور بہت دن بعد دوپہر کا دن تھا میں اپنی چھت پر پتنگ اڑا رہا تھا کہ میری ڈور میرے پاؤں میں الجھ گئی میں اس کو پاؤں سے نکال رہا تھا کہ میری پتنگ اچانک سے اس امرود کے درخت میں پھنس گئی میں نے بہت کوشش کی پر چھڑا نہیں پایا اس کے بعد میں نے ایک لمبا سا بانس پکڑا اور اس گھر کے سٹوروم والی چھت پر جا کر بانس کی مدد سے پتنگ کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگا ابھی میں پتنگ کو چھڑا ہی رہا تھا کہ اچانک سے میری نظر اس گھر کے صحن میں پڑی تو میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی پتنگ اس گھر کے صحن میں گری ہوئی تھی ۔ اب پتنگ میری کمزوری تھی اور مجھے شروع سے ہی پتنگ بازی کا بہت شوق تھا تو میں نے اپنی پتنگ کو درخت پر ہی چھوڑا اور بنا کچھ سوچے سمجھے بانس پکڑ کر اس گھر کی نچلی چھت پر چلا گیا پھر میں نے سوچا کہ اگر میں سیڑھیوں پر ہی کھڑے ہو کر اس بانس کی مدد سے صحن میں گری پتنگ کو اٹھا لوں تو یہ ٹھیک رہے گا اور میں نے ایسا ہی کیا میں آدھی سیڑھیاں نیچے اترا اور بانس کی مدد سے اس صحنِ میں گری پتنگ کی ڈور کو اوپر اٹھانے کی کوشش کرنے لگا ابھی میں ایسا کر ہی رہا تھا کہ اچانک سے ایک خوفناک ہاتھ کہیں سے آیا اور اس نے میرا بانس پکڑ لیا اور جب میں نے تھوڑا آگے ہو کر دیکھا تو یہ وہی ڈراؤنی عورت تھی اس کا چہرہ اور بھی زیادہ بھیانک ہو گیا تھا اس کا منہ پوری طرح کوئلے جیسا کالا تھا پر اس کی آنکھیں پوری طرح سفید تھیں اس نے بانس کو نیچے کی طرف کھینچا اور میں نے جلدی سے بانس کو چھوڑ دیا اور چیخیں مارتا ہوا اپنی چھت کی طرف بھاگنے لگا وہ بھی خوفناک آوازیں نکالتی ہوئی جانور کی طرح میرے پیچھے بھاگنے لگی۔۔ ۔ میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور جلدی سے اپنی چھت پر چڑھ گیا اور پھر میں نے واپس اس کی طرف دیکھا تو وہ سیڑھیوں پر ہی کھڑی اپنا منہ کھولے عجیب سی آوازیں نکال رہی تھی میں جلدی سے نیچے بھاگ گیا اور گھر والوں کو یہ سب بتاتا تو وہ مجھ پر ہنسنے لگے میرا بھائی بولا یار تم اور تمہارے دوست سارا دن گھر میں امرود کے درخت پر چڑھے رہتے ہو تب تو تمہیں وہاں کوئی چیز نظر نہیں آتی تو پھر تم آج یہ کیوں کہ رہے ہو ساتھ والے گھر میں کوئی چیز ہے۔ میں نے کہا بھائی میں سچ کہہ رہا ہوں وہاں کوئی ڈراؤنی سی عورت ہے ۔ تو میرا دوسرا بھائی بولا یار اچھا اگر اس گھر میں وہ چیز ہے تو تم اب اس گھر میں نہ جانا اس طرح وہ چیز تمہیں کچھ نہیں کہے گی ۔ یہ بات سن کر میں غصے سے گھر سے باہر نکل آیا سامنے دیکھا تو امجد آرہا تھا میں نے جلدی سے امجد کو پتنگ والا سارا واقع بتایا ۔امجد نے کہا یار دیکھو میں تو کبھی اب دوبارہ اس گھر میں نہیں جاؤں گا اور تم پاگل ہو جو ایک پتنگ کے لیئے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے گئے تھے تمہیں پتا ہے اگر وہ چیز تمہیں پکڑ لیتی تو اس نے تمہیں جان سے مار دینا تھا اس لیئے میرا مشورہ ہے کہ اس گھر میں دوبارہ مت جانا اور پتہ ہے میرے ابو نے بھی ایک بار اس چیز کو دیکھا ہے وہ اس گھر کی دیوار پر بیٹھی ہوئی تھی اس وجہ سے میرے ابو نے دوبارہ اس کی طرف نہیں دیکھا اور میرے ابو نے کہا ہے وہ چیز بہت زیادہ خطرناک ہے اس وجہ سے انہوں نے مجھے منا کر دیا ہے کہ میں کبھی اس گھر میں نہ جاؤں ۔ یہ کہہ کر امجد چلا گیا اور میں واپس اپنے گھر میں چلا گیا ۔ پھر کافی دن بعد بسنت کی رات آئی میں اور میرے باقی کزن وغیرہ رات کو پتنگ بازی کر رہے تھے اس دوران میں تھوڑا تھک گیا اور ایک سائیڈ پر جا کر بیٹھ گیا اتنے میں میری نظر اس امرود کے درخت پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی کالی سی چیز امرود کے درخت پر بیٹھی ہوئی تھی اور اس کی آنکھیں بلی کی طرح اندھیرے میں چمک رہی تھیں اور وہ ہماری طرف ہی دیکھ رہی تھیں۔ میں نے جلدی سے اپنے ایک کزن ولید کو آواز دی میں نے کہا یار وہ دیکھ وہ کیا ہے درخت پر ولید غور سے دیکھنے لگا اور بولا یار یہ تو ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی درخت پر بیٹھا ہوا ہے پر یہ ہے کیا ؟؟ میں نے کہا پتا نہیں ولید نے ایک پتھر اٹھایا اور اس کی طرف پھینکا پر پتھر اس کو نہیں لگا ۔ تو ولید بولا یار یہ کچھ نہیں ہے بس اندھیرے کی وجہ سے ہمیں لگ رہا ہے کہ درخت پر کوئی ہے چل چھوڑ اس کو آجا پتنگ اڑاتے ہیں یہ کہہ کر ولید باقی کزنوں کے ساتھ پتنگ بازی میں مشغول ہو گیا میں بھی درخت کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے کزنوں کے ساتھ پتنگ بازی کرنے لگا ۔ ہم نے کافی دیر تک پتنگ بازی کی اور جب رات کے 3:20 کا ٹائم ہوا تو میرا کزن بوبی بولا یار ساڑھے تین ہونے والے ہیں مجھے تو اب نیند آرہی ہے اس کے ساتھ میرے باقی کزن بھی نیچے چلے گئے اب میں اور ولید ہی چھت پر رہ گئے تھے میں پھر سے ایک جگہ آگ کے پاس بیٹھ کر ہاتھ گرمانے لگا ولید ابھی بھی گڈی اڑا رہا تھا میں نے دوبارہ سے اس درخت کی طرف دیکھا تو وہ چیز اب درخت پر کھڑی ہو گئی تھی جبکہ پہلے وہ بیٹھی ہوئی لگ رہی تھی لیکن اس کی آنکھیں ابھی تک ہماری طرف تھیں میں نے جلدی سے ولید کو کہا یار وہ دیکھ اب وہ چیز کیا کر رہی ہے ولید نے گڈی اڑاتے ہوئے ہی کہا یار چھوڑ اس وہاں کوئی نہیں ہے بس وہ ایسے ہی ہمیں پرچھائی سی نظر آرہی ہے ۔ میں نے کہا یار دیکھ تو سہی ولید نے گڈی اتار لی اور بولا اب بتا کیا ہے وہاں میں اس کو کہا وہ درخت پر دیکھ اب ۔ ولید نے پھر غور سے دیکھا تو بولا یار یہ تو اب ایسا لگ رہا ہے کوئی کھڑا ہوا ہے درخت پر اور اس کی آنکھیں تو دیکھ بلی کی طرح چمک رہی ہیں پر یہ ہے کیا ۔ میں نے کہا یار یہ ایک عورت ہے جو ہمیں ڈراتی ہے اس کی شکل بہت ہی بھیانک ہے ۔ ولید ہنسنے ہوئے بولا یار تیرے کہنے کا مطلب ہے کہ یہ کوئی بدروح ہے جو کہ بسنت کی رات کو درخت پر گڈیاں لوٹنے کے لیئے چڑھی ہوئی ہے یہ کہہ کر ولید اور ہنسنے لگا ۔ میں نے کہا یار میں مزاق نہیں کر رہا یہ بہت خطرناک ہے ۔ تو ولید کی اس دن کی بہادری دیکھنے لائق تھی۔ ولید نے کہا اچھا اگر ایسی بات ہے تو پھر دیکھ آج اس عورت کی ایسی کی تیسی یہ کہہ کر ولید نے ایک بڑی سی اینٹ پکڑی اور اس چھت کے بہت ہی قریب جا کر وہ اینٹ اس چیز کی طرف دے ماری اور جیسے ہی اینٹ اس چیز کی طرف گئ تو اس چیز نے فوراً سے کسی جگہ پر چھلانگ لگا دی اور ہماری آنکھیوں سے اوجھل ہو گئی ۔ ولید یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور بولا یار یہ تو واقعی میں درخت پر کو تھا۔ اس کا مطلب ہے تو واقعی میں سہی کہہ رہا تھا یہ کہ کوئی ہوائی چیز ہے ۔ میں نے کہا یار پر وہ گئی کس طرف ولید بولا مجھے لگتا ہے وہ نیچے اس گھر میں گئی ہے ابھی ہم یہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ اچانک سے وہ اس گھر کے اوپر سٹوروم والی چھت پر کھڑی نظر آئی جو کہ ہماری چھت کے بلکل ساتھ ہی لگتی تھی میں جلدی سے وہاں سے اپنی سیڑھیوں کی طرف بھاگا ولید نے کہا تجھے کیا ہوا اب ۔ میں نے جلدی سے کہا تیرے پیچھے دیکھ ولید نے اس طرف دیکھا تو ولید نے بجائے اس سے ڈرنے کے ایک اور اینٹ اٹھائی اور گندی سی گالی ( تیری پین دی۔۔۔۔۔) نکال کر اینٹ اس چیز کو دے ماری اب وہ اینٹ اس چیز کو لگی یا نہیں میں یہ تو نہیں جانتا لیکن وہ اس طرح چیخنے لگی جیسے ولید نے اس کا سر پھاڑ دیا ہو تبھی اس چیز نے ایک زور دار تھپڑ ولید کے چہرے پر دے مارا جس کے لگتے ہی ولید چھت پر فٹبال کی طرح گھومتا ہوا دور جا کر گرا اور بیہوش ہو گیا میں جلدی سے چلاتا ہوا نیچے گیا اور سب کو کہا ولید کو بچاؤ ولید کو وہ مار دے گی یہ سنتے ہی میرے سارے کزن اور بھائی وغیرہ سب بھاگتے ہوئے چھت پر آئے تو دیکھا ولید ایک جگہ گرا ہوا تھا سب نے ولید کو اٹھایا اور نیچے لے گئے اور جب ولید کا چہرہ دیکھا تو اس کے چہرے پر چار انگلیوں کے بہت ہی گہرے نیلے رنگ کے نشان پڑے ہوئے تھے جن کو دیکھ کر سب حیران تھے اور ولید کا پورا چہرہ آگ کی طرح تپ رہا تھا لیکن اسے ہوش نہیں آرہا تھا بابا امی باقی لوگ بہت گھبرائے ہوئے تھے پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا یہ سب کیا ہوا ہے اس کو اتنی بری طرح کس نے مارا ہے ؟؟ میں نے کہا وہ جو ساتھ والے گھر میں ڈراؤنی سی عورت ہے اس نے۔تو سب میری طرف حیرت سے دیکھنے لگے میرا بھائی بولا کہیں تم اس عورت کی بات تو نہیں کر رہے جس کے بارے میں کچھ دن پہلے تم ہمیں بتا رہے تھے ؟ میں نے کہا ہاں بھائی میں نے کہا تھا نہ وہ اصل میں ہے اور اسی نے ولید کو تھپڑ مارا ہے بھائی بولا لیکن یہ ادھر کرنے کیا گیا تھا ادھی رات کو ؟ میں نے کہا یہ نہیں گیا تھا وہ ساتھ والی چھت پر کھڑی تھی اس نے ادھر سے ہی کھڑے ہوئے ولید کو تھپڑ مارا اس کے ہاتھ عجیب سے ہیں اور لمبے بھی ہو جاتے ہیں ۔ یہ سن کر سب اور زیادہ حیران ہو گئے اتنے میں میرے بابا بولے یار اگر واقعی میں کوئی ایسی چیز اس گھر میں ہے تو یہ بہت ہی زیادہ خطرے والی بات ہے کیونکہ سارا دن یہ لوگ چھت پر چڑھے رہتے ہیں کہیں یہ نہ ہو کوئی اور نقصان ہو جائے میں صبح ہی اس بارے میں عالم صاحب سے بات کروں گا ۔

اگلے دن ولید ہوش میں آیا اس نے ادھر اُدھر دیکھا تو سب اس کے پاس کھڑے تھے اس نے ہوش میں آتے ہی کہا وہ کہا ہے کتے کی بچی بوبی بولا یار چھوڑ اس کو وہ بھاگ گئی ہے تو آرام کر ولید جلدی سے بیڈ سے اٹھا اور اوپر چھت کی طرف جانے لگا بابا نے کہا یار تم ابھی تک غصے میں ہو دیکھو وہ کوئی عام عورت نہیں ہے جس سے تم بدلہ لینے چلے ہو بلکہ وہ بہت ہی خوفناک اور خطرناک ہوائی چیز ہے جس کا علاج صرف عالم صاحب کے پاس ہے۔ ولید غصے میں بولا چچا آپ مجھے جانے دو میں خود بہت بڑا عالم ہوں اور آپ دیکھنا میں اس کی ہڈیاں توڑ دوں گا یہ کہہ کر ولید اپنے گالوں پر پڑے تھپڑ کے نشانوں پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔ میرے بابا نے کہا او میرے ببر شیر میں جانتا ہوں تم اس کی ہڈیاں توڑ دو گے پر ایک دفعہ ہمیں تو اپنی کوشش کرنے دو اور اگر ہم اس کا علاج نہ کر سکے تو پھر تمہیں پوری چھٹی ہو گئی اور تم جیسا چاہو اس کے ساتھ کر لینا کوئی تمہیں نہیں روکے گا ۔ ولید نے کہا ٹھیک ہے چچا آپ کر لو اپنا شوق پورا اس کے بعد میں دیکھوں گا اس پاگل عورت کو یہ بات سنتے ہی سبھی ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے ۔ ولید نے کہا چلو یار پھر آج سارا غصہ پتنگ بازی پے نکالتے ہیں ۔ اور ہم سارے کزن اور بھائی پتنگ بازی کرنے چھت پر چلے گئے اور بابا عالم صاحب کی طرف چلے گئے ہم چھت پر گڈی اڑا رہے تھے کہ اتنے میں امرود والے گھر کی چھت پر کچھ لڑکے دکھائی دیئے جو کہ چھت کا جائزہ لے رہے تھے میں ان کو دیکھ کر حیران تھا کہ یہ سب لوگ کون ہیں جو اس گھر کی چھت پر چھڑے ہوئے ہیں ان میں کچھ تو درخت سے امرود توڑ رہے تھے اور کچھ پتنگ بازی کی تیاری کر رہے تھے ان کے پاس کافی ساری پتنگیں اور ڈور وغیرہ تھیں جب ان کی نظریں میری طرف پڑی تو انہوں نے مجھے سلام کیا میں نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں تو ان میں سے ایک لڑکا بولا بھائی میرا نام بلال ہے اور یہ میرے کزن اور کچھ دوست ہیں ہم آپ کے نئے ہمسائے ہیں کیونکہ ہم نے یہ گھر کرایا پر لے لیا ہے ابھی کچھ دیر میں ہمارا سامان بھی آرہا ہے میں نے کہا اچھا یہ تو بہت اچھی بات ہے اتنے میں میرا کزن اظہر بھی میری طرف آتے ہوئے بولا کس سے باتیں کر رہا ہے میں نے بلال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ ہمارے نئے ہمسائے آئے ہیں اظہر نے ان سب کی طرف دیکھا اور سلام کیا اور ان سے باتیں کرنے لگا کچھ دیر بعد ولید بھی اس طرف آیا اور میں نے ولید سے بھی ان کا تعارف کرایا ولید نے بلال سے کہا یار آپ کے گھر میں ایک پاگل عورت رہتی ہے ذرا اس سے بچ کر رہنا بلال حیرانی سے بولا بھائی کون عورت ؟ اور یہ آپ کے گال پر کیا ہوا ہے ؟ ولید بولا یار یہ اسی عورت کا کام ہے جس کی بات میں آپ سے کر رہا ہوں اتنے میں اظہر بولا یار ولید تو کیا باتیں لے کر بیٹھ گیا ہے ان بیچاروں کو تو ابھی ایک دن بھی نہیں ہوا ان کو کیا پتہ تم کس بارے میں بات کر رہے ہو چل میرے ساتھ آج ہم نے شیخوں سے پیچے کرنے ہے میں نے انہوں نے پچھلی بسنت پہ میری بہت پتنگیں کاٹیں تھیں ۔یہ کہہ کر اظہر ولید کو اپنی باتوں میں لگا کر لے گیا بلال نے مجھ سے پوچھا بھائی وہ دوسرے بھائی کس بارے میں بات کر رہے تھے اور ان کے گال پر وہ نشان کیسے تھے کہیں کوئی لڑائی وغیرہ ہوئی تھی؟؟ میں نے کہا جی وہ کسی پاگل عورت نے ان کو تھپڑ مار دیا تھا اس وجہ سے وہ تھوڑا سا غصے میں ہے اور اس وجہ سے وہ تھوڑی عجیب باتیں کر رہا تھا آپ چھوڑو اس کو ۔ یہ کہہ کر میں نے بات ٹال دی کیونکہ بلال وغیرہ کا آج اس گھر میں پہلا دن تھا اور میں ان کو ڈرانا نہیں چاہتا تھا ۔ میں نے بلال سے کہا بھائی آپ کی چھت بہت نیچی ہے اس کے ساتھ ایک سائیڈ پر درخت ہے اور باقی سائیڈ پر اونچے گھر ہیں آپ ہماری چھت پر آکر پتنگ بازی کرلو تاکہ آسانی سے پتنگ اڑا سکو ۔ بلال اور اس کے باقی کزن اور دوست وغیرہ ہماری چھت پر آگئے اور ہم سب سے گھل مل گئے کافی دیر کے بعد باہر سے ایک ٹرک کی آواز سنائی دی بلال نے جلدی سے باہر دیکھا تو کہنے لگا بھائی ہمارا سامان آگیا ہے ہم سامان اتار کر آتے ہیں میں اور میرے دو کزن بھی ان کے ساتھ مل کر ان کا سامان ٹرک سے اتارنے لگے اور ان کے گھر رکھنے لگے جب سارا سامان گھر میں رکھا گیا تو بلال اور ہم سب لوگ واپس چھت پر چلے گئے اور شام تک پتنگ بازی کرتے رہے اور جب اندھیرا ہونے لگا تو بلال اس کے کزن اور دوست واپس جانے لگے بلال نے مجھ اور میرے باقی ساتھیوں سے کہا آپ سب بھائیوں کے ساتھ مل کر بہت اچھا لگا ہمیں تو احساس ہی نہیں ہوا کہ ہم آپ کے نئے ہمسائے ہیں بلکہ ایسا لگا کہ جیسے ہم سالوں سے آپ کے ساتھ رہتے ہیں اور اب ہمیں اپنے سامان کی سیٹنگ کرنی ہے نیچے امی ابو وغیرہ ہمارا انتظار کر رہے ہیں تو آپ لوگوں سے انشاء اللّٰہ اب ملاقات ہوتی رہے گی ۔ یہ کہہ کر وہ سب اپنی چھت پر اتر کے نیچے چلے گئے اور ہم سب بھی نیچے آگئے اور دیکھا کہ بابا عالم صاحب کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے ہیں ہم سب نے عالم صاحب کو سلام کیا اور ان کے پاس بیٹھ گئے تبھی عالم صاحب نے ولید کی طرف دیکھا اور کہا یہی ہے وہ بچہ جس کو اس شیطانی طاقت نے مارا تھا میرے بابا نے کہا جی حضرت یہی ہے عالم صاحب نے کہا سرسوں کا تیل لے کر آؤ تھوڑا سا بابا نے جلدی سے سرسوں کا تیل عالم صاحب کو لا کر دیا اس کے بعد عالم صاحب نے اس تیل پر کچھ پڑھا اور بابا کو دیتے ہوئے کہا یہ تیل اس کے گال پر جہاں جہاں نشان ہیں وہاں آہستہ آہستہ سے ملنا کوشش کرنا کے رات کو سونے سے پہلے یہ عمل کرنا اس کے بعد جب صبح اٹھو گے تو صابن سے منہ دھو لینا انشاء اللّٰہ نشان صاف ہو جائیں گے پھر بابا نے کہا حضرت اب اس چیز کا کیا حل کیسے کریں گے کیونکہ ادھر تو اب ایک فیملی آگئ ہے ہم کیا کہہ کر ان کے گھر جائیں گے ؟ عالم صاحب نے کہا دیکھو جو لوگ اس گھر میں رہنے آئے اگر وہ روزانہ نماز پڑھتے ہیں اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں تو ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ شیطانی چیز وہاں سے خودبخود بھاگ جائے گی کیونکہ کے جس گھر میں چالیس دن تک بلا ناغہ قرآن مجید کی تلاوت ہوتی ہے وہاں کوئی شیطانی طاقت زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکتی اور اگر وہ لوگ ایسا نہیں کرتے تو ہو سکتا ہے کہ وہ تب آپ لوگوں سے اس بارے میں بات کریں اور پھر ہم ان کے گھر جا کر دیکھیں گے کہ معاملہ ہے اب مجھے اجازت دیں مجھے کسی عزیز سے ملنے جانا ہے اس کے بعد عالم صاحب چلے گئے ۔ اگلے دن صبح میں چھت پر کھڑا تھا کہ بلال بھی اپنی چھت پہ آگیا میں نے اس سے سلام دعا کی اور پوچھا جی بلال بھائی کیسی گزری رات نئے گھر میں بلال نے کہا بھائی رات تو اچھی گزری پر تھوڑا عجیب سا محسوس ہو رہا تھا ۔ میں نے پوچھا وہ کیوں بلال بھائی ؟؟ بلال بولا بھائی رات کو میرے کزن اور دوست تو اپنے گھر چلے گئے تھے لیکن ہمیں لگ رہا تھا کہ ہمارے گھر میں کوئی اور بھی ہے جبکہ ہم چار لوگ ہی گھر میں تھے میرے امی ،ابو، میں اور میری بڑی باجی اور ایسا لگ رہا تھا کہ صحن میں کوئی اور بھی موجود ہے جو کبھی درخت پر چڑھتا ہوا دکھائی دیتا تھا پھر تھوڑی دیر میں وہ سیڑھیوں کی طرف سے کسی کے اترنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں دو تین بار تو میرے ابو نے جا کر دیکھا لیکن کوئی نظر نہیں آرہا تھا بس ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی تو تھا ہمارے اعلاوہ لیکن ابو نے کہا شاید یہ ہمارا وہم بھی ہو سکتا ہے اس کے بعد ہم کمروں کو بند کر کے سو گئے تھے اور آج صبح جب ہم اٹھے تو ہمارے فرج کا سارا سامان باہر گرا پڑا تھا اور ابو نے کافی سارا گوشت فرج میں رکھا تھا کیونکہ ہم نئے گھر میں اپنے رشتے داروں کی دعوت کرنے والے تھے لیکن وہ سارا گوشت فرج سے غائب تھا اب ابو دوبارہ گوشت لینے کے لیئے گئے ہیں ۔ میں نے کہا بلال بھائی کیا آپ نے اس چیز کو دیکھا تھا جو درخت پر چڑھ رہی تھی بلال نے کہا یار سہی طرح تو نہیں دیکھا کیونکہ باہر صحن اندھیرا تھا پر کوئی پرچھائی سی لگ رہی تھی ۔ میں نے کہا بلال بھائی اگر میں آپ کو ایک بات بتاؤں تو کسی اور سے تو نہیں کرو گے بلال بولا ٹھیک ہے نہیں کروں گا آپ بتاؤ کیا بات ہے ۔ میں نے کہا وہ چیز جس کو آپ نے گزشتہ رات دیکھا وہ ایک شیطانی چیز ہے جو آپ کے اس گھر میں آنے سے پہلے کی یہاں موجود ہے اور اسی چیز نے گزشتہ پرسوں رات میرے کزن ولید کو تھپڑ مارا تھا جس کے نشان آپ نے بھی اس کے گال پر دیکھے تھے۔ بلال بہت حیرانی سے بولا کیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے کہا ہاں بلال بھائی میں سچ کہہ رہا ہوں وہ چیز آپ کے گھر میں ہی رہتی ہے ۔ بلال نے کہا اچھا اس کا مطلب آپ کا کزن ولید اسی چیز کو پاگل عورت کہہ رہا تھا ؟؟ میں نے کہا جی ۔ بلال نے کہا تو پھر گزشتہ روز تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ میں نے کہا بھائی گزشتہ روز آپ کا پہلا دن تھا اور ہم لوگ آپ کو ڈرانا نہیں چاہتے تھے ورنہ شاید آپ ہماری بات کا کوئی برا مطلب لے لیتے ۔ بس اس وجہ سے نہیں بتایا تھا ۔ بلال نے کہا یار اب ہم کیا کریں گے میرے ابو تو اس کو ہمارا وہم کہہ رہے ہیں میں نے کہا آپ ابھی یہ بات گھر میں کسی کو نہیں بتانا جب تک وہ خود اس چیز کو نہیں دیکھ لیتے ۔بلال نے کہا یار اور اگر اس چیز نے میرے گھر والوں کو کو نقصان پہنچا دیا تو ۔ میں نے کہا یار آپ بس گھر میں نماز پڑھا کرو اور قرآن پاک کی تلاوت کیا کرو تو وہ چیز بھاگ جائے گی اتنے میں بلال کی امی نے بلال کو آواز دی اوع اور نے کہا اچھا یار امی بلا رہی ہیں میں بعد میں آتا ہوں اس کے بعد وہ نیچے چلا گیا اور میں بھی نیچے آگیا اور میں نے بلال کے گھر والوں کے ساتھ جو گزشتہ رات ہوا وہ سب اپنے بابا کو بتایا تو بابا نے کہا دیکھو ابھی وہ لوگ اس میں نئے ہیں اور ہو سکتا ہے آج کل میں وہ نماز پڑھنا شروع کر دیں اور تلاوت بھی کرنے لگیں ۔اس وجہ سے ابھی ہمیں ان سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی ہے ۔ یہ کہہ کر بابا باہر چلے گئے میں باہر گیا تو دیکھا بلال ایک دوکان پر کھڑا کوئی سامان خرید رہا تھا اس نے مجھے دیکھا تو وہ بولا یار تم روکو میں بس یہ سامان گھر پکڑ کر آتا ہوں۔ وہ گھر گیا اور سامان پکڑا کر واپس آیا اور بولا آج ہمارے گھر مہمان آنے والے ہیں اس وجہ سے ہو سکتا ہے میں شام میں آپ سے مل نہ سکوں اس لیئے چلو ویڈیو گیمز کھیلنے چلتے ہیں ہم گیمز کھیل کر واپس آئے اور اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے ۔ اور جب رات ہوئی تو ہماری چھت پر سے کسی کے بھاگنے کی آواز سنائی دی میرا بھائی بولا یہ اب اوپر کون ہے میں نے کہا میں دیکھ کر آتا ہوں جب میں اپنی چھت پر گیا تو کوئی نہیں تھا میں واپس نیچے جانے لگا تو مجھے بلال نے اپنی چھت سے آواز دی میں نے ادھر جا کر دیکھا تو بلال سیڑھیوں کی دیوار پر بیٹھا ہوا تھا میں نے اس کو آواز دی پر اس نے نہیں سنی میں نے تین بار اس کو آواز دی پر اس میری آواز کا جواب نہیں دیا میں نے سمجھا ہو سکتا ہے کہ وہ کسی بات سے پریشان ہو چلو کوئی بات نہیں ۔ یہ کہہ کر میں بھی نیچے آگیا اور اگلے دن بلال مجھے اپنے گھر کے باہر نظر آیا میں نے اس سے کہا یار گزشتہ رات تم سیڑھیوں کی دیوار پر کیوں بیٹھے ہوئے تھے اور میں تمہیں بہت بار بلایا پر تمنے میری کسی بات جواب بھی نہیں دیا ۔ تو بلال حیرت سے بولا یار مجھے تو تم نے کوئی آواز نہیں دی اور میں تو کل جلدی سو گیا تھا یہ سن کر میں بہت حیران ہو گیا میں نے دل میں سوچا یار اگر وہ بلال نہیں تھا تو پھر وہ کون تھا ۔ تبھی بلال نے کہا یار گزشتہ رات میں نے اس عورت کو دیکھا تھا جب میں واشروم جانے لگا تو وہ عورت درخت پر بیٹھی ہوئی تھی اس سے پہلے میں کسی اور کو اس کے بارے میں بتاتا وہ غائب ہو گئ ۔ اور درخت سے اتر کر کہی چلے گئی اور پھر سے جب میں اپنے صحن میں گیا تو دیکھا یہ چیز فرج کے اوپر بیٹھی ہوئی تھی اور میں اس ڈر کر اپنے کمرے میں بھاگ گیا تھا کیونکہ کہ وہ بہت ہی خوفناک اور بھیانک شکل کی عورت تھی مجھے تو ابھی بھی اس کی شکل نہیں بھولی سچ میں بہت ڈراؤنی ہے۔ اتنے میں بلال کی امی کے چیخنے کی آوازیں آئیں میں اور بلال دونوں چونک گئے بلال جلدی سے اندر بھاگا تو اس نے دیکھا کہ اس کی باجی اچانک سے عجیب سی حرکتیں کرنے لگی کبھی وہ کچا گوشت کھانے لگ جاتی اور خوفناک سی آوازیں نکالنے لگی جیسے اس نے اندر کوئی اور بھی ہے جو آوازیں نکال رہا ہے بلال اور اس کی امی نے بہت کوشش کی اس کو سمجھانے لیکن وہ کبھی ادھر کبھی اُدھر ایسے چھلانگیں مارنے لگی اور پھر اچانک سے بیہوش ہو کر گر پڑی بلال نے گھبرائے ہوئے اپنی امی سے پوچھا امی باجی کو کیا ہوا ہے اس کی امی نے کہا پتا نہیں یہ بس اس درخت کے پاس کھڑی تھی اور پھر اچانک سے اپنا سر زمین پر مارنے لگی اور اس وجہ سے میں گھبرا کر چیخ رہی تھی بلال نے اپنی امی سے مل کر باجی ہاتھوں پیروں کو رسی سے باندھ دیا اس کے بعد بلال اپنے ابو کو ڈھونڈنے چلا گیا ۔ جب دوپہر ہوئی میں چھت پر گیا تو دیکھا بلال کی باجی ہمارے گھر کی طرف پیٹھ کر کے ہماری دیوار بیٹھی ہوئی تھی پر اس کے پاؤں اس کی اپنی چھت کی طرف تھے میں نے کہا باجی ؟؟ اور اچانک سے انہوں نے اپنی گردن کو اس طرح بن گھمایا کہ ان کی گردن انکی کمر کی طرف ہو گئ تھی اور انہوں نے کہں سے ایک مرغی پکڑ کر اپنے منہ میں دبوچ رکھا تھا اور ان کی آنکھیں لال رنگ کی ہو گئیں تھیں اور انکی شکل بھی خوفناک ہونے لگی تھی ۔۔۔

میں تو دیکھ کر ہی تھر تھر کانپنے لگا کیونکہ کے یہ تو اس شیطانی چیز سے بھی زیادہ بھیانک لگ رہیں تھیں میں جلدی سے نیچے بھاگ گیا اور نیچے جا کر سب کو بتایا کہ اوپر بلال کی آپی ہیں اور وہ شیطانی چیز کی طرح بن گئی ہیں میرے بھائی نے کہا یہ تم کیا کہہ رہے ہو بلال کی آپی ہماری چھت پر کیا کر رہی ہے میں ابھی دیکھ کر آتا ہوں۔ یہ کہہ کر میرا بھائی اوپر جانے لگا تو میرے بابا نے کہا روکو میں بھی آتا ہوں اللّٰہ خیر کرے اس کے بعد ہم سب ان کے ساتھ اوپر جانے لگے اور جب ہم سب اوپر گئے تو وہ وہاں سے جا چکی تھیں میرا بھائی بولا کہاں تھیں وہ ؟ میں نے کہا ابھی وہ اس دیوار پر بیٹھی ہوئی تھی اتنے میں درخت پر پتوں کے ہلنے کی آواز سنائی دی بھائی نے درخت کی طرف دیکھا تو بولا سب لوگ پیچھے رہو وہ یہیں ہے اس درخت کے اوپر ہم نے دور سے ہی دیکھا تو وہ چھپکلی کی طرح درخت کی شاخوں سے لپٹی ہوئی تھیں ان کے بال ان کے منہ کو ڈھانپے ہوئے تھے اور جیسے ہی وہ تھوڑا سا ہلیں تو ان کی آنکھیں بلی کی طرح رات میں چمکتی ہوئی دکھائی دینے لگی ۔ بابا نے جلدی سے بھائی کو کہا پیچھے واپس آجاؤ اب یہ انسان نہیں رہی اس لیئے یہ ہم پر حملہ بھی کر سکتی ہے ۔ بھائی یہ سن کر بابا کی طرف جانے لگا تو بلال کی آپی نے درخت سے لپٹے ہوئے ہی اپنا ہاتھ اتنا لمبا کر لیا کے بھائی کی شرٹ کو پیچھے سے پکڑ لیا اور اپنی طرف کھینچنے لگی ۔ بھائی نے جلدی سے اپنی شرٹ کے بٹن توڑے اور شرٹ اتار کر ہماری طرف بھاگ آیا اور شرٹ اس شیطانی چیز کے ہاتھ میں ہی رہ گئی اس نے شرٹ پھینکی اور پھر سے ہاتھ ہماری طرف بڑھایا بابا نے کہا سب جلدی نیچے چلو اور ہم سب سیڑھیوں سے نیچے بھاگ گئے اس کے بعد بابا نے کہا سب لوگ میری بات سنو کوئی بھی اب دوبارہ اس کو دیکھنے اوپر نہیں جائے گا وہ کچھ بھی کر سکتی ہے ۔ اتنے میں چھت سے اس چیز نے بلال کی آپی کی آواز میں میرے بڑے بھائی کو اس کا نام لے کر بلایا اور کہا آؤ اپنی شرٹ لے جاؤ اب میں ٹھیک ہو گئ ہوں آجاؤ اوپر اب مجھ سے ڈرو مت آجاؤ میں تمہیں کچھ نہیں کروں گی۔ بھائی نے بابا کی طرف دیکھا اور کہا بابا میں دیکھ کر آؤں کیا؟؟ بابا نے میرے بڑے بھائی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا دیکھو وہ تمہارا نام لے کر تمہیں بلا رہی ہے جبکہ بلال کی بہن نے تو تمہیں ابھی تک دیکھا بھی نہیں تو وہ تمہارا نام کیسے لے سکتی ہے جبکہ وہ تمہارا نام تک نہیں جانتی ۔ یہ سن کر بھائی بولا جی بابا آپ سہی کہہ رہے ہیں یہ ضرور اس شیطانی چیز کی چال ہے اتنے میں چھت پر کسی کے بھاگنے کی آواز سنائی دی اور تھوڑی دیر کے بعد باہر سے کسی نے ہمارے دروازے پر دستک دی بھائی نے جا کر دروازہ کھولا تو دیکھا بلال اور اس کے امی ابو ہمارے دروازے پر گھبرائے ہوئے کھڑے تھے بھائی نے کہا کیا بات ہے آپ سب ایسے کیوں کھڑے ہیں ؟ بلال نے کہا ہم لوگ اب اس گھر میں نہیں جا سکتے میری آپی کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے وہ درخت پر چڑھ کر بیٹھی ہوئی ہے اور ان کی شکل بھی بہت خوفناک ہو گئی ہے وہ ہماری طرف دیکھ کر کہہ رہی تھی چلے جاؤ اس گھر سے ورنہ سب کو مار دوں گی اس وجہ سے ہم سب ادھر آئے ہیں بھائی ان کو اندر لے آیا اس کے بعد ان لوگوں نے میرے بابا کو سب بتایا تبھی بلال کے ابو اور امی دونوں رونے لگے ۔ بابا نے کہا دیں آپ لوگ رویئے مت آپ اس گھر کو بھی اپنا گھر سمجھیں اور آپ آرام سے بیٹھیں انشاء اللّٰہ سب ٹھیک ہو جائے گا میں آپ سے اسی بارے میں بات کرنے والا تھا پر پہلے آپ لوگ رونا بند کریں ۔ اس کے بعد بلال نے والدین نے رونا بند کر دیا اور آنسو پونچھتے ہوئے کہا جی بھائی آپ جو کہنا چاہتے ہیں آپ کہہ سکتے ہیں۔ بابا نے میرے بھائی سے کہا ان کو پانی پلاؤ بھائی نے جلدی سے پانی پلایا اور پھر بابا نے کہا دیکھیں ہمیں آپ کی اس تکلیف کا احساس ہے اور آپ کی بیٹی کے ساتھ جو بھی ہو رہا ہے ہمیں اس کا بھی پتا ہے لیکن آپ لوگ پوری طرح اطمینان رکھیں انشاء اللّٰہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اور جس چیز نے آپ کی لڑکی کی یہ حالت کی ہے وہ چیز آپ کے اس گھر میں آنے سے پہلے اس گھر میں موجود تھی اور اس نے ہمارے بچوں کو بھی بہت تنگ کیا ہے اگر آپ ایک دن دیر سے اس گھر میں شفٹ ہوتے تو شاید اب تک اس چیز کا خاتمہ ہو چکا ہوتا لیکن کوئی بات نہیں میں صبح ہی اپنے عالم صاحب کو لے کر آپ کے گھر جاؤں گا اور تب تک آپ یہیں ہمارے پاس رک سکتے ہیں ۔ بلال کے ابو نے کہا پر ہم اپنی بیٹی کو ایسے اکیلا کیسے چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ اس جب وہ چیز بولتی ہے تو اس کی آواز کے ساتھ ہمیں ہماری بیٹی کے رونے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں وہ چیختی ہے کہ مجھے چھوڑ دو لیکن پھر اچانک سے اس کی آواز دب جاتی ہے اور خوفناک سی آواز میں بولنا شروع ہو جاتی ہے ۔ بابا نے کہا وہ آپ کی بیٹی کے اندر چلی کیسے گئی جبکہ وہ خود ہی سب کو مارتی اور تنگ کرتی رہتی تھی ؟ بلال کی امی نے کہا میری بیٹی جب باتھروم سے نہا کر نکلی تو وہ اپنے گیلے بالوں کو کھلا چھوڑ کر درخت کے نیچے کھڑی سکھا رہی تھی اور تبھی میری بیٹی نے ایک حولناک چینخ ماری میں دوڑ کر اس کے پاس جانے لگی تو وہ اچانک سے درخت پر چھپکلی کی طرح چڑھ گئی میں نے نیچے سے اس کو آواز دی تو اس نے درخت پر بیٹھے ہوئے ہی لات مارنے کی کوشش کی لیکن میں بچ گئی ورنہ میں شاید مر جاتی کیونکہ کے اس کی ٹانگ بہت لمبی ہو گئ تھی اور جس طرح اس نے ماری تھی لگتا تھا مجھے مار ہی ڈالے گی اس جگہ سے مٹی نیچے دھنس گئی اور ایک بڑا سا پاؤں کا نشان پڑ گیا ہے وہاں ۔ بابا نے کہا اس کا مطلب ہے کہ اب آپ کے لیئے بھی اتنی ہی خطرناک ہے جتنی ہمارے لیئے ہے اور ایسے میں اگر آپ اس گھر میں جاتے ہیں تو ہو سکتا ہے وہ آپ کا انتظار کر رہی ہو اور آپ کو کوئی نقصان پہنچا دے ۔ بلال کے ابو بولے وہ تو زیادہ اس درخت پر ہی چڑھی رہتی ہے اب اور جب ہم آپ کے گھر آرہے تھے تو تب بھی وہ اس درخت پر ہی تھی اور پتا ہے دوپہر میں اس نے ساتھ والے ہمسایوں کی چار پانچ مرغیاں بھی کھالی تھیں اور ایک آدمی نے اس کو دیکھ لیا تھا اور ان مرغیوں کے پر ابھی بھی ہمارے گھر میں بکھرے پڑے ہیں اب پتا نہیں وہ لوگ کیا سوچیں گے ہماری بیٹی کے بارے میں ۔ میرے بابا نے کہا آپ ان لوگوں کے فکر نہ کرو وہ مرغیاں آپ کی بیٹی نے نہیں اس شیطانی چیز نے کھائی ہیں وہ سب میں سنبھال لوں گا آپ بس اپنی فکر کریں۔ بلال نے کہا ابو ہم لوگ یہیں رک جاتے ہیں آج کی رات اس کے ابو میرے بابا کی طرف دیکھنے لگے میرے بابا نے کہا بھائی بچا سہی کہہ رہا ہے اس ٹائم آپ کا وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں آج رات آپ رک جائیں یہی بہتر ہے اور ویسے بھی ہمارے اوپر کے کمرے محمانوں کے لیئے ہی ہیں آپ وہاں آرم سے رہ سکتے ہیں اور انشاء اللّٰہ صبح ہم اس چیز کو دیکھ لیں گے ۔ بلال کے ابو نے میرے بابا کا شکریہ ادا کیا اور بابا نے آئیں میں آپ کو کمرے تک چھوڑ دوں اس کے بعد سب لوگ اوپر والی منزل پر چلے گئے ابھی بابا ان کو روم میں چھوڑ کر واپس آنے ہی والے تھے کہ اچانک سے اوپر کی چھت سے پھر بلال کی آپی کی آواز آئی اور کہنے لگی امی اوپر آجائیں ابو آجائیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے میں اوپر اکیلی ہوں گھر میں کوئی نہیں ہے اس کے بعد وہ رونے لگی بلال کے ابو حیرت سے بلال کی امی کی طرف دیکھتے ہوئے بولے میری بیٹی اوپر ہے مجھے جانا ہوگا اس کے پاس۔ یہ کہہ کر وہ جلدی سے اوپر جانے لگے تو میرے بابا نے ان سے کہا روک جائیں بھائی یہ غلطی کبھی نہ کرنا ۔ بلال کے ابو بولے پر کیوں بھائی جان میری بیٹی اوپر اکیلی بیٹھی رو رہی ہے تو میں اس کو ایسے کیسے چھوڑ سکتا ہوں اور یہ بھی تو ہوسکتا ہے اس شیطانی چیز نے اس کو چھوڑ دیا ہو اور وہ اکیلی بیٹھی ڈر رہی ہے ۔ میرے بابا نے کہا میں آپ کا دکھ سمجھتا ہوں پر آپ میرا یقین کریں وہ جو رو رہی ہے وہ آپ کی بیٹی نہیں بلکہ وہ شیطانی چیز ہے جو دھوکے سے آپ کو اوپر بلا رہی ہے تاکہ آپ اوپر جائیں اور وہ آپ پر حملہ کر سکے ۔ بلال کے ابو بولے اگر وہ واقعی میں شیطانی چیز ہے تو کیا وہ نیچے اکر ہم پر حملہ نہیں کر سکتی کیا ؟؟ میرے بابا نے کہا آپ جس جگہ پر کھڑے ہیں یہاں میں روز نماز پڑھتا ہوں اور قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہوں کیونکہ ہم سارا دن نیچے ہی ہوتے ہیں اس وجہ سے اوپر کے کمرے اکثر خالی رہتے ہیں اور اس وجہ میں روزانہ اوپر کے کمروں میں نماز اور قرآن پاک پڑھتا ہوں اور یہاں روزانہ مغرب کی اذان کے ہونے سے کچھ دیر پہلے ہی لائٹیں جلا دیتا ہوں تاکہ کوئی شیطانی چیز اس جگہ کو خالی سمجھ کر یہاں بسیرا نہ کر لے تو اسی وجہ سے وہ شیطانی چیز چھت سے نیچے نہیں آرہی اور وہیں سے آپ کو آوازیں دے رہی ہے اور ایسا نہیں کہ وہ شیطانی چیز بلکل ہماری چھت پر ہے بلکہ وہ آپ کی ہی دیوار پر بیٹھی آواز لگا رہی ہے کیونکہ اس کے ہاتھ بہت لمبے ہو جاتے ہیں اور اگر ایسے میں کو بھی اوپر گیا تو وہ اس پر دور سے ہی حملہ کر دے گی ۔ یہ سن کر بلال کے ابو بیٹھ گئے اور تبھی اوپر سے زور زور سے ہنسنے کی آوازیں آنے لگیں ۔ بابا نے بلال کے ابو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا دیکھا میں نے آپ سے کہا تھا نا وہ آپ کی بیٹی نہیں ہے اس پر بلال کے ابو نے ہاں میں سر ہلا دیا اور وہ بلال اور اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھ گئے اس کے بعد ہم سب ان کو اوپر کے کمرے میں چھوڑ کر نیچے آگئے اور سو گئے ۔ اگلے دن جب میں اٹھا تو دیکھا کہ گھر میں صرف امی تھیں میں نے پوچھا امی سب لوگ کہاں ہیں وہ بولیں کہ سب بلال کے گھر گئے ہیں کیونکہ عالم صاحب آئے تھے اور وہ سب ادھر ہی گئے ہیں ابھی کچھ ہی دیر پہلے۔ میں جلدی بنا ناشتہ کیے ہی بلال کے گھر گیا تو دیکھا کہ بابا اور باقی لوگ عالم صاحب کے پاس کھڑے تھے میں بھی ان کے پاس گیا ۔ عالم صاحب نے بلال کے ابو کو کہا آپ لوگ بلکل بھی پریشان نہ ہوں آپ کی بیٹی کو کچھ نہیں ہوگا بس آپ اس بات کا خیال رکھنا کہ جیسے ہی میں علم شروع کروں تو آپ کی بیٹی آپ کو اپنے پاس بلائے گی لیکن آپ نے اس دائرے کی حد سے باہر نہیں نکلنا چاہے جو بھی ہو جائے ورنہ آپ کی بیٹی کے ساتھ آپ لوگوں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا اس کے بعد عالم صاحب نے ایک تھیلا پکڑا اور اس میں سے سفید رنگ کی ریت جیسی چیز نکالی اور اس سے زمین پر ایک بڑا سا گول دائرہ بنا دیا اور ہم سب سے کہا سب اس دائرے میں داخل ہو جاؤ ہم سب اس دائرے میں داخل ہو گئے ۔اور پھر عالم صاحب نے بابا کو ایک پانی کی بوتل دیتے ہوئے کہا آپ میرے پاس ہی روکیں یہ پانی پکڑ کر رکھیں جیسے ہی لڑکی بیہوش ہو کر زمین پر گر جائے آپ نے یہ پانی اس پر چھڑک دینا ہے پھر عالم صاحب نے اس بوتل سے کچھ پانی لیا اور بابا پر چھڑک دیا اور بوتل بابا کو پکڑا دی ۔ اس کے بعد عالم صاحب نے گھر کے چاروں کونوں میں کیل ٹھونک دیئے اور اس درخت کے نیچے کھڑے ہو کر کچھ پڑھنے لگے اتنے میں خوفناک چیخ کی آواز سنائی دی ہم سب ڈر گئے لیکن عالم صاحب پڑھتے رہے پھر اچانک سے درخت سے ایک بھیانک سی شکل والی لڑکی نیچے چھپکلی کی طرح اتری اور عالم صاحب کے سامنے کھڑی ہو گئی لیکن اس لڑکی کا قد اتنا لمبا ہو گیا کہ اس کا سر درخت پتوں سے ٹکرا رہا تھا اس نے عالم صاحب کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس کے ہاتھ سے دھواں نکلنے لگا اور وہ چیخنے لگی تبھی عالم صاحب نے اس پر پھونک ماری اور اس کا قد اچانک چھوٹا ہو گیا پھر عالم صاحب نے کچھ پڑھا اور اس کو اس کے بالوں سے پکڑ لیا اور وہ اور زیادہ چیخیں مارنے لگی اس کے بعد عالم صاحب نے اس کو چھوڑ دیا اور وہ زمین پر تڑپنے لگی جیسے اس کی جان نکل رہی ہو اسی دوران اس بلال کی آپی کی آوازیں بھی سنائی دینے لگیں اور اچانک سے وہ کھڑی ہو گئی اور بلکل بلال کی آپی کی شکل میں آگئی اور اپنے امی ابو کی طرف دیکھتے ہوئے بولی مجھے اس شخص سے بچا لو یہ مجھے مار دے گا اور یہ کہہ کر رونے لگی لیکن ہم میں سے کوئی دائرے سے باہر نہیں نکلنا جبکہ بلال کے ابو کا دل کر رہا تھا بیٹھی کے پاس جانے کو لیکن بلال کی امی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو روکے رکھا ۔ پھر عالم صاحب نے جیب سے ایک مٹی سی نکالی اور اس کے منہ پر مار دی جس کے بعد وہ پھر سے بھیانک شکل میں آگئی اور عالم صاحب کے پیروں میں گر پڑی اور تڑپتے ہوئے اچانک سے بیہوش ہوگئ اور عالم صاحب نے بابا کی طرف دیکھا اور بوتل کی طرف دیکھتے ہوئے اشارا بابا نے ہاں میں سر ہلایا اور پانی اس شیطانی چیز پر چھڑک دیا اور جیسے ہی پانی اس پر گرا تو وہ اچانک سے کبھی کھڑی ہوتی کبھی گر جاتی اور چیخیں مارنے لگ جاتی بابا پانی چھڑکتے رہے اور پھر وہ زمین پر گر کر بیہوش ہو گئی اور کافی سارا دھواں سا اس میں سے اٹھنے لگا کچھ دیر کے بعد سارا دھواں اڑ گیا اور عالم صاحب نے بلال کے امی ابو کو کہا آپ لوگ اب اپنی بیٹی کو اٹھا کر لے جائیں یہ تھوڑی دیر میں ہوش میں آجائے گی انشاء اللّٰہ لیکن اس کو اس بارے میں کچھ پتا نہیں ہو گا اور بہتر ہو گا تین چار دن تک آپ لوگ بھی اس کو اس بارے میں کچھ نہ بتائیے گا ورنہ ایسے ہی ڈر جائے گی ۔ بلال کے ابو امی بلال کی آپی کو لے کر کمرے میں چلے گئے اور اس کو بیڈ پر لٹا کر واپس عالم صاحب کے پاس آئے اور پوچھا حضرت کیا اب وہ شیطانی چیز دوبارہ تو ہمیں تنگ نہیں کرے گی؟؟ عالم صاحب مسکراتے ہوئے بولے نہیں کیونکہ جہنم واصل کی ہوئی شیطانی چیزیں واپس نہیں آتیں ہاں اگر آپ لوگ اس گھر میں گندگی رکھو گے نماز نہیں پڑھو گے اور مغرب کے بعد بھی اس گھر میں لائٹ نہیں جلاؤ گے تو کوئی اور شیطانی چیز یہاں بسیرا کر سکتی ہے لیکن میرا آپ کو مشورہ یہی ہے کہ آپ لوگ نماز ضرور پڑھا کریں اور اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کریں کہ اس کے پاک کلام کی طاقت سے ہی آپ کی بیٹی اس شیطانی طاقت سے آزاد ہوئی ہے اور یاد رکھیں جس گھر میں چالیس دن تک بلا ناغہ قرآن پاک کی تلاوت ہو اور پانچ وقت کی نماز پڑھی جاتی ہو وہاں کوئی شیطانی چیز نہیں ٹک سکتی اور اس گھر میں اللّٰہ کی رحمتیں نازل ہوتیں ہیں اور ایک بات ضرور یاد رکھئیے گا بیٹیوں کے سر کو کبھی بھی کھلے آسمان تلے کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ کھلے آسمان تلے کھلے سر والی بیٹیوں کو ان شیطانی چیزوں سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور جب بھی کوئی عورت یا بیٹی غصل کر کے غصل خانے سے باہر نکلے تو اس کا سر پوری طرح سے ڈھکا ہونا چاہیے کیونکہ ہوئی چیزیں کھلے آسمان تلے گیلے بالوں والی عورتوں پر جلدی حملہ کرتی ہیں اس لیئے ہمیں اپنی ماؤں بہنوں اور بہو بیٹیوں کو اس بات کی عادت ڈالنی چاہیے کہ وہ اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھیں اسی میں ہی حفاظت بھی ہے اور عزت بھی اور ایسا کرنے سے اللّٰہ بھی خوش ہوتا ہے تو ان سب باتوں کا خیال رکھیں اور اب مجھے اجازت دیں یہ کہہ کر عالم صاحب چلے گئے ۔ اور اس کے بعد کبھی دوبارہ کسی چیز نے ہمیں تنگ نہیں کیا چاہے رات ہو یا دن کبھی کوئی ناخوشگوار واقع رونما نہیں ہو____

ختم شدُ

Comments